30/05/2026
مجھ پے بھی چشم کرم اے میرے آقا کرنا
حق تو میرا بھی رحمت کاتقاضا کرنا
میں کہ زرہ ہوں مجھے وسعت صحرا دے دے
کہ تیرے بس میں ہے قطرے کو بھی دریا کرنا
تو کسی کو بھی اٹھاتا نہیں اپنے در سے
کہ تیری شان کے شایاں نہیں ایسا کرنا
تیرے صدقے وہ اسی رنگ میں خود ہی ڈوبا
جس نے جس رنگ میں چاہا مجھے رسوا کرنا
یہ تیرا کام ہے اے آمنہ کے در یتیم
ساری امت کی شفاعت تن تنہا کرنا
آل و اصحاب کی سنت میرا معیار وفا
تیری چاہت کے عوض جان کا سودا کرنا
میں ہوں بے کس تیرا شیوہ ہے سہارا دینا
میں ہوں بیمار تیرا کام ہے اچھا کرنا
مجھ پہ محشر میں نصیر انکی نظر پڑ ہی گئ
کہنے والے اسے کہتے ہیں خدا کا کرنا