VOICE OF LAWYER

Call Directions Contact the business

VOICE OF LAWYER LAWYERS UNITY ZINDA BAD PAKISTAN PAINDA BAD

اب ہر سیشن اور مجسٹریٹ کورٹ ایف آئی آر کی تاخیر پر پولیس کے کردار کا تعین کرے گی اور رپورٹ آئی جی کو بھیجے گی۔قابلِ دست ...
28/09/2026

اب ہر سیشن اور مجسٹریٹ کورٹ ایف آئی آر کی تاخیر پر پولیس کے کردار کا تعین کرے گی اور رپورٹ آئی جی کو بھیجے گی۔
قابلِ دست اندازی جرم کی اطلاع ملنے کے باوجود ایف آئی آر درج نہ کرنا یا تاخیر کرنا جس سے ثبوت ضائع ہوں، محض طریقہ کار کی غلطی نہیں بلکہ جرم کے ثبوت مٹانے (Section 201 PPC) کے زمرے میں آتا ہے۔

یہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک اہم فیصلہ (Judgment) ہے، جسے جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا ہے اور جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ بھی اس بنچ کا حصہ تھے۔

1. کیس کا پس منظر اور فیصلہ
* سزا کی توثیق: سپریم کورٹ نے ملزم علی رضا سیال کی درخواستِ اپیل مسترد کر دی ہے۔ ملزم کی عمر قید اور 1,000,000 روپے ہرجانے کی سزا (جو اسے قتل کے جرم میں دی گئی تھی) کو برقرار رکھا گیا ہے۔
* واقعہ: یہ واقعہ 30 اپریل 2012 کو دادو (سیتا روڈ) میں پیش آیا تھا، جہاں ملزم نے اپنے والد کی شہ پر عاشقان علی (مقتول) کو خنجر مار کر قتل کر دیا تھا۔
* عدالتی موازنہ: عدالت نے قرار دیا کہ مقتول کے بیٹے (مستغیث) اور بھتیجے کی گواہی بالکل سچی، اعتماد کے قابل اور میڈیکل رپورٹ (ڈاکٹر کی رپورٹ) سے مکمل مطابقت رکھتی ہے۔ آلۂ قتل (خنجر) بھی ملزم کی نشاندہی پر برآمد ہوا تھا۔ گواہوں کی آپسی رشتہ داری یا وقت گزرنے کے باعث معمولی تضادات سے مرکزی کیس پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
2. ایف آئی آر (FIR) میں تاخیر اور پولس کی غفلت
* پولیس کا رخ: واقعہ 30 اپریل 2012 کی رات 8:30 بجے ہوا، اور پولیس کو 8:40 بجے ہی اطلاع مل گئی تھی (روزنامچے اور لاش جانچ فارم کے مطابق پولیس 9:00 بجے موقع پر موجود تھی)۔ اس کے باوجود ایف آئی آر 3 دن بعد (3 مئی 2012) درج کی گئی۔
* شہری کا دفاع: عدالت نے واضح کیا کہ ایف آئی آر میں یہ تاخیر مدعی/مستغیث کی طرف سے نہیں بلکہ پولیس کی غفلت کی وجہ سے ہوئی۔ لہٰذا، پولیس کی سستی یا ناہلی کی سزا شاکی (فریادی) کو نہیں دی جا سکتی۔
3. پولیس اصلاحات اور عدالتی ہدایات
عدالت نے سندھ اور دیگر صوبوں کی پولیس کے رویے اور نظام پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے درج ذیل اہم احکامات جاری کیے:
* نوآبادیاتی (Colonial) الفاظ کا خاتمہ:
* پولیس کے کاغذات میں "فریادی" یا "بخدمت جناب ایس ایچ او" جیسے الفاظ کے استعمال کو سختی سے منع کر دیا گیا۔
* عدالت نے کہا کہ شہری اپنے حق کے لیے پولیس کے پاس آتے ہیں، رحم کی بھیک یا التجا (Cry/Lamentation) کے لیے نہیں۔ ایس ایچ او عوام کا خادم ہے، مالک نہیں۔
* پولیس افسران کے خلاف سیشن 201 PPC کے تحت کارروائی:
* اگر پولیس کو قابلِ دست اندازی (Cognizable) جرم کی اطلاع مل جائے اور وہ قصداً ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کرے جس سے ثبوت یا فارنزک ثبوت ضائع ہوں، تو یہ صرف طریقہ کار کی غلطی نہیں بلکہ جرم کے ثبوت مٹانے (Section 201 PPC) کے زمرے میں آئے گا اور متعلقہ پولیس اہلکار کے خلاف پرچہ درج ہو سکتا ہے۔
* عدالتی اداروں (Trial Courts) کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ایف آئی آر میں پولیس کی جانب سے تاخیر کا نوٹس لیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی و محکماتی کارروائی کا حکم دیں۔
* آئی جی ایس (IGPs) کو توہینِ عدالت کی تنبیہ:
* سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اس فیصلے کے بعد اگر ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر یا پرانے نوآبادیاتی الفاظ کا استعمال جاری رہا، تو تمام آئی جی پیز (IGPs)، ایس پیز (SP Investigation) اور ایس ڈی پی اوز (SDPOs) کے خلاف توہینِ عدالت (Contempt of Court) کی کارروائی کی جائے گی۔
* دیگر انتظامی احکامات:
* پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو حکم دیا گیا کہ وہ 1 جنوری 2025 سے فیصلے کی تاریخ تک کے تمام قتل کے مقدمات کا ریکارڈ (جس میں 24 گھنٹے سے زیادہ تاخیر سے FIR درج ہوئی) 2 ماہ کے اندر عدالت کے چیمبر میں جمع کرائیں۔
* رجسٹرار سپریم کورٹ کو ہدایت کی گئی کہ وہ 'محمد بخش کیس' کے سابقہ تاریخی فیصلے کا سندھی زبان میں ترجمہ کروا کر ویب سائٹ پر اپ لوڈ کریں تاکہ عام عوام اپنے حقوق سے آگاہ ہو سکے۔
نتیجہ: سپریم کورٹ نے ملزم کی اپیل خارج کرتے ہوئے اس کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی اور ساتھ ہی سندھ پولیس میں ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر اور تحکمانہ زبان کے استعمال پر سخت قانونی قدغنیں عائد کر دیں۔

28/09/2026

جب تفتیشی افسر (IO) ملزم کا پولیس ریمانڈ یا جوڈیشل ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہوتا ہے، تو بطور وکیلِ صفائی (Defence Counsel) آپ ملزم کے دفاع میں کوئی دستاویز، ثبوت یا موقف (جیسے بے گناہی کا ثبوت، وقوعہ کے وقت کسی اور جگہ موجودگی/Alibi، یا طبی دستاویزات) مجسٹریٹ کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔
1. کیا مجسٹریٹ/تفتیشی افسر اسے "صفائی مثل" (Defense File/Zimni) کا حصہ بنائے گا؟
جی ہاں، بالکل!
جب آپ ریمانڈ کے مرحلے پر مجسٹریٹ کے سامنے کوئی بھی تحریری درخواستی مواد یا ثبوت (Miscellanous Application / Written Reply) پیش کرتے ہیں، تو:
مجسٹریٹ کا حکم: مجسٹریٹ تفتیشی افسر (IO) کو یہ ہدایت جاری کر سکتا ہے کہ ملزم کی طرف سے پیش کیے گئے اس موقف/دستاویز کو تفتیش کا حصہ (Part of Investigation/Zimni) بنایا جائے اور اس کی روشنی میں تفتیش کی جائے۔
ضمنی/مثل کا حصہ: قانونی طور پر تفتیشی افسر پابند ہے کہ وہ ملزم کے دفاع اور پیش کردہ ثبوتوں کو ضمنی (Case Diary) یا صفائی مثل کا حصہ بنائے تاکہ غیر جانبدارانہ تفتیش (Fair Investigation) ممکن ہو سکے۔
2. متعلقہ قانونی دفعات (Relevant Sections)
سیکشن 167 ضابطہ فوجداری (Cr.P.C):
یہ سیکشن ریمانض (Remand) کے طریقہ کار سے متعلق ہے۔ مجسٹریٹ محض پولیس کے مانگنے پر ریمانڈ نہیں دیتا، بلکہ وہ اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ آیا مزید پولیس ریمانڈ کی واقعی ضرورت ہے یا نہیں۔ اس مرحلے پر وکیلِ صفائی کے اعتراضات اور پیش کردہ ثبوتوں کی روشنی میں مجسٹریٹ ریمانڈ نامنظور بھی کر سکتا ہے یا تفتیشی کو ملزم کا موقف شامل کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔
سیکشن 161 ضابطہ فوجداری (Cr.P.C):
تفتیشی افسر پر لازم ہے کہ وہ دورانِ تفتیش تمام حقائق اور صفائی کے بیانات کا اندارج کرے۔
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 10-A (Fair Trial):
ہر شہری کو منصفانہ سماعت اور تفتیش کا بنیادی حق حاصل ہے۔ اگر تفتیشی افسر ملزم کا دفاعی مواد ریکارڈ پر نہیں لاتا تو یہ آرٹیکل 10-A کی خلاف ورزی ہے۔
3. اہم اعلیٰ عدالتی فیصلے (Landmark Judgments)
اعلیٰ عدالتوں (سپریم کورٹ آف پاکستان اور لاہور ہائی کورٹ) کے متعدد فیصلے موجود ہیں جو یہ واضح کرتے ہیں کہ تفتیش صرف ملزم کو گنہگار ثابت کرنے کے لیے نہیں بلکہ سچائی تک پہنچنے کے لیے ہونی چاہیے:
PLD 2014 Lahore 28 / 2014 PCrLJ 1653 (Remand Guidelines):
اصول: اس میں ریمانڈ سے متعلق تفصیلی ہدایات (Guidelines) دی گئی ہیں کہ مجسٹریٹ کو مکینیکل (Mechanical) انداز میں ریمانڈ نہیں دینا چاہیے۔ مجسٹریٹ پر فرض ہے کہ وہ تفتیشی ڈائری (Zimnis) کا معائنہ کرے اور اگر وکیلِ صفائی کوئی مواد پیش کرے تو اسے مدنظر رکھتے ہوئے مناسب حکم جاری کرے۔
2021 SCMR 1282 (Fair Investigation & Defense Version):
اصول: سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ تفتیشی افسر کا یہ فرض ہے کہ وہ ملزم کے موقف (Defense Version/Alibi) اور اس کے پیش کردہ ثبوتوں کو بھی غیر جانبدارانہ طور پر تفتیش میں شامل کرے اور کیس ڈائری/ضمنی کا حصہ بنائے۔
PLD 2007 Supreme Court 538:
اصول: تفتیش کا مقصد صرف چالان پیش کرنا نہیں بلکہ سچ کی تلاش ہے۔ اگر ملزم ریمانڈ کے وقت یا دورانِ تفتیش بے گناہی کا کوئی ثبوت دیتا ہے تو تفتیشی افسر اسے نظر انداز نہیں کر سکتا۔
عملی طریقہ کار (Practical Strategy)
ریمانڈ کے موقع پر مجسٹریٹ کی عدالت میں ایک تتمہ/درخواست (Application / Written Objections to Remand) دائر کریں۔
اس میں واضح لکھیں کہ ملزم کی صفائی کا یہ مواد/دستاویزات موجود ہیں، لہٰذا تفتیشی افسر (IO) کو پابند کیا جائے کہ وہ اسے کیس ڈائری (Zimni) اور صفائی مثل کا حصہ بنائے اور اس کی روشنی میں تفتیش مکمل کرے۔
مجسٹریٹ اپنے ریمانڈ آرڈر میں IO کو یہ بھی ہدایت لکھ سکتا ہے: "The I.O. is directed to join the defense version/documents in the investigation and verify the same."

27/09/2026

جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی سول مقدمے پر ہرجانہ

12 کروڑ 50 لاکھ روپے کے ہرجانے کا دعویٰ اور لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

کیا کسی شخص کو محض ذاتی عناد، بدنیتی یا بغیر کسی معقول قانونی بنیاد کے سول مقدمے میں الجھایا جائے، اسے مالی نقصان اٹھانا پڑے، وقت اور وسائل ضائع ہوں اور طویل قانونی کارروائی کے بعد مقدمہ اسی کے حق میں ختم ہو جائے، تو کیا وہ اپنے نقصان کا ازالہ ہرجانے کی صورت میں طلب کر سکتا ہے؟

لاہور ہائی کورٹ کے ایک اہم فیصلے کے مطابق، مناسب حالات میں ایسا دعویٰ قابلِ سماعت ہو سکتا ہے۔

اس حوالے سے مقدمہ Messrs Dairy Crest Food (Pvt.) Ltd. v. Muzammal Khan Lodhi, 2023 MLD 191 (Lahore High Court) قابلِ ذکر ہے۔

مذکورہ مقدمے میں مدعی کی جانب سے تقریباً 12 کروڑ 50 لاکھ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا گیا، جس کی بنیاد Malicious Civil Prosecution یعنی بدنیتی پر مبنی سول کارروائی تھی۔

مخالف فریق نے Order VII Rule 11, C.P.C. کے تحت plaint کو ابتدائی مرحلے ہی پر خارج کرنے کی درخواست کی، تاہم ٹرائل کورٹ نے درخواست مسترد کر دی۔ بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے بھی Civil Revision خارج کرتے ہوئے کارروائی کو جاری رہنے دیا۔

بدنیتی پر مبنی مقدمے میں کیا ثابت کرنا ضروری ہے؟

محض یہ حقیقت کہ کسی شخص نے آپ کے خلاف مقدمہ دائر کیا اور وہ مقدمہ بعد میں آپ کے حق میں ختم ہوگیا، خود بخود ہرجانے کا حق پیدا نہیں کرتی۔

ایسے دعوے میں بالعموم یہ امور اہمیت رکھتے ہیں:

اول: مخالف فریق نے آپ کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی ہو۔

دوم: وہ کارروائی بالآخر آپ کے حق میں ختم ہوئی ہو۔

سوم: مقدمہ شروع کرنے کے لیے کوئی Reasonable and Probable Cause موجود نہ ہو۔

چہارم: کارروائی Malice یعنی بدنیتی کے تحت کی گئی ہو۔

پنجم: اس کارروائی کے نتیجے میں آپ کے قانونی مفادات، شہرت، آزادی یا دیگر قابلِ تحفظ حقوق متاثر ہوئے ہوں۔

ششم: آپ کو ایسا نقصان پہنچا ہو جس کا قانوناً ازالہ ہرجانے کی صورت میں ممکن ہو۔

صرف مقدمہ ہار جانا کافی نہیں

یہ اصول بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ ہر ناکام سول مقدمہ بدنیتی پر مبنی مقدمہ نہیں ہوتا۔

کسی فریق کا مقدمہ عدالت سے خارج ہو جانا یا اس کے خلاف فیصلہ آ جانا بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتا کہ مقدمہ بدنیتی سے دائر کیا گیا تھا۔

دعویٰ کرنے والے فریق کو مناسب شواہد کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ مقدمہ دائر کرنے کے لیے معقول بنیاد موجود نہیں تھی، کارروائی بدنیتی پر مبنی تھی اور اس کے نتیجے میں اسے قابلِ قانونی نقصان پہنچا۔

Order VII Rule 11 کے مرحلے پر اہم اصول

لاہور ہائی کورٹ کے مذکورہ فیصلے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اگر کسی دعوے کے فیصلے کے لیے شہادت، حقائق اور Evidence کا جائزہ لینا ضروری ہو تو اسے محض Order VII Rule 11 C.P.C. کے تحت ابتدائی مرحلے پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

یعنی جہاں معاملہ صرف plaint کے مندرجات پڑھ کر طے نہ ہو سکتا ہو اور فریقین کو اپنے دعووں کے حق میں شہادت پیش کرنے کی ضرورت ہو، وہاں مقدمے کو مکمل قانونی کارروائی کے ذریعے طے کیا جا سکتا ہے۔

نتیجہ

قانون ہر شخص کو عدالت سے رجوع کا حق دیتا ہے، لیکن اس حق کا استعمال کسی شخص کو بلاجواز، بدنیتی اور غیر معقول بنیادوں پر مسلسل litigation میں الجھانے کے لیے نہیں کیا جا سکتا۔

ہر ناکام مقدمہ malicious prosecution نہیں، لیکن اگر کوئی شخص بغیر معقول اور قابلِ قبول قانونی بنیاد کے بدنیتی سے کسی دوسرے کو مقدمہ بازی میں گھسیٹ کر قابلِ قانونی نقصان پہنچاتا ہے تو مناسب حالات میں ہرجانے کا دعویٰ قابلِ سماعت ہو سکتا ہے۔

حوالہ:
Messrs Dairy Crest Food (Pvt.) Ltd. v. Muzammal Khan Lodhi
2023 MLD 191 — Lahore High Court

Akbar Khan Advocate, Buner

Share for information and legal awareness.

14/09/2026

⚖️ کیا آپ اپنی FIR کا تفتیشی افسر تبدیل کروا سکتے ہیں؟

اگر آپ کسی مقدمے کے مدعی، متاثرہ فریق یا ملزم ہیں اور آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ تفتیشی افسر غیر جانبدارانہ تفتیش نہیں کر رہا، اہم ثبوت نظر انداز کیے جا رہے ہیں، گواہوں کو شاملِ تفتیش نہیں کیا جا رہا، تفتیش یکطرفہ انداز میں ہو رہی ہے یا کسی فریق کو ناجائز فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تو قانون آپ کو تبدیلیِ تفتیش کے لیے متعلقہ پولیس حکام سے رجوع کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔

📌 متعلقہ قانون کیا ہے؟

پنجاب میں اس معاملے کی بنیادی قانونی شق Article 18-A of the Police Order, 2002 ہے، جو Punjab Police Order (Amendment) Act, 2013 کے ذریعے شامل کی گئی۔ اس لیے اسے محض “Police Rule 18-A” کہنا درست نہیں؛ صحیح قانونی حوالہ Article 18-A, Police Order, 2002 ہے۔

🔹 پہلا مرحلہ — Head of District Police

اگر آپ موجودہ تفتیش سے مطمئن نہیں تو تبدیلیِ تفتیش کے لیے درخواست Head of District Police کے سامنے دی جا سکتی ہے۔

Article 18-A(1) کے تحت متعلقہ افسر درخواست موصول ہونے کے بعد District Standing Board کی رائے حاصل کرتا ہے۔ قانون کے مطابق درخواست پر سات working days کے اندر کارروائی کی جا سکتی ہے۔

یہ ضروری نہیں کہ درخواست دیتے ہی تفتیشی افسر تبدیل ہو جائے۔ متعلقہ اتھارٹی کو معاملہ دیکھنا، Standing Board کی رائے لینا اور تبدیلی کا حکم دیتے وقت وجوہات تحریری طور پر ریکارڈ کرنا ہوتی ہیں۔

اگر تبدیلی منظور ہو تو تفتیش کسی ایسے دوسرے Investigating Officer یا Investigation Team کو دی جا سکتی ہے جس کا رینک سابقہ تفتیشی افسر کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔

🔹 دوسرا مرحلہ — Regional Police Officer

اگر Head of District Police آپ کی تبدیلیِ تفتیش کی درخواست کا فیصلہ کر چکا ہے اور آپ اس فیصلے سے مطمئن نہیں، تو Article 18-A(2) کے تحت معاملہ Regional Police Officer (RPO) کے سامنے لے جایا جا سکتا ہے۔

یہاں Regional Standing Board کی رائے حاصل کی جاتی ہے اور RPO بھی وجوہات تحریری طور پر ریکارڈ کرکے فیصلہ کرتا ہے۔ اس سطح پر بھی قانون سات working days کا طریقۂ کار بیان کرتا ہے۔

🔹 تیسرا مرحلہ — Provincial Police Officer

اگر RPO بھی تبدیلیِ تفتیش کی درخواست کا فیصلہ کر چکا ہو اور شکایت برقرار ہو تو Article 18-A(3) کے تحت Provincial Police Officer کے سامنے درخواست دی جا سکتی ہے۔

اس مرحلے پر Standing Review Board کی رائے حاصل کی جاتی ہے اور قانون اس درخواست کے لیے 30 دن کی مدت بیان کرتا ہے۔

یعنی قانون نے تبدیلیِ تفتیش کے لیے باقاعدہ hierarchy قائم کی ہے:

District Level → Regional Level → Provincial Level

⚠️ صرف الزام لگانا کافی نہیں

تبدیلیِ تفتیش کوئی ایسا حق نہیں کہ درخواست دیتے ہی لازماً تفتیشی افسر تبدیل کردیا جائے۔ درخواست میں ٹھوس وجوہات دینا زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔

مثلاً:

• اہم دستاویز یا ثبوت کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا ہو؛
• متعلقہ گواہ کا بیان نہ لیا جا رہا ہو؛
• تفتیش صرف ایک فریق کے مؤقف پر کی جا رہی ہو؛
• دستیاب CCTV، میڈیکل، ڈیجیٹل یا دستاویزی ثبوت کو verify نہ کیا جا رہا ہو؛
• تفتیشی افسر کا طرزِ عمل جانبداری ظاہر کرتا ہو؛
• کوئی نیا اہم ثبوت سامنے آ گیا ہو؛
• یا سابقہ تفتیش میں ایسی بنیادی خامیاں ہوں جو منصفانہ نتیجے کو متاثر کرسکتی ہوں۔

📚 عدالتیں کیا کہتی ہیں؟

لاہور ہائی کورٹ نے بھی واضح کیا ہے کہ تبدیلی یا دوبارہ تفتیش معمول کی کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔ متعلقہ پولیس اتھارٹی کے پاس قانونی اور معقول وجہ ہونی چاہیے، اور Article 18-A کے تحت فیصلہ کرتے ہوئے وجوہات تحریری طور پر بیان کرنا ضروری ہے۔

2023 PCrLJ 427 (Lahore) میں لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ محض Standing Board کی recommendation کو mechanically قبول کرنا کافی نہیں۔ فیصلہ کرنے والی اتھارٹی کو پہلے سے کی گئی تفتیش، متعلقہ حقائق اور تبدیلی کی ضرورت کا جائزہ لے کر واضح وجوہات کے ساتھ speaking order دینا چاہیے۔

یہ اصول بھی اہم ہے کہ تبدیلیِ تفتیش کا مقصد کسی فریق کو فائدہ پہنچانا یا دوسرے کو پریشان کرنا نہیں بلکہ حقیقت تک پہنچنا اور انصاف کے تقاضے پورے کرنا ہے۔

⚖️ چالان کے بعد کیا ہوگا؟

یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ محض challan جمع ہوجانے سے ہر صورت میں further/re-investigation کا تصور ختم نہیں ہوجاتا۔ عدالتی نظائر میں مخصوص حالات میں challan کے بعد بھی further یا re-investigation کی گنجائش تسلیم کی گئی ہے، لیکن اس اختیار کو routine میں استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ نئی شہادت، سابقہ تفتیش کی بنیادی خامی، بدنیتی یا کسی ضروری پہلو کی عدم تحقیق جیسے حالات اہم ہوسکتے ہیں۔

📌 درخواست دیتے وقت کیا کریں؟

اپنی درخواست مختصر مگر facts-based رکھیں۔ FIR نمبر، تھانہ، دفعات، موجودہ تفتیشی افسر، زیرِ تفتیش معاملہ اور تبدیلی کی مخصوص وجوہات واضح لکھیں۔ جو ثبوت نظر انداز ہوئے ہیں ان کی نشاندہی کریں اور ممکن ہو تو متعلقہ دستاویزات ساتھ لگائیں۔

صرف یہ لکھ دینا کہ “مجھے تفتیشی افسر پر اعتماد نہیں” نسبتاً کمزور بنیاد ہے۔ اس کے بجائے واضح کریں کہ تفتیش میں کون سی قانونی یا factual خامی موجود ہے۔

📢 یاد رکھیں!

FIR درج ہونے کے بعد شہری کا کردار ختم نہیں ہوجاتا۔ اگر تفتیش قانون اور میرٹ کے مطابق نہ ہو تو قانون کے اندر رہتے ہوئے مناسب فورم سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔

اپنے قانونی حقوق جانیں، ثبوت محفوظ رکھیں اور ہر شکایت تحریری طور پر متعلقہ فورم تک پہنچائیں۔

⚖️

゚ ゚ ゚

AIL ANNUAL LAW CONFERENCE 2026Bolton, United Kingdom 🇬🇧The Association of International Lawyers (AIL Global) is pleased ...
13/09/2026

AIL ANNUAL LAW CONFERENCE 2026
Bolton, United Kingdom 🇬🇧

The Association of International Lawyers (AIL Global) is pleased to announce its Annual Law Conference 2026, bringing together lawyers, legal professionals, and distinguished guests from across the international legal community.

The conference will provide a platform to exchange ideas, strengthen professional networks, promote professional development, and reaffirm our shared commitment to justice, human rights, democracy, and the rule of law.

Under the leadership of Mr. Saeed Ahmad Hashmi, President, AIL Global, and Mr. Nadeem Tass, Chief Organizer, AIL Global, the conference will foster meaningful dialogue and strengthen international legal cooperation.

📅 Date: Friday, 13 November 2026
🕕 Time: 18:00 – 22:00
📍 Venue: Excellency Bolton
8 Carlton Street
Bolton, BL2 1BT
United Kingdom

Theme

Stronger Lawyers • Stronger Societies

Jam M. Tahir Rassol
Media Coordinator, AIL Global Pakistan

11/09/2026

الیکٹرانک شہادت کے متعلق اہم فیصلہ
عدالت نے قرار دیا کہ صرف ای میل کا پرنٹ آؤٹ پیش کر دینا کافی نہیں۔ الیکٹرانک شہادت کو قانون کے مطابق ثابت کرنا ضروری ہے۔

جن افراد کے بارے میں کہا گیا کہ انہوں نے متعلقہ غیر ملکی یونیورسٹی کو ای میلز بھیجیں، وہ بطور گواہ پیش نہیں ہوئے۔

یہ بھی ثابت نہیں کیا گیا کہ ای میلز کس نے بھیجیں، جوابات کس کو موصول ہوئے اور ان کے پرنٹ آؤٹ کس شخص نے حاصل کیے۔

استغاثہ کے گواہ نے آرٹیکل 78-A قانونِ شہادت آرڈر 1984 کے تحت مطلوبہ سرٹیفکیٹ/ثبوت پیش نہیں کیا۔

Electronic Transactions Ordinance, 2002 کی دفعات 16 اور 17 کے تقاضے بھی پورے نہیں کیے گئے۔

ای میلز اصل (original) شکل میں پیش نہیں کی گئیں بلکہ ایسے پرنٹ آؤٹس تھے جن کی قانونی حیثیت ثابت نہیں کی گئی۔

استغاثہ یہ بھی واضح طور پر ثابت نہ کر سکا کہ مذکورہ ای میلز ملزم کے کسی جرم میں ملوث ہونے کو ثابت کرتی ہیں۔

نتیجہ:
عدالت نے قرار دیا کہ مذکورہ ای میلز قانون کے مطابق قابلِ قبول الیکٹرانک شہادت ثابت نہیں ہوئیں۔ مطلوبہ قانونی سرٹیفکیٹ/ثبوت کے بغیر اور اصل ای میلز پیش کیے بغیر ان کے مندرجات کو محض پرنٹ آؤٹ کی صورت میں ثابت نہیں کیا جا سکتا
2026 PCrLJ 1278
اہم قانونی اصول:

> Electronic evidence must be proved in accordance with the statutory requirements; mere printouts of emails, without the requisite certificate/proof, cannot by themselves be treated as admissible electronic evidence.

07/09/2026

*2026 P Cr. LJ 1334*

*موضوع: جیو-فینسنگ اور کال ڈیٹا ریکارڈ کی طلبی - پراسیکیوشن ایویڈنس کے دوران دستاویز طلب کرنے کا اختیار*

---

*خلاصہ فیصلہ اردو میں:*

*1۔ کیس کا پس منظر:*
مقدمے کے دوران ملزمان نے درخواست دائر کی کہ پراسیکیوشن کے گواہان کا *Geo-fencing اور Call Data Record / CDR* طلب کیا جائے۔
ملزمان کا موقف تھا کہ چالان میں جن گواہان کو عینی گواہ ظاہر کیا گیا ہے وہ وقوعہ کے وقت موقع پر موجود ہی نہیں تھے۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے CDR اور Geo-fencing ضروری ہے۔

ٹرائیل کورٹ نے یہ درخواست مسترد کر دی اور کہا کہ "یہ دستاویزات دفاعی شہادت کے وقت طلب کی جا سکتی ہیں، پراسیکیوشن ایویڈنس کے دوران نہیں"۔

ملزمان نے اس حکم کے خلاف ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی۔

*2۔ ہائی کورٹ کا فیصلہ اور قانونی نکات:*

*نکتہ نمبر 1: دفعہ 94 ض ف کا اختیار کسی بھی سٹیج پر استعمال ہو سکتا ہے*
عدالت نے قرار دیا کہ *دفعہ 94 ضابطہ فوجداری* کے تحت ملزم کسی بھی دستاویز یا چیز کی طلبی کر سکتا ہے تاکہ پراسیکیوشن گواہان کی ساکھ کو ختم کیا جا سکے۔
شرط صرف یہ ہے کہ عدالت مطمئن ہو کہ اس دستاویز کی طلبی "مقدمے کے منصفانہ فیصلے کے لیے ضروری یا مناسب" ہے۔

عدالتِ زیریں نے یہ کہہ کر درخواست مسترد کی کہ یہ کام دفاعی شہادت میں ہو گا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ *قانون میں ایسی کوئی پابندی نہیں*۔ عدالت یہ اختیار *ٹرائل کے کسی بھی سٹیج پر* استعمال کر سکتی ہے۔ لہٰذا زیریں عدالت کا مشاہدہ قانون سے متصادم تھا اور اسے کالعدم قرار دیا گیا۔

*نکتہ نمبر 2: آرٹیکل 164 قانون شہادت 1984*
عدالت نے مزید کہا کہ *آرٹیکل 164 قانون شہادت 1984* کے تحت عدالت جدید آلات کے ذریعے ریکارڈ کی گئی شہادت، جیسے *Call Data Record, Geo-fencing, CCTV, Voice Recording* وغیرہ کو بطور شہادت قبول کر سکتی ہے۔

البتہ یہ عدالت کی صوابدید پر ہے کہ کیس کے حالات اور نوعیت کے مطابق اسے قبول کیا جائے یا نہ کیا جائے۔

*نکتہ نمبر 3: صوابدید کا محتاط استعمال*
عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ یہ عدالت کی صوابدید ہے، لیکن اسے *احتیاط اور عدل کے ساتھ* استعمال کرنا چاہیے۔ عدالتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ منصفانہ ٹرائل کو یقینی بنانے کے لیے ہر وہ قدم اٹھائیں جس سے "سچ" سامنے آ سکے۔

*3۔ فیصلے کا نتیجہ:*
1. ٹرائیل کورٹ کا یہ حکم غلط تھا کہ CDR/Geo-fencing صرف دفاعی شہادت میں طلب ہو گی۔
2. ملزم پراسیکیوشن ایویڈنس کے دوران بھی دفعہ 94 ض ف کے تحت CDR طلب کرا سکتا ہے اگر وہ گواہان کی موجودگی/عدم موجودگی کو چیلنج کرنا چاہے۔
3. CDR اور Geo-fencing جدید شہادت ہے اور آرٹیکل 164 کے تحت قابلِ قبول ہے۔

*سادہ الفاظ میں مطلب:*
اگر پولیس کسی شخص کو عینی گواہ بنا کر پیش کرے اور ملزم کو شک ہو کہ وہ موقع پر تھا ہی نہیں، تو ملزم ٹرائل کے دوران ہی عدالت سے اس گواہ کا *کال ڈیٹا ریکارڈ اور جیو-فینسنگ* منگوا سکتا ہے۔
عدالت یہ نہیں کہہ سکتی کہ "یہ بعد میں مانگیں"۔ عدالت کو کیس کے میرٹ پر دیکھ کر فیصلہ کرنا ہوگا کہ یہ شہادت منصفانہ ٹرائل کے لیے ضروری ہے یا نہیں۔

*اہم Legal Principle:*
*"Production of document is not stage-bound. Court can order it at any stage of trial under Sec 94 Cr.P.C if it is necessary for just decision."*

*حوالہ:* _2026 P Cr. LJ 1334_























02/09/2026

The Association of International Lawyers (AIL Global) is pleased to announce the appointment of Mr. Ch Umer Farooq as General Secretary, District Khanewal, Punjab Chapter, Pakistan, for the year 2026.

We extend our sincere and heartfelt congratulations to Mr. Ch Umer Farooq on assuming this important responsibility. His appointment will further strengthen the organisational structure of AIL Global and enhance its activities within District Khanewal and the wider legal community.

We are confident that, with his dedication, integrity, professionalism and vision, he will discharge his responsibilities effectively and make a valuable contribution towards promoting the rule of law, human rights, access to justice, lawyers’ welfare and professional unity.

The entire AIL Global family warmly welcomes Mr. Ch Umer Farooq and wishes him every success in his new role.

Saeed Ahmad Hashmi
President
Association of International Lawyers (AIL Global)

02/09/2026

منشیات کے مقدمے میں استعمال ہونے والی گاڑی — قانونی مالک کو سپردگی (Supardari)

2026 PCrLJ 1295 [Sindh]
معزز جسٹس جناب جسٹس جان علی جونیجو

سندھ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ محض کسی ملزم کا گاڑی میں موجود یا سفر کرنا، منشیات کے مقدمے میں گاڑی کو ضبط (Confiscation) کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔

مذکورہ مقدمے میں گاڑی درخواست گزار کے نام پر رجسٹرڈ تھی، جبکہ:

• درخواست گزار خود مقدمے میں ملزمہ نہیں تھی؛
• وہ مبینہ جرم میں ملوث نہیں تھی؛
• ٹرائل کورٹ یہ ثابت نہیں کر سکی کہ گاڑی کو حقیقتاً منشیات کی ترسیل کے لیے استعمال کیا گیا تھا؛ اور
• فیصلے میں گاڑی ضبط کرنے کے لیے کوئی قابلِ قبول اور مؤثر قانونی وجوہات بیان نہیں کی گئیں۔

لہٰذا گاڑی کے رجسٹرڈ اور قانونی مالک کو اس کی تحویل دینے سے انکار کرنے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں تھی۔

سندھ ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے گاڑی کو اس کے قانونی مالک کے حوالے کرنے کا حکم دیا، بذریعہ سپردگی (Supardari)۔

⚖️ بنیادی قانونی اصول:

صرف اس وجہ سے کہ کوئی ملزم گاڑی میں سفر کر رہا تھا، گاڑی ضبط نہیں کی جا سکتی۔

استغاثہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ گاڑی کا منشیات کے جرم کے ساتھ واضح اور قابلِ اعتماد تعلق ثابت کرے، جبکہ عدالت پر بھی لازم ہے کہ گاڑی ضبط کرنے کی صورت میں مؤثر اور قانونی وجوہات بیان کرے۔

حوالہ:
2026 PCrLJ 1295 (Sindh), صفحات 1298–1299

31/08/2026

Benefit of doubt could even be extended at bail stage.
2026 SCMR 1076
2024 SCMR 205
2023 SCMR 1140
2023 SCMR 364
2022 SCMR 1555
2022 SCMR 1271
2022 SCMR 624
2020 SCMR 971
2017 SCMR 538

Address

KHANEWAL
Multan

Telephone

+923017596304

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when VOICE OF LAWYER posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to VOICE OF LAWYER:

Shortcuts

Share