06/09/2026
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(1) کے تیسرے پروویزو کے تحت اگر ملزم ایک سال سے زائد عرصہ زیرِ حراست ہو اور ٹرائل مکمل نہ ہوا ہو تو اسے تاخیر کی بنیاد پر ضمانت کا قانونی حق حاصل ہو سکتا ہے، بشرطیکہ تاخیر ملزم یا اس کے وکیل کی وجہ سے نہ ہوئی ہو۔
صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ دفاع نے کچھ تاریخوں پر التوا لیا تھا؛ عدالت کو مخصوص طور پر ثابت کرنا ہوگا کہ ملزم کے کسی فعل یا کوتاہی سے ٹرائل میں حقیقی تاخیر ہوئی۔
مزید یہ کہ اگر استغاثہ کے گواہ عدالت میں موجود ہوں لیکن ان کا بیان ریکارڈ نہ کیا جائے، تو عدالت کو التوا کی تحریری وجوہات (speaking order) دینا ضروری ہیں۔ ایسی غیر واضح تاخیر کو محض عمومی الزام کی بنیاد پر ملزم کے کھاتے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔
نتیجتاً: چونکہ چالان جمع کرانے میں تقریباً 8 ماہ 10 دن کی تاخیر استغاثہ کی جانب سے ہوئی اور بعد کی تاخیر بھی ملزم کی کسی مخصوص دانستہ حرکت سے ثابت نہیں ہوئی، اس لیے عدالت نے ملزم کو بعد از گرفتاری ضمانت دے دی۔
اہم اصول:
> Statutory delay bail میں تاخیر کو ملزم کے ذمہ ڈالنے کے لیے مخصوص اور ثابت شدہ فعل یا کوتاہی ضروری ہے؛ محض عمومی الزام کافی نہیں۔
علی شاھد عرف شان علی بنام سرکار
Call.Misc 43414–B 2026
Mirza Idrees advocate
03335791111