M Yaqoob Meher Law Associates

M Yaqoob Meher Law Associates Aim to help the needy people whose effected by civil,criminal,family matters .Also aim to provide free legal aid

11/08/2019

*گوشت ملے گا*

بابا بابا
تِین دِن رہ گئے ہیں قربانی والی عید میں۔
ہمیں بھی گوشت ملے گا نا ؟
بابا: ہاں ہاں کیوں نہیں بِالکُل ملے گا۔۔

لیکن بابا پچھلی عید پر تو کسی نے بھی ہمیں گوشت نہیں دیا تھا، اب تو پورا سال ہو گیا ھےگوشت دیکھے ہوئے بھی،

نہیں شازیہ : اللہ نے ہمیں بھوکا تو نہیں رکھا،

میری پیاری بیٹی، ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیۓ

ڈاکٹر صاحب قربانی کے لئے بڑا جانور لے کر آئے ہیں،

اور ماسٹر جی بھی تو بکرا لے کر آئےہیں،

ہم غریبوں کے لیے ہی تو قربانی کا گوشت ہوتا ہے،

امیر لوگ تو سارا سال گوشت ہی کھاتے ہیں،

آج عیدالضحٰی پے مولوی صاحب بیان فرما رہے ہیں

کہ قربانی میں غریب مسکین لوگوں کونہیں بھولنا چاہئے۔۔

ان کے بہت حقوق ہوتے ہیں۔۔

خیر شازیہ کا باپ بھی نماز ادا کر کےگھر پھنچ گیا،

گھنٹہ بھر انتظارکرنے کے بعد شازیہ بولی۔۔

بابا ابھی تک گوشت نہیں آیا،

بڑی بہن رافیہ بولی۔۔ چپ ہو جاٶ شازی بابا کو تنگ نہ کرو۔

وہ چپ چاپ دونوں کی باتیں سنتا رہا اور نظرانداز کرتا رہا* ۔۔

کافی دیر کے بعد بھی جب کہیں سے گوشت نہیں آیا تو شازیہ کی ماں بولی۔

سنیۓ میں نے تو پیاز ٹماٹر بھی کاٹ دیۓہیں۔ لیکن کہیں سے بھی گوشت نہیں آیا،

کہیں بھول تو نہیں گئے ہماری طرف گوشت بجھوانا۔

آپ خود جا کر مانگ لائیں،

شازیہ کی ماں تمہیںتو پتہ ھے آج تک ہم نےکبھی کسی سے مانگانہیں ،

اللہ کوئی نہ کوئی سبب پیدا کرے گا۔۔

دوپہر گزرنے کے بعد شازیہ کے اسرار پر پہلے ڈاکٹر صاحب کے گھر گئے،

اور بولے ڈاکٹر صاحب۔ میں آپ کاپڑوسی ہوں کیا قربانی کا گوشت مل سکتاہے؟

یہ سننا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کا رنگ لال پیلا ہونے لگا،

اور *حقارت سے بولے* پتہ نہیں کہاں کہاں سے آ جاتے ہیں گوشت مانگنے،

تڑاخ سے دروازہ بند کر دیا ۔۔

*توہین کے احساس سے اسکی آنکھوں میں آنسو گۓ۔۔

اور بھوجل قدموں سے چل پڑا راستےمیں ماسٹر جی

کے گھر کی طرف قدم اٹھے اور وہاں بھی وہی دست سوال۔

ماسٹر جی نے گوشت کا سن کرعجیب سی نظروںسے دیکھا اور چلےگۓ۔

تھوڑی دیر بعد باھرآۓ تو شاپر دے کرجلدی سے اندر چلۓ گۓ۔

جیسے اس نے گوشت مانگ کر گناہ کر دیا ہو۔۔

گھر پہنچ کر دیکھا تو صرف *ہڈیاں اور چربی* ۔۔

خاموشی سے اٹھ کرکمرے میں چلے گئے اور خاموشی سے رونے لگ گئے۔

بیوی آئی اور بولی کوئی بات نہیں۔۔ آپ غمگین نہ ہوں۔

میں چٹنی بنا لیتی ہوں۔۔

تھوڑی دیر بعد شازیہ کمرے میں آئی ۔

اور بولی بابا،

ہمیں گوشت نہںں کھانا۔ میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے ویسے بھی،

یہ سننا تھا کہ آنکھوں سے آنسو گرنےلگے اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے

لیکن رونے والے وہ اکیلے نہیں تھے۔۔

دونوں بچیاں اور بیوی بھی آنسو بہا رہی تھی

اتنے میں پڑوس والے اکرم کی آواز آئی ۔۔

جو *سبزی کی ریڑھی* لگاتا تھا۔۔

انور بھائی ،

دروازہ کھولو،

دروازہ کھولا تو اکرم نے تین چار کلوگوشت کا شاپر پکڑا دیا،

اور بولا ،

گاٶں سے چھوٹا بھائی لایا ہے۔

اتنا ہم اکیلے نہیں کھا سکتے۔

یہ تم بھی کھا لینا

خوشی اورتشکر کے احساس سےآنکھوں میں آنسو آ گۓ ۔

اور اکرم کے لیۓ دل سے دعا نکلنے لگی۔

گوشت کھا کر ابھی فارغ ھوۓ ہی تھے کہ بہت *زور کا طوفان* آیا ۔

بارش شروع ہو گئ۔ اسکے ساتھ ہی بجلی چلی گئی۔

دوسرے دن بھی بجلی نہی آئی۔

پتہ کیا تو معلوم ہوا ٹرانسفارمرجل گیا۔

تیسرے دن شازیہکو لے کرباہر آئے تو دیکھا کہ،

ماسٹر جی اور ڈاکٹر صاحب بہت سا گوشت باہر پھینک رہے تھے ۔

جو بجلی نہ ہونےکی وجہ سے خراب ہو چکا تھا۔

اور اس پر کُتے جھپٹ رہے تھے۔

شازیہ بولی

*بابا* ۔

*کیا کُتوں کے لیۓ قربانی کی تھی* ؟

وہ شازیہ کا چہرہ دیکھتے رہ گیے ۔

اور ماسٹر جی اور ڈاکٹر صاحب نے یہ سُن کر گردن جھکا لی۔

*خدارا احساس کریں غریب اور مسکین لوگوں کا* ۔

یہ صِرف تحریر ھی نہیں،

اپنے آس پاس خود دار مساکین کی‎ ‎ضرورتوں سے ہمہ وقت آگاہ رھنے کی درخواست بھی ھے۔

02/08/2019

اسلام علیکم
جمعہ مبارک
'' ياالله
تو واحد بادشاہ ہے
جو مانگنے پر خوش اور نہ مانگنے پر ناراض ھوتا ہے
اے شہ رگ سے قریب الله ہماری توبہ قبول فرما لے.
ہمارے ایمان،جان،مال،عزت کی حفاظت فرما.''
آمین
💐💐💐💐💐

26/07/2019
17/06/2019
10/05/2019

قریبی کریانہ والے کا کھاتہ دیکھیں
کسی
غریب کا تھوڑا اُدھار لکھا هوگا
وہ اُس کے لئے "بڑے ہندسے" ہیں، چُپ کرکے ادا کردیں
یہ بھی رمضان ھے
جزاک اللہ

05/05/2019

*اپیل*

اگر آئی ایم ایف سے قرض لینا مجبوری ہے اور ملکی مفاد میں ہے تو ضرور لیں ۔ ۔ ۔
لیکن! کیوں نا اس بار اس قرض کا بوجھ عوام پر نئے ٹیکسز لگانے کی بجائے یہ کیا جائے کہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی و سینیٹ کے تمام ممبران اور صوبائی و وفاقی وزراء اور وزیر اعظم و صدر ؛ آرمی چیف ؛۔ اور تمام ججز صاحباں اور تمام بیوروکریٹس سے سوائے اپنی تنخواہ کے تمام تر مراعات واپس لے لی جائیں۔

انکا ہاوس رینٹ۔
بجلی و گیس بل۔
ڈیزل و پٹرول خرچ
ماہانہ لاکھوں الاؤنس
ماہانہ ریفریشمنٹ خرچ
گاڑیاں، پروٹوکول،
یہ سب کچھ چند ماہ اپنی جیب سے برداشت کرلیں پھر دیکھتے ہیں۔ مہنگائی کم ہوتی ہے یا بڑھتی ہے۔
ملکی خسارہ کم ہوتا ہے یا بڑھتا ہے۔ ملکی معیشت پہ قرض کا بوجھ کب تک رہتا ہے۔۔۔ ؟؟؟؟؟
ریاست مدینہ کی بات کر تے ہیں مگر ریاست مدینہ کہ اصولوں کے قریب تک نہیں گئے۔
*ریاست مدینہ میں تو حاکمِ وقت نے اپنی اور مزدور کی تنخواہ برابر رکھنے کے احکامات جاری گئے تھے۔*

02/03/2019

کون سا ظلم ایسا ہے جو کشمیر پر نہیں ہوا

1989سے 2018 تک 952665 کشمیریوں کو شہید کیا گیا
145504 کشمیریو!ں کی گرفتاریاں ہوئ
109201 گھروں عمارات کو گرا دیا گیا
22896 عورتوں کو بیوا کیا گیا
107754 بچوں کو یتیم کیا گیا
11111 کشمیری بہنوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا
آخر کب تک کشمیر کی یہی صورت حال رہے گی آخر کب کشمیری بھی آزادی کی سانس لیں گے اے میرے کشمیر کے نوجوانو اپنی عزت کی جنگ کے لیے نکلو گھروں سے اپنی درتی ماں کی آزادی کے لیے نکلو
جاگ اٹھو کشمیریوں جب تک آزادی کی جنگ خود نہیں لڑو گے تب تک آزادی نصیب نہیں ہو گی

کل بھی جل رہا تھا ۔۔۔کشمیر
آج بھی جل رہا ہے ۔۔۔۔کشمیر

06/01/2019

*دو منٹ کی عدالت*
عرب سالار قتیبہ بن مسلم نے اسلامی لشکر کشی کے اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے سمرقند کو فتح کر لیا تھا،

اصول یہ تھا کہ حملہ کرنے سے پہلے تین دن کی مہلت دی جائے۔

اور یہ بے اصولی ہوئی بھی تو ایسے دور میں جب زمانہ بھی عمر بن عبدالعزیز کا چل رہا تھا۔

🍀 سمرقند کے پادری نے مسلمانوں کی اس غاصبانہ فتح پر قتیبۃ کے خلاف شکایت دمشق میں بیٹھے مسلمانوں کے حاکم کو ایک پیغامبر کے ذریعہ خط لکھ کر بھجوائی۔

پیغامبر نے دمشق پہنچ کر ایک عالیشان عمارت دیکھی جس میں لوگ رکوع و سجود کر رہے تھے۔

اُس نے لوگوں سے پوچھا :
کیا یہ حاکمِ شہر کی رہائش ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ تو مسجد ہے،
تو نماز نہیں پڑھتا کیا ؟
پیغامبر نے کہا نہیں، میں اھلِ سمرقند کے دین کا پیروکارہوں۔ لوگوں نے اُسے حاکم کے گھر کا راستہ دکھا دیا۔

🍀 پیغامبر لوگوں کے بتائے ہوئے راستہ پر چلتے حاکم کے گھر جا پہنچا، کیا دیکھتا ہے کہ ایک شخص دیوار سے لگی سیڑھی پر چڑھ کر چھت کی لپائی کر رہا ہے اور نیچے کھڑی ایک عورت گارا اُٹھا کر اُسے دے رہی ہے۔

پیغامبر جس راستے سے آیا تھا واپس اُسی راستے سے اُن لوگوں کے پاس جا پہنچا جنہوں نے اُسے راستہ بتایا تھا۔

اُس نے لوگوں سے کہا میں نے تم سے حاکم کے گھر کا پتہ پوچھا تھا نہ کہ اِس مفلوک الحال شخص کا جس کے گھر کی چھت بھی ٹوٹی ہوئی ہے۔

لوگوں نے کہا،
ہم نے تجھے پتہ ٹھیک ہی بتایا تھا، وہی حاکم کا گھر ہے۔
پیغامبر نے بے دلی سے دوبارہ اُسی گھرپر جا کر دستک دی،

جو شخص کچھ دیر پہلے تک لپائی کر رہا تھا وہی اند ر سے نمودار ہوا۔

🍀 میں سمرقند کے پادری کی طرف سے بھیجا گیا پیغامبر ہوں کہہ کر اُس نے اپنا تعارف کرایا اور خط حاکم کو دیدیا۔

اُس شخص نے خط پڑھ کر اُسی خط کی پشت پر ہی لکھا :
عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے سمرقند میں تعینات اپنے عامل کے نام؛ ایک قاضی کا تقرر کرو جو پادری کی شکایت سنے۔
مہر لگا کر خط واپس پیغامبر کو دیدیا۔

پیغامبر وہاں سے چل تو دیا مگر اپنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے،
کیا یہ وہ خط ہے جو مسلمانوں کے اُس عظیم لشکر کو ہمارے شہر سے نکالے گا ؟

سمرقند لوٹ کر پیغامبر نے خط پادری کو تھمایا، جسے پڑھ کر پادری کو بھی اپنی دنیا اندھیر ہوتی دکھائی دی،
خط تو اُسی کے نام لکھا ہوا تھا جس سے اُنہیں شکایت تھی،
اُنہیں یقین تھا کاغذ کا یہ ٹکڑا اُنہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔

🍀 مگر پھر بھی خط لیکر مجبورا اُس حاکمِ سمرقند کے پاس پہنچے جس کے فریب کا وہ پہلے ہی شکار ہو چکے تھے۔

حاکم نے خط پڑھتے ہی فورا ایک قاضی (جمیع نام کا ایک شخص) کا تعین کردیا جو سمرقندیوں کی شکایت سن سکے۔

موقع پر ہی عدالت لگ گئی،
ایک چوبدار نے قتیبہ کا نام بغیر کسی لقب و منصب کے پکارا، قتیبہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر قاضی کے رو برو اور پادری کے ساتھ ہو کر بیٹھ گیا۔

قاضی نے سمرقندی سے پوچھا، کیا دعویٰ ہے تمہارا ؟
پادری نے کہا : قتیبہ نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہم پر حملہ کیا، نہ تو اِس نے ہمیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور نہ ہی ہمیں کسی سوچ و بچار کا موقع دیا تھا۔

🍀 قاضی نے قتیبہ کو دیکھ کر پوچھا، کیا کہتے ہو تم اس دعویٰ کے جواب میں ؟
قتیبہ نے کہا : قاضی صاحب، جنگ تو ہوتی ہی فریب اور دھوکہ ہے،

سمرقند ایک عظیم ملک تھا،
اس کے قرب و جوار کے کمتر ملکوں نے نہ تو ہماری کسی دعوت کو مان کر اسلام قبول کیا تھا اور نہ ہی جزیہ دینے پر تیار ہوئے تھے،
بلکہ ہمارے مقابلے میں جنگ کو ترجیح دی تھی۔

سمرقند کی زمینیں تو اور بھی سر سبز و شاداب اور زور آور تھیں، ہمیں پورا یقین تھا کہ یہ لوگ بھی لڑنے کو ہی ترجیح دیں گے، ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا اور سمرقند پر قبضہ کر لیا۔

🍀 قاضی نے قتیبہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا :
قتیبہ میری بات کا جواب دو،
تم نے ان لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت، جزیہ یا پھر جنگ کی خبر دی تھی ؟

قتیبہ نے کہا : نہیں قاضی صاحب، میں نے جس طرح پہلے ہی عرض کر دیا ہے کہ ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا تھا۔

قاضی نے کہا : میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی غلطی کا اقرار کر رہے ہو، اس کے بعد تو عدالت کا کوئی اور کام رہ ہی نہیں جاتا۔

قتیبہ : اللہ نے اس دین کو فتح اور عظمت تو دی ہی عدل و انصاف کی وجہ سے ہے نہ کہ دھوکہ دہی اور موقع پرستی سے۔

میری عدالت یہ فیصلہ سناتی ہے کہ تمام مسلمان فوجی اور انکے عہدہ داران بمع اپنے بیوی بچوں کے، اپنی ہر قسم کی املاک، گھر اور دکانیں چھوڑ کر سمرقند کی حدوں سے باہر نکل جائیں اور سمر قند میں کوئی مسلمان باقی نہ رہنے پائے۔ اگر ادھر دوبارہ آنا بھی ہو تو بغیر کسی پیشگی اطلاع و دعوت کے اور تین دن کی سوچ و بچار کی مہلت دیئے بغیر نہ آیا جائے۔

پادری جو کچھ دیکھ اور سن رہا تھا وہ ناقابل یقین بلکہ ایک مذاق اور تمثیل نظر آ رہا تھا۔

چند لمحوں کی یہ عدالت، نہ کوئی گواہ اور نہ ہی دلیلوں کی ضرورت۔ اور تو اور قاضی بھی اپنی عدالت کو برخاست کرکے قتیبہ کے ساتھ ہی اُٹھ کر جا رہا تھا۔

اور چند گھنٹوں کے بعد ہی سمرقندیوں نے اپنے پیچھے گرد و غبار کے بادل چھوڑتے لوگوں کے قافلے دیکھے جو شہر کو ویران کر کے جا رہے تھے۔

لوگ حیرت سے ایک دوسرے سے سبب پوچھ رہے تھے اور جاننے والے بتا رہے تھے کہ عدالت کے فیصلے کی تعمیل ہو رہی تھی۔

اور اُس دن جب سورج ڈوبا تو سمرقند کی ویران اور خالی گلیوں میں صرف آوارہ کتے گھوم رہے تھے اور سمرقندیوں کے گھروں سے آہ و پکار اور رونے دھونے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، اُن کو ایسے لوگ چھوڑ کر جا رہے تھے جن کے اخلاق ، معاشرت، برتاؤ، معاملات اور پیار و محبت نے اُن کو اور اُن کے رہن سہن کو مہذب بنا دیا تھا۔

🍀 تاریخ گواہ ہے کہ سمرقندی یہ فراق چند گھنٹے بھی برداشت نہ کر پائے، اپنے پادری کی قیادت میں لا الٰہ الاّ اللہ محمّد الرّسول اللہ کا اقرار کرتے مسلمانوں کے لشکر کے پیچھے روانہ ہوگئے اور اُن کو واپس لے آئے۔

اور یہ سب کیوں نہ ہوتا، کہیں بھی تو ایسا نہیں ہوا تھا کہ فاتح لشکر اپنے ہی قاضی کی کہی دو باتوں پر عمل کرے اور شہر کو خالی کردے۔

دینِ رحمت نے وہاں ایسے نقوش چھوڑے کہ سمرقند ایک عرصہ تک مسلمانوں کا دارالخلافہ بنا رہا۔

*مندرجہ بالا واقعہ شیخ علی طنطاوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب (قصص من التاریخ) کے صفحہ نمبر 411 (مصر میں 1932 میں چھپی ہوئی) سے لے کر اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔

Address

Mirpur

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M Yaqoob Meher Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to M Yaqoob Meher Law Associates:

Share