Advocate Abid Ali Salarzai

Advocate Abid Ali Salarzai Legal Consultancy, Law Awareness and Legal Services

سول جج امتحان – تحریری امتحان کے مضامین اور نصاب🙃
31/01/2026

سول جج امتحان – تحریری امتحان کے مضامین اور نصاب
🙃

📢 KPPSC Advertisement Announcement – Advertisement No. 03/2026Khyber Pakhtunkhwa Public Service Commission has announced...
30/01/2026

📢 KPPSC Advertisement Announcement – Advertisement No. 03/2026

Khyber Pakhtunkhwa Public Service Commission has announced Advertisement No. 03/2026 inviting online applications from eligible Pakistani citizens having domicile of Khyber Pakhtunkhwa.

🔹 Posts: Civil Judge-cum-Judicial Magistrate / Alaqa Qazi
🔹 Department: Peshawar High Court, Peshawar

📝 A competitive examination will be conducted. Candidates shall opt for Urdu or Pashto paper. The prescribed syllabus is available on the KPPSC official website.

🌐 Apply online & view complete details at: www.kppsc.gov.pk

Taxes for Registry & Mutation Direct Mutation is banned but rates are the same for Registry..
06/01/2026

Taxes for Registry & Mutation
Direct Mutation is banned but rates are the same for Registry..

*PLJ 2024 SC 20**2022 SCMR 1352**دفعہ 4 مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961  #پاکستان میں اب بھی نافذالعمل ہے اور مرحوم بیٹے، بی...
29/12/2025

*PLJ 2024 SC 20*
*2022 SCMR 1352*
*دفعہ 4 مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 #پاکستان میں اب بھی نافذالعمل ہے اور مرحوم بیٹے، بیٹی کی اولاد ( #پوتا، #پوتی، #نواسہ، #نواسی) #وراثت کے #حقدار ہیں*
Section 4 of the Muslim Family Laws Ordinance continues to be the subsistent law of Pakistan, and shall remain so till such time that the Shariat Appellate Bench of the Supreme Court either upholds the decision of the Federal Shariat Court in the Allah Rakha case or dismisses the said appeal.
Civil Appeal No. 1348 of 2014
Mst. Kalsoom Begum vs Peran Ditta, etc.

29/12/2025

پاسپورٹ قانون میں کینسل ،ضبط،کرنےکے علاؤہ غیر فعال کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہیں
ہائیکورٹ نے پاسپورٹ قوانین 2021 کے تحت انتظامیہ کے اختیارات کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے یہ بنیادی قانونی نکتہ طے کیا کہ ذیلی قانون سازی (Rules) کسی صورت بھی قانونِ اصل (Passports Act, 1974) سے تجاوز نہیں کر سکتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ پاسپورٹس ایکٹ 1974 کی دفعہ 8 میں صرف پاسپورٹ کو منسوخ (cancel)، ضبط (impound) یا ضبطی میں لینے (confiscate) کے اختیارات دیے گئے ہیں، جبکہ پاسپورٹ کو “Inactivate” کرنے کا اختیار قانون میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ اس کے باوجود Rule 23 کے تحت پاسپورٹ کو غیر فعال کرنا نہ صرف قانونی دائرہ اختیار سے تجاوز ہے بلکہ یہ شہریوں کے بنیادی حقوق پر غیر آئینی قدغن بھی ہے، اس لیے عدالت نے اس اختیار کو Ultra Vires قرار دیا۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ پاسپورٹ کو Inactivate کرنے کا طریقہ کار درحقیقت Due Process سے بچنے کا ایک غیر رسمی اور خفیہ ذریعہ بن چکا ہے، جس کے نتیجے میں شہریوں کو بغیر نوٹس، بغیر شوکاز اور بغیر سماعت کے ان کے حقِ سفر سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ ایسے اقدامات شہریوں کو ایئرپورٹس پر اچانک ذلت، سماجی رسوائی اور شدید ذہنی اذیت سے دوچار کرتے ہیں، جو قانون، انصاف اور آئین کے منافی ہے۔ عدالت کے مطابق دفعہ 8 میں دیا گیا باقاعدہ قانونی طریقہ کار شفافیت اور احتساب کو یقینی بناتا ہے، جبکہ Rule 23 کے تحت Inactivation انتظامیہ کو من مانی اور غیر جوابدہ اختیارات فراہم کرتا ہے۔
اسی طرح عدالت نے Passport Control List (PCL) میں کسی شخص کا نام پانچ سال یا اس سے زائد مدت تک رکھنے سے متعلق Rule 22(2)(c) کا بھی تفصیلی جائزہ لیا اور یہ قرار دیا کہ ایسی پابندی کے لیے نہ تو کسی واضح قانونی بنیاد کا تعین کیا گیا ہے اور نہ ہی خلاف ورزی کی نوعیت کے مطابق کوئی درجہ بندی موجود ہے۔ عدالت کے نزدیک ایک ہی مدت کی پابندی کو ہر قسم کی مبینہ خلاف ورزی پر لاگو کرنا، خواہ وہ معمولی غیر قانونی قیام ہو یا سنگین جرائم، منصفانہ، معقول اور متناسب نہیں ہے بلکہ یہ اختیار کے ناجائز اور من مانے استعمال کے مترادف ہے۔
عدالت نے اس اصول کو بھی دوٹوک الفاظ میں بیان کیا کہ حقِ سفر شہری آزادی کا لازمی جزو ہے اور اس پر کوئی پابندی صرف اسی وقت لگائی جا سکتی ہے جب وہ قانون کے مطابق، معقول، شفاف اور تناسب (Proportionality) کے اصول پر پوری اترتی ہو۔ غیر معینہ یا طویل مدت کی پابندیاں، جن کے لیے کوئی واضح معیار یا رہنمائی فراہم نہ کی گئی ہو، Unguided Discretion کے زمرے میں آتی ہیں جو بالآخر Arbitrariness میں تبدیل ہو جاتی ہے اور قانون میں ناقابلِ قبول ہے۔
مزید برآں عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ اصل قانون سازی کے مقاصد پر عدالت سوال نہیں اٹھاتی، تاہم ذیلی یا تفویض شدہ قانون سازی (Delegated Legislation) اگر قانونِ اصل کے مقصد، دائرہ اختیار یا آئینی حقوق سے متصادم ہو تو وہ عدالتی نظرِثانی کے دائرے میں آتی ہے۔ موجودہ معاملے میں عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پاسپورٹ قوانین 2021 کی مذکورہ شقیں قانونِ اصل سے متجاوز ہیں اور شہری حقوق کو غیر متناسب طور پر محدود کرتی ہیں، اس لیے انہیں برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔
بالآخر عدالت نے قرار دیا کہ Rule 23 کے تحت پاسپورٹ Inactivate کرنے کا اختیار اور Rule 22(2)(c) کے تحت پانچ سال یا زائد مدت کی پابندی دونوں قانوناً کالعدم ہیں۔ وفاقی حکومت کو ہدایت دی گئی کہ وہ تیس دن کے اندر قوانین کو پاسپورٹس ایکٹ 1974 کے مطابق ہم آہنگ کرے، جبکہ درخواست گزار کی representation کو دوبارہ زیرِ غور لانے کا حکم دیا گیا۔ یہ فیصلہ شہری آزادیوں، قانونی طریقہ کار اور انتظامی اختیارات کی حدود کے حوالے سے ایک اہم اور اصولی عدالتی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
Inactivation of passport is contrary to the mandate of Section 8 of Passports Act, 1974.
WP.13357-25
FARHAN ALI VS
FOP ETC
Mr. Justice Asim Hafeez
15-12-2025
2025 LHC 7922

شناختی کارڈ بلاک کرنے کا کوئی قانونی تصور موجود نہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے واضح طور پر قرار دیا ہے کہ نادرا آرڈیننس 2000 ک...
20/12/2025

شناختی کارڈ بلاک کرنے کا کوئی قانونی تصور موجود نہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے واضح طور پر قرار دیا ہے کہ نادرا آرڈیننس 2000 کی دفعہ 18 کے تحت صرف کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (شناختی کارڈ) کی منسوخی، ضبط یا بحقِ سرکار ضبطی ممکن ہے، جبکہ “بلاکنگ” کا لفظ یا اختیار قانون میں کہیں موجود نہیں۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کو شناختی کارڈ یا پاسپورٹ کے خلاف ایسا کوئی حکم دینے کا اختیار حاصل نہیں تھا، اور نہ ہی پاسپورٹس ایکٹ 1974 ٹرائل کورٹ کو پاسپورٹ کی منسوخی یا ضبط کا اختیار دیتا ہے۔ دفعہ 8 پاسپورٹ ایکٹ 1974 کے تحت فیڈرل گورنمنٹ مجاز ہے کہ وہ پاسپورٹ ضبط ، منسوخ کرنے کے احکامات جاری کر ے۔اسی طرح نادرا کو بینک اکاؤنٹس بلاک کروانے کا بھی کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں۔ لہٰذا ایسے تمام احکامات دائرۂ اختیار سے باہر (Without Jurisdiction) قرار دیے گئے.

عابد علی سالارزئی
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
0314-6001018

Syllabus for Law Graduate Assessment Test (LAW-GAT)
19/12/2025

Syllabus for Law Graduate Assessment Test (LAW-GAT)

سیول جج کے امتحان کے لیے اہل ہونے کی شرط کے طور پر دو سالہ لازمی پریکٹس ختم کر دی گئی ہے۔
15/12/2025

سیول جج کے امتحان کے لیے اہل ہونے کی شرط کے طور پر دو سالہ لازمی پریکٹس ختم کر دی گئی ہے۔

📢 HEC Announced Law Admission Test (LAT) Schedule for Admissions in LLB Programs in Universities ✅ LAT will be Held on 2...
14/12/2025

📢 HEC Announced Law Admission Test (LAT) Schedule for Admissions in LLB Programs in Universities

✅ LAT will be Held on 25 January,2026

🚨 Last Date for Online Registration : 29 December, 2025

The Khyber Pakhtunkhwa Public Service Commission has completed the recruitment process for (112) posts of Civil Judge-cu...
12/12/2025

The Khyber Pakhtunkhwa Public Service Commission has completed the recruitment process for (112) posts of Civil Judge-cum-Judicial Magistrate / Illaqa Qazi (BPS-18) Peshawar, as advertised in Advertisement No. 05/2024. The following 12 candidates have been tentatively selected for recommendation to the Peshawar High Court for appointment.
Congratulations all new appointed Candidates.

*اب بھی وقت ھیں ، معزز وکلاء صاحبان سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ خدارا کالے کورٹ کے عزت و آبرو کا تحفظ کریں ، پارٹی بازی سے با...
22/11/2025

*اب بھی وقت ھیں ، معزز وکلاء صاحبان سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ خدارا کالے کورٹ کے عزت و آبرو کا تحفظ کریں ، پارٹی بازی سے بالاتر ہوکر اپنے معزز پیشے کے تحفظ کیلے میدان میں اترے ، وکلاء کو ایک منظم منصوبہ بندی سے پارٹی بازی میں تقسیم کر دیا گیا ہے ، اگر اس کی بروقت روک تمام نہیں کی گئی ، تو ھمیں اپنے آنے والی نسلیں کبھی معاف نہیں کرے گی*

*آج ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن چارسدہ کے معزز وکلاء صاحبان ایک امتحان سے گزر رہے ہیں ، کل ھمارا اور آپ کا نمبر ھیں*

*ھم ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن چارسدہ کے اپنے معزز بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہیں*

عابد علی سالارزئی ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
ممبر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن مردان

فاروق خان شیخو ضلع چارسدہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے ایک اہم، فعال اور نظریاتی کارکن رہے ہیں۔ آپ کا تعلق اے این پی سے چار ...
22/11/2025

فاروق خان شیخو

ضلع چارسدہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے ایک اہم، فعال اور نظریاتی کارکن رہے ہیں۔ آپ کا تعلق اے این پی سے چار پشتوں پر محیط ہے، اور آپ ہمیشہ باچا خان کے عدم تشدد کے نظریے پر مضبوطی سے قائم رہے۔ پارٹی کے ضلعی اور تحصیل سطح کے نمایاں عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود آپ نے ہمیشہ ایک عام کارکن کی طرح مخلصانہ خدمت کی—چاہے وہ پارٹی ہو یا عوام۔

گزشتہ دنوں پارٹی کی جانب سے آپ کی رکنیت معطل کر کے آپ کو جماعت سے نکالا گیا، جو نہ صرف ایک افسوس ناک قدم ہے بلکہ پارٹی کیلئے ایک بڑا نقصان بھی ہے۔ آپ جیسی نظریاتی، بہادر اور عوام دوست شخصیت کو کھونا یقینی طور پر تنظیم کیلئے مستقبل میں گہرا خلا پیدا کرے گا۔ یہ سچ شاید آج پوری طرح ظاہر نہ ہو، مگر وقت خود اس کی گواہی دے گا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ آپ کے اخراج کے بعد پارٹی کی کسی بھی ضلعی، صوبائی یا مرکزی قیادت نے آپ کو منانے یا معاملہ سلجھانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اختلافات ہر جماعت میں ہوتے ہیں، لیکن اختلافات کی بنیاد پر ایسے کارکن کو پارٹی سے بےدخل کرنا، جس نے دھماکوں اور سنگین حالات کے باوجود جماعت کا ساتھ نہیں چھوڑا، ایک بڑی ناانصافی اور سیاسی بصیرت کی کمزوری ہے۔

فاروق خان شیخو نے اپنے علاقے کے عوام کیلئے ہمیشہ اخلاص، خدمت اور قربانی کا راستہ اختیار کیا۔ ان کی جدائی نہ صرف پارٹی بلکہ علاقے کی سیاست کیلئے بھی ایک بڑا نقصان ہے۔

بُجھا دی جائے جو شمع، وہ کل پھر جل بھی سکتی ہے
مگر دلوں کے چراغ بجھ جائیں تو جلائے نہیں جاتے

Address

District Courts Mardan
Mardan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Abid Ali Salarzai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category