25/08/2026
تحصیل رستم کے عوام،
ہمیں صرف ہسپتال کی عمارت نہیں چاہیے کہ عمارت کھڑی ہو اور اندر مریضوں کا علاج کرنے والا کوئی نہ ہو۔ چوکیدار ڈرِپ لگاتا ہے اور وہ بھی ایمرجنسی میں 30 منٹ بعد آتا ہے، وہ بھی بغیر چیک اَپ کے! یہ رستم کے عوام کے ساتھ کیا مذاق ہے؟
اگر رات کو رستم ہسپتال کی ایمرجنسی میں ڈاکٹر ہی موجود نہیں تو غریب مریض کہاں جائے؟ ہر غریب آدمی پرائیویٹ ہسپتال کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتا۔
یا تو رستم ہسپتال کی ایمرجنسی میں رات کے وقت مکمل ڈاکٹر اور میڈیکل اسٹاف تعینات کیا جائے، یا پھر عوام کو صاف بتایا جائے کہ یہ ہسپتال صرف عمارت کے لیے ہے!
جو لوگ عوام کے ٹیکس سے تنخواہیں لیتے ہیں، ان کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو علاج کی سہولت دیں، بدتمیزی اور لاپرواہی نہیں۔
رستم کے عوام! اب بھی خاموش رہے تو کل پچھتانا پڑے گا۔ اپنے حق کے لیے پُرامن اور قانونی طریقے سے آواز اٹھائیں۔
رستم کو صرف ہسپتال کی عمارت نہیں، رات دن مکمل علاج اور ایمرجنسی سروس چاہیے!
#رستم #ایمرجنسی #مردان