09/04/2026
وہ تمام غیر ملکی شہری، خاص طور پہ افغان باشندگان، جنہوں نے پاکستانی خواتین سے شادی کی ہے، کیلئے پاکستان کے قانون میں ایک اہم پیش رفت۔
حکومتِ پاکستان نے پاکستان شہریت ایکٹ 1951 میں ترمیم کرتے ہوئے ایک اہم قانون منظور کیا ہے، جسے 2026 سے فوری طور پر نافذ العمل قرار دیا گیا ہے۔
اب وہ تمام افراد، جن کے والد یا والدہ میں سے کوئی ایک پاکستانی شہری ہو، انہیں پاکستانی شہریت کا حقدار تسلیم کیا جائے گا، خواہ
ان کی تاریخِ پیدائش کوئی بھی ہو۔
پس منظر:
پاکستان کے عدالتوں میں متعدد ایسے معاملات سامنے آئے جن میں پاسپورٹ کی درخواستیں اس بنیاد پہ مسترد کی گئیں کہ درخواست گزاروں کے والد غیر ملکی تھے، حالانکہ ان کے پاس نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرہ) کے جاری کردہ قومی شناختی کارڈ موجود تھے۔
عدالتی نظائر:
پشاور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے مختلف فیصلوں میں یہ قرار دیا گیا کہ سنہ 2000 کی ترمیم کو ماضی سے مؤثر سمجھا جائے، تاکہ ایسے افراد کو بھی شہریت کے حقوق فراہم کیے جا سکیں۔
ترمیم کا مقصد:
1. شہریت کے حصول میں قانونی وضاحت پیدا کرنا
2. متاثرہ افراد کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی
3. پاسپورٹ کے اجرا کے عمل میں سہولت پیدا کرنا
یہ ترمیم انصاف اور مساوات کے اصولوں کے عین مطابق ایک اہم
پیش رفت ہے۔
#قانون #افغان #افغانستان #پشاور