04/09/2026
ایبٹ آباد ۔ڈسٹرکٹ بار نے کچہری واقعہ عدلیہ کی آزادی اور بار کے وقار پر حملہ قرار دے دیا
۔ 2 ستمبر 2026 کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ایبٹ آباد کے ہنگامی جنرل باڈی اجلاس میں، جس کی صدارت صدر بار عمران یونس تنولی نے کی اور جس میں خرم غیاث خان ، اسد سعید خان (صدر پشاور ہائی کورٹ بار)، اسد خان جدون (سیکرٹری بار)، محمد علی جدون، سید شاہ فیصل، سید شاہ محبوب، سردار وقار الملک، وقاص رضا خان (ممبران کے پی بار کونسل)، عبدالرحیم خان جدون (صدر حویلاں بار)، خورشید اظہر (سابق صدر ہری پور بار)، اور شاد محمد خان (سابق صدر پشاور ہائی کورٹ بار، مانسہرہ) سمیت وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی، اسسٹنٹ کمشنر (AC) ایبٹ آباد افراسیاب زبیر کے اسی تحکمانہ رویے کا سخت محاسبہ کیا گیا۔
وکلاء اور عام سائلین کی سہولت کے لیے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کے وژن اور پشاور ہائی کورٹ کی دیکھ بھال میں 20 لاکھ روپے کی لاگت سے ایک واٹر فلٹریشن پلانٹ تعمیر کیا جا رہا تھا، جسے AC ایبٹ آباد نے اپنے اہلکاروں کے ساتھ مل کر مسمار کرنے کی کوشش کی اور موقع پر بدتمیزی و بدمزگی پیدا کی۔ اس اقدام کے قانونی و آئینی محاسبے کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:
'ڈیو پروسیس' اور قانونی نوٹس کی عدم موجودگی
قانون کا بنیادی اصول Due Process of Law ہے، جو آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت ہر شہری اور ادارے کو شفاف کارروائی کا حق دیتا ہے۔ مزید برآں، Public Property Removal of Encroachment Act 1977 کی صریح دفعات کے مطابق کسی بھی کارروائی سے قبل باقاعدہ قانونی نوٹس دینا لازمی ہوتا ہے۔ AC ایبٹ آباد نے نہ تو ڈسٹرکٹ بار، نہ سیشن کورٹ اور نہ ہی ہائی کورٹ کو کوئی نوٹس جاری کیا، جو انتظامی بدنیتی (Malafide) کو ثابت کرتا ہے۔
توہینِ عدالت اور جوڈیشل کمپاؤنڈ کی حرمت
آئین کے تحت جوڈیشل کمپاؤنڈ اور کچہری کا اعلیٰ انتظامی و قانونی نگہبان ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ہوتا ہے۔ سیشن جج اور اعلیٰ عدلیہ کی زیرِ نگرانی تعمیر ہونے والے عوامی فلاحی منصوبے پر کسی انتظامی افسر کا اس طرح حملہ آور ہونا آئین کے آرٹیکل 204 اور Contempt of Court Ordinance کے تحت براہِ راست توہینِ عدالت اور عدالتی امور میں ناواجب مداخلت ہے۔
آئینی حقِ زندگی اور انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 9 ہر شہری کو زندگی اور بنیادی سہولیات کا تحفظ دیتا ہے، جس میں صاف پانی کی فراہمی بنیادی جزو ہے۔ سائلین اور وکلاء کے لیے پینے کے پانی کے منصوبے پر شب خون مارنا اور عدالتی ماحول کو زبردستی خراب کرنا شہریوں کو پرامن ماحول میں انصاف کے حصول سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔
افسر شاہی کے خلاف ملک گیر یکجہتی کی ضرورت
یہ وقت محض ایبٹ آباد بار کے احتجاج تک محدود رہنے کا نہیں ہے، بلکہ ملک بھر کی تمام بار ایسوسی ایشنز، پاکستان بار کونسل اور تمام صوبائی بار کونسلز کو ایبٹ آباد بار کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا ہوگا۔ اس واقعے کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ انگریز سامراج کے پیدا کردہ اس کرپٹ، نااہل اور ملک کی بنیادیں کھوکھلی کرنے والے افسر شاہی (Bureaucratic) نظام کو اب منہ توڑ جواب دینے کا وقت آ گیا ہے۔ اگر آج وکلاء برادری نے یکجاں ہو کر اس سامراجی سوچ کا راستہ نہ روکا تو بیوروکریسی کا یہ تکبر آئین، قانون اور عدلیہ کی خود مختاری کو مزید مفلوج کر دے گا۔
سیکرٹری بار اسد خان جدون کے اعلامیے کے مطابق، بار کی جانب سے تشکیل دی گئی 5 رکنی کمیٹی، AC ایبٹ آباد افراسیاب زبیر کی فوری صوبہ بدری کا مطالبہ، اور صابر حسین تنولی ایڈوکیٹ (سپریم کورٹ) کی نگرانی میں ان کے خلاف سول، دیوانی و فوجداری مقدمات قائم کرنے کی قرارداد آئین، بار کے وقار اور قانون کی حکمرانی کو بچانے کا منطقی تقاضا ہے۔
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا اور ڈی سی ایبٹ آباد کو چاہیے کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں اور اختیارات سے تجاوز کرنے والے افسر کے خلاف عبرتناک کارروائی کریں تاکہ انتظامیہ کی یہ قانون شکن روش ختم ہو سکے اور عدلیہ کی آزادی برقرار رہے۔