Law Talk With Adv Yousaf Doulat Chaudhary

Law Talk With Adv Yousaf Doulat Chaudhary This is Law information page by Yousaf Doulat Chaudhary Advocate High Court.

National Minority's Day 11th August
11/08/2026

National Minority's Day 11th August

07/08/2026

S.406-Criminal breach of trust---
Amanat (trust)---Mere mention of word "Amanat" in FIR- Offence under Section 406. P.P.C. not attracted unless ingredients otherwise made out-Merely mentioning the word "Amanat" (trust) in the FIR does not attract the provisions of Section 406, P.P.C., if the offence is otherwise not made out in the case.
Crl.A. 10-L of 2026
LIAQAT ALi vs State.
2026 SCMR 1379
PLJ 2026 SC (CrC) 228

2026 YLR 1561
PLJ 2026 CrC 545
Bail in cae under Punjab Fertilizers Control Act, 2025
کھاد (Fertilizers) سے متعلق مقدمات میں لاہور ہائیکورٹ کی تازہ ترین ہدایات
Crl. Misc.-5480-B-25
MUHAMMAD ARSHAD VS THE STATE ETC.

PLJ 2026 CrC 598

When there is no material available on the record to show that original copy of the document has been lost and any order qua reconstruction of record from the competent authority is also not available, then mere production of photocopy of said document is of no legal value and cannot be read in evidence.
Jail Appeal.14716/23
Muhammad Sabir Vs The State

PLJ 2026 SC 400
The subsequent transferees are required to discharge a heavy burden to establish that they are bona fide purchasers for value without notice of the prior agreement, litigation and the rights of the earlier vendee, in terms of section 27(b) of the Specific Relief Act, 1877. The provision provides that specific performance of a contract may be enforced against any person claiming under a party thereto, except a transferee for value who has paid his money in good faith an without notice of the original contract.

It is by now well-settled that the plea of a bona fide purchaser under section 27(b) of the Specific Relief Act, 1877, cannot be accepted on mere assertion, but must be established through cogent evidence and the attending circumstances of the transaction. The subsequent vendee is required to demonstrate that he acted in good faith and with due care, having undertaken such inquiry into the title of the vendor as would be expected of a prudent purchaser. Where the surrounding circumstances disclose elements of haste, lack of inquiry or such facts as would reasonably put a purchaser on notice of a prior claim, the protection of the said provision is not attracted. In such a situation, the subsequent transferee cannot claim the status of a bona fide purchaser, and the prior agreement remains enforceable against him.
Civil Appeal No. 168-L/14 etc.
Mian Mohammad Mehmood Ahmed(deceased)Versus Safdar Hussain

PLJ 2026 SC 406
Khula should not ordinarily be granted without the wife’s consent or clear election where she had sued on cruelty and valuable financial rights are implicated. However, where cruelty is not proved and marital life has manifestly collapsed, the Court must afford the wife an opportunity to elect whether to pursue dismissal of her claim or accept dissolution by khula upon lawful terms, rather than compelling restoration of a relationship that has ceased to exist in substance.
C.P.L.A. No.4792/2025
Mst. Selab Akhtar Versus Quwat Khan & Others

PLJ 2026 SC 415

(i) whether the suit challenging long-standing revenue entries was barred by limitation;

(ii) whether the Civil Court lacked jurisdiction in view of section 172 of the West Pakistan Land Revenue Act, 1967; and

(iii) whether settled and long-standing entries could be disturbed where thirdparty rights had bona fide intervened.

C.P.L.A. No. 1086/2019
Nadeem Akhtar (deceased) through LRs. & Others Versus Manzoor Ahmad

PLJ 2026 SC 422
It is by now a settled principle that locus standi is not to be determined on the basis of a narrow or technical formula but with reference to whether the impugned action has adversely affected the legal rights, lawful interests or legitimate expectations of the person invoking the constitutional jurisdiction of the Court. Where an administrative or quasi-judicial order operates to divest a person of an accrued statutory right or otherwise prejudicially affects his civil consequences, such person cannot be denied access to judicial review merely because he is not the direct beneficiary or addressee of the impugned order. Constitutional jurisdiction exists to prevent unlawful exercise of statutory power and to protect persons whose legal rights stand infringed thereby.

Civil Appeals. 382-L & 383-L of 2012

07/08/2026
06/08/2026

پنجاب حکومت نےضلعی انتظامیہ کے نئے تنظیمی ڈھانچے سے بلدیاتی اداروں کے تمام اختیارات مکمل طور پر سلب کر لئے گئے۔
پنجاب میں لوکل گورنمنٹ سسٹم کی کمان برائے راست سرکاری افسران کے حوالے کر دی گئی ہے۔
شہروں میں میونسپل سروسز، ترقیاتی کاموں، تعلیم، صحت ،پیرا فورس اور ستھرا پنجاب کا نظام مکمل طور پر سرکاری افسران کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ جبکہ
ڈپٹی کمشنر کو مزید مضبوط کردیا گیا ہے۔
معاملات ایم پی ایز اور ایم این ایز کے کنٹرول سے بھی نکلتے جا رہے ہیں اور اضلاع میں بیوروکریسی کو سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا گیا ہے۔
بعض ذرائع کام کی تقسیم سے اضلاع میں بہتر سروس ڈیلیوری کی توقع بھی کر رہے ہیں۔
بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ
آئین پاکستان کے برعکس مقامی حکومتوں کو کمزور اور اپاہج کر کے ضلعی انتظامیہ اور بیورو کریسی کو مضبوط بنایا گیا ہے جبکہ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ ورک لوڈ کی تقسیم کے فارمولے کے تحت پانچ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز کو مختلف امور سونپ دئیے گئے ہیں۔ کام کا دباؤ کم ہونے سے مختلف کام سر انجام دینے میں آسانی ہو گی اور لوگوں کے مسائل بروقت حل ہوں گے ۔
فنکشنل ڈسٹری بیوشن ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کے مطابق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈ کوارٹر کے پاس پرنسپل سٹاف آفیسر ڈپٹی کمشنر، ڈی سی آفس سے متعلقہ امور،لا اینڈ آرڈر ،کوآرڈینیشن، کرائسس منیجمنٹ کے اختیارات دیئے گئے ہیں
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کے پاس ریونیو کورٹ کے کیسیز اور معاملات، لینڈ ریکارڈ ،آبیانہ، ایگری انکم ٹیکس کے امور ہونگے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر انفورسمنٹ کوپیرا، انسدادتجاوزات،پرائس کنٹرول، سپیشل پلاننگ، ایکسائز، اور پی آر اے کے امور سونپ دیئے گئے ہیں۔یہ نئی اسامی تخلیق کی گئی ہے ۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کے پاس ستھرا پنجاب، واسا،پی ایچ اے،صاف پانی،لوکل گورنمنٹ ایڈمنسٹریشن جیسی اہم ذمہ داریاں ہونگی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ایف اینڈ پی کافنانس اینڈ پلاننگ، ڈویلپمنٹ سکیمز،ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن اتھارٹیز کے امور ہونگے

Advocate the great (SCOPE)
06/08/2026

Advocate the great (SCOPE)

Appointment as Vice Chairman Equal Minority Rights Commetee High Court Bar Association Multan
05/08/2026

Appointment as Vice Chairman Equal Minority Rights Commetee High Court Bar Association Multan

03/08/2026

Thank God for one more year in my life

03/08/2026

PLJ 2026 SC 287 — 😊
1. ریونیو حکام کا فیصلہ حتمی حقِ ملکیت کا فیصلہ نہیں ہوتا۔
اگر کسی شخص کا دعویٰ ہو کہ انتقال (Mutation) دھوکہ دہی، جعل سازی یا غلط بیانی کے ذریعے کیا گیا ہے، تو اس تنازع کا حتمی فیصلہ صرف سول عدالت کر سکتی ہے۔

2. ریونیو فورم کا اختیار محدود ہے۔
ریونیو افسران صرف ریکارڈ آف رائٹس، انتقالات اور ریونیو اندراجات کی اصلاح تک محدود اختیار رکھتے ہیں۔ ان کے فیصلے انتظامی اور عارضی نوعیت کے ہوتے ہیں، وہ ملکیت (Title) یا فراڈ کے سوالات کا فیصلہ نہیں کرتے۔

3. سیکشن 9، ضابطہ دیوانی (CPC)
سول عدالت کو ہر ایسے دیوانی تنازع پر اختیار حاصل ہے جس پر قانون نے واضح طور پر پابندی نہ لگائی ہو۔ ملکیت، فراڈ اور انتقال کی قانونی حیثیت جیسے معاملات سول عدالت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

4. سیکشن 172، ویسٹ پاکستان لینڈ ریونیو ایکٹ، 1967
یہ دفعہ صرف مخصوص ریونیو معاملات میں سول عدالت کے اختیار کو محدود کرتی ہے۔ لیکن جہاں دعویٰ ملکیت، فراڈ، غلط بیانی یا انتقال کی قانونی حیثیت کا ہو، وہاں سول عدالت کا اختیار برقرار رہتا ہے۔

5. ریونیو کارروائی پہلے کرنے سے سول مقدمہ ممنوع نہیں ہوتا۔
اگر کسی فریق نے پہلے ریونیو حکام کے سامنے انتقال کو چیلنج کیا ہو، تب بھی وہ بعد میں ملکیت اور فراڈ کے تعین کے لیے سول عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ہائی کورٹ نے سیکشن 172 کی غلط تشریح کرتے ہوئے مقدمہ خارج کیا۔ اس لیے:

ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا گیا۔

اپیل منظور کر لی گئی۔

مقدمہ دوبارہ سول عدالت کو بھیج دیا گیا تاکہ فریقین کو مکمل موقع دے کر شواہد کی بنیاد پر قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔

ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی گئی کہ مقدمہ جلد نمٹایا جائے اور غیر ضروری التوا نہ دیا جائے۔

نظیر (Ratio Decidendi)

جہاں انتقال یا ریونیو ریکارڈ کو فراڈ، جعل سازی یا غلط بیانی کی بنیاد پر چیلنج کیا جائے اور اصل تنازع حقِ ملکیت کا ہو، وہاں ریونیو حکام کا فیصلہ سول عدالت کے اختیار کو ختم نہیں کرتا۔ ایسے معاملات کا حتمی فیصلہ صرف سول عدالت کرے گی، اور سیکشن 172 ویسٹ پاکستان لینڈ ریونیو ایکٹ، 1967 اس پر رکاوٹ نہیں بنتی۔

خلع اور بدسلوکی (Cruelty) پر شادی کے خاتمے میں کیا فرق ہے؟کیا صرف نام "خلع" رکھ دینے سے حقِ مہر ختم  ہو جاتا ہے؟غیر ادا ...
01/08/2026

خلع اور بدسلوکی (Cruelty) پر شادی کے خاتمے میں کیا فرق ہے؟
کیا صرف نام "خلع" رکھ دینے سے حقِ مہر ختم ہو جاتا ہے؟
غیر ادا شدہ مہر (Deferred/Ghair Mu'ajjal) کی واپسی کا قانون کیا ہے؟
خواتین کے خلع، تنسیخِ نکاح (شادی کے خاتمے) اور **حقِ مہر** کے حقوق سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا انتہائی اہم فیصلہ۔

فیصلے کی بنیادی اور اہم ترین قانونی نکات :
# # ۱. خلع اور بدسلوکی (Cruelty) پر شادی کے خاتمے میں فرق
* **خلع (Khula):** یہ عورت کا وہ حق ہے جس میں وہ شوہر کی کسی غلطی کے بغیر، صرف اپنی ناپسندیدگی يا نبھاؤ نہ ہونے کی بنیاد پر علیحدگی مانگتی ہے۔ ایسی صورت میں عورت کو اپنے حقِ مہر میں سے کچھ حصہ چھوڑنا یا واپس کرنا پڑ سکتا ہے۔
* **شوہر کے مظالم کی بنیاد پر تنسیخِ نکاح (DMMA 1939):** اگر عورت شوہر کی بدسلوکی، تشدد، خرچہ نہ دینے، یا دیگر غلط رویوں کی بنیاد پر عدالت سے علیحدگی مانگے، تو یہ محض "خلع" نہیں بلکہ **تنسیخِ نکاح** ہے۔ اس صورت میں عورت کا **حقِ مہر مکمل طور پر محفوظ رہتا ہے** اور اسے کچھ بھی واپس نہیں کرنا پڑتا۔
# # ۲. صرف نام "خلع" رکھ دینے سے حقِ مہر ختم نہیں ہوتا
* عدالتوں میں اکثر یہ غلطی ہوتی ہے کہ صلح نہ ہونے پر جاری کی گئی ڈگری کو سرسری طور پر "خلع" لکھ دیا جاتا ہے۔ High Court نے واضح کیا کہ محض **"خلع" لکھ دینے سے عورت کا حقِ مہر ختم نہیں ہوتا**۔
* اگر عورت نے شوہر کے ظلم يا خرچہ نہ دینے کا دعویٰ کیا ہے، تو عدالت کا فرض ہے کہ وہ اس پر فیصلہ کرے، نہ کہ عورت کی مرضی اور رضامندی کے بغیر اسے "خلع" کی ڈگری میں بدل دے۔
# # ۳. تشدد اور بدسلوکی (Cruelty) کی وسیع تعریف
* تشدد یا ظلم صرف **جسمانی مار پیٹ (Physical abuse)** تک محدود نہیں ہے۔
* فیصلے کے مطابق:
* ذہنی و نفسیاتی اذیت (Psychological & Emotional abuse)
* زبان درازی، تحقیر اور گالی گلوچ (Verbal abuse)
* معاشی تنگ دستی، خرچہ نہ دینا، یا میکے سے پیسے لانے پر مجبور کرنا (Economic abuse)
* کردار پر جھوٹے الزام تراشی کرنا
* یہ تمام رویے قانون کی نظر میں **"شدید بدسلوکی/ظلم"** کے زمرے میں آتے ہیں۔
* عورت کے لیے ان مظالم کو ثابت کرنے کے لیے **میڈیکل رپورٹ (Medico-Legal Certificate) یا ایف آئی آر (FIR)** پیش کرنا لازمی نہیں ہے۔ عورت کا اپنا سچا اور مستند بیان ہی ثبوت کے لیے کافی ہے۔
# # ۴. غیر ادا شدہ مہر (Deferred/Ghair Mu'ajjal) کی واپسی کا قانون
* جو حقِ مہر شوہر نے کبھی عورت کو دیا ہی نہیں (مؤجل/غیر ادا شدہ مہر)، **خلع کی صورت میں بھی وہ رقم شوہر کو واپس نہیں مل سکتی**۔
* جو چیز عورت کو ملی ही نہیں، وہ اسے واپس کیسے کر سکتی ہے؟ غیر ادا شدہ مہر شوہر کے ذمے ایک قرض ہے، جسے خلع کا بہانہ بنا کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
# # ۵. شریعت کورٹ کے فیصلے (Imran Anwar Khan Case) کی وضاحت
* وفاقی شرعی عدالت نے Family Courts Act کی ان شقوں کو ختم کیا تھا جو حقِ مہر کا ایک نپا تلا قانونی فارمولا (مثلاً ۵۰ فیصد یا ۲۵ فیصد کی کٹوتی) طے کرتی تھیں۔
* ہائی کورٹ نے وضاحت کی کہ **شرعی عدالت نے عورت کے حقِ مہر کا اختیار نہیں چھینا**، بلکہ فیملی عدالتوں کو یہ پابند کیا ہے کہ وہ ہر کیس کے حالات اور شوہر کی غلطی/زیادتی کو دیکھ کر کیس ٹو کیس (Case-to-case) فیصلہ کریں، نہ کہ کوئی یکطرفہ فارمولا لگائیں۔
# # ۶. فیملی ججز کے لیے واضح ہدایات
1. **وجہ کا تعین:** ڈگری دیتے وقت فیملی جج کو لازمی لکھنا ہوگا کہ شادی کس وجہ سے ختم ہو رہی ہے (شوہر کے قصور کی وجہ سے یا عورت کی ناپسندیدگی کی وجہ سے)۔
2. **عورت کے حق میں شک کا فائدہ:** اگر ثبوت اس حد تک برابر ہوں کہ یہ طے کرنا مشکل ہو کہ قصور کس کا تھا، تو عدالت شک کا فائدہ **عورت کے حقِ مہر کو محفوظ رکھنے** میں دے گی۔
3. **تفصیلی فیصلہ:** ہر وہ حکمنامہ جو حقِ مہر سے متعلق ہو، اس میں جج کے لیے دلائل اور وجوہات لکھنا لازمی ہے۔
خلاصہ کلام:
اگر شوہر کے ظلم، تشدد یا خرچہ نہ دینے کی وجہ سے شادی ختم ہوتی ہے، تو **عورت کا ۱۰۰٪ حقِ مہر (خواہ ادا شدہ ہو یا غیر ادا شدہ) محفوظ رہے گا** اور شوہر اس میں سے ایک روپیہ بھی واپس لینے کا حقدار نہیں ہے۔

31/07/2026

2026 SCMR 972.
سپریم کورٹ آف پاکستان کا بڑا فیصلہ
1- پولیس کی حراست میں ملزمان پر حملہ دہشت گردی قرار
2- پبلک آفیسر پر دوران ڈیوٹی حملہ دہشت گردی قرار
3 - پولیس ملازم پر حملہ اس کی ڈیوٹی کے اوقات کے علاوہ بھی مخصوص حالات میں دہشتگردی قرا ر

Address

Christian Colony, Eid Gah Road, Layyah
Leiah

Telephone

+923007411642

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Law Talk With Adv Yousaf Doulat Chaudhary posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Law Talk With Adv Yousaf Doulat Chaudhary:

Shortcuts

Share