Law Talk With Adv Yousaf Doulat Chaudhary

Call Directions Contact the business

Law Talk With Adv Yousaf Doulat Chaudhary This is Law information page by Yousaf Doulat Chaudhary Advocate High Court.

02/10/2026

*پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کب ہونگے؟ مجوزہ شیڈول سامنے آگیا*

کاغذاتِ نامزدگی 27 سے 30 اکتوبر تک جمع کرائے جاسکیں گے، مجوزہ شیڈول

کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال 2 سے 5 نومبر تک ہوگی، مجوزہ شیڈول

19 نومبر کو امیدواروں کی حتمی فہرست آویزاں کی جائے گی، مجوزہ شیڈول

20 نومبر کو امیدواروں کو انتخابی نشانات الاٹ کیے جائیں گے، مجوزہ شیڈول

بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ 14 دسمبر کو ہوگی، مجوزہ شیڈول

الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول چیف سیکریٹری پنجاب کو ارسال کر دیا

25/09/2026

Ss. 476 & 195---Penal Code (XLV of 1860), Ss. 420 & 193---Furnishing false information in judicial proceedings---Producing a forged N.O.C. before the Court to get ad-interim pre-arrest bail confirmed---Discretion of Court to initiate proceedings under S. 195, Cr.P.C.---Criminal case was registered against the respondent for the offence under S.420, P.P.C., and certain offences of the Punjab Local Government Act, 2013---Respondent moved his petition for pre-arrest bail and during the proceedings of the said pre-arrest bail, the respondent produced a document, i.e. NOC of flood area---On the basis of the said document, pre-arrest bail of the respondent was confirmed---Petitioner moved an application under S.476, Cr.P.C. for initiating proceedings under S.193, P.P.C., against the respondent, which was dismissed by the Trial Court---Validity---Respondent produced a forged N.O.C. before the Court and got his ad-interim pre-arrest bail confirmed---A person who played such mischief with the Court, believing that he was above the law, and could do whatever he liked and nobody could question him, was hardly entitled to any leniency---Law does not place any legal bar against private persons to move the Court for taking action under S.476, Cr.P.C.---Even a Court must take action suo motu in that regard when such facts come to its notice and no good reason exists for not prosecuting the perjurer---Respondent No.2 made a mockery of the Court, therefore, the Court was required to initiate action against him under S.476, Cr.P.C.---Petition was allowed and the matter was remanded for decision afresh. [Lahore]

14/09/2026

1۔اگر معاہدے میں تعمیل کے لیے کوئی مخصوص تاریخ مقرر نہ ہو، تو 3 سال کی میعاد (limitation) کس دن سے شروع ہوتی ہے؟
2۔ کیا معاہدے سے انکار (Refusal to Perform) کا تحریری ہونا ضروری ہے؟
3۔ایک بار جب قانونِ میعاد (Limitation) کا وقت چلنا شروع ہو جائے، تو اس کے بعد وہ وقت رک سکتا ہے؟

پس منظر
​معاہدہ بیع (Agreement to Sell):
​27 جولائی 1987 کو ملک محمد اشرف (مرحوم) اور حاجی نظام الدین کے ساتھ 199 کنال 9 مرلے زمین کا معاہدہ 10 لاکھ روپے میں ہوا تھا۔
​اپیل کنندگان (خریداروں) نے 1 لاکھ روپے بیعانہ دیا، جبکہ بقایا 9 لاکھ روپے 3 ماہ کے اندر ادا کر کے رجسٹری کروانی تھی۔
​دعویٰ تعمیلِ مختص (Suit for Specific Performance):
​اپیل کنندگان نے یہ دعویٰ 10 دسمبر 1997 (یعنی معاہدے کے 10 سال بعد) دائر کیا کہ مالک بیع نامہ ایگزیکیوٹ نہیں کر رہے تھے۔
​نچلی عدالتوں کا فیصلہ:
​ٹرائل کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ (اپیلٹ کورٹ) نے یہ دعویٰ میعاد ختم ہونے (Barred by Limitation) کی بنیاد پر خارج کر دیا تھا۔خریداروں نے اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔

اہم قانونی نکات (Legal Propositions)

1. تعمیلِ مختص کے دعوے کی میعاد (Article 113, Limitation Act, 1908)
* دو مختلف صورتیں اور میعاد کا آغاز: آرٹیکل 113 کے تحت معاہدے کی تعمیلِ مختص (Specific Performance) کا دعویٰ دائر کرنے کی کل میعاد 3 سال ہے۔ اس کی شروعات دو حالات پر منحصر ہے:
* پہلی صورت: اگر معاہدے میں تعمیل کے لیے کوئی مخصوص تاریخ (Specific Date) مقرر کی گئی ہو، تو 3 سال کی میعاد اس تاریخ سے شروع ہوگی۔
* دوسری صورت: اگر معاہدے میں کوئی مخصوص تاریخ مقرر نہ ہو (صرف ایک عمومی وقت یا فریم دیا گیا ہو)، تو 3 سال کی میعاد اس دن سے شروع ہوگی جب مدعی (خریدار) کو معلوم ہو کہ مدعا علیہ نے معاہدے سے انکار کر دیا ہے۔
2. معاہدے سے انکار (Refusal to Perform) کی نوعیت
* انکار کے لیے تحریری نوٹس لازمی نہیں: قانونی طور پر انکار کے لیے کسی تحریری نوٹس کا ہونا ضروری نہیں ہے۔
* عمل سے انکار کا اثبات: اگر خریدار فائنل ڈرافٹ/اسٹامپ پیپر دستخط کے لیے پیش کرے اور سیلر (فروخت کنندہ) اس پر دستخط کرنے سے انکار کر دے، تو یہ عمل ہی قانون کی نظر میں معقول اور مکمل "انکار" (Refusal) تصور ہوگا۔ میعاد کا حساب اسی دن سے شروع ہو جائے گا۔
3. میعاد کا تسلسل اور عدمِ توقف (Section 9, Limitation Act, 1908)
* وقت کا ایک بار شروع ہونا: ایک بار جب قانونِ میعاد (Limitation) کا وقت چلنا شروع ہو جائے، تو اس کے بعد پیش آنے والی کسی معذوری، نئی قانونی کارروائی یا واقعے سے وہ وقت نہیں رکتا۔
* تاخیر سے بھیجے گئے نوٹس کی قانونی حیثیت: معاہدے سے انکار کے سالوں بعد خریدار کی طرف سے بھیجا گیا قانونی نوٹس یا خط، دائرہ اختیار کے لیے نیا نکتہ (Fresh Cause of Action) پیدا نہیں کر سکتا اور نہ ہی میعاد کے وقت کو دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔
4. معاہدے کے جزوی عمل درآمد (Part Performance) کا اصول
* اگر معاہدہ بیع کے تحت جائداد کا قبضہ خریدار کے حوالے نہ کیا گیا ہو، تو خریدار عدالت میں معاہدے کے جزوی عمل درآمد (Part Performance) کا دفاع یا دعویٰ قائم نہیں کر سکتا۔
5. خریدار کی آمادگی اور رضامندی (Readiness and Willingness)
* تعمیلِ مختص کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ خریدار یہ ثابت کرے کہ وہ معاہدے کی شقوں کے مطابق ہمیشہ اپنی ذمہ داری (بقیہ رقم کی ادائیگی) پورا کرنے کے لیے تیار اور آمادہ تھا۔
* لمبی مدت (جیسے 10 سال) تک خاموش بیٹھنا یہ قانونی قرینہ (Presumption) پیدا کرتا ہے کہ خریدار اپنی طرف کی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے تیار یا اہل نہیں تھا۔
6. ایک جیسے فیصلوں (Concurrent Findings) میں ہائی کورٹ کی مداخلت
* مجموعہ ضابطہ دیوانی (CPC) کے Section 100 (دوسری اپیل) کے تحت، اگر ٹرائل کورٹ اور پہلی اپیلٹ کورٹ نے حقائق اور ثبوتوں کی روشنی میں ایک جیسا متفقہ فیصلہ (Concurrent Findings) دیا ہو، تو ہائی کورٹ اس وقت تک مداخلت نہیں کرتی جب تک کہ نچلی عدالتوں کے فیصلے میں کوئی شدید قانونی سقم، غلط فہمی یا دائرہ اختیار کی غلطی موجود نہ ہو۔

12/09/2026

لاہور ہائی کورٹ نے 09 ستمبر 2026ء کو ایک نیا Central Examination Secretariat قائم کیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ عدالتی افسران، ہائی کورٹ کے ملازمین اور ماتحت عدالتوں کے ملازمین کی بھرتی اور محکمانہ امتحانات کا کام الگ الگ برانچوں میں تقسیم کرکے منظم طریقے سے کیا جائے۔ اس پورے نظام کے اوپر Secretary (Examinations) ہوگا، جبکہ اس کے نیچے مختلف Examination Branches کام کریں گی۔
ہر کمیٹی/برانچ کا کام

1۔ Examination-I
یہ برانچ Judicial Officers (عدالتی افسران) کی:
ابتدائی بھرتی
محکمانہ امتحانات
کے معاملات دیکھے گی۔

2۔ Examination-II
یہ برانچ لاہور ہائی کورٹ کے اپنے افسران اور ملازمین کی:
ابتدائی بھرتی
محکمانہ امتحانات
کے معاملات دیکھے گی۔

3۔ Examination-III
یہ برانچ ماتحت عدالتوں کے BS-11 اور اس سے اوپر کے افسران/ملازمین کی:
ابتدائی بھرتی
محکمانہ امتحانات
دیکھے گی۔

4۔ Examination-IV
یہ برانچ ماتحت عدالتوں کے BS-01 سے BS-10 تک کے ملازمین کی:

ابتدائی بھرتی
محکمانہ امتحانات، اگر ہوں
کے معاملات دیکھے گی۔

I = عدالتی افسران
II = ہائی کورٹ کے ملازمین
III = ماتحت عدالتیں، BS-11 اور اوپر
IV = ماتحت عدالتیں، BS-01 تا BS-10

05/09/2026

2026 SCMR 1033
سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ — وکیل کی غفلت کا خمیازہ فریق کو بھگتنا پڑ سکتا ہے
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ صرف یہ مؤقف اختیار کرنا کہ وکیل نے مقدمے کی پیروی نہیں کی یا عدالت میں پیش نہیں ہوا، ہر صورت میں فریق کو قانونی ذمہ داری سے بری نہیں کرتا۔
عدالت کے مطابق ہر litigant کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مقدمے کی پیش رفت سے باخبر رہے۔ وکیل کی عام غفلت کو اصولاً موکل کی غفلت بھی تصور کیا جا سکتا ہے۔
اہم اصول:
اگر Ex-parte decree ہو جائے تو اسے ختم کرانے کے لیے صرف وکیل کی غفلت کا عذر کافی نہیں؛ فریق کو Sufficient Cause ثابت کرنا ہوگا۔
البتہ اگر وکیل کی عدم حاضری ایسے حالات کی وجہ سے ہو جو اس کے اختیار سے باہر ہوں، مثلاً وفات، شدید معذوری یا دیگر Force Majeure حالات، تو عدالت ان حالات کو الگ طور پر دیکھ سکتی ہے

02/09/2026

پنجاب میں 18 سال سے کم عمر لڑکی سے نکاح اور اس کے نتیجے میں 18 سال کی عمر سے پہلے ازدواجی رہائش، اس کی رضامندی کے باوجود، پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 کے تحت قابلِ تعزیر معاملہ ہے؛
دفعہ 22-A/22-B کے مرحلے پر عدالت کو صرف قابلِ دست اندازی پولیس جرم کے بادی النظر انکشاف کو دیکھنا ہے، جرم یا نکاح کی حتمی قانونی حیثیت کا فیصلہ نہیں کرنا۔
مختصر حقائق

درخواست گزار محمد اسلم کی تقریباً 15 سالہ بیٹی حنا اسلم لاپتہ ہوئی تو اس کے والد نے نامعلوم افراد کے خلاف دفعہ 365-B تعزیراتِ پاکستان کے تحت ایف آئی آر درج کرائی۔ دورانِ تفتیش لڑکی عدالت میں پیش ہوئی اور دفعہ 164 ضابطۂ فوجداری کے تحت بیان دیا کہ اسے اغوا نہیں کیا گیا بلکہ اس نے اپنی مرضی سے محمد لقمان سے نکاح کیا ہے۔

بعد ازاں والد نے نادرا کے چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کے ذریعے لڑکی کی تاریخِ پیدائش 01.03.2011 ثابت کی، جس کے مطابق 18.05.2026 کو مبینہ نکاح کے وقت اس کی عمر تقریباً 15 سال تھی۔ مزید یہ کہ میونسپل کمیٹی قصور نے مبینہ نکاح کا کوئی ریکارڈ موجود نہ ہونے کی اطلاع دی۔

والد نے مبینہ کم عمری کی شادی، جعلی نکاح نامہ اور متعلقہ افراد کے خلاف نئی ایف آئی آر کے اندراج کے لیے دفعہ 22-A/22-B ضابطۂ فوجداری کے تحت رجوع کیا، لیکن جسٹس آف پیس نے درخواست مسترد کرتے ہوئے اسے پہلے سے درج ایف آئی آر میں متعلقہ دفعات شامل کروانے کا کہا۔

لاہور ہائی کورٹ نے یہ حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے پولیس کو دفعہ 154 ضابطۂ فوجداری کے مطابق درخواست پر کارروائی کا حکم دیا، جبکہ نابالغ لڑکی کو اس کی مرضی کے باوجود محمد لقمان کے حوالے کرنے کے بجائے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی حفاظتی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا۔

---

اہم قانونی اصول / Legal Propositions

1۔ نئی قانون سازی کے بعد 18 سال سے کم عمر کا نکاح

پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 کے تحت مرد یا عورت دونوں کے لیے 18 سال سے کم عمر ہونا "بچہ" قرار دیا گیا ہے، اور ایسے بچے سے نکاح Child Marriage کے زمرے میں آتا ہے۔

2۔ رضامندی نابالغ کو قانونی تحفظ سے محروم نہیں کرتی

نابالغ لڑکی کا یہ کہنا کہ اس نے اپنی مرضی سے نکاح کیا ہے، بذاتِ خود اسے قانونِ تحفظِ اطفال سے باہر نہیں کرتا۔

عدالت نے واضح کیا کہ قانون 2026 کے تحت 18 سال کی عمر سے پہلے نکاح کے نتیجے میں رضامندی کے ساتھ بھی ازدواجی رہائش (cohabitation) "Child Abuse" بن سکتی ہے۔

3۔ دفعہ 5 پنجاب ایکٹ 2026 کا اہم اصول

18 سال کی عمر سے پہلے بچے کے ساتھ نکاح کے نتیجے میں کسی بھی قسم کی ازدواجی رہائش، رضامندی ہو یا نہ ہو، Child Abuse ہے۔

اس جرم کی سزا کم از کم 5 سال اور زیادہ سے زیادہ 7 سال قید اور کم از کم 10 لاکھ روپے جرمانہ ہے۔

4۔ دفعہ 22-A/22-B کے مرحلے پر حتمی فیصلہ نہیں ہوتا

جسٹس آف پیس کو اس مرحلے پر یہ فیصلہ نہیں کرنا ہوتا کہ ملزم مجرم ہے یا بے گناہ۔

صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ درخواست میں دی گئی معلومات سے قابلِ دست اندازی پولیس جرم (cognizable offence) کے ارتکاب کا بادی النظر میں انکشاف ہوتا ہے یا نہیں۔

اگر ایسا ہو تو پولیس کو قانون کے مطابق ایف آئی آر درج کرکے تفتیش کرنی چاہیے۔

5۔ عمر کے تنازع کا فیصلہ تفتیش/ٹرائل میں ہوگا

آئینی عدالت دفعہ 22-A کے مرحلے پر عمر کے متعلق متنازع حقائق کا حتمی فیصلہ کرنے کی پابند نہیں۔

اس مقدمے میں نادرا کا CRC موجود تھا جس میں تاریخ پیدائش 01.03.2011 درج تھی، جبکہ جواب دہندگان اس کے مقابلے میں کوئی مساوی معتبر اور معاصر دستاویز پیش نہ کر سکے۔ لہٰذا prima facie لڑکی نابالغ تصور ہوئی۔

6۔ دوسری ایف آئی آر کا اصول

Mst. Sughran Bibi v. The State (PLD 2018 SC 595) کے اصول کے مطابق محض ایک ہی واقعہ کا دوسرا یا متبادل مؤقف سامنے آنے پر دوسری ایف آئی آر درج نہیں کی جا سکتی۔

لیکن موجودہ کیس میں ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ پہلی ایف آئی آر اغوا کے متعلق تھی، جبکہ نئی شکایت کا تعلق نابالغ سے نکاح، مبینہ جعلی نکاح نامہ اور نکاح میں سہولت کاری سے تھا۔

لہٰذا یہ محض پہلے واقعہ کا دوسرا مؤقف نہیں بلکہ مختلف نوعیت کا قابلِ تفتیش واقعہ تھا۔

7۔ پہلی ایف آئی آر میں ہر متعلقہ پہلو کی تفتیش ضروری ہے

اگرچہ دوسری ایف آئی آر کا اصول لاگو ہوتا ہے، لیکن پولیس پر لازم ہے کہ پہلے سے درج ایف آئی آر کی تفتیش کے دوران واقعہ کے تمام متعلقہ پہلوؤں اور سامنے آنے والے مختلف مؤقف کی غیر جانب دارانہ تفتیش کرے۔

8۔ بچے کی مرضی اہم ہے مگر فیصلہ کن نہیں

عدالت نے بچے کی خواہش اور رائے کو نظر انداز نہیں کیا، لیکن بچے کی فلاح و بہبود اور بہترین مفاد (best interests of the child) بنیادی اور غالب اصول ہے۔

لہٰذا حنا اسلم کی محمد لقمان کے ساتھ جانے کی خواہش کے باوجود اسے اس کے حوالے نہیں کیا گیا۔

9۔ نابالغ کی حفاظتی تحویل

جب عدالت کے سامنے بادی النظر میں نابالغ کی شادی اور اس سے متعلق Child Abuse کا معاملہ موجود ہو تو عدالت حفاظتی اقدامات کر سکتی ہے۔

اس کیس میں لڑکی کو والدین یا مبینہ شوہر کے حوالے کرنے کے بجائے Child Protection & Welfare Bureau کی محفوظ تحویل میں رکھا گیا۔

10۔ حتمی فیصلہ نکاح کی قانونی حیثیت پر نہیں دیا گیا

ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر اس نے مبینہ نکاح کو حتمی طور پر درست یا کالعدم قرار نہیں دیا۔ یہ سوال متعلقہ مجاز عدالت میں قانون اور شہادت کی بنیاد پر طے ہوگا۔

11۔ Custody کا فورم

لڑکی کی مستقل تحویل، Guardianship اور Welfare کا فیصلہ Guardian Judge، Guardians and Wards Act, 1890 کے تحت کرے گا۔

12۔ دفعہ 154 ضابطۂ فوجداری کا اطلاق

ہائی کورٹ نے SHO کو حکم دیا کہ درخواست پر دفعہ 154 ضابطۂ فوجداری کے مطابق کارروائی کی جائے اور اگر معلومات سے قابلِ دست اندازی پولیس جرم ظاہر ہو تو ایف آئی آر درج کرکے قانون کے مطابق تفتیش کی جائے۔

20/08/2026

The Juvenile Justice System Act 2018 classifies offences into three categories: minor, major, and heinous. Section 6(3) states that where a juvenile is arrested or detained for the commission of a minor or a major offence, he shall be treated as if he was accused of commission of a bailable offence. Section 6(4) provides that where a juvenile above the age of sixteen is arrested or detained for a heinous offence, the Juvenile Court may withhold bail if it finds reasonable grounds to believe that he is involved in its commission. In contrast, section 6(5) stipulates that any juvenile, regardless of age, who has been detained for a continuous period exceeding six months without conclusion of trial shall be released on bail, unless the delay is attributable to the juvenile himself. In Mehran, the Supreme Court ruled that while section 6(4) deals with the matter of bail on merits, section 6(5) provides a distinct statutory ground for bail based solely on delay. Since minor and major offences are treated as bailable under section 6(3), the rigour of section 6(5) applies only to juveniles accused of heinous offences. The Supreme Court further held that a juvenile detained for a heinous offence is entitled to post-arrest bail as of right, whether below or above sixteen years of age, if the requirements of section 6(5) are met.
Crl. Misc. No. 8607/B/2025
Muhammad Naveed Vs The State and another
2026 MLD 1244

18/08/2026

2026 LHC 5260
ضمانت کی منسوخی ۔

ضمانت منظور کرنے اور پہلے سے منظور شدہ ضمانت کو منسوخ کرنے کے اصول ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔

جب کسی مجاز عدالت (Court of Competent Jurisdiction) کی جانب سے ملزم کو ضمانت دے دی جائے تو بعد ازاں اس ضمانت کو منسوخ کرنے کے لیے مضبوط، غیر معمولی اور ٹھوس وجوہات (Strong & Exceptional Grounds) کا ہونا ضروری ہے۔

یعنی صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ضمانت غلط طور پر منظور ہوئی یا استغاثہ اس فیصلے سے متفق نہیں۔ ضمانت منسوخ کروانے کے لیے ایسے غیر معمولی حالات یا وجوہات پیش کرنا لازم ہیں جو عدالت کو اس نتیجے تک پہنچائیں کہ منظور شدہ ضمانت برقرار نہیں رہ سکتی۔

📍اہم اصول:

"ضمانت دینے اور ضمانت منسوخ کرنے کے لیے قانونی تقاضے مختلف ہیں؛ منظور شدہ ضمانت منسوخ کرنے کے لیے مضبوط اور غیر معمولی وجوہات ضروری ہیں۔"

Crl. Misc. No. 46375/26 — Masood Aslam v. The State etc., 2026 LHC 5260

Pakistan Zindabad Happy Independence Day 14th August
14/08/2026

Pakistan Zindabad
Happy Independence Day 14th August

Address

Christian Colony, Eid Gah Road, Layyah
Leiah

Telephone

+923007411642

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Law Talk With Adv Yousaf Doulat Chaudhary posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Law Talk With Adv Yousaf Doulat Chaudhary:

Shortcuts

Share