Advocate Rana Athar

Advocate Rana Athar Spreading legal wisdom | Advocate Rana Athar | Know your rights, raise your voice, seek justice
(1)

بینک کی غلطی سے اکاؤنٹ میں رقم آ جائے تو کیا وہ آپ کی ہو جاتی ہے؟لاہور ہائی کورٹ کا بڑا اور اہم فیصلہ! ایک شخص کے اکاؤنٹ...
16/08/2026

بینک کی غلطی سے اکاؤنٹ میں رقم آ جائے تو کیا وہ آپ کی ہو جاتی ہے؟
لاہور ہائی کورٹ کا بڑا اور اہم فیصلہ!
ایک شخص کے اکاؤنٹ میں بینک کی تکنیکی غلطی سے 3 کروڑ روپے چلے گئے۔ اس نے 2.5 کروڑ روپے نکلوا کر استعمال کر لیے۔ بینک کے مانگنے پر چیک دیا جو بونس (Dishonor) ہو گیا۔
لاہور ہائی کورٹ (جسٹس تنویر احمد شیخ) کا اہم ترین فیصلہ:
* امانت میں خیانت (Sec 406 PPC): غلطی سے آئی رقم قانوناً امانت ہوتی ہے۔ اسے خرچ کرنا امانت میں خیانت (جرم) ہے۔
* بونس چیک (Sec 489-F PPC): چیک ڈس اونر ہونے پر دونوں دفعات (406 اور 489-F) کے تحت ایک ساتھ پرچہ چل سکتا ہے۔
* ضمانت مسترد: عدالت نے ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت (Post-Arrest Bail) خاریج کر دی۔

📜 وراثتی انتقال کیسے کروایا جاتا ہے؟ —مکمل طریقہ کارکسی شخص کے انتقال کے بعد اس کی ملکیتی زمین یا جائیداد کو اس کے قانون...
14/08/2026

📜 وراثتی انتقال کیسے کروایا جاتا ہے؟ —مکمل طریقہ کار

کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کی ملکیتی زمین یا جائیداد کو اس کے قانونی وارثان کے نام منتقل کروانے کے لیے وراثتی انتقال کروانا ضروری ہوتا ہے۔ اگر یہ کارروائی بروقت نہ کی جائے تو بعد میں جائیداد کی تقسیم، فروخت یا ملکیتی حقوق کے معاملے میں اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں۔

🔹 1۔ سب سے پہلے ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کریں

متوفی کی وفات کا متعلقہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ یونین کونسل یا متعلقہ مجاز ادارے سے حاصل کیا جائے۔

یہ دستاویز وراثتی انتقال کی کارروائی شروع کرنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

🔹 2۔ نادرا سے خاندانی ریکارڈ حاصل کریں

اس کے بعد نادرا سے متوفی کا فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC) حاصل کیا جاتا ہے۔

اس سے متوفی کے خاندان اور ممکنہ وارثان کی تفصیلات سامنے آتی ہیں، تاہم صرف FRC کو ہر معاملے میں حتمی وراثتی فیصلہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

🔹 3۔ وارثان کی تفصیل اور تصدیق تیار کریں

وراثتی انتقال کے لیے عموماً کسی ایک وارث کی جانب سے بیانِ حلفی تیار کیا جاتا ہے۔

متعلقہ نمبردار کی طرف سے بھی وارثان سے متعلق تصدیق یا بیان لیا جا سکتا ہے۔

اس مرحلے پر یہ یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے کہ تمام زندہ قانونی وارثان کے نام درست طور پر درج ہوں۔

🔹 4۔ متعلقہ ریونیو دفتر میں درخواست دیں

موضع کے ریکارڈ اور مقامی طریقۂ کار کے مطابق درخواست متعلقہ تحصیلدار یا اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ (ADLR) کے دفتر میں جمع کروائی جاتی ہے۔

درخواست کے ساتھ عموماً یہ دستاویزات درکار ہوتی ہیں:

📌 ڈیتھ سرٹیفکیٹ
📌 نادرا FRC
📌 بیانِ حلفی
📌 نمبردار کی تصدیق/بیان
📌 دیگر مطلوبہ کاغذات

🔹 5۔ پٹواری کی جانب سے وارثان کی جانچ

درخواست متعلقہ پٹواری حلقہ کو بھیجی جاتی ہے۔

پٹواری دستاویزات کی جانچ کے بعد وارثان سے متعلق معلومات کی تصدیق کرتا ہے اور حسبِ ضابطہ نمبردار اور دیگر متعلقہ افراد کی موجودگی میں وارثان کی شناخت اور تصدیق کی کارروائی مکمل کرتا ہے۔

اس کے بعد شجرہ نسبِ وارثان تیار کیا جاتا ہے، جس میں متوفی کے تمام قانونی وارثان کی تفصیل شامل کی جاتی ہے۔

🔹 6۔ وراثتی انتقال درج کیا جاتا ہے

شجرہ نسب اور وارثان کی تصدیق مکمل ہونے کے بعد وراثتی انتقال کا اندراج کیا جاتا ہے۔

متعلقہ ریونیو اتھارٹی کے طریقۂ کار کے مطابق اس کارروائی میں اخبار میں اشتہار بھی شائع کروایا جا سکتا ہے، تاکہ اگر کسی شخص کو وارثان کی فہرست یا جائیداد سے متعلق کوئی قانونی اعتراض ہو تو وہ مقررہ مدت میں ثبوت کے ساتھ اپنا اعتراض پیش کر سکے۔

🔹 7۔ عدالت/متعلقہ افسر کے سامنے تصدیق

مقررہ کارروائی کے دوران کسی ایک وارث کو متعلقہ تحصیلدار یا ADLR کے سامنے پیش ہونا پڑ سکتا ہے۔

شجرہ نسب کی تصدیق کے لیے نمبردار اور دیگر گواہان کی موجودگی بھی مطلوب ہو سکتی ہے۔

یہ کارروائی اس بات کی تصدیق کے لیے ہوتی ہے کہ درج کیے گئے وارثان واقعی متوفی کے قانونی وارث ہیں۔

🔹 8۔ وارثان کے حصص کے مطابق انتقال منظور

جب تمام ضروری کارروائی مکمل ہو جائے اور کوئی قابلِ سماعت قانونی اعتراض موجود نہ ہو تو متعلقہ مجاز افسر قانون اور قابلِ اطلاق شرعی اصولوں کے مطابق وارثان کے حصے مقرر کرتے ہوئے وراثتی انتقال منظور کر سکتا ہے۔



⚠️ سب سے اہم قانونی احتیاط

وراثتی انتقال میں تمام قانونی وارثان کی درست نشاندہی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

کسی وارث کا نام جان بوجھ کر چھپانا، غلط شجرہ نسب بنوانا یا غلط معلومات فراہم کرنا مستقبل میں سنگین قانونی تنازع کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ دستاویزات، اشتہار، گواہان، حاضری اور دیگر مراحل صوبے، متعلقہ ریونیو قوانین اور ریکارڈ کی نوعیت کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔

اس لیے عملی کارروائی شروع کرنے سے پہلے متعلقہ ریونیو دفتر سے موجودہ طریقۂ کار اور مطلوبہ دستاویزات کی تصدیق ضرور کر لیں۔

⁠ ⁠ ⁠ ⁠ ⁠ ⁠ ⁠ ⁠ ⁠ ⁠ ⁠ ⁠ ⁠ ⁠ ⁠ ⁠ ⁠ ⁠ ⁠ ⁠ ⁠ ⁠

اگر ائیرپورٹ پر ایف آئی اے امیگریشن آپ کو روک دے تو کیا آپ وہیں شکایت کر سکتے ہیں؟بہت سے مسافروں کو یہ معلوم نہیں ہوتا ک...
13/08/2026

اگر ائیرپورٹ پر ایف آئی اے امیگریشن آپ کو روک دے تو کیا آپ وہیں شکایت کر سکتے ہیں؟

بہت سے مسافروں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اگر ائیرپورٹ پر امیگریشن کے حوالے سے کوئی مسئلہ پیش آ جائے تو ضروری نہیں کہ وہ خاموشی سے واپس چلے جائیں اور بعد میں شکایت کریں۔

ایف آئی اے کے مطابق اسلام آباد، کراچی، لاہور، کوئٹہ اور پشاور کے بین الاقوامی ائیرپورٹس پر ون ونڈو سہولت مراکز قائم ہیں، جہاں مسافر امیگریشن سے متعلق اپنی شکایات اور ایف آئی اے اہلکاروں کے خلاف شکایات درج کرا سکتے ہیں۔

یہ سہولت کب کام آ سکتی ہے؟

اگر ائیرپورٹ پر:

🔹 امیگریشن افسر کے ساتھ کوئی مسئلہ پیش آ جائے
🔹 کسی امیگریشن شرط یا تقاضے کے بارے میں وضاحت چاہیے ہو
🔹 آپ کے معاملے میں غلط معلومات درج ہونے کا خدشہ ہو
🔹 ایف آئی اے عملے کے رویے یا طریقۂ کار کے خلاف شکایت ہو
🔹 امیگریشن سے متعلق کوئی فوری مسئلہ درپیش ہو

تو آپ ون ونڈو سہولت مرکز کے بارے میں پوچھ سکتے ہیں اور اپنی شکایت متعلقہ حکام تک پہنچا سکتے ہیں۔

⚠️ ایک اہم بات

ون ونڈو سہولت مرکز کا یہ مطلب نہیں کہ ہر فیصلہ وہیں فوری طور پر ختم یا تبدیل کر دیا جائے گا۔

مثلاً اگر کسی شخص کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ، پاسپورٹ کنٹرول لسٹ یا بلیک لسٹ میں موجود ہے، یا اس کے سفری کاغذات میں کوئی قانونی مسئلہ ہے، تو صرف شکایت درج کروانے سے وہ پابندی خود بخود ختم نہیں ہو جاتی۔

ایسی صورت میں معاملہ متعلقہ افسر یا مجاز اتھارٹی کے سامنے رکھا جا سکتا ہے، لیکن حتمی فیصلہ قانون اور متعلقہ حکومتی احکامات کے مطابق ہی ہوگا۔

📱 ایف آئی اے عملے کے خلاف شکایت کیسے کریں؟

ایف آئی اے کے مطابق مسافر ائیرپورٹ پر موجود:

➡️ شکایتی صندوق
➡️ ڈپٹی ڈائریکٹر یا اسسٹنٹ ڈائریکٹر امیگریشن

سے رابطہ کر کے اپنی شکایت درج کرا سکتے ہیں۔ متعلقہ رابطہ نمبرز بھی ائیرپورٹ پر آویزاں کیے جاتے ہیں۔

لہٰذا اگر آپ کو ایف آئی اے امیگریشن عملے کے رویے یا طریقۂ کار کے بارے میں جائز شکایت ہو تو غیر ضروری بحث کرنے کے بجائے پہلے سرکاری شکایتی طریقۂ کار استعمال کرنا بہتر ہے۔

🌍 بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے

ایف آئی اے نے امیگریشن سے متعلق شکایات کے لیے رابطہ نمبرز بھی فراہم کیے ہیں:

📞 ڈائریکٹر امیگریشن: 051-9260951

📞 اسسٹنٹ ڈائریکٹر امیگریشن:
051-9262547
051-9261104

📞 ایف آئی اے مرکزی رابطہ نمبر:
051-111-345-786

📞 ایف آئی اے ہیلپ لائن:
1991

فرض کریں بیرونِ ملک سے آنے والا ایک پاکستانی شہری واپس جاتے وقت ائیرپورٹ پر امیگریشن کاؤنٹر پر روک لیا جاتا ہے۔

ایسی صورتحال میں فوراً غصہ کرنے یا بحث شروع کرنے کے بجائے پہلے یہ معلوم کرنا چاہیے:

❓ مسئلہ اصل میں کیا ہے؟
❓ کون سا تقاضا پورا نہیں ہوا؟
❓ کیا کسی فہرست میں نام موجود ہے؟
❓ کیا دستاویزات میں کوئی مسئلہ ہے؟
❓ کیا متعلقہ افسر سے وضاحت یا حوالہ نمبر حاصل کیا جا سکتا ہے؟

اور اگر شکایت ایف آئی اے امیگریشن عملے یا اس کے طریقۂ کار کے بارے میں ہو تو:

ون ونڈو سہولت مرکز، ڈپٹی ڈائریکٹر/اسسٹنٹ ڈائریکٹر امیگریشن یا ایف آئی اے کے سرکاری شکایتی نظام سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

⚖️ یاد رکھیں

ائیرپورٹ پر امیگریشن کا مسئلہ پیش آنے کی صورت میں قانونی اور سرکاری طریقۂ کار اختیار کریں۔

غیر سرکاری ایجنٹوں، سفارش یا غیر مصدقہ معلومات پر انحصار کرنے کے بجائے متعلقہ حکام سے براہِ راست رابطہ کریں۔

یہ معلومات عمومی قانونی آگاہی کے لیے ہے۔

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Rana Athar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share