Ch Ali Aftab Gujjar law

Ch Ali Aftab Gujjar law Ch Ali Aftab Gujjar, Advocate High Court. Providing expert services and legal solutions in Civil, Criminal, Family, Revenue & Tax Law.

21/05/2026

الحمدللہ ❤️
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد کی معزز عدالت میں ایک فیملی اپیل اور ایک کریمینل اپیل میں دلائل پیش کرنے کے بعد لی گئی یہ تصویر۔
بطورِ وکیل، میرے لیے یہ لمحہ باعثِ اعزاز اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کے احساس کو مزید مضبوط کرنے کا سبب ہے۔
میری ہمیشہ کوشش رہتی ہے کہ ہر مقدمے میں مکمل تیاری، قانون پر مضبوط گرفت اور مؤثر اندازِ استدلال کے ساتھ اپنے مؤکل کے حقوق کا بہترین دفاع کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں جو ہر قدم پر عزت، رہنمائی اور سیکھنے کے مواقع عطا فرما رہا ہے۔

چوہدری علی آفتاب گجر
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

چوہدری علی آفتاب گجر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کے اعزاز میں محترم محمد خان مروت صاحب ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی جانب سے مروت ہاؤس، ب...
20/05/2026

چوہدری علی آفتاب گجر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کے اعزاز میں محترم محمد خان مروت صاحب ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی جانب سے مروت ہاؤس، بحریہ ٹاؤن اسلام آباد میں ایک نہایت شاندار، باوقار اور پرتکلف عشائیے کا اہتمام کیا گیا۔ ان کی خلوص بھری میزبانی، محبت اور اعلیٰ اخلاق ہمیشہ کی طرح دل پر خوشگوار اثر چھوڑ گئے۔
اس خوبصورت اور یادگار نشست کے دوران میرے قابلِ احترام دوست سردار بیرسٹر یوسف خان صاحب (شمالی وزیرستان) سے مختلف قانونی، سماجی اور پیشہ ورانہ امور پر تفصیلی اور سیر حاصل گفتگو کا بھی موقع ملا۔ کافی عرصے بعد اس قدر پُرخلوص ملاقات اور بہترین تبادلۂ خیال یقیناً باعثِ مسرت رہا۔
میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے محترم محمد خان مروت صاحب کی محبت، شفقت، خندہ پیشانی اور شاندار مہمان نوازی پر ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحتِ کاملہ، عزت، خوشحالی اور پیشہ ورانہ زندگی میں مزید کامیابیاں عطا فرمائے۔ آمین 🤍

16/05/2026

⚖️ کیا باپ کے ہوتے ہوئے نانی کو بچے کی کسٹڈی مل سکتی ہے؟

لاہور ہائی کورٹ نے یہ سوال ہمیشہ کے لیے طے کر دیا!**

📘 2025 MLD 401

پاکستان میں کسٹڈی کے مقدمات میں اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ بچہ ماں کے رشتہ داروں کے پاس رہے یا والد کے پاس؟

لاہور ہائی کورٹ نے اس تاریخی فیصلے میں ایک بات بالکل واضح کر دی:

"بچے کی تحویل رشتے سے نہیں، بچے کے بہترین مفاد سے طے ہوتی ہے۔"

📌 کیا ہوا اس کیس میں؟

ایک نابالغ بچی کی کسٹڈی کے لیے نانی نے عدالت میں دعویٰ کیا۔ اپیلٹ کورٹ نے نانی کے حق میں فیصلہ دیا — مگر والد لاہور ہائی کورٹ چلا گیا۔

والد کے دلائل:
✔️ بچی لاہور کے اچھے نجی اسکول میں پڑھ رہی ہے
✔️ نانی کی عمر 80 سال سے زیادہ
✔️ نانی کی صحت کمزور اور مالی انحصار دوسروں پر

لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ؟

✅ والد کے حق میں — بچی والد کے پاس رہے گی!

⚖️ عدالت کے اہم اصول

🔹 سب سے پہلا اصول Welfare of Minor
🔹 صرف خونی رشتہ کافی نہیں
🔹 تعلیم، ماحول، صحت اور مالی استحکام دیکھا جائے گا
🔹 اگر والد نااہل ثابت نہ ہو — اس کا حق مضبوط ہے
🔹 بزرگ، بیمار اور مالی طور پر کمزور سرپرست بچے کی جدید ضروریات پوری نہیں کر سکتا

🚨 ایک اہم انتباہ بھی

عدالت نے اسٹے آرڈر کے باوجود کارروائی جاری رکھنے والی ماتحت عدالت کے خلاف انکوائری کا حکم دیا — یہ پیغام ہے کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔

💬 آپ بتائیں!

کیا آپ کے خیال میں بچے کی پرورش کے لیے صرف محبت اور رشتہ کافی ہے؟
بہتر تعلیم، محفوظ ماحول اور مالی استحکام زیاد ضروری ہے؟

👇 اپنی رائے کمنٹس میں لکھیں — ہم آپ کا جواب پڑھنا چاہتے ہیں!

📢 اگر یہ پوسٹ مفید لگی تو ابھی شیئر کریں
کیونکہ قانونی آگاہی ہر پاکستانی کا حق ہے! ⚖️

10/05/2026

جب دورانِ سماعت یا جرح جج وکیل سے یہ کہے کہ “کیس کے میرٹ پر بحث کریں” تو اس کا سادہ اور واضح مطلب یہ ہوتا ہے کہ:
عدالت اب اصل تنازع (substance) سننا چاہتی ہے، نہ کہ غیر ضروری، تکنیکی یا ضمنی نکات۔
یعنی جج وکیل کو یہ ہدایت دے رہا ہوتا ہے کہ وہ:
اوّل، مقدمہ کے اصل حقائق پر بات کرے—کیا ہوا، کیسے ہوا، اور اس کی کیا اہمیت ہے۔
دوّم، اپنے مؤقف کے حق میں ٹھوس شواہد (گواہان، دستاویزات، ریکارڈ) کی نشاندہی کرے۔
سوّم، متعلقہ قانونی نکات واضح کرے—کون سی دفعات لاگو ہوتی ہیں اور کیوں۔
چہارم، یہ ثابت کرے کہ اس کا کیس قانون اور حقائق دونوں لحاظ سے مضبوط ہے۔
پنجم، غیر متعلقہ باتوں سے اجتناب کرے جیسے:
* محض تکنیکی اعتراضات
* غیر ضروری طوالت
* غیر متعلقہ نظائر یا دلائل
دوسرے الفاظ میں، جج دراصل یہ کہہ رہا ہوتا ہے:
“مجھے یہ بتائیں کہ آپ کا کیس حقیقت اور قانون کے مطابق کیوں درست ہے، اور آپ کو مطلوبہ ریلیف کیوں ملنا چاہیے۔”
یہ ایک طرح کی عدالتی سمت بندی (judicial direction) ہوتی ہے تاکہ بحث مؤثر، مختصر اور اصل نکتے تک محدود رہے۔
عملی طور پر ایک اچھا وکیل اس موقع پر:
* اپنے کیس کا core theory واضح کرتا ہے
* اہم شواہد کی طرف فوری توجہ دلاتا ہے
* اور قانون کو سیدھا facts پر apply کرتا ہے
یعنی، “میرٹس پر بحث” دراصل case کا دل (heart of the case) پیش کرنے کا تقاضا ہوتا ہے، نہ کہ اس کے گرد و نواح کی باتیں۔

09/05/2026

Address

DHA
Lahore
5400

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ch Ali Aftab Gujjar law posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share