Asad & Co. Management & Law Consultants

Asad & Co. Management & Law Consultants Management & Law Consultants (Advocates & Solicitors)

Checklist for Filing of Appeal & Miscellaneous Applications before Appellate Tribunal Inland Revenue
18/06/2026

Checklist for Filing of Appeal & Miscellaneous Applications before Appellate Tribunal Inland Revenue

‏ملک بھر کے چھوٹے دکانداروں کے لئے فکسڈ ٹیکس سکیم کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کا مقصد پاکستان میں ٹیکس نیٹ بڑھاناہے۔ حکومت...
06/06/2026

‏ملک بھر کے چھوٹے دکانداروں کے لئے فکسڈ ٹیکس سکیم کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کا مقصد پاکستان میں ٹیکس نیٹ بڑھاناہے۔ حکومت یہ سکیم تاجر اور دکاندار تنظیموں کے نمائندوں کی مشاورت اور ان کے مطالبے پر لائی ہے۔ 20 کروڑ یا اس سے کم سالانہ فروخت والے دکاندار اس سکیم کا حصہ بن سکتے ہیں جس کے تحت دکاندار اپنی آمدن پر ایک فیصد فکسڈ ٹیکس ادا کریں گے۔ دکاندار ودہولڈنگ ٹیکس بھی ایڈجسٹ کر اسکیں گے البتہ یہ شرط لاگو ہوگی کہ گوشوارہ جمع کراتے وقت کم از کم 25 ہزار روپے نقد جمع کرانے ہوں گے۔ اُردو اور علاقائی زبانوں میں ایک صفحے کا فارم بنایا گیا ہے جو سادہ موبائل ایپ کے ذریعے بھی جمع کرایا جا سکے گا۔ سکیم کا حصہ بننے والے دکاندار کو ایف بی آر کی طرف سے رجسٹریشن پلیٹ ملے گی جو وہ اپنی دکان کے باہر آویزاں کرے گا۔ اس پلیٹ کی موجودگی میں کوئی ٹیکس اہلکار جانچ پڑتال کے لیے دکان میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ سکیم کا اُردو میں سادہ فارم، ایف بی آر کی پلیٹ اور اس سکیم کی دیگر تفصیلات

01/06/2026
https://www.brecorder.com/news/40422292?shem=dsdf,sharefoc,agadiscoversdl,,sh/x/discover/m1/4,rimspwouoe,&fbclid=IwVERDU...
23/05/2026

https://www.brecorder.com/news/40422292?shem=dsdf,sharefoc,agadiscoversdl,,sh/x/discover/m1/4,rimspwouoe,&fbclid=IwVERDUAR-a0FleHRuA2FlbQIxMABzcnRjBmFwcF9pZAwzNTA2ODU1MzE3MjgAAR6RmgBwp4JvwFpz88gsWompIo7PVOYNdVcdn3BAmSbR_DhQm6oMUVeeY5ngQg_aem_qft0Y49z60jAvChSj3EuUQ

ISLAMABAD: The Appellate Tribunal Inland Revenue (ATIR), in a significant ruling, has held that an order passed by...

13/05/2026

درخواست گزار نے 51 دن کی تاخیر کے ساتھ اپیل اور تاخیر معافی کی درخواست دائر کی۔ مؤقف اختیار کیا گیا کہ کمشنر ان لینڈ ریونیو (اپیلز) کا مورخہ 06-02-2026 کا حکم نامہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 218 کے تحت مقررہ قانونی طریقہ کے مطابق کبھی بھی درخواست گزار کو موصول نہیں ہوا، لہٰذا حکم کے علم میں آنے کے بعد فوری طور پر اپیل دائر کی گئی۔

محکمہ کے نمائندہ نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اپیل مدتِ مقررہ کے بعد دائر کی گئی ہے اور تاخیر کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں۔

ٹربیونل نے دونوں فریقین کے دلائل، حلف نامہ اور متعلقہ قانونی دفعات خصوصاً دفعہ 218 اور دفعہ 131 کا جائزہ لیا۔ ٹربیونل نے قرار دیا کہ قانونی طور پر مؤثر ترسیل اسی وقت تصور کی جا سکتی ہے جب نوٹس یا حکم نامہ قانون میں مقرر کردہ بنیادی طریقہ ہائے ترسیل کے مطابق ارسال کیا جائے۔ محض رجسٹرڈ ڈاک یا حکم جاری کرنے کا دعویٰ مؤثر ترسیل ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔

ٹربیونل نے مزید قرار دیا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ متنازعہ حکم نامہ درخواست گزار کو قانون کے مطابق ارسال کیا گیا تھا۔ اس لیے تاخیر کی وجوہات معقول اور قابلِ قبول ہیں۔

نتیجتاً، ٹربیونل نے تاخیر معافی کی درخواست منظور کرتے ہوئے 50 دن کی تاخیر کے اعتراض کو مسترد کر دیا اور اپیل کو میرٹ پر سماعت کے لیے منظور کر لیا۔

جائیداد مالکان کیلئے بڑی خوشخبری: سیکشن 7E کالعدم قرار۔وفاقی آئینی عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 7E کو غیر آئینی (...
07/05/2026

جائیداد مالکان کیلئے بڑی خوشخبری: سیکشن 7E کالعدم قرار۔

وفاقی آئینی عدالت نے انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 7E کو غیر آئینی (Ultra Vires) قرار دیتے ہوئے ختم کر دیا ہے۔

یہ فیصلہ پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور جائیداد مالکان کیلئے انتہائی اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

سیکشن 7E کیا تھا؟
فنانس ایکٹ 2022 کے تحت متعارف کروائے گئے سیکشن 7E کے مطابق اگر کسی شخص کے پاس ایک سے زائد جائیداد موجود ہو، تو حکومت یہ تصور کرتی تھی کہ اس جائیداد سے اس کی مارکیٹ ویلیو کے 5 فیصد کے برابر آمدن حاصل ہو رہی ہے، چاہے حقیقت میں کوئی کرایہ یا آمدن نہ ہو۔ اسی فرضی آمدن پر وفاقی انکم ٹیکس عائد کیا جاتا تھا۔

آئینی تنازع کیا تھا؟
قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان کے آئین کے تحت وفاق صرف "آمدن" پر ٹیکس لگا سکتا ہے، جبکہ غیر منقولہ جائیداد پر ٹیکس لگانے کا اختیار صوبوں کے پاس ہے۔ اس لیے مؤقف اختیار کیا گیا کہ سیکشن 7E دراصل پراپرٹی ٹیکس تھا جسے انکم ٹیکس کا نام دیا گیا۔

عدالت کا فیصلہ
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ سیکشن 7E وفاقی حکومت کے آئینی اختیارات سے تجاوز تھا، لہٰذا یہ قانون آئین سے متصادم ہے۔

یہ فیصلہ جائیداد مالکان کیلئے ایک بڑی قانونی اور مالی ریلیف سمجھا جا رہا ہے اور اس سے وفاق اور صوبوں کے ٹیکس اختیارات کی آئینی حد بھی واضح ہو گئی ہے۔

*سپریم کورٹ نے ایف بی آر کے سیکشن 7E کالعدم قرار دے دیا*
07/05/2026

*سپریم کورٹ نے ایف بی آر کے سیکشن 7E کالعدم قرار دے دیا*

Address

Office No. 242 Umer Block Allama Iqbal Town
Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Asad & Co. Management & Law Consultants posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Asad & Co. Management & Law Consultants:

Share