Bahawalsher Law Company

Bahawalsher Law Company Corporate, banking, environmental, civil, criminal and family laws and cases' solutions.

05/03/2026
02/08/2025

📢 وکلاء برادری کے لیے اہم اعلان معزز وکلاء حضرات!

ہم آپ کے سامنے ایک ایماندار، محنتی اور وکلاء برادری کے حقیقی ترجمان میاں طارق سعید سلوترہ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کو پیش کر رہے ہیں، جو ممبر پنجاب بار کونسل کے لیے لاہور سیٹ 2025-30 پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

میاں طارق سعید سلوترہ صاحب نے ہمیشہ وکلاء کے مسائل کے حل، وکالت کے وقار میں اضافہ، اور بار کے مفادات کے تحفظ کے لیے انتھک محنت کی ہے۔ ان کا مقصد صرف اور صرف وکلاء برادری کی خدمت، مسائل کے حل اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

✅ آپ کے ووٹ اور حمایت کی ضرورت ہے آئیے! اپنے ووٹ کی طاقت سے ایک اہل، ایماندار اور محنتی نمائندے کو منتخب کریں۔

📅 مدت: 2025 تا 2030 📍 سیٹ: لاہور 📞 رابطہ نمبر: 0301-4950330 🏢 آفس: بہال شیر لا کمپنی آفس نمبر LG-7، عاطف بشارت ہائٹس، 13 فین روڈ، لاہور

📢 Important Announcement for the Legal FraternityRespected Lawyers,We are proud to present before you an honest, hardwor...
31/07/2025

📢 Important Announcement for the Legal Fraternity

Respected Lawyers,

We are proud to present before you an honest, hardworking, and true representative of the legal community — Mian Tariq Saeed Salotra, Advocate High Court — who is contesting the Punjab Bar Council Elections (Lahore Seat) for the term 2025–2030.

Mian Tariq Saeed Salotra has always worked tirelessly for:
🔹 Resolving lawyers' issues
🔹 Upholding the dignity of the legal profession
🔹 Protecting the interests of the Bar

His mission is clear:
✅ To serve the legal fraternity with sincerity
✅ To ensure timely justice
✅ To strengthen harmony between the Bar and the Bench

Let’s use the power of our vote to elect a capable, honest, and dedicated representative.

🗳️ Your vote and support are crucial!

📅 Term: 2025 to 2030
📍 Seat: Lahore
📞 Contact Number: 0301-4950330
🏢 Office: Bahawal Sher Law Company, Office No. LG-7, Atif Basharat Heights, 13 Fane Road, Lahore

16/07/2025

حکومت پنجاب نے آج باضابطہ طور پر PERA FORCE کو لانچ کر دیا ہے۔ اس کے مینڈیٹ میں سب سے نمایاں ناجائز تجاوزات کو ہٹانا ہے۔ یہ حکومت کا بہت احسن قدم ہے۔ ایگزیکٹو میجسٹریسی کے خاتمے کے بعد ضلعی انتظامیہ مفلوج ہو کر رہ گئی تھی۔ یہ فورس اس کی قوت نافذہ کو تقویت دے گی۔ اگر اس فورس کو دانشمندی سے استعمال نہ کیا گیا تو اس امر کا شدید احتمال ہے کہ یہ فورس ابتداء ہی میں تنازعات کو شکار ہو جائے۔

اس فورس کی سب سے بڑی کمزوری اس کا مقامی ڈی سی کے ماتحت ہونا ہے اور مقامی محکمہ مال سے تجاوزات ہٹائے جانے کے سلسلہ میں راہینمائی لینا ہے کیونکہ سرکاری یا عوامی مقامات کی زمیںنوں کا ریکارڈ تو محکمہ مال کے افسران کے پاس ہے اور لا محالہ اس فورس کو پٹواریوں اور ریونیو افسران کی تعین کردہ حدبندی یا demarcation پر انحصار کرنا پڑے گا۔

ہماری بد قسمتی ہے کہ ضلعی افسران اپنی پوسٹننگ پچانے کے لیے مقامی ایم پی اے اور ایم این اے صاحبان کے دست نگر ہوتے ہیں۔ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ پٹواری شہر اور رجسٹری محرر ان سیاستدانوں کے ڈیرے چلاتے ہیں۔ اور انہی کے حکم پر ریونیو افسران زمینوں کی نشاندہی اور تقسیم کے فیصلے کرتے ہیں۔ یہ سارا کچھ ڈی سی صاحبان کی ناک کے نیچے ہو رہا ہوتا ہے۔ اس صورت حال میں وہی ناجائز تجاوزات ہٹائی جائیں گی جو مقامی سیاستدان چاہیں گے۔

اس کی غیر مقبولیت کے بیج اس کے مینڈیٹ میں شامل ہیں۔
ناجائز تجاوزات زیادہ تر غریب طبقہ نےکی ہوئی ہیں۔ اگر اس فورس نے آغاز ہی ریڑھی بانوں کی ریڑھیوں کو ہٹانے اور سرکاری زمینوں پر بنے غریبوں کے گھروں کی مسماری سےکیا تو نہ صرف یہ حکومت کی بدنامی کا باعث بنے گی بلکہ اس فورس کو لاء اینڈ آرڈر کے مسائل بھی درپیش ہوں گے جس کے لیے اس کو مقامی پولیس پر انحصار کرناپڑے گا۔ عام لوگ بھی سول سروس اور پولیس کے درمیان turf battle سے بخوبی آگاہ ہیں۔ پولیس اس ادارے کو ہر طرح سے ناکام بنانے کی کوشش کرے گی۔ PERA فورس کے افسران کو بہت محتاط انداز میں کام کرنا پڑے گا۔ بہتر یہ ہوگا کہ سیاسی اثر و نفوذ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یہ فورس سب سے پہلے بڑے مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالے۔ وسیع سرکاری زمینوں پر با اثر لوگ قابض ہیں- ان سے سب سے پہلےیہ زرعی زمین واگزار کروائی جائے۔ اسی طرح سے انتہائی قیمتوں زمینوں پر باا ثر افراد نے کمرشل پلازے اور کوٹھیاں بنائی ہوئی ہیں۔ ان کو سب سے پہلے واگذار کروایا جانا چاہیے۔

PERA ACT کے شیڈول میں حکومت تبدیلی کر سکتی ہے۔ اس وقت Illegal Dispossession Act کے نام سےزمینوں سے ناجائز قبضے ختم کروانے کا قانون موجود ہے۔ اس کے تحت سیشن کورٹ کو اختیارات حاصل ہیں۔ تاہم سپریم کورٹ کے کچھ فیصلوں کی وجہ سے یہ قانون عملا مفلوج ہو چکا ہے۔ دیہات میں سب سے بڑا مسئلہ ہی زرعی زمینوں پر ناجائز قبضے کا ہے۔ حکومت کو چاہئیے کہ لینڈ ریونیو ایکٹ میں ترمیم کر کے غیرقانونی قبضہ ختم کراونے کا سمری اختیار مقامی اسسٹنٹ کمشنر کو دے جس کے پاس زمینوں کی ملکیت کا ریکارڈ ہوتا ہے۔
اس وقت پولیس کی طرف سے جو ایک بہت ہی glaring قسم کی غیر قانونی حرکت کی جا رہی ہے وہ ہے متنازعہ زمین کے بارے میں محکمہ مال اور عدالتوں کے اختیار کا پولیس کی طرف سےاستعمال۔ بہت سےسینئر پولیس افسران سوشل میڈیا پر یہ فخریہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم زمین یا مکان کا ناجائز قبضہ چھڑوائیں گے۔ ان کا یہ اختیار ہی نہیں ہے۔ آجکل عملا یہ ہو رہا ہے کہ پولیس سے ملی بھگت کر کے لوگ 15 پر شکایت کرتے ہیں کہ میری زمین یا مکان پر فلاں نے قبضہ کر لیا ہے۔ مقامی پولیس موقع پر پہنچ کر عدالت لگاتی ہے اور زمین کی ملکیت کا فیصلہ کر کے کسی فریق کو قبضہ دلوا دیتی ہے۔ PERA سے امید ہے کہ وہ اس لاقانونیت کا حصہ نہیں بنے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ زمین کا قبضہ بحال کرنے کے سمری اختیارات ریونیو افسران اور PERA کو دے اور اس کے misuse پر انتہائی سخت سزامتعین کرے۔
جہاں تک اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے کنٹرول کےعزم کا تعلق ہے تو یہ بہت خوش آئند چیز ہے۔ لیکن ایک بہت ضروری آئیٹم یعنی چینی کی قیمتوں کا تو تعین ہی نہیں ہو سکا ہے۔ نہ صرف قیمتیں بڑھانے کی کھلی چھٹی ہے بلکہ اس کی ذخیرہ اندوزی کا قانون The Punjab Sugar (Supply-chain Management ) Orderبھی بالکل معطل ہے۔ اگر صرف غریب کاشتکار کی اگائی ہوئی چیزوں کو ہم نے کنٹرول کرنا کے تو زراعت پر فاتحہ پڑھ لینا چاہیے۔
ان ساریshortcomings کے باوجود یہ ایک اچھا initiative ہے۔ اس کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار صرف اور صرف اس کے غیر جانبدارانہ اورشفاف actions پر ہے۔

16/07/2025

پنجابیاں نوں مارنا بند کرو
゚viralfbreelsfypシ゚viral ゚ ゚viralvideo ゚viralシ ゚

16/07/2025

گلوبل وارمنگ سے ہندوستان اور پاکستان بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، جس سے کئی شدید اور اکثر ایک دوسرے سے جڑے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا کا یہ خطہ عالمی اوسط سے زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے، جس کے اس کی بڑی آبادی اور اہم وسائل کے لیے سنگین خطرات ہیں۔

پچھلے کچھ سال سے شدید گرمی کی لہریں آ رہی ہیں ہندوستان اور پاکستان دونوں کے اندر زیادہ کثرت سے۔
2025 میں اپریل کی ایک حالیہ گرمی کی لہر میں شمالی ہندوستان میں درجہ حرارت 40°C سے تجاوز کر گیا اور پاکستان کے کچھ حصوں میں 49°C تک پہنچ گیا۔
بعض سائنسی سٹڈیز سے یہ چیز سامنے آئی ہے کہ انسانی عمل دخل کی وجہ سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلی ان گرمی کی لہروں کی بڑی وجہ ہے، جس سے موسم کے پیٹرن ماضی کے مقابلے میں 4°C سینٹی گریڈ تک گرم ہو گئے ہیں۔
اس کی وجہ سے انسانی صحت پر اس کے کافی برے اثرات پڑھ رہے ہیں، بڑھتا ہوا درجہ حرارت "بقا کی حد" کو دھکیل رہا ہے۔ ہندوستان میں ایک دن کی گرمی کی لہر سے تقریباً 3,400 اضافی اموات کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ پانچ دن کی گرمی کی لہر سے تقریباً 30,000 اضافی اموات ہو سکتی ہیں۔ حاملہ خواتین اور ان کے unborn بچے خاص طور پر خطرے میں ہیں۔
* اقتصادی اثرات: ہندوستان نے 2021 میں گرمی کی وجہ سے تقریباً 160 بلین گھنٹے کی مزدوری کھو دی، جو جی ڈی پی کے تقریباً 5.4% کی پیداواری نقصان کے برابر ہے۔
کوہ ہمالیہ کے پہاڑ، جنہیں اکثر "تیسرا قطب" کہا جاتا ہے، سندھ، گنگا اور برہم پترا جیسے بڑے دریاؤں کو پانی فراہم کرتے ہیں، جو 1.6 بلین سے زیادہ لوگوں کو پانی مہیا کرتے ہیں۔ تاہم، موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے یہ گلیشیر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔
گلیشیر پگھلنے کی شرح: 2000 سے 2016 تک، ہمالیائی گلیشیرز نے سالانہ اوسطاً 8 بلین ٹن برف کھو دی۔
دریائے سندھ کا نظام: سندھ کے علاقے میں، دریا کے موسم گرما کے بہاؤ کا 90% تک پگھلتی ہوئی برف اور برف سے آتا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان اس نظام پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ پاکستان اپنے تازہ پانی کا تقریباً 80% دریائے سندھ کے نظام سے حاصل کرتا ہے۔
پانی کا دباؤ: پاکستان عالمی سطح پر سب سے زیادہ پانی کی قلت والے ممالک میں سے ایک ہے۔ فی کس پانی کی دستیابی تقریباً 860 مکعب میٹر فی سال تک گر گئی ہے اور 2040 تک 500 مکعب میٹر تک گر سکتی ہے، جو اسے شدید پانی کی قلت والے ملک کے طور پر درجہ بند کرتی ہے۔
زیر زمین پانی کا غیر پائیدار استخراج جنوبی ایشیا کے زیر زمین پانی کے ذخائر کو تباہی کے دہانے پر دھکیل رہا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پانی سے متعلق جغرافیائی سیاسی رگڑ کو بڑھا رہی ہے، جو تازہ ترین آبی معاہدوں کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔
اس بڑھتی ہوئی گرمی کی وجہ سے غیر متوقع مون سون کے پیٹرن اور زیادہ سیلاب آ رہے پچھلے کچھ سالوں سے، کچھ علاقوں میں جلد اور زیادہ شدید بارشیں ہو رہی ہیں، اور دوسروں میں خشک سالی۔
یہ خطہ سیلابوں کے لیے انتہائی کمزور ہے۔ 2022 کے تباہ کن پاکستان کے سیلابوں سے اندازہً 15.2 بلین ڈالر کا اقتصادی نقصان ہوا، جو نمایاں بحالی اور لچک کی ضروریات کو اجاگر کرتا ہے۔ 33 ملین سے زیادہ افراد متاثر ہوئے، اور سیلاب کے بعد 10 ملین سے زیادہ افراد کو محفوظ پینے کے پانی تک رسائی حاصل نہیں تھی۔
فصل کی پیداوار میں کمی، موسمیاتی تبدیلی، خاص طور پر گرم درجہ حرارت، جنوبی ایشیائی ممالک، بشمول ہندوستان اور پاکستان میں، 2050 تک گندم کی پیداوار میں 16% کمی کا باعث بننے کا امکان ہے۔
پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی اور زرعی تحقیق میں سرمایہ کاری کی کمی کی وجہ سے فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی (مثلاً گندم، کپاس، تل، آم اور لیموں میں 40-60%) دیکھی گئی ہے۔
فصلوں کی پیداوار میں کمی اور پانی کی قلت لاکھوں کسانوں کے غذائی تحفظ اور معاش کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
اس کے علاوہ سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح پاکستان کے ساحلی علاقوں میں ماہی گیروں کو بے گھر کر رہی ہے، انہیں اندرون ملک منتقل ہونے پر مجبور کر رہی ہے اور انہیں نمکین پانی کے داخلے جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
اقتصادی نقصانات: 2019 اور 2023 کے درمیان، جنوبی ایشیا میں 82.1 ملین افراد موسمیاتی آفات سے متاثر ہوئے۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والے نقصان اور خسارے سے اقتصادی نقصانات کا تخمینہ ہے کہ 2050 تک جنوبی ایشیا کو 518 بلین ڈالر کا نقصان ہو گا اور 2070 تک یہ 997 بلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
جی ڈی پی میں کمی: عالمی کارروائی کے بغیر، چھ جنوبی ایشیائی ممالک (بشمول ہندوستان) کی اجتماعی معیشت 2050 تک ہر سال 1.8% اور 2100 تک 8.8% تک سکڑ سکتی ہے۔ یہاں تک کہ 2°C درجہ حرارت کی حد کے ساتھ بھی، معیشت 2050 تک سالانہ 1.3% تک کم ہو سکتی ہے۔
ایک سائنسی مطالعہ سے پتہ چلا ہے کہ جنوبی ایشیا کو 2050 تک موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی وجہ سے آمدنی میں 22% کی اوسط کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
موسمیاتی تبدیلی صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر بے پناہ دباؤ ڈال رہی ہے، جس سے گرمی کے دباؤ، ویکٹر سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور پانی سے پیدا ہونے والے انفیکشن کے معاملات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صرف ویکٹر سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا انتظام کرنے پر ہندوستان کو سالانہ 1 بلین ڈالر سے زیادہ لاگت آتی ہے۔
یہ اعدادوشمار ہندوستان اور پاکستان میں موافقت اور تخفیف کی حکمت عملیوں کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں تاکہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے بڑھتے ہوئے اثرات سے نمٹا جا سکے۔۔۔۔۔۔کاپی۔۔
゚viralfbreelsfypシ゚viral ゚viralシ

16/07/2025

# # بارشوں کا خزانہ ضائع نہ کریں! زیرِ زمین پانی ریچارج کیوں ضروری ہے؟

**عنوان:**
**"قطرہ قطرہ قلزم بنتا ہے، پھر کیوں ضائع کرتے ہو بارشوں کے قطرے؟ پنجاب کی زمین پیاسی ہے!"**
۔
**آج کل ملک کے بیشتر علاقے، خاص طور پر پنجاب، شدید بارشوں کی زد میں ہیں۔ یہ بارشیں اللہ کی بے پناہ رحمت ہیں۔ لیکن ایک المیہ دیکھیں:**

1. **زمین کی پیاس:** پنجاب کا بہت بڑا رقبہ **زیرِ زمین پانی کے ریچارج (Underground Water Recharge)** کے لیے نہایت موزوں ہے۔ یہ قدرت کا بنایا ہوا قدرتی "واٹر بینک" ہے۔
2. **ٹیوب ویل کا بوجھ:** دوسری طرف، **14 لاکھ سے زیادہ ٹیوب ویل** مسلسل زمین سے پانی کھینچ رہے ہیں، جس سے زمینی پانی کی سطح (واٹر ٹیبل) خطرناک حد تک گر چکی ہے۔ یہ پانی "فوسل واٹر" ہے جو صدیوں میں جمع ہوا تھا، ہم اسے تیزی سے ختم کر رہے ہیں۔
3. **ضائع ہوتی رحمت:** ان شدید بارشوں کا بیشتر پانی بہہ کر دریاؤں میں چلا جاتا ہے یا بخارات بن کر اڑ جاتا ہے۔ ہم اسے زمین میں سرایت کرانے (ریچارج کرنے) کے لیے **منظم اور وسیع پیمانے پر اقدامات نہیں کر رہے**۔

**سوال یہ ہے:**
> **"جب قدرت رحمت برسا رہی ہو، جب زمین اسے جذب کرنے کے لیے تیار ہو، اور جب ہم زیرِ زمین پانی کا ذخیرہ تیزی سے ختم کر رہے ہوں... تو ایسے میں اس بارشیں پانی کو ذخیرہ کرنے اور زمین میں ریچارج نہ کرنا کس کے ساتھ زیادتی نہیں؟"**

یہ زیادتی ہے:
* **اپنے ساتھ:** آنے والی نسلوں کے لیے پانی کا ذخیرہ ختم کر کے۔
* **زمین کے ساتھ:** اس کی صلاحیت کو استعمال نہ کر کے۔
* **قدرت کے ساتھ:** اس کی دی ہوئی رحمت کو ضائع کر کے۔

**نوٹ پر غور کریں:**
> **"قطرہ قطرہ قلزم اور تنکا تنکا جنگل بن جاتا ہے۔"**

یہ صرف ایک کہاوت نہیں، **حقیقت کی عکاسی** ہے! ہر قطرہ جو زمین میں جاتا ہے، وہ مستقبل کا ایک پیالہ پانی بن سکتا ہے۔ ہر چھوٹا سا اقدام ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔

**ہم اپنا حصہ کیسے ڈال سکتے ہیں؟ (حل کی طرف قدم):**

1. **آگاہی پھیلائیں:** اس مسئلے کے بارے میں اپنے اردگرد کے لوگوں، کسانوں، رشتہ داروں سے بات کریں۔
2. **ریچارج پٹھ (Recharge Pits):** گھر، کھیت، پارک یا سڑک کے کنارے چھوٹے گڑھے کھودیں جہاں بارش کا پانی جمع ہو کر آہستہ آہستہ زمین میں جذب ہو سکے۔
3. **بارش کے پانی کو روکیں (Rainwater Harvesting):** چھتوں پر گرنے والے پانی کو پائپوں کے ذریعے زمین میں گہرے گڑھوں یا خشک کنوؤں تک پہنچائیں۔ (سادہ ترین طریقہ بھی بہت مؤثر ہو سکتا ہے)۔
4. **چیک ڈیمز/بند:** کھیتوں یا چھوٹی ندی نالوں پر چھوٹے بند بنا کر پانی کو روکا جا سکتا ہے تاکہ وہ زمین میں جذب ہو سکے۔
5. **حکومت سے مطالبہ کریں:** وسیع پیمانے پر ریچارج پراجیکٹس، واٹرشیڈ مینجمنٹ، ڈیمز بنانے اور ٹیوب ویل کے بے تحاشہ استعمال پر پابندی/ریگولیشن کے لیے آواز اٹھائیں۔

**آخری بات:**
بارش کا پانی جو آج بہہ جاتا ہے، وہی پانی کل ہمارے ٹیوب ویل خشک ہونے کی وجہ بنے گا۔ ہم اپنے ہاتھ میں آنے والے اس "مفت اور صاف" پانی کے خزانے کو ضائع نہ ہونے دیں۔ زمین میں ریچارج کر کے اپنے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔

** #بارشیں #پنجاب **
* **شیئر کریں:** اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کرنے کی اپیل کریں، خاص طور پر پنجاب کے رہائشیوں اور کسانوں تک پہنچانے کی۔

یہ پوسٹ معلوماتی ہونے کے ساتھ ساتھ جذبات کو بھی جھنجوڑے گی اور عمل پر آمادہ کرے گی، ان شاء اللہ۔
` ` (Essential!)
` `
` `
` `

` `
` `
` `
` `

` `
` `
` `
` `

` `
` `
` `
` `


` `
` `
` `
` `

` `
` `
` `
` `
` `
` `
` `
` `
゚viralfbreelsfypシ゚viral ゚viralシ

Address

Office#16, 3rd Floor, Nizami Plaza, 13 Fane Road
Lahore

Telephone

+923454927744

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bahawalsher Law Company posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Bahawalsher Law Company:

Share