Adv Ammar Khokhar

Adv Ammar Khokhar CONTACT FOR FURTHER GUIDANCE
CRIMINAL MATTERS
MURDER CASES

ہم آئی جی پنجاب سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ رضوان نوازبھٹی ایڈووکیٹ کے چھوٹے بھائی علی نوازبھٹی کے قاتلوں کو فی الفور گر...
25/06/2026

ہم آئی جی پنجاب سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ رضوان نوازبھٹی ایڈووکیٹ کے چھوٹے بھائی علی نوازبھٹی کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے.....

ان تمام دوکانو پر 25ہزار روپے فیکس ٹیکس لگا دیا گیا ھے
20/06/2026

ان تمام دوکانو پر 25ہزار روپے فیکس ٹیکس لگا دیا گیا ھے

کاروباری حضرات کیلیے نیا پورٹل کھولا ہے پنجاب گورنمنٹ نے تمام 52 کاروبار جو لسٹ میں دئیے گئے ہیں انکی اپروول اب آن لائین...
13/06/2026

کاروباری حضرات کیلیے نیا پورٹل کھولا ہے پنجاب گورنمنٹ نے تمام 52 کاروبار جو لسٹ میں دئیے گئے ہیں انکی اپروول اب آن لائین پورٹل سے ہوگی !

🇵🇰 *Pakistan Budget 2026–27: Key Highlights*🔹 *Total Budget:* Rs 18.77 Trillion🔹 *Economic Growth Target:* 4%🔹 *Inflatio...
13/06/2026

🇵🇰 *Pakistan Budget 2026–27: Key Highlights*

🔹 *Total Budget:* Rs 18.77 Trillion

🔹 *Economic Growth Target:* 4%

🔹 *Inflation Target:* 8.2%

🔹 *Tax Collection Target (FBR):* Rs 15.27 Trillion

🔹 *Defence Budget:* Increased due to security requirements

🔹 *Debt Servicing:* Around Rs 7.8 Trillion allocated for repayment of loans and interest

🔹 *Development Spending:* Rs 4.26 Trillion proposed for infrastructure, education, health, transport and IT sectors

🔹 *Fiscal Deficit:* Government aims to reduce the deficit and maintain IMF-backed fiscal discipline

🔹 *Retail Tax Measure:* Businesses with annual sales up to Rs 200 million may be subject to a 1% income tax

🔹 *Government Focus Areas:*
• Economic stability
• Revenue generation
• Development projects
• National security
• Inflation control

📌 *Summary:* The 2026–27 budget focuses on economic reforms, higher tax collection, controlled spending, increased defence allocation, and continued efforts to stabilize Pakistan's economy.

سندھو بردران کے خلاف اس بوگس FIR کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔۔۔DHA نے لاہور کے گرد و نواح میں غریب لوگوں کی زمینوں پ...
13/06/2026

سندھو بردران کے خلاف اس بوگس FIR کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔۔۔DHA نے لاہور کے گرد و نواح میں غریب لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کرنا وتیرا بنا لیا ہے۔ ہر ائے روز کسی نہ کسی غریب پر 7 ata کی ایف ائی ار درج ہوتی ہے. 11 مئی کو میں نے دہشت گردی عدالت نمبر دو میں دو ایسے بچوں کو دیکھا جن کی عمر 13 14 سال ہوگی ان پر بھی ڈی ایچ اے کی طرف سے دہشت گردی کی ایف ائی ار درج کروائی گئی۔

13/06/2026

اب قبضہ 30 دن کے اندر آپ کے پاس اور اپیل کا فیصلہ 90 دن میں مکمل نوٹیفکیشن جاری

اگر آپکی ملکیتی زمین یا پلاٹ پر قبضہ کیا گیا ہے تو آپ بھی درج ذیل آرڈیننس کی روشنی میں قبضہ حاصل کر سکتے ہے

سیکشن 4

قید کی سزا: کم از کم 5 سال اور زیادہ سے زیادہ 10 سال تک قیدِ بامشقّت۔بھاری جرمانہ: قانون کی خلاف ورزی پر 1 کروڑ روپے (10 ملین) تک کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا

سیکشن 7

قانون کے تحت ٹریبونل کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ جائیداد کے قبضے کا فیصلہ 30 دنوں کے اندر سنائے



سیکشن 13 (2) ایکٹ کے تحت کسی بھی جرم کی کوشش کرتے ہوئے، ٹربیونل کسی دوسرے جرم کی بھی کوشش کر سکتا ہے جس کے ساتھ مبینہ ملزم پر، کوڈ آف کریمنل پروسیجر، 1898 (V of 1898) کے تحت، اسی مقدمے میں چارج کیا جا سکتا ہے، اگر یہ جرم ایسے دوسرے جرم سے منسلک ہو۔"

سیکشن 14(7,8)

ٹربیونل غیر منقولہ جائیداد کے غلط اور غیر قانونی قبضے کے لیے مالی معاوضہ دے سکتا ہے جو کہ غیر منقولہ جائیداد کی قیمت سے کم نہیں ہوگی، جیسا کہ اسٹامپ ایکٹ، 1899 (II of 1899) کے تحت مطلع کردہ ویلیویشن ٹیبل کے مطابق طے کیا گیا ہے، جیسا کہ ٹریبیونل کی حتمی تاریخ اور اس کے علاوہ ادائیگی کی تاریخ میں ممکن ہے۔ ملزم کی طرف سے ایسی غیر منقولہ جائیداد یا اس کے بعد تعمیر کردہ کسی سپر سٹرکچر سے حاصل کردہ کسی منافع یا نفع کا قانونی مالک۔

(8) معاوضے اور منافع کی رقم جو اس طرح دی گئی ہے اور قبضے کی بحالی کی لاگت، اگر کوئی ہے تو، زمین کی آمدنی کے بقایا کے طور پر وصول کی جائے گی۔

سیکشن 17 کے تحت اس کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل ہو گئی تیس دن کے اندر اندر اپیل ہو گئی اور اپیل کا فیصلہ کم از کم 90 دن کے اندر ہو گا چیف جسٹس ہائیکورٹ سماعت کرے گئی

انٹریم حکم کے خلاف کوئی اپیل کوئی نظر ثانی نہیں ہو گئی.

"اپنی گرل فرینڈ پر خرچہ کریں لیکن کبھی اس کی بہن کو پڑھا کر وکیل نہ بنائیں۔"A public service message by MPA Saqib Chadda...
11/06/2026

"اپنی گرل فرینڈ پر خرچہ کریں لیکن کبھی اس کی بہن کو پڑھا کر وکیل نہ بنائیں۔"

A public service message by MPA Saqib Chaddar.

09/06/2026

*پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 میں 2026 کی تاریخی ترامیم: "کاغذ سے کلاؤڈ تک"*

*21 مئی 2026* کو پنجاب اسمبلی نے "The Punjab Land Revenue Amendment Act 2026" منظور کر کے 1967 کے 58 سال پرانے نظام کی جڑیں ہلا دیں۔ یہ ترامیم محض الفاظ کی تبدیلی نہیں، بلکہ پنجاب کی 6 کروڑ عوام کی زمین کا نظام "پٹواری کلچر سے ARC کلچر" کی طرف شفٹ کر گئی ہیں۔

*1. مسئلہ کیا تھا؟ 3 بڑی بیماریاں*
1. *تاخیر*: وراثتی تقسیم 20-25 سال۔ "دادا کا کیس، پوتا لڑ رہا تھا"
2. *بدعنوانی*: انتقال = پٹواری کی جیب۔ بغیر 20-50 ہزار کام نہیں ہوتا تھا
3. *لٹکاؤ*: AC کا فیصلہ → کلکٹر اپیل → کمشنر ریویژن → بورڈ ریویژن → سول کورٹ۔ ایک کیس 4 فورم پر

*2. 2026 کا حل: 7 انقلابی تبدیلیاں*

*1. رجسٹری = انتقال*
اب رجسٹرار کی ڈیجیٹل اطلاع ملتے ہی زمین ریکارڈ خود اپ ڈیٹ ہو جائے گی۔ AC صرف 1 ماہ میں "تصدیق" کرے گا۔ پٹواری کے چکر ختم۔ PLRA + ای-اسٹامپ + لینڈ ریکارڈ ایک ہو گئے۔

*2. تقسیم 60 دن میں، لازمی*
نئی دفعہ 142-A: وراثتی انتقال منظور ہوتے ہی AC کے پاس 60 دن کی ڈیڈ لائن۔ فیصلہ نہ کیا تو کیس خود کلکٹر کے پاس چلا جائے گا اور AC کے خلاف محکمانہ کارروائی۔ تاریخ پر تاریخ کا کھیل ختم۔

*3. AC کو مکمل اختیار*
دفعہ 44، 117، 141 کے تحت اب تحصیلدار خود:
- زمین کے عنوان کا تنازعہ سنے گا
- ناجائز قابض سے 10,000 جرمانہ لے کر قبضہ واپس دلائے گا
- حدبندی کرے گا، پولیس ساتھ لے جائے گا

*4. سول کورٹ کا دروازہ بند*
دفعہ 172: زمین کا ریکارڈ، انتقال، تقسیم، حدبندی - یہ سب "ریونیو کا کام" ہے۔ سول کورٹ دخل نہیں دے سکتی۔ 30 سال کی فورم شاپنگ ختم۔

*5. جرمانے 200 گنا بڑھ گئے*
دفعہ 118: حدبندی میں رکاوٹ = 50 روپے سے 10,000 روپے
دفعہ 175-A: ریکارڈ میں جعل سازی = 500 روپے سے 1 لاکھ روپے
دفعہ 134: ریکارڈ میں ردوبدل = کلکٹر 10 لاکھ تک جرمانہ کرے گا

*6. "بھائی خود بانٹ لو" سکیم*
نئی دفعہ 135-A: ورثاء اگر آپس میں راضی ہیں تو 1 سال کے اندر "پرائیویٹ پارٹیشن اسکیم" AC سے تصدیق کروا لیں۔ AC صرف چیک کرے گا۔ نہ بانٹو تو AC 60 دن میں زبردستی بانٹ دے گا۔

*7. ڈیجیٹل نوٹس + ڈیجیٹل سروے*
دفعہ 6: سمن اب واٹس ایپ، SMS، ای میل پر بھی جائے گا۔ 7 دن کا وقت۔
دفعہ 119: موضع کی GPS/ڈرون سروے کا خرچہ مالکان دیں گے۔ نہ دو تو زمین سے وصو

اب زمین کی حد براری اور تقسیم ہوگی زیادہ شفاف اور تیز رفتار۔ مورخہ تیس اپریل 2026 کوپنجاب حکومت نے زمین کے مالکان کے لیے...
08/06/2026

اب زمین کی حد براری اور تقسیم ہوگی زیادہ شفاف اور تیز رفتار۔ مورخہ تیس اپریل 2026 کوپنجاب حکومت نے زمین کے مالکان کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت ایک طاقتور "آربٹریشن کمیٹی" (ثالثی کمیٹی) کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔جس کے نتیجے میں زمینداروں کو اپنے تنازعات کے حل میں آسانی ہو جائیگی۔۔۔
یہ کمیٹی کیا کام کرے گی؟
تقسیمِ اراضی Partition: جہاں کھاتے دار متفق نہ ہوں، وہاں یہ کمیٹی فیصلہ کرے گی۔
حد براری Boundaries: زمین کی حدود اور رقبے کے تنازعات کا فوری خاتمہ کیلئے اقدامات کریگی۔۔
لوکل اثر و رسوخ کا خاتمہ: اسسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میں شفاف فیصلہ سازی کی جائیگی۔
کمیٹی کی پاور فل ٹیم:
1اسسٹنٹ کمشنر (AC) - کنوینر
2 اسسٹنٹ کلکٹر گریڈ 1/تحصیلدار - ممبر
3 گردوار اور نمبردار - فنی اور مقامی معاونت کر ینگے۔۔۔
4 عوامی نمائندے - فریقین کی مرضی سے 3 ممبران شامل ہو نگے ۔۔۔
قانون کی آگاہی ہی آپ کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ ان معلومات کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ کسی کا بھلا ہو سکے

Address

6/39 Lower Mall Near Judicial Complex Session Court Lahore
Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adv Ammar Khokhar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share