30/03/2026
ڈیوٹی مجسٹریٹ کا کردار صرف ریمانڈ تک — ہائیکورٹ
مقدمہ کا پس منظر یہ تھا کہ شکایت گزار شمعین خالِدہ کی درخواست پر اینٹی کرپشن نے FIR نمبر 02/2019 درج کی، جس میں دفعہ 5(2) پریوینشن آف کرپشن ایکٹ 1947 اور بعد ازاں دفعہ 161/162 تعزیراتِ پاکستان شامل کی گئیں۔ الزام کے مطابق فیصل کرامت نامی شخص، جو خود کو پٹواری کا منشی ظاہر کرتا تھا، نے 25,000 روپے بطور رشوت وصول کیے اور مجسٹریٹ کے چھاپے میں رنگے ہاتھوں گرفتار ہوا۔ تاہم ڈیوٹی مجسٹریٹ نے یہ قرار دیتے ہوئے کہ ملزم سرکاری ملازم نہیں، نہ صرف مزید جسمانی ریمانڈ دینے سے انکار کیا بلکہ اسے کیس سے ڈسچارج بھی کر دیا، جس کے خلاف حکومت نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ دفعہ 162 تعزیراتِ پاکستان ایسے پرائیویٹ شخص پر بھی لاگو ہوتی ہے جو کسی سرکاری ملازم پر اثرانداز ہونے کے لیے رشوت وصول کرے، لہٰذا یہ دلیل کہ ملزم سرکاری ملازم نہیں، ناقابلِ قبول ہے۔ مزید یہ کہ یہ جرم Pakistan Criminal Law (Amendment) Act, 1958 کے تحت اسپیشل جج اینٹی کرپشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، جیسا کہ PLD 1985 SC 225 میں بھی واضح کیا گیا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 167 کے تحت مجسٹریٹ کا کردار صرف ریمانڈ تک محدود ہوتا ہے، اور اگر اسے ٹرائل کا اختیار حاصل نہ ہو تو وہ ملزم کو متعلقہ عدالت کے سامنے پیش کرنے کا پابند ہے، نہ کہ اسے ڈسچارج کرے۔ چنانچہ مجسٹریٹ کا حکم غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کر دیا گیا اور معاملہ دوبارہ قانون کے مطابق فیصلہ کے لیے واپس بھجوا دیا گیا، اس اصول کے ساتھ کہ ریمانڈ کا مرحلہ محض تفتیشی نوعیت کا ہوتا ہے اور اس میں ڈسچارج کا اختیار استعمال نہیں کیا جا سکتا۔