24/08/2026
پنجاب اسمبلی کا احتسابی نظام: دو سالہ کارکردگی، سوالات اور ناقص نتائج
تحریر : احسن ضیاء
پنجاب اسمبلی جمہوری نظام میں صرف قانون سازی کا ادارہ نہیں بلکہ صوبائی حکومت کے انتظامی، مالی اور پالیسی معاملات کی نگرانی بھی اس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس نگرانی کا سب سے اہم ذریعہ اسمبلی کی قائمہ کمیٹیاں اور بالخصوص پبلک اکاؤنٹس کمیٹیاں ہیں۔ پنجاب اسمبلی کے اپنے سرکاری تعارف کے مطابق پارلیمانی کمیٹیاں مقننہ کی “آنکھیں اور کان” سمجھی جاتی ہیں اور ایک فعال کمیٹی نظام حکومت کو اسمبلی اور اسمبلی کو عوام کے سامنے جواب دہ بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
لیکن گزشتہ تقریباً دو سال کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے: کیا پنجاب اسمبلی کا احتسابی نظام واقعی سرکاری محکموں میں مالی بے ضابطگی، کرپشن، غفلت اور ناقص انتظامی کارکردگی کو روکنے میں کامیاب ہوا ہے؟ دستیاب سرکاری ریکارڈ اور اسمبلی کارروائی اس سوال کا جواب مکمل طور پر تسلی بخش انداز میں نہیں دیتی۔
سب سے پہلے: احتسابی کمیٹی کی اصل ساخت کیا ہے؟
پنجاب اسمبلی میں احتساب کا مرکزی پارلیمانی ڈھانچہ تین Public Accounts Committees پر مشتمل ہے: PAC-I، PAC-II اور PAC-III۔ سرکاری کمیٹی نظام کے مطابق ہر PAC میں 21 ارکان ہوتے ہیں اور وزیر خزانہ اس کا ex-officio رکن ہوتا ہے۔ ان کمیٹیوں کے سامنے حکومت کے Appropriation Accounts، آڈیٹر جنرل کی رپورٹس اور دیگر مالی معاملات آتے ہیں۔ PAC-III کا دائرہ بالخصوص مقامی حکومتوں سے متعلق مالی معاملات تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ (Pap New)
یہاں ایک اہم مسئلہ خود کمیٹیوں کی تشکیل اور فعالیت کا ہے۔ مئی 2024 میں پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اس وقت کے اسپیکر ملک محمد احمد خان نے خود نشاندہی کی کہ PAC-I تقریباً چار سے ساڑھے چار سال تک تشکیل ہی نہیں پا سکی تھی۔ ان کے مطابق اس عرصے کا بڑا مالی اور آڈٹ بزنس کمیٹی کے سامنے نہیں آسکا، جس کے نتیجے میں کئی سال کی رپورٹس کا بیک لاگ پیدا ہوا۔ اسپیکر نے اس صورتحال کو پارلیمانی ادارے کی غیر مؤثر کارکردگی سے جوڑا اور کہا کہ دو خصوصی Public Accounts Committees بنا کر تقریباً چھ ماہ میں زیرِ التوا کام نمٹانے کی ضرورت ہے۔
یہ اعتراف خود پنجاب اسمبلی کے احتسابی نظام کی ایک بڑی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے: اگر ایک اسمبلی اپنی سب سے اہم مالی نگرانی کی کمیٹی کئی سال تک فعال نہ رکھ سکے تو حکومت کے اخراجات کی بروقت پارلیمانی نگرانی کیسے ممکن ہوگی؟
گزشتہ دو سال میں فعالیت کتنی رہی؟
18ویں پنجاب اسمبلی کا آغاز 2024 میں ہوا۔ اس کے بعد کمیٹی نظام کو فعال کرنے کا عمل شروع ہوا اور 2025 تک PACs کے اجلاسوں اور نوٹیفکیشنز کا باقاعدہ ریکارڈ سامنے آنا شروع ہوا۔ اسمبلی کے سرکاری نوٹیفکیشن ریکارڈ میں 2025 کے دوران PAC-II اور PAC-III کے متعدد اجلاسوں اور کارروائیوں کے اندراجات موجود ہیں۔
تاہم مسئلہ یہ ہے کہ دستیاب عوامی ریکارڈ میں PACs کے لیے ایسا جامع سالانہ Performance Dashboard موجود نہیں جس میں واضح طور پر بتایا گیا ہو کہ:
* کتنے آڈٹ پیراز وصول ہوئے؛
* کتنے پیراز پر مکمل کارروائی ہوئی؛
* کتنی رقم ریکور ہوئی؛
* کتنے افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی ہوئی؛
* کتنے معاملات NAB، Anti-Corruption Establishment یا FIA کو بھیجے گئے؛
* کتنے کیسز مکمل طور پر نمٹا دیے گئے؛
* اور کتنے کیس اب بھی زیرِ التوا ہیں۔
یہی معلومات کسی بھی مؤثر احتسابی کمیٹی کی کارکردگی جانچنے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔
PAC-II: اجلاس ہوئے، مگر نتیجہ زیادہ تر ہدایات تک محدود
15 اپریل 2025 کے PAC-II اجلاس کی سرکاری ویڈیو اور تفصیل سے اندازہ ہوتا ہے کہ کمیٹی نے Livestock & Dairy Development Department کے کئی آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا۔ ان میں تنخواہوں کا ریکارڈ پیش نہ کرنا، PPRA ویب سائٹ پر اشتہار کے بغیر ادویات کی خریداری، انکم ٹیکس کی کم وصولی، 1.8 ملین روپے کے انشورنس کلیم، ٹینڈرنگ کے ریکارڈ، 10.63 ملین روپے کی بقایا رقم اور 1,613.380 ملین روپے کے ریکارڈ کی عدم پیشی جیسے معاملات شامل تھے۔ کمیٹی نے متعلقہ سیکرٹری کو باقی رقوم کی وصولی ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
یہ کارروائی بظاہر اہم ہے، لیکن یہاں اصل سوال یہ ہے کہ ہدایت کے بعد کیا ہوا؟
اگر کمیٹی صرف افسران کو طلب کرے، وضاحت لے اور پھر “ریکوری یقینی بنانے” کی ہدایت جاری کر دے، لیکن چند ماہ بعد یہ معلوم نہ ہو کہ کتنی رقم واقعی واپس آئی، کس افسر کے خلاف کارروائی ہوئی اور کس معاملے کو مکمل طور پر بند کیا گیا، تو پارلیمانی احتساب محض ایک سماعتی مشق بن کر رہ جاتا ہے۔
PAC-III کی دعوائے کامیابی اور آزادانہ تصدیق کا مسئلہ
PAC-III کے چیئرمین احمد اقبال چوہدری نے فروری 2025 میں پنجاب اسمبلی کے ایک پروگرام میں کمیٹی کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کمیٹی نے اربوں روپے کی ریکوری کرائی
یہ دعویٰ اہم ہے، مگر پارلیمانی شفافیت کا تقاضا یہ ہے کہ ایسی ریکوری کے بارے میں مکمل تفصیل بھی عوام کے سامنے آئے: کتنی رقم کس محکمہ سے، کس آڈٹ پیرا کے نتیجے میں، کس افسر کی ذمہ داری کے تعین کے بعد اور کس مدت میں واپس ہوئی؟
صرف “اربوں روپے کی ریکوری” کہنا کافی نہیں۔ ایک مضبوط احتسابی نظام میں ہر ریکوری قابلِ تصدیق ہونی چاہیے۔
اصل مسئلہ: کیسز کی تعداد نہیں، Disposal Rate ہے
پنجاب اسمبلی کے احتسابی نظام کی کارکردگی جانچنے میں ایک بڑی مشکل مکمل کیس ڈیٹا کی عدم دستیابی ہے۔ دستیاب سرکاری ویب ریکارڈ میں مختلف کمیٹیوں کے اجلاس اور بعض کارروائیاں موجود ہیں، لیکن گزشتہ دو سال کے لیے PAC-I، PAC-II اور PAC-III کے مجموعی طور پر زیرِ سماعت، نمٹائے گئے، منتقل کیے گئے اور زیرِ التوا آڈٹ پیراز کی ایک consolidated تعداد آسانی سے دستیاب نہیں۔
لہٰذا یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ “کمیٹی نے فلاں تعداد میں کیسز مکمل کر دیے” جب تک اسمبلی خود ایسا جامع ڈیٹا جاری نہ کرے۔
یہی دراصل کمزوری کی سب سے بڑی علامت ہے۔
جو ادارہ حکومت سے حساب مانگتا ہے، اسے خود بھی عوام کو حساب دینا چاہیے۔
کیا نظام کی مجموعی بہتری پر اثر پڑا؟
یہاں کارکردگی کا جائزہ نسبتاً سخت بنتا ہے۔
اگر پارلیمانی کمیٹی کسی محکمے سے ریکارڈ طلب کرتی ہے، افسران کو بلاتی ہے، مالی بے ضابطگی کی نشاندہی کرتی ہے اور ریکوری کی ہدایت دیتی ہے تو یہ ایک مثبت قدم ہے۔ لیکن اس کا اصل اثر اس وقت ثابت ہوتا ہے جب:
1. رقم واپس ہو؛
2. ذمہ دار افسر کا تعین ہو؛
3. دوبارہ وہی بے ضابطگی نہ ہو؛
4. محکمہ اپنی procurement اور financial controls بہتر کرے؛
5. آڈٹ اعتراضات کی تعداد کم ہو؛
6. اور اسمبلی کو بروقت follow-up report ملے۔
موجودہ عوامی ریکارڈ سے یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ گزشتہ دو سال میں پنجاب کے سرکاری محکموں میں ایسی structural improvement آئی ہے۔ بلکہ خود اسمبلی کی 2024 کی کارروائی میں یہ اعتراف سامنے آیا کہ برسوں سے آڈٹ پیراز زیر التوا تھے اور PAC-I کی عدم تشکیل نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنایا۔ (Pap New)
ناقص کارکردگی کی بنیادی وجوہات
پنجاب اسمبلی کے احتسابی نظام میں کم از کم پانچ بنیادی کمزوریاں نظر آتی ہیں۔
اول، کمیٹیوں کی بروقت تشکیل نہ ہونا۔ PAC-I کی کئی سال تک عدم تشکیل اس کی واضح مثال ہے۔
دوم، بیک لاگ۔ جب کئی سال کی آڈٹ رپورٹس جمع ہوتی رہیں تو نئی کمیٹی کے لیے موجودہ سال کے معاملات کے ساتھ ماضی کا بوجھ بھی اٹھانا پڑتا ہے۔
سوم، Follow-up mechanism کی کمزوری۔ کمیٹی کی ہدایت کے بعد اصل عملدرآمد کی نگرانی اور عوامی رپورٹنگ کمزور دکھائی دیتی ہے۔
چہارم، ڈیٹا کی عدم دستیابی۔ عوام کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کمیٹی نے کتنے پیراز نمٹائے اور کتنی رقم ریکور کی۔
پنجم، سیاسی اثر و رسوخ کا خطرہ۔ پارلیمانی احتساب اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب کمیٹی حکومتی محکموں سے غیر جانب دارانہ انداز میں سوال کر سکے، خواہ معاملہ کسی بھی سیاسی جماعت کے دور حکومت کا ہو۔
گزشتہ دو سال کے دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر پنجاب اسمبلی کے احتسابی نظام کو مکمل طور پر ناکام قرار دینا بھی درست نہیں، کیونکہ PAC-II اور PAC-III نے متعدد آڈٹ اعتراضات پر کارروائی کی، افسران کو طلب کیا اور ریکوری کے احکامات دیے۔ تاہم اسے ایک مؤثر، مسلسل اور نتائج پر مبنی احتسابی نظام قرار دینا بھی مشکل ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کمیٹیوں نے اجلاس نہیں کیے؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اجلاسوں کے نتیجے میں نظام کتنا بدلا؟
ایک مضبوط احتسابی نظام کے لیے پنجاب اسمبلی کو ہر PAC کی سالانہ Performance Report جاری کرنی چاہیے جس میں زیرِ التوا آڈٹ پیراز، نمٹائے گئے کیسز، مالی ریکوری، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی اور دوبارہ ہونے والی بے ضابطگیوں کی تفصیل موجود ہو۔
ورنہ کمیٹیوں کی کارروائیاں اخبارات کی چند سرخیوں، افسران کی طلبی، وضاحتوں اور ہدایات تک محدود رہیں گی۔
پارلیمانی احتساب کا مقصد صرف “حساب مانگنا” نہیں بلکہ “حساب مکمل کرنا” ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں پنجاب اسمبلی کے موجودہ احتسابی نظام کو ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔