Khalid Zafar & Associates

Khalid Zafar & Associates Lawyers & Law Firm
Khalid zafar & Associates
(2)

22/06/2026

شہر شیخوپورہ کے مین بتی چوک میں ہونے والا ایک عجیب و غریب واقعہ جس میں ٹریفک وارڈن نے تلخ کلامی پر ایک عام شہری کی ٹانگ میں گولی مار دی، اور زخمی حالت میں مزید ایک شہری زخمی کو دھمکانے کی کوشش کر رہا ہے، واقعہ کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جب اپ کے جسم پر وردی آ جاتی ہے تو کیا ضمیر مر جاتا ہے ؟ اگر کوئی شخص اہلکار سے زبان درازی کر رہا ہے یا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے، تو اپ کے ہاتھ میں قانون کی طاقت دی گئی ہے ، اسلحے کی طاقت کو استعمال کرنا کہاں کی شرافت ہے؟

  of
22/06/2026

of

20/06/2026
‎لاہور ہائی کورٹ نے چکوال میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکار کی فائرنگ سے ماری جانے والی نو سالہ بچی سے متع...
19/06/2026

‎لاہور ہائی کورٹ نے چکوال میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکار کی فائرنگ سے ماری جانے والی نو سالہ بچی سے متعلق معاملے پر درخواست نمٹاتے ہوئے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو ’قانون کے مطابق کارروائی‘ کرنے کا حکم دیا ہے۔

‎انڈپینڈنٹ اردو کے مطابق درخواست گزار کا موقف تھا کہ جب سی سی ڈی کے اہلکار کی فائرنگ سے بچی ماری جائے تو اسی واقعے کی تحقیقات بھی سی سی ڈی خود کیسے کر سکتی ہے؟

‎درخواست گزار کے وکیل آصف محمود نے بتایا کہ کسٹوڈیل ٹارچر اینڈ ڈیتھز ایکٹ کے تحت اس نوعیت کے مقدمات کی تحقیقات ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔ آج ڈی ایس پی انویسٹی گیشن سی سی ڈی عدالت میں پیش ہوئے، تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جب ملزم کا تعلق سی سی ڈی سے ہو تو اسی ادارے کی جانب سے تحقیقات کیسے کی جا سکتی ہیں؟اسی لیے عدالت نے ان کی درخواست پر قانونی کارروائی کے لیے ڈی جی ایف آئی اے کو ہدایت جاری کی ہے۔
‎کیس کی سماعت کے بعد آصف محمود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ چکوال میں نو سالہ ہانیہ کے قتل کے مقدمے کی تحقیقات ایف آئی اے کے حوالے کی جائیں کیونکہ قانون کے مطابق ایسے کیسز کی تفتیش ایف آئی اے ہی کر سکتی ہے۔

‎ میاں آصف محمود نے الزام عائد کیا کہ سی سی ڈی نے کم و بیش دو ہزار افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا ہے۔ بعض افراد کو مارنے کے بعد لاوارث قرار دے کر دفن کر دیا گیا اور ان کی قبروں کے بارے میں بھی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

‎یاد رہے کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے اپریل 2025، جب سی سی ڈی کی تشکیل ہوئی تھی، اور دسمبر 2025 کے درمیان کم از کم 670 مقابلوں کو ریکارڈ کیا ہے، جس کے نتیجے میں 924 اموات ہوئیں جب کہ سی سی ڈی ماورائے عدالت قتل کے الزامات کی تردید کرتی ہے۔

‎میاں آصف محمود نے مزید کہا کہ پولیس آرڈر 2002 میں سی سی ڈی کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے، تاہم چکوال کا واقعہ ٹرپل مرڈر کیس ہے اور اس کی تحقیقات سی سی ڈی نہیں کر سکتی۔ ’چکوال واقعے کے اگلے روز سی سی ڈی کی جانب سے دو مبینہ ڈاکوؤں کو مارنے کا دعویٰ کیا گیا، لیکن اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ افراد کون تھے اور کس بنیاد پر ان کے خلاف
کارروائی کی گئی؟

Copied by urdu independent

19/06/2026

Address

180 Mamdoot Block, Mustafa Town
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 09:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923214475550

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khalid Zafar & Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Khalid Zafar & Associates:

Share