Adv Usama Akbar Gill

Adv Usama Akbar Gill Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Adv Usama Akbar Gill, Criminal lawyer, Office 31, 3rd Floor Sadiq Plaza Mall Road, Lahore.

Where Legal Expertise Meets Trusted Advocacy ⚖️
📌 Criminal | FIA | Family | Civil | Banking | Anti-Terrorism
📝 Agreements • Contracts • Legal Drafting • Dispute Resolution
⚖️ Bail Matters • Court Representation • Legal Consultancy

🤙 03076753065

19/05/2026

“بارِ ثبوت”. (Burden Of Proof )

فوجداری نظامِ انصاف کا وہ سنہری اصول جس نے صدیوں پرانا قانونی ڈھانچہ بدل دیا

سن 1762 میں قائم ہونے والے ایک سخت قانونی نظریے نے طویل عرصے تک یہ تصور قائم رکھا کہ ملزم اپنی بے گناہی خود ثابت کرے۔
پھر سن 1935 میں ایک تاریخی عدالتی فیصلے نے دنیا کو یہ اصول دیا کہ جرم ثابت کرنا ہمیشہ استغاثہ کی ذمہ داری ہے۔
اسلام نے چودہ سو سال پہلے ہی اعلان کر دیا تھا:
“البینۃ علی المدعی” — ثبوت دعویٰ کرنے والے پر ہے۔
اسی عظیم اصول نے بعد ازاں پاکستان کے قانونِ شہادت، عدالتی نظائر اور فوجداری نظامِ انصاف کی بنیاد رکھی۔
معقول شک کوئی فنی کمزوری نہیں بلکہ شہری کی آزادی اور ریاستی اختیار کے درمیان کھڑی آخری قانونی دیوار ہے۔
مہذب معاشروں میں عدالتیں الزام پر نہیں بلکہ ناقابلِ تردید ثبوت پر فیصلے کرتی ہیں، کیونکہ ایک بے گناہ کو سزا دینا پورے نظامِ انصاف کی ناکامی ہے۔

ہر ڈِس آنر ہونے والا چیک دفعہ 489-F کا جرم نہیں بنتا۔قانون کے مطابق اس جرم کے لیے تین لازمی عناصر کا بیک وقت موجود ہونا ...
18/05/2026

ہر ڈِس آنر ہونے والا چیک دفعہ 489-F کا جرم نہیں بنتا۔
قانون کے مطابق اس جرم کے لیے تین لازمی عناصر کا بیک وقت موجود ہونا ضروری ہے:
بددیانتانہ ارادہ، موجودہ قابلِ نفاذ قانونی ذمہ داری، اور بینک کی جانب سے چیک کا واپس ہونا۔
جہاں چیک بطورِ سکیورٹی دیا گیا ہو یا ذمہ داری متنازع ہو، وہاں فوجداری کارروائی قابلِ اطلاق نہیں ہوتی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان

2013 SCMR 51 (Allah Dita Versus The State )

17/05/2026

ہم وہ لوگ ہیں جو لفظوں سے انقلاب لکھتے ہیں.

یہ لاہور ہائی کورٹ کا ایک اہم فیصلہ ہے جس میں عدالت نے قرار دیا کہ اگر سسر نکاح نامہ میں بطور وکیلِ دلہا دستخط کرے تو وہ...
16/05/2026

یہ لاہور ہائی کورٹ کا ایک اہم فیصلہ ہے جس میں عدالت نے قرار دیا کہ اگر سسر نکاح نامہ میں بطور وکیلِ دلہا دستخط کرے تو وہ حق مہر کی ادائیگی کی ذمہ داری سے مکمل طور پر بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔ عدالت کے مطابق نکاح نامہ میں وکیل بننا محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ اس کے قانونی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ لہٰذا بیوی ایسے سسر کے خلاف حق مہر کی وصولی کا دعویٰ دائر کر سکتی ہے۔





لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے 15 مئی 2026 کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کے تبادلوں اور نئی تعیناتیوں کا نوٹیفکیشن جاری کر...
15/05/2026

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے 15 مئی 2026 کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کے تبادلوں اور نئی تعیناتیوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔
عوامی مفاد کے پیشِ نظر پنجاب کے مختلف اضلاع میں فوری تقرریاں و تبادلے عمل میں لائے گئے ہیں، جبکہ متعلقہ ججز کو مقررہ تاریخوں تک نئی تعیناتیوں پر چارج سنبھالنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

⚖️ سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ — بعد میں جائیداد خریدنے والا ہر شخص “Bona Fide Purchaser” نہیں ہوتا📚 Civil Appeal No. 168-L/...
13/05/2026

⚖️ سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ — بعد میں جائیداد خریدنے والا ہر شخص “Bona Fide Purchaser” نہیں ہوتا
📚 Civil Appeal No. 168-L/14 etc.
👨‍⚖️ Mian Mohammad Mehmood Ahmed (deceased) Vs Safdar Hussain
📅 فیصلہ: 04-05-2026
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر کسی جائیداد کے متعلق پہلے سے معاہدہ، دعویٰ یا قانونی تنازع موجود ہو تو بعد میں جائیداد خریدنے والے شخص پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ثابت کرے کہ اس نے مکمل نیک نیتی، احتیاط اور قانونی جانچ پڑتال کے بعد جائیداد خریدی۔
عدالت نے واضح کیا کہ صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ خریدار “Bona Fide Purchaser” ہے، بلکہ اسے مضبوط ثبوت اور حالات سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ:
✔️ اس نے جائیداد خریدنے سے پہلے مکمل تحقیق کی
✔️ فروخت کنندہ کے ٹائٹل اور ملکیت کی جانچ کی
✔️ کسی سابقہ معاہدے، مقدمے یا دعویٰ کا علم نہیں تھا
✔️ اس نے نیک نیتی اور احتیاط کے ساتھ خریداری کی
📌 عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر:
❌ خریداری جلد بازی میں ہوئی ہو
❌ جائیداد کی مکمل چھان بین نہ کی گئی ہو
❌ ایسے حالات موجود ہوں جن سے پہلے دعویٰ کا شک پیدا ہوتا ہو
تو بعد والا خریدار قانون کے تحت “Bona Fide Purchaser” کا تحفظ حاصل نہیں کر سکتا، اور پہلے والا معاہدہ اس کے خلاف بھی نافذ العمل رہے گا۔
⚖️ یہ فیصلہ خصوصاً:
🔹 جائیداد خریدنے والوں
🔹 اوورسیز پاکستانیوں
🔹 پراپرٹی ڈیلرز
🔹 سرمایہ کاروں
کے لیے نہایت اہم قانونی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
📚 قانونی بنیاد:
Section 27(b), Specific Relief Act, 1877
📌 قانونی اصول:
“صرف رجسٹری ہونا کافی نہیں، بلکہ نیک نیتی، احتیاط اور مکمل تحقیق بھی ضروری ہے۔”
⚖️

Agha Abid Majeed Khan (Petitioner)vs.Idrees Ahmed and another (Respondents)C.P.L.A. 3744/2023سپریم کورٹ آف پاکستانتاریخی...
12/05/2026

Agha Abid Majeed Khan (Petitioner)
vs.
Idrees Ahmed and another (Respondents)

C.P.L.A. 3744/2023
سپریم کورٹ آف پاکستان

تاریخی فیصلہ
CNIC بلاک کرنا بنیادی حقوق کے خلاف قرار

اہم نکات:

• شناختی کارڈ موجودہ دور میں ہر شہری کی بنیادی ضرورت ہے، کوئی تعیش نہیں۔
• صرف رقم کی ریکوری کے لیے CNIC بلاک نہیں کیا جا سکتا۔
• عدالتوں کے اختیارات بھی آئین اور بنیادی انسانی حقوق کے تابع ہیں۔
• سیکشن 51 CPC عدالت کو لامحدود اختیارات نہیں دیتا۔
• سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ CNIC بلاک کرنا شہری کی روزمرہ زندگی مفلوج کرنے کے مترادف ہے۔
• KPK کے علاوہ دیگر صوبوں میں ایسا کوئی واضح قانونی اختیار موجود نہیں۔
• سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کے احکامات کالعدم قرار دے دیے۔




2026 YLR 201 Lahore High Court2026 YLR 201 لاہور ہائیکورٹ میں عدالت نے قرار دیا کہ واقعہ اور FIR کے اندراج کے درمیان غیر...
11/05/2026

2026 YLR 201 Lahore High Court

2026 YLR 201 لاہور ہائیکورٹ میں عدالت نے قرار دیا کہ واقعہ اور FIR کے اندراج کے درمیان غیر معمولی تاخیر مقدمے کی صداقت پر سوال اٹھاتی ہے اور بدنیتی کے امکان کو ظاہر کرتی ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ اگر معاملہ کاروباری لین دین سے متعلق ہو تو دفعہ 406 PPC کا اطلاق خودکار طور پر نہیں ہوتا، بلکہ “امانت” اور “بدنیتی سے خرد برد” کے بنیادی عناصر کا ثابت ہونا ضروری ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ ضمانت قبل از گرفتاری کے مرحلے پر کیس کے ابتدائی میرٹ کا جائزہ لیا جا سکتا ہے تاکہ معصوم شہریوں کو جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی مقدمات سے تحفظ دیا جا سکے۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ایسے حالات میں مقدمہ مزید انکوائری کا متقاضی ہے اور گرفتاری سے ملزم کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے، لہٰذا ملزم کی عبوری ضمانت قبل از گرفتاری کی توثیق کر دی گئی۔








11/05/2026

Post Arrest Bail Granted.
489-F Pakistan Penal Code.







“لاہور ہائی کورٹ کے حالیہ تاریخی فیصلے کے مطابق اوورسیز پاکستانی ایکٹ کا دائرہ کار صرف جائیداد پر قبضہ کے معاملات تک محد...
10/05/2026

“لاہور ہائی کورٹ کے حالیہ تاریخی فیصلے کے مطابق اوورسیز پاکستانی ایکٹ کا دائرہ کار صرف جائیداد پر قبضہ کے معاملات تک محدود نہیں، بلکہ اوورسیز پاکستانیوں کے ہر جائز اور قانونی حق کے تحفظ کے لیے مقدمات اوورسیز پاکستانی اسپیشل کورٹ میں قابلِ سماعت ہوں گے۔”

Address

Office 31, 3rd Floor Sadiq Plaza Mall Road
Lahore
51420

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adv Usama Akbar Gill posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Adv Usama Akbar Gill:

Share