22/04/2026
سائپرس میں 2025 کے دوران غیر ملکی شہریوں کی ملک بدری (deportations) میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے ملک کی امیگریشن پالیسی میں واضح اور سخت تبدیلی ظاہر ہوتی ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق Cyprus نے اس سال 12,029 غیر ملکی افراد کو ملک سے واپس بھیجا، جو اب تک کی سب سے زیادہ ریکارڈ شدہ تعداد ہے۔ یہ معلومات نائب وزیر برائے امیگریشن و پناہ نیکولاس آئوانیڈس نے فراہم کیں۔
ان میں سے 11,610 افراد غیر یورپی یونین ممالک سے تعلق رکھتے تھے، جنہیں رضاکارانہ واپسی (assisted voluntary return) یا جبری واپسی (enforced return) کے طریقہ کار کے ذریعے واپس بھیجا گیا۔ مزید 419 ایسے افراد جنہیں بین الاقوامی تحفظ حاصل تھا، انہیں یورپی یونین کے دیگر رکن ممالک میں منتقل کیا گیا۔ واپس بھیجے جانے والوں میں بڑی تعداد شام، بھارت، نائیجیریا، پاکستان، نیپال اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے افراد کی تھی۔
اسی عرصے میں Cyprus میں پناہ (asylum) کی درخواستوں میں واضح کمی واقع ہوئی۔ 2025 میں صرف 4,600 نئی درخواستیں جمع ہوئیں، جبکہ 2023 میں یہ تعداد 10,000 سے زائد تھی۔ تاہم، منظوری کی شرح انتہائی محدود رہی۔ صرف 470 افراد کو refugee کا درجہ دیا گیا، 207 کو subsidiary protection ملی، جبکہ تقریباً 93 فیصد درخواستیں مسترد کر دی گئیں، جو یورپ میں سب سے زیادہ مستردگی کی شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔
اس تبدیلی کی بنیادی وجوہات میں پناہ کے فیصلوں کے عمل کو تیز کرنا، سرحدی کنٹرول کو مضبوط بنانا، اور رضاکارانہ واپسی کے پروگراموں کو وسعت دینا شامل ہیں۔ اسی دوران زیر التوا (backlog) کیسز میں بھی نمایاں کمی آئی ہے، جو 2024 میں تقریباً 24,000 تھے اور اب کم ہو کر 16,000 سے بھی کم رہ گئے ہیں۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ Cyprus کی امیگریشن حکمت عملی اب زیادہ سخت اور روک تھام (deterrence-oriented) پر مبنی ہو چکی ہے۔ اس کا مقصد غیر قانونی مائیگریشن کو کم کرنا اور کنٹرولڈ نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ محفوظ، قانونی اور ہنر پر مبنی (skills-based) مائگریشن کے راستوں کو اپنانا زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے، تاکہ غیر قانونی راستوں کے خطرات سے بچا جا سکے اور بہتر اور باعزت روزگار کے مواقع حاصل کیے جا سکیں۔