30/08/2026
یہاں کچھ ایسی کہانیاں بھی دفن ہیں اُن قیدیوں کی، جو بظاہر مجرم تھے، مگر اُن کے مقصد کا دائرہ اُن کے جرم سے کہیں وسیع تھا۔ زمانے نے اُن کے ارادوں کو سمجھنے کی کوشش نہ کی، اُن کے جنون کو جرم کا نام دے دیا، اور اُن کی قربانی کی قدر نہ کی۔ اُن کے حصے میں اعتراف نہیں، بلکہ زنجیریں آئیں؛ داد نہیں، بلکہ پھانسی کا پھندا آیا۔ مگر تاریخ کا ایک عجیب اصول ہے—ہر وہ شخص جو اپنے عہد کے فیصلے میں مجرم ٹھہرتا ہے، ضروری نہیں کہ آنے والے زمانوں کی نظر میں بھی مجرم رہے۔ کچھ لوگ اپنے نظریے کی قیمت اپنی آزادی سے ادا کرتے ہیں، کچھ اپنی زندگی سے، اور کچھ اپنی آخری سانس تک اپنے یقین کا دامن نہیں چھوڑتے۔ اُن کا جنون اُنہیں موت کی دہلیز تک لے گیا، مگر شاید اُن کے لیے موت اختتام نہیں تھی؛ وہ اپنے مقصد کے سامنے جھکنے کے بجائے موت کے سامنے کھڑے ہوئے۔ زمانہ اُن کے جسموں کو سزا دے سکا، اُن کے جذبے کو نہیں؛ پھانسی اُن کی سانس روک سکی، مگر اُن کے سوال کو نہیں۔