25/04/2024
*سنن إبن ماجة # ٣٦٦٤*
*Sunnan e Ibn e Maja # 3664*
عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ:*بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ فَقَالَ ، يَا رَسُولَ اللهِ أَبَقِيَ مِنْ بِرِّ أَبَوَيَّ شَيْءٌ أَبَرُّهُمَا بِهِ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِمَا؟ قَالَ: «نَعَمْ الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا ، وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا ، وَإِيفَاءٌ بِعُهُودِهِمَا مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِمَا ، وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا ، وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوصَلُ إِلَّا بِهِمَا».*
Narrated Abu Usaid Malikؓ bin Rabi'ah: *While we were with the Prophet(ﷺ), a man from the Banu Salamah came to him and said, "O Messenger of Allah (ﷺ), is there any way of honoring my parents that I can still do for them after they die?" He (ﷺ) said, "Yes; offering the funeral prayer for them, praying for forgiveness for them, fulfilling their promises after their death, honoring their freinds, and upholding the ties of kinship which you would not have were it nor for them."*
حضرت ابواسید مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: *ہم لوگ نبی صلى الله عليه وآله وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ قبیلۂ بنو سلمہ کا ایک آدمی آیا اور عرض کیا، "اے اللہ کے رسول (ﷺ)! کیا میرے لئے والدین سے حسنِ سلوک کی کوئی صورت باقی ہے جس کے ذریعے سے ان کی وفات کے بعد میں ان سے نیکی کر سکوں؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا، "ہاں؛ ان کا جنازہ پڑھنا، ان کی بخشش کی دعائیں کرنا، ان کی وفات کے بعد ان کے وعدے پورے کرنا (جو وہ زندگی میں پورے نہ کر سکے ہوں)، ان کے دوستوں کا احترام کرنا، اور ان رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنا جن سے تعلق صرف ان کے واسطے سے ہے۔"*
_*( اللہ سبحانہ وتعالٰی ہمیں آپ ﷺ کی بتائی ہوئی ان سب باتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین)*_