Advocate Azeem Bajwa

Advocate Azeem Bajwa Advocate Azeem Bajwa is a leading tax lawyer in Lahore, Pakistan, specializing in FBR, PRA, income tax, sales tax, and tax litigation.

He regularly represents clients in court. Let us be your advocates—today and into the future.

18/02/2026

🧾 2025 PTD 231 – سپریم کورٹ کا فیصلہ احمد سکندر بنام کمشنر ان لینڈ ریونیو، لاہوریہ کیس سپریم کورٹ آف پاکستان میں آیا جہاں مسئلہ یہ تھا کہ FBR نے احمد سکندر پر الزام لگایا کہ اس نے برطانیہ (UK) میں موجود اپنے بینک اکاؤنٹس Wealth Statement میں ظاہر نہیں کیے، اس لیے اس پر Income Tax Ordinance کے سیکشن 111(1)(b) اور 122(9) کے تحت ٹیکس لگایا گیا۔ احمد سکندر نے کہا کہ یہ اکاؤنٹس دراصل لندن سے لیے گئے قرض (Loan) سے بنے تھے اور ان کے تمام ثبوت (بینک اسٹیٹمنٹ، لون پیپرز وغیرہ) پہلے ہی FBR کے e-Portal پر اپ لوڈ تھے، مگر Covid-19 کی وجہ سے وہ ہارڈ کاپیاں وقت پر فراہم نہ کر سکا۔ابتدا میں ٹیکس افسر اور کمشنر نے اس کی بات نہیں مانی، لیکن ATIR نے اس کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ بعد میں لاہور ہائی کورٹ نے یہ کہہ کر ATIR کا فیصلہ ختم کر دیا کہ یہ کاغذات نئے ثبوت (fresh evidence) ہیں جو پہلے پیش نہیں ہوئے تھے، اس لیے ان پر فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ سپریم کورٹ نے بھی پہلے مرحلے میں ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا، لیکن احمد سکندر نے Review Petition دائر کی۔ریویو میں سپریم کورٹ کے دو ججوں نے کہا کہ اگر یہ تمام دستاویزات پہلے ہی FBR کے e-Portal پر موجود تھیں تو انہیں “نیا ثبوت” کہنا غلط ہے اور ٹیکس پیئر کو پورا موقعِ سماعت دینا ضروری تھا۔ اس لیے عدالت نے اپنا پرانا فیصلہ واپس لے کر کیس دوبارہ سننے کا حکم دے دیا۔اہم

17/02/2026

2025 PTD 199 — D.G. Khan Cement Company Ltd. کیس(لاہور ہائی کورٹ)🔹 ایک تاریخی فیصلے میں عدالت نے واضح کر دیا کہ آڈٹ کے دو الگ قانونی راستے ہیں اور ان کو آپس میں ملانا یا ایک کو دوسرے پر مسلط کرنا غیر قانونی ہے۔ایک طرف کمشنر کو انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 177 اور سیلز ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 25 کے تحت یہ اختیار ہے کہ وہ ہر ٹیکس دہندہ کے اپنے ریکارڈ، رسک اور شواہد دیکھ کر آزادانہ ذہن سے فیصلہ کرے کہ آڈٹ کرنا ہے یا نہیں؛ دوسری طرف FBR کو دفعہ 214-C (انکم ٹیکس) اور دفعہ 72-B (سیلز ٹیکس) کے تحت کمپیوٹر بیلٹ (random/parametric) کے ذریعے عمومی تعمیل کے لیے آڈٹ سلیکشن کا اختیار ہے۔ عدالت نے کہا کہ FBR یہ نہیں کر سکتا کہ وہ کمشنرز کو پورے سیکٹر (جیسے سیمنٹ، شوگر، آئل وغیرہ) کے لیے آڈٹ، شوکاز اور اسیسمنٹ کی ٹائم لائنز دے کر مجبور کرے؛ ایسا کرنا کمشنر کے آزادانہ اور نیم عدالتی اختیار پر قبضہ ہے۔ اس لیے FBR کی sector-wise directives کی بنیاد پر شروع کیے گئے تمام انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس آڈٹس کالعدم قرار پائے۔ تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کمشنر اگر خود اپنے ریکارڈ اور وجوہات کی بنیاد پر کسی فرداً فرداً کیس میں آڈٹ کرنا چاہے تو وہ قانون کے مطابق دوبارہ کر سکتا ہے۔

14/02/2026

2025 PTD 255 – Pak Gulf Construction کیس میں Punjab Revenue Authority نے اسلام آباد میں واقع کمپنی Pak Gulf Construction (جو Centaurus Mall، فلیٹس اور ہوٹل چلا رہی تھی) کو زبردستی Punjab Sales Tax on Services Act, 2012 کے تحت رجسٹر کر دیا، حالانکہ کمپنی اپنی تمام سروسز پر پہلے ہی اسلام آباد میں ٹیکس ادا کر رہی تھی؛ Lahore High Court (راولپنڈی بینچ) نے قرار دیا کہ PRA کی jurisdiction صرف اُن سروسز تک محدود ہے جو پنجاب میں فراہم یا استعمال ہوں، اس لیے محض اسلام آباد میں کاروبار کرنے والی کمپنی پر PRA کا اختیار نہیں بنتا، مگر چونکہ قانون کے سیکشن 29(2) کے تحت کمپنی پہلے ہی ڈی رجسٹریشن کی درخواست کمشنر PRA کو دے چکی تھی، عدالت نے کیس کو ختم کرنے کے بجائے اُسے بطور Representation کمشنر کو بھیج دیا اور حکم دیا کہ چار ہفتوں میں مکمل سماعت کے بعد تحریری (speaking) فیصلہ کیا جائے اور تب تک PRA کوئی ریکوری، جرمانہ یا زبردستی کارروائی نہیں کر سکے گی۔

13/02/2026

2025 PTD 274 — Muhammad Zubair کیس (لاہور ہائی کورٹ) میں عدالت نے واضح کر دیا کہ Appellate Tribunal Inland Revenue (ATIR) جب کسی ٹیکس اپیل پر ریکوری روکنے (stay) کا حکم دے تو وہ اپیل کنندہ کو زبردستی 5٪، 10٪، 25٪ یا کوئی بڑی رقم جمع کرانے کی شرط نہیں لگا سکتا، کیونکہ سیکشن 131(5) Income Tax Ordinance میں ATIR کے لیے ایسی کوئی شرط موجود نہیں (یہ اختیار صرف ہائی کورٹ کو سیکشن 133(10) کے تحت حاصل ہے)، اس لیے ATIR کی طرف سے میکانکی اور من مانی ڈپازٹ شرائط غیر قانونی قرار دی گئیں؛ عدالت نے کہا کہ چونکہ ATIR ٹیکس تنازع کا پہلا آزاد فورم ہے، لہٰذا اپیل کے فیصلے تک عام طور پر ریکوری روکی جانی چاہیے (سوائے خود تسلیم شدہ یا پہلے سے حتمی طور پر طے شدہ ٹیکس کے)، چنانچہ تمام عائد کردہ شرائط ختم کر دی گئیں اور ATIR کو ہدایت دی گئی کہ اپیلیں 30 دن میں نمٹائے—یہ فیصلہ پاکستان بھر کے ٹیکس اپیل کنندگان کے لیے ایک مضبوط قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

26/10/2025
21/10/2025

آپ فپر سے کسی بھی قسم کی انفورمیشن اب نہیں چھپا سکتے، اگر آپ اس کو چھپائیں گے تو آپ کی اوپر بھاری جرمانہ آئید ہو سکتا ہے۔

19/10/2025

ذراف:ٹیکس ریٹرن فائل کرتے وقت تمام آمدنی اور اثاثے درست ظاہر کریں، اخراجات کے ثبوت لازمی رکھیں، ریٹرن وقت پر جمع کروائیں اور بینک اسٹیٹمنٹ سے ڈیٹا میچ کریں۔ غلط معلومات، غیر ظاہر شدہ آمدنی یا جعلی اخراجات قانونی جرمانے اور آڈٹ کا باعث بن سکتے ہیں۔ احتیاطاً ماہر ٹیکس ایڈوائزر سے مشورہ لیں۔

18/10/2025

بارڈر پر بھی عوام کا بچہ
اور سڑک پر بھی عوام کا بچہ گولی کھائے

16/10/2025

Non filer under tax burden

08/10/2025

بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ٹیکس ریٹرن فائل کرنا نہ صرف قانونی وضاحت فراہم کرتا ہے بلکہ متعدد مالی اور عملی فوائد بھی دیتا ہے۔ ریٹرن جمع کروانے سے وہ اپنی حیثیت “نان ریذیڈنٹ ٹیکس پیئر” کے طور پر واضح کر سکتے ہیں، جس سے غیر ضروری ٹیکس اور FBR کے نوٹسز سے بچاؤ ہوتا ہے۔ فائلر بننے پر ان کا نام ایکٹیو ٹیکس پیئر لسٹ (ATL) میں شامل ہو جاتا ہے، جس سے بینک ٹرانزیکشنز، جائیداد یا گاڑی کی خریداری، انعامی بانڈز اور یوٹیلٹی بلز پر کم ٹیکس لگتا ہے۔ اس کے علاوہ فائلر ہونے سے بینکنگ، سرمایہ کاری اور پاکستان میں کاروباری لین دین میں آسانی ملتی ہے، آمدنی اور اثاثہ جات کا ریکارڈ بننے سے قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے، اور ویزا یا امیگریشن کے عمل میں مالی شفافیت ثابت ہوتی ہے۔ مستقبل میں اگر وہ پاکستان واپس آ کر سرمایہ کاری یا جائیداد خریدنا چاہیں تو فائلر ہونا ان کے لیے رعایتوں اور قانونی سہولتوں کا باعث بنتا ہے

Address

7-A Turner Road Near Federal Law Book House, Al-qadoose Center 3rd Floor, Lahore High Court
Lahore
54000

Telephone

+923075152617

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Azeem Bajwa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Advocate Azeem Bajwa:

Share