بزدار لاء چیمبر

Directions Website

بزدار  لاء چیمبر Legal Services

Maherban     VSThe State etcCriminal Appeal against Conviction_PPC*Fixed for 24-09-2026*Bench Mr Justice Muhammad Tariq ...
19/09/2026

Maherban
VS
The State etc

Criminal Appeal against Conviction_PPC

*Fixed for 24-09-2026*

Bench
Mr Justice Muhammad Tariq Nadeem
Mr Justice Ghulam Sarwar Nihung

*Multan High Court Multan*

*Shafiq Akhtar buzdar Advocate High Court*
Buzdar law Chambers 4-Mozang Road Lahore
0333-3015742
03035949009

1.Muhammad Sufyan 2.Mussarat Nawaz    VSThe State etcCriminal Appeal against Conviction_PPC*Fixed for 22-09-2026*Bench M...
19/09/2026

1.Muhammad Sufyan
2.Mussarat Nawaz
VS
The State etc

Criminal Appeal against Conviction_PPC

*Fixed for 22-09-2026*

Bench
Mr Justice Muhammad Tariq Nadeem

*Multan High Court Multan*

*Shafiq Akhtar buzdar Advocate High Court*
Buzdar law Chambers 4-Mozang Road Lahore
0333-3015742
03035949009

ایک کروڑ 25 لاکھ کا چیک ڈس آنر ہوا- تھانہ عطا شہید سر گودھا مقدمہ درج ہوا۔لاہور ہائی کورٹ نے ضمانت منظور کرتے ہوئے قرار ...
19/09/2026

ایک کروڑ 25 لاکھ کا چیک ڈس آنر ہوا- تھانہ عطا شہید سر گودھا مقدمہ درج ہوا۔
لاہور ہائی کورٹ نے ضمانت منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ FIR
دیر سے درج کروانے کی کوئی وجہ بیان نہی کی گئی۔
اس دوران داد رسی کیلئے کسی عدالت سے رجوع نہ کیا گیا۔ Dishonest intention
کا ٹرائل کورٹ تعین کرے گی۔
جرم کی سزا تین سال ہے
تمام شہادت دستاویزات پر مبنی ہے
جوکہ پہلے ہی پراسیکیوشن کے پاس ہے۔
Buzdar law Chambers 4-Mozang Road Lahore 0333-3015742
0344-8520756

⚖️ لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ — قتل کے مقدمہ میں سزائے موت ختم، ملزم بریلاہور ہائیکورٹ نے اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ...
19/09/2026

⚖️ لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ — قتل کے مقدمہ میں سزائے موت ختم، ملزم بری

لاہور ہائیکورٹ نے اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے سزائے موت پانے والے ملزم محمد فرحان کو بری کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف مقدمہ شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا، جبکہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی سزا قابلِ برقرار نہیں۔ واقعہ 24 ستمبر 2022 کو فیصل آباد کی ایک فیکٹری میں پیش آیا، جہاں استغاثہ کے مطابق امجد علی کو لوہے کی راڈ کے وار کرکے قتل کیا گیا۔ ٹرائل کورٹ نے 30 مارچ 2023 کو ملزم کو دفعہ 302(b) تعزیراتِ پاکستان کے تحت سزائے موت سنائی تھی۔

عدالت نے سب سے اہم نکتہ ایف آئی آر اور پوسٹ مارٹم میں غیر معمولی تاخیر کو قرار دیا۔ ریکارڈ کے مطابق لاش صبح 11 بجے مردہ خانے پہنچ گئی تھی، لیکن پوسٹ مارٹم کے لیے پولیس کے مکمل کاغذات شام 7 بجے فراہم کیے گئے اور پوسٹ مارٹم تقریباً 7:15 بجے ہوا۔ استغاثہ اس تاخیر کی کوئی قابلِ قبول وضاحت پیش نہ کر سکا۔ مزید اہم بات یہ تھی کہ مدعی نے عدالت میں بیان دیا کہ ایف آئی آر درج کرانے کی درخواست دو مرتبہ منظور نہیں کی گئی اور ایف آئی آر تقریباً شام 5 بجے درج ہوئی، حالانکہ پولیس ریکارڈ میں اسے صبح 8:45 بجے درج شدہ ظاہر کیا گیا تھا۔ عدالت نے اس تضاد کو ایف آئی آر کے ante-timing کے امکان کے حوالے سے نہایت اہم سمجھا۔

عدالت نے عینی شہادت پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ مدعی مقتول کا بیٹا جبکہ دوسرا گواہ مقتول کا حقیقی بھائی تھا، لیکن دونوں کا وقوعہ کی جگہ موجود ہونا طبعی اور معمول کے حالات میں ثابت نہیں ہو سکا۔ دونوں گواہ نہ فیکٹری میں کام کرتے تھے، نہ ان کا وہاں کاروبار یا رہائش تھی۔ مدعی کے مطابق وہ صبح 7:15 بجے فیکٹری پہنچا، جبکہ اس کا والد صبح 6 بجے کام کے لیے گھر سے نکلا تھا، اور مدعی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اسے اور اس کے چچا کو فیکٹری میں کوئی کام نہیں تھا۔ عدالت نے اس بنا پر دونوں کو chance witnesses قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے گواہ کی موجودگی کے لیے قابلِ قبول، معقول اور قابلِ اعتماد وجہ ضروری ہوتی ہے، جو اس مقدمہ میں ثابت نہیں کی گئی۔

عدالت نے گواہوں کے غیر فطری طرزِ عمل کو بھی استغاثہ کے خلاف اہم قرینے کے طور پر دیکھا۔ مدعی اور اس کا چچا مبینہ طور پر موقع پر موجود تھے، لیکن انہوں نے مقتول کو بچانے، ملزم کو پکڑنے یا مؤثر مزاحمت کرنے کی کوشش نہیں کی۔ عدالت کے مطابق مبینہ طور پر ملزم کے پاس صرف لوہے کی راڈ تھی، جبکہ مقتول کے پاس 12 بور ریپیٹر موجود تھا، اس کے باوجود گواہوں کا خاموش تماشائی بنے رہنا ان کی موقع پر موجودگی کو مشکوک بناتا ہے۔

ایک اور اہم تضاد یہ تھا کہ مدعی نے عدالت میں بیان دیا کہ وہ ملزم محمد فرحان کو پہلے سے نہیں جانتا تھا اور اس کا ملزم کے ساتھ کوئی کاروباری، خاندانی یا دوسرا تعلق نہیں تھا۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ اگر مدعی ملزم کو جانتا ہی نہیں تھا تو پھر وقوعہ کے فوراً بعد اسے ملزم کے نام سے کیسے شناخت کیا گیا۔ اس سلسلے میں ریکارڈ پر کوئی قابلِ اعتماد وضاحت موجود نہیں تھی، جس سے استغاثہ کے مقدمہ کو مزید نقصان پہنچا۔

موت کے محرک (motive) کے بارے میں بھی استغاثہ اپنا دعویٰ ثابت نہ کر سکا۔ ایف آئی آر میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ مقتول نے ملزم سے رقم وصول کرنی تھی اور اسی معاملے پر ایک دن پہلے جھگڑا ہوا تھا، لیکن رقم کی مقدار، رقم دینے یا لینے کا ثبوت، مطالبے کی موجودگی یا مبینہ جھگڑے کے کسی گواہ کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ خود مدعی نے بھی اس جھگڑے سے لاعلمی ظاہر کی جبکہ دوسرے گواہ نے کہا کہ اسے محرک کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ چنانچہ عدالت نے قرار دیا کہ مبینہ motive بھی ثابت نہیں ہوا۔

طبی شہادت کے حوالے سے عدالت نے واضح کیا کہ میڈیکل ایویڈنس بنیادی طور پر معاون اور تصدیقی نوعیت کی ہوتی ہے۔ یہ زخم کی نوعیت، مقام، مدت اور استعمال ہونے والے ہتھیار کے بارے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن بذاتِ خود حملہ آور کی شناخت نہیں کرتی۔ لہٰذا جب عینی شہادت ہی قابلِ اعتماد نہ ہو تو محض میڈیکل شہادت ملزم کو جرم سے منسلک کرنے کے لیے کافی نہیں تھی۔

لوہے کی راڈ کی برآمدگی بھی استغاثہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی۔ تفتیشی افسر نے تسلیم کیا کہ ملزم سے کوئی ہتھیار برآمد نہیں ہوا۔ مزید یہ کہ Crime Scene Team کے گواہ نے ایک پائپ وغیرہ کے نمونے لینے کا ذکر کیا، لیکن لوہے کی راڈ کے بارے میں اس کی گواہی اور ریکوری میمو میں نمایاں تضاد موجود تھا۔ ریکوری میمو میں لوہے کی راڈ کا ذکر تھا، مگر متعلقہ فارنزک گواہ نے ایسی راڈ حاصل کرنے یا پولیس کے حوالے کرنے کی تصدیق نہیں کی۔ عدالت نے اس طرح راڈ کی برآمدگی، تحویل، محفوظ رکھنے اور PFSA تک محفوظ ترسیل کو مشکوک قرار دیا۔

۔DNA evidence بھی استغاثہ کے مقدمہ کو مضبوط نہ کر سکی۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ جس لوہے کے اسٹینڈ سے جزوی DNA پروفائل ملا، اس میں کم از کم تین افراد کا mixture تھا، جس میں مقتول اور ملزم دونوں شامل تھے۔ چونکہ دونوں ایک ہی فیکٹری میں کام کرتے تھے، اس لیے محض اس مشترکہ DNA کی موجودگی کو قتل میں استعمال ہونے والے ہتھیار سے ملزم کا تعلق ثابت کرنے والا ناقابلِ تردید ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا تھا۔ مزید برآں راڈ کی recovery اور safe custody ہی ثابت نہ ہو سکی۔

۔CCTV footage/USB کے بارے میں بھی عدالت نے اہم قانونی اصول بیان کیا۔ USB وقوعہ کے دن پولیس نے حاصل نہیں کی بلکہ مدعی نے تقریباً 13 دن بعد 7 اکتوبر 2022 کو پیش کی۔ نہ CCTV کیمرے کا وجود site plan میں دکھایا گیا، نہ فیکٹری کے کسی اہلکار کو یہ ثابت کرنے کے لیے پیش کیا گیا کہ وہاں CCTV نصب تھا، نہ اصل DVR قبضے میں لیا گیا، نہ USB تیار کرنے والے شخص کو عدالت میں پیش کیا گیا اور نہ USB کو PFSA سے forensic examination کے لیے بھجوایا گیا۔ عدالت نے اس بنا پر USB کو قابلِ اعتماد شہادت نہیں سمجھا۔ عدالت نے PLD 2019 Supreme Court 675 کے اصول کی روشنی میں قرار دیا کہ audio/video evidence کے لیے اس کی authenticity، عدمِ tampering، source، safe custody، preparation اور متعلقہ افراد کی شناخت جیسے تقاضے پورے ہونا ضروری ہیں۔

۔Ratio Decidendi

اس فیصلے کا Ratio Decidendi یہ ہے کہ قتل کے مقدمہ میں محض یہ کافی نہیں کہ وقوعہ، موت اور injuries ثابت ہوں؛ استغاثہ کو ملزم کی شناخت اور اس کے جرم میں ملوث ہونے کو قابلِ اعتماد، مربوط اور شک و شبہ سے بالاتر شہادت کے ذریعے ثابت کرنا ہوتا ہے۔ اگر ایف آئی آر کے اندراج یا پوسٹ مارٹم میں غیر معمولی اور غیر واضح تاخیر، گواہوں کی مشکوک موجودگی، ان کے طرزِ عمل میں غیر فطری پن، ملزم کی شناخت میں تضاد، motive کا عدمِ ثبوت، ہتھیار کی مشکوک recovery، DNA کی غیر فیصلہ کن نوعیت اور غیر ثابت شدہ CCTV جیسے عوامل مجموعی طور پر استغاثہ کی کہانی میں معقول شک پیدا کریں تو ملزم کو شک کا فائدہ دیا جائے گا۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ ایک معقول اور حقیقی شک بھی ملزم کے حق میں کافی ہوتا ہے؛ استغاثہ کو اپنے مقدمہ کی کمزوریوں کو دفاع کے ذریعے دور ہونے کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ چونکہ اس مقدمہ میں بنیادی عینی شہادت قابلِ اعتماد نہیں رہی اور دیگر شواہد بھی اسے مؤثر طور پر corroborate نہیں کر سکے، اس لیے conviction برقرار نہیں رکھی جا سکتی تھی۔

نتیجتاً لاہور ہائیکورٹ نے Criminal Appeal No.40490-J/2023 منظور کرتے ہوئے محمد فرحان کی conviction اور death sentence ختم کر دی، اسے قتل کے الزام سے بری کرنے کا حکم دیا اور Murder Reference No.111/2023 میں سزائے موت کی توثیق سے انکار کرتے ہوئے reference کو NEGATIVE میں answer کیا۔

اہم نظائر:
Sufyan Nawaz v. The State (2020 SCMR 192)، Ghulam Abbas v. The State (2021 SCMR 23)، Pervaiz Khan v. The State (2022 SCMR 393)، Abdul Ghafoor v. The State (2022 SCMR 1527)، Mst. Sughra Begum v. Qaiser Pervez (2015 SCMR 1142)، Pathan v. The State (2015 SCMR 315)، Zafar v. The State (2018 SCMR 326)، Ishtiaq Ahmed Mirza v. Federation of Pakistan (PLD 2019 SC 675)، Muhammad Bilal v. The State (2025 SCMR 1580)، Muhammad Asghar v. The State (2025 SCMR 1616)، Muhammad Ramzan v. The State (2025 SCMR 762)، اور Imran v. The State (2026 SCMR 47)۔

Shahid Farooq        Vs  State etcCriminal Revision Against Conviction-PPC Fixed for*24-09-2026**Mr Justice Amir Ajam Ma...
19/09/2026

Shahid Farooq
Vs
State etc

Criminal Revision Against Conviction-PPC

Fixed for
*24-09-2026*

*Mr Justice Amir Ajam Malik *
*Lahore High Court Lahore*
Advocate Shafiq Akhtar Buzdar
Buzdar law Chambers 4-Mozang Road Lahore
03333015742
03035949009

Muhammad Mazhar khan etcVs The State etcCriminal Revision against Interim Order *Fixed for 23-09-2026*Bench  Mr.justice ...
19/09/2026

Muhammad Mazhar khan etc
Vs
The State etc

Criminal Revision against Interim Order

*Fixed for 23-09-2026*

Bench
Mr.justice Khalid ibn-i Aziz

*Lahore High Court Lahore*

*Shafiq Akhtar buzdar Advocate High Court*
Buzdar law Chambers 4-Mozang Road Lahore
0333-3015742
03035949009

Muhammad Munir QadriVs Muhammad BashirCivil Revision against Decree-Specific Performance*Fixed for 21-09-2026*Bench Mr J...
19/09/2026

Muhammad Munir Qadri
Vs
Muhammad Bashir

Civil Revision against Decree-Specific Performance

*Fixed for 21-09-2026*

Bench
Mr Justice Faisal Zaman khan

*Lahore High Court Lahore*

*Shafiq Akhtar buzdar Advocate High Court*
Buzdar law Chambers 4-Mozang Road Lahore
0333-3015742
03035949009

Kamran       Vs  State etcPost_Arrest Baill-PPCFixed for*18-09-2026**Mr Justice Shehram Sarwar Ch.**Lahore High Court La...
13/09/2026

Kamran
Vs
State etc

Post_Arrest Baill-PPC

Fixed for
*18-09-2026*

*Mr Justice Shehram Sarwar Ch.*
*Lahore High Court Lahore*
Advocate Shafiq Akhtar Buzdar
Buzdar law Chambers 4-Mozang Road Lahore
03333015742
03035949009

Muhammad ShehbazVs State Criminal Jail Appeal against Conviction_PPC-Death*Fixed for 16-09-2026*Bench Justice Mr. Shehra...
13/09/2026

Muhammad Shehbaz
Vs State

Criminal Jail Appeal against Conviction_PPC-Death

*Fixed for 16-09-2026*

Bench
Justice Mr. Shehram Sarwar ch.
Justice Mr.Saradar Akber Ali

*Lahore High Court Lahore*

*Shafiq Akhtar buzdar Advocate High Court*
Buzdar law Chambers 4-Mozang Road Lahore
0333-3015742
03035949009

Anum Asghar& 3others Vs Federation of Pakistan Writ-Service Regularization *Fixed For 15-09-2026**Justice Ms.Shireen imr...
13/09/2026

Anum Asghar& 3others
Vs Federation of Pakistan

Writ-Service Regularization

*Fixed For 15-09-2026*

*Justice Ms.Shireen imran*
Lahore High Court Lahore

Shafiq Akhtar buzdar Advocate High Court
Buzdar law Chambers 4-Mozang Road Lahore
0333-3015742
03035949009

Address

4-Mazang Road Lahore
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 00:00 - 00:00
Tuesday 00:00 - 00:00
Wednesday 00:00 - 00:00
Thursday 00:00 - 00:00
Friday 00:00 - 00:00
Saturday 00:00 - 00:00
Sunday 22:00 - 18:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when بزدار لاء چیمبر posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category