Chief Justice Maulvi Mushtaq Hussain Shaheed

Chief Justice Maulvi Mushtaq Hussain Shaheed Maulvi Mushtaq Hussain was a Pakistani jurist who served as chief justice of the high court of Lahore.

He presided over the trial of Zulfiqar Ali Bhutto, during the proceedings in the Pakistani high court. Part-time Lecturer, Punjab University Law College, Lahore, 1950-57; Enrolled as Advocate Lahore High Court, 1952; President, District Bar Association, Lahore, 1954-55; Hony. Secretary, All Pakistan Bar Association, 1955-57, Fellow, Punjab University Senate, 1957-60; Part-time Reader, Punjab Unive

rsity Law College, Lahore, 1958-59; Member and Secretary, West Pakistan Bar Council, 1958-62; Assistant Advocate General, West Pakistan, 1959-60; Additional Advocate General, West Pakistan, 1960-62; Judge, West Pakistan High Court, 1962-63; Secretary, Ministry of Law and Parliamentary Affairs, Government of Pakistan, 1963-64; Judge, West Pakistan High Court, 1964-70; Member, Appointment Board, Punjab University, 1969-73; High Court representative on the Punjab Bar Council and Chairman of its Enrolment Committee, 1969-72; Judge, Lahore High Court, 1970-78; Member, Syndicate/Chancellor Committee, West Pakistan University of Engineering and Technology, 1970-78; Member, Appointment Board, West Pakistan University of Engineering and Technology, Lahore, 1973-78; Leader of the Pakistan Delegation to the Diplomatic Vonference on the Reaffirmation and Development of Humanitarian Law applicable in Armed Conflicts, Geneva, 1975; Participated in the Second International Round Table Conference on “Current Humanitarian Law Problems”, Italy, 1975; Leader of Pakistan Delegation to the Diplomatic Conference on the Reaffirmation and Development of International Humanitarian Law applicable in Armed Conflicts, Geneva, 1976; Chairman of the Third International Round Table on “Current International Law Problems”, Italy, 1976; Participated in the 7th International Congress of “Human Rights in the Military Law” and elected Member of the Institute of International Humanitarian Law, San Remo, Italy, 1976; Leader of the Pakistan Delegation to the Fourth and Final Session of the Diplomatic Conference on the Reaffirmation and Development of International Humanitarian Law applicable to Armed Conflicts and elected Chairman of its Drafting Group for revising and finalizing certain protocols, Geneva, 1977; Chairman, Fourth International Round Table on “Current International Law Problems”, San-Remo, Italy, 1977; Chairman, Iqbal Memorial Committee, 1977-81; Chief Election Commissioner, 1977-80; Acting Chief Justice, Lahore High Court, 1977-78; Chief Justice, Lahore High Court, 1978-80; Ad-Hoc Judge, Supreme Court of Pakistan, 1980-81; Delegate to the Round Table of Asian Experts on “Current Problems in the International Protection of Refugees and Displaced Persons” held under the auspices of the United Nations High Commission for Refugees, Manilla, 1980; Awarded “Plaque of Honour” for “Invaluable work and continuing contribution in the field of the Rights of Refugees and Displaced Persons and the Dignity of Man”, 1980; Delegate to the American Red Cross, 1981.

27/11/2025
جب سلطان محمد سوم نے روتے ہوئے اپنے 19 بھائیوں کے قتل کا حکم جاری کیا!سال 1595ء (ہجری 1003هـ) میں، جب سلطان محمد سوم نے ...
27/11/2025

جب سلطان محمد سوم نے روتے ہوئے اپنے 19 بھائیوں کے قتل کا حکم جاری کیا!
سال 1595ء (ہجری 1003هـ) میں، جب سلطان محمد سوم نے عثمانی سلطنت کا تخت سنبھالا، تو سلطنت کے اندرونی محاذ پر کشمکش اپنے عروج پر تھی۔ عثمانیوں کے ہاں تخت کی وارثت ہمیشہ تنازعہ کا شکار رہتی تھی، اور اس سلسلے میں ایک کٹھن مگر مؤثر حکمت عملی اپنائی جاتی تھی، جسے "استئصال" یا brother-killing system کہا جاتا تھا۔
واقعات کی تفصیل:
سلطان محمد سوم نے تخت سنبھالتے ہی حکم دیا کہ ان کے 19 بھائیوں کو (ق-ت-ل) کیا جائے۔ ان میں تین شیر خوار، پانچ چھوٹے بچے اور کچھ بڑے بھائی شامل تھے۔ یہ اقدام خونریز ضرور تھا، لیکن عثمانیوں کے نزدیک یہ سلطنت میں استحکام قائم رکھنے کے لیے ضروری تھا۔
یہ واقعہ محرم الحرام 1003هـ میں ہوا۔ اس خونریز حکم کے مطابق، بھائیوں کے تابوت استنبول میں سلطان مراد سوم کے تابوت کے ساتھ نکالے گئے، جس نے عوام کو خوف اور حیرت میں مبتلا کر دیا۔
استئصال کا پس منظر:
عثمانی سلطنت میں یہ طریقہ کار صدیوں سے رائج تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ کسی بھی ممکنہ دعویدار کی وجہ سے تخت پر خانہ جنگی یا انتشار نہ ہو۔ یہ نظام کچھ حد تک ظلم پر مبنی تھا مگر سلطنت کے استحکام کے لیے اپنایا جاتا تھا۔
اس سے قبل سلطان سلیمان قانونی اور سلطان سلیم اول نے بھی اسی طریقہ کار کو استعمال کیا۔ اس کے بعد بھی کئی سلاطین نے اپنے بھائی یا بیٹوں کو خطرہ سمجھ کر ختم کیا تاکہ سلطنت میں استحکام برقرار رہے۔

بیٹے کا خطرہ:
سلطان محمد سوم نے بعد میں اپنے بیٹے شہزادہ محمود کو بھی ممکنہ خطرہ سمجھ کر (ق-ت-ل) کرنے کا حکم دیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عثمانیوں کے لیے تخت کی حفاظت اور سلطنت کا استحکام سب سے اوپر تھا، چاہے اس کے لیے سب کچھ قربان کرنا پڑے۔
آلِ عثمان کی تاریخ میں قتلِ برادران کا قانون سب سے خونریز مگر تاریخی اہمیت کا حامل واقعہ ہے۔ یہ قانون اصل میں سلطان محمد فاتح (1451–1481) نے بنایا تھا تاکہ تخت کی بقا اور سلطنت کی داخلی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس قانون کے تحت اگر کوئی شہزادہ تخت کے لیے خطرہ بن جائے تو اسے ختم کرنا جائز سمجھا جاتا تھا۔
یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تاریخ صرف فاتحوں اور عظیم کارناموں کی کہانیاں نہیں بتاتی، بلکہ انسانی نفسیات، سیاسی حکمت عملی، اور طاقت کے استعمال کی حقیقت بھی دکھاتی ہے۔
نوٹ( یہ سب صرف اقتدار کو قائم رکھنے کے بہانے تھے اسلام نے ایسے سنگین جرائم پر سخت ترین سزا کا بتایا ہے جو ہر قا تل کو روز محشر ملے گی)

حسن خان نے جیل سے اپنی والدہ نورین خان کو خط لکھا 22/11/2025سلام میری اماںریاست کی طرف سے آپ پر کس طرح جسمانی حملہ کیا گ...
24/11/2025

حسن خان نے جیل سے اپنی والدہ نورین خان کو خط لکھا 22/11/2025

سلام میری اماں

ریاست کی طرف سے آپ پر کس طرح جسمانی حملہ کیا گیا یہ سن کر میرے دل میں ایک گہرا زخم آیا۔ وہ ایک نئی پستی کی طرف جا چکے ہیں۔ میں یقین نہیں کر سکتا کہ ہمارے ساتھ کیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ میں، آپ کا بیٹا، پہلے ہی ایک دھوکہ دہی کے ذریعے ریاست مخالف قرار دیا جا چکا ہے۔ اور اب میری ماں، وہ شخص جس سے میں اس دنیا میں سب سے زیادہ پیار کرتا ہوں، بالوں سے کھینچ کر نیچے گرا دیا گیا، سڑک پر گھسیٹا گیا، اور تقریباً بے ہوش ہو کر رہ گیا۔

واضح رہے کہ ریاست خواتین کے حقوق پر یقین نہیں رکھتی۔ ریاست اللہ کے قانون کو نہیں مانتی۔ ایسا لگتا ہے کہ ریاست ہمیں پاکستانی بھی نہیں سمجھتی۔

یہ دردناک ہے، امی. آپ ماشاءاللہ 71 سال کے ہیں اور آپ اس کے کسی بھی مستحق نہیں ہیں۔ لیکن وہ بہت کم جانتے ہیں کہ اس آزمائش نے صرف آپ کو مضبوط بنایا ہے۔ تمہارا ایمان تمہاری طاقت ہے۔ ماشاءاللہ آپ کا عزم غیر متزلزل اور پہلے سے بھی مضبوط ہے۔ میرے ساتھ یہاں کے تمام قیدی پریشان ہیں کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا۔

تم میرے ہیرو ہو۔ آپ نے ہمیں "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" پر عمل کرنا سکھایا۔ آپ نے ہمیں اسلام کے پہلے شہداء حضرت یاسر رضی اللہ عنہ اور حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا سے متاثر ہونا سکھایا۔

امی میں دعا کرتا ہوں کہ قیامت کے دن ہم نیک لوگوں میں کھڑے ہوں۔ اللہ آپ کو آپ کی بے مثال ہمت اور عزم کا اجر عطا فرمائے۔

ہمارا اللہ ہمارا دکھ دیکھتا ہے۔ امی، مضبوط رہیں۔ ہمت نہ ہاریں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں اللہ کی مرضی کے ساتھ مضبوط کھڑا رہوں گا۔ میں آپ کے ذریعے، اللہ پر آپ کے اٹل یقین کے ذریعے اپنی طاقت پاتا ہوں۔

اللہ آپ کو شفاء عطا فرمائے۔ آپ کی ہمت اور لگن ہمیشہ اسی طرح طاقت کے گلیاروں میں لرزتی رہے جیسے منگل کی رات ہوئی تھی۔

آپ میرے اور میری بہنوں کے لیے ایک بہت بڑا الہام ہیں۔ اماں اپنا خیال رکھیں۔ میں آپ کو ہر دن کے ہر سیکنڈ میں یاد کرتا ہوں۔

آپ کا بیٹا،

حسن خان نیازی کوٹلکھپت جیل


سعودی عرب میں اگلے تین سال تک جدہ ٹاور مکمل ہو کر برج خلیفہ پیچھے چھوڑ کر بلند ترین عمارت جو ایک کلو میٹر ہائٹ کیساتھ دن...
22/11/2025

سعودی عرب میں اگلے تین سال تک جدہ ٹاور مکمل ہو کر برج خلیفہ پیچھے چھوڑ کر بلند ترین عمارت جو ایک کلو میٹر ہائٹ کیساتھ دنیا کی پہلی عمارت ہو گی یہیں پر بس نہیں اسکے چند سال بعد سعودی عرب میں ہی " رائز ٹاور " بھی بن رہا ہے جس کی بلندی جدہ ٹاور سے دوگنی ہو گی پیارے آقا ﷺ نے یہ نقشہ چودہ سو سال پہلے ہی بتا دیا تھا که قیامت تب تک نہیں آئے گی جب تک کہ " تم عرب کے ننگے پاؤں ننگے بدن والے چرواہوں کو دیکھو گے کہ وہ اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں فخر اور مقابلے کریں گے "شائد نہیں بلکہ پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم زمانہ آخر میں داخل ہو چکے ہیں اللہ ہم سب کو فتنوں کے اس دور میں ایمان والی زندگی اور موت نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین

آئینی عدالت میں آج لائے گئے جسٹس کریم خان آغا (کے کے آغا) جسٹس کے کے آغا نے جنرل مشرف کے پی سی او پر حلف اٹھایا۔ پھر افت...
17/11/2025

آئینی عدالت میں آج لائے گئے جسٹس کریم خان آغا (کے کے آغا)

جسٹس کے کے آغا نے جنرل مشرف کے پی سی او پر حلف اٹھایا۔ پھر افتخار چودھری کی سپریم کورٹ کے فیصلے پر سنہ 2009 میں نکالے گئے۔

اُس کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت میں نیب کے پراسیکیوٹر جنرل بنائے گئے۔ زرداری کے قریب رہے اور اُن کے خلاف سپریم کورٹ کے سوئس حکام کو خط لکھنے کے فیصلے اور اس کے بعد تنازعے کے دوران خبروں میں رہے۔

اکتوبر 2015 میں سندھ ہائیکورٹ کے جج لگائے گئے۔ آٹھویں نمبر پر تھے مگر 26ویں ترمیم کے نتیجے میں سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے سربراہ بنا دیے گئے۔

ہائیکورٹ میں ریٹائرمنٹ کی عمر 62 برس ہے تو اگلے سال ستمبر میں رخصت ہو رہے تھے۔
اب آئینی عدالت کے جج بنا دیے گئے ہیں جہاں ریٹائرمنٹ کی عمر 68 برس ہے۔
اس طرح اُن کی نوکری مزید سات سال بڑھا دی گئی ہے۔

برطانوی شہری ہیں اور 27ویں آئینی ترمیم میں جب ججز اور بیوروکریٹس کی دہری شہریت پر پابندی لگانے کی تجویز آئی تو بلاول و زرداری کی پیپلز پارٹی نے مخالفت کی۔

استنبول میں مقیم سینیئر صحافی مبشر زیدی کے مطابق بیرون ملک پراپرٹی پہلے انکم ٹیکس میں ظاہر نہیں کی، پھر ویلیو صفر لکھی۔ آف شور کمپنی کے بھی مالک ہیں۔
سنہ 2005 سے 2014 تک کبھی انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کروائے۔
سبحان اللہ خوبیاں ہی خوبیاں اس سے بہتر جج اور کون ہوسکتا ہے ۔۔۔ زندہ باد پاکستان 😒

کاپی ۔

اس شخص کی ایک تصویر کسی زمانے سے وائرل تھی۔ اس کی نحیف و نزار جسامت کا سوشل میڈیا پر ایک عرصے تک مذاق اڑایا جاتا رہا۔ می...
26/10/2025

اس شخص کی ایک تصویر کسی زمانے سے وائرل تھی۔ اس کی نحیف و نزار جسامت کا سوشل میڈیا پر ایک عرصے تک مذاق اڑایا جاتا رہا۔ میں نے کئی ایسی پوسٹیں پڑھیں جن میں تمسخرانہ انداز سے حکومت سے مطالبہ کیا جاتا کہ انہیں رشوت کھانے کی سرکاری اجازت دی جائے ۔۔۔
یہ شخص اپنی قابلیت و صلاحیت کے بنیاد پر محکمانہ ترقی کرتا رہا اور محکمے میں SP جیسے بڑے سنئیر رینک تک پہنچا، لیکن اس سے بھی بڑا رتبہ آج شہادت کا پا گیا۔ ڈسٹرکٹ ہنگو میں ایک بم دھماکے میں شہید ہوگیا ہے ۔۔۔
اپنی لاغر جسامت کے ساتھ یہ شخص اس دنیا میں بہادری کی ایک زندگی جی گیا، اور بعد مرگ اپنا قد کتنا بلند کردیا ۔۔۔
آج بعد از شہادت معلوم ہوا کہ اس کا نام ایس پی اسد زبیر تھا ۔۔۔ !
یہ کمال آدمی تھا، اللہ ان کی روح کو غریق رحمت رہے
یہ شہید ابن شہید بھی ہے یعنی ان کے والد بھی شہید ہیں ۔۔۔
👇👇👇

سعودی عرب میں ایک 78 سالہ شخص کو تھکاوٹ کے باعث اچانک بے ہوش ہونے پر نجی ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ڈاکٹروں نے اسے 24 گھ...
23/10/2025

سعودی عرب میں ایک 78 سالہ شخص کو تھکاوٹ کے باعث اچانک بے ہوش ہونے پر نجی ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ڈاکٹروں نے اسے 24 گھنٹے تک آکسیجن پر رکھا- الحمدللہ، وہ جلد صحت یاب ہو گیا۔
جب ڈاکٹر 👨‍⚕️ نے اسے 2000 ریال کا بل دیا تو بوڑھا رونے لگا۔
ڈاکٹر نے آہستگی سے کہا آپ فکر نہ کریں یہ بل میں خود ادا کروں گا۔
بوڑھے نے کہا، میں اس لیے نہیں رو رہا کہ میں نے بل دیکھا ہے، میں اسے آسانی سے ادا کر سکتا ہوں۔
میں رو رہا ہوں کیونکہ آج مجھے احساس ہوا کہ میں 78 سال سے اللہ کی ہوا میں سانس لے رہا ہوں- اور کبھی ایک ریال ادا نہیں کیا۔
اگر 24 گھنٹے آکسیجن کی قیمت 2000 ریال ہے تو میں اپنی پوری زندگی کے لیے اللہ کا کتنا مقروض ہوں؟

ڈاکٹر کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے...😢

نوٹ : کہانی اور تصویر کی کیا حقیقت ہے؟ مجھے نہیں معلوم واللہ اعلم
مگر نعمت اور احسان الہی کو یاد کرنے کی ترغیب ضرور دیتی ہے ۔

23/10/2025
23/10/2025

🎉 Happy Bhaidooj! 🎉
Brothers & sisters, it’s time for laughter, mischief, and lots of love — Bollywood style! 💃🕺
May your bond shine brighter than the Diwali lights. ✨

گوجر خان کے پروفیسر رفیق اختر کو میں تب سے جانتا ہوں جب وہ جوگی کہلاتے تھے اورمیرے بال بچوں کے لیے بھی وہ جوگی انکل تھے ...
23/10/2025

گوجر خان کے پروفیسر رفیق اختر کو میں تب سے جانتا ہوں جب وہ جوگی کہلاتے تھے اورمیرے بال بچوں کے لیے بھی وہ جوگی انکل تھے ۔ ۔ ۔

پروفیسر صاحب کلین شیو، گولڈلیف سگریٹ کےکش لگاتے ہوئےایک ایسے عبادت گزار شخص تھے جنہوں نے مجھے قرآن اور خدا کے بارے میں وہاں تک قائل کیا جہاں تک میں ہو سکتا تھا۔ ۔ ۔ کسی بھی بڑے سے بڑے جید عالم دین نے میرے شکوک کو اُس طرح زائل نہیں کیا تھا جس طرح جوگی صاحب نے منطق اور استدلال سے۔ ۔ ۔ اور اُس رنگ زبان سے۔ ۔ ۔چاہے وہ انگریزی ہو یا پنجابی اور میری خواہش ہے کہ مجھے اُن جیسا ایکسپریشن نصیب ہو کہ ان کا پیرایہ اظہاربڑے سے بڑے ادیب کو حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ ۔ ۔ مجھے متاثر کیا ۔ ۔ ۔اور میں آسانی سے متاثر ہونے والوں میں سے نہیں ہوں ۔ ۔ ۔

مُستنصر حُسین تارڑ.

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chief Justice Maulvi Mushtaq Hussain Shaheed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share