Bhatti Law Associates

Bhatti Law Associates Bhatti Law Associates consult and persue in different fields of law such as criminal, civil, taxation, corporate/company and labour Laws.

Congratulations to Mam Sabahat Rizvi ASC, First ever Female Secretary, Lahore High Court Bar Association, Lahore.
25/02/2023

Congratulations to Mam Sabahat Rizvi ASC, First ever Female Secretary, Lahore High Court Bar Association, Lahore.

21/02/2023
11/01/2022

بند شیشوں کے ساتھ سڑک پر کھڑی ہوئی کار میں لوگوں کے مر جانے کی دو بڑی وجوہات ہیں
بند شیشوں کے ساتھ حتیٰ کہ اگر گرمیوں میں بھی ٹریفک سگنل پر رکنا پڑ جائے تو اپنی ہی گاڑی کے سائلنسر کی ایگزاسٹ اندر آنا شروع ہو جاتی ہے۔ اس کے علاؤہ دوسری انتہا یہ ہے کہ گاڑی کی سیلنگ اگر Perfect ہو تو بھی شیشے بند ہونے کی صورت میں تازہ ہوا نہ ملنے کی وجہ سے Oxygen deficient ہو کر لوگ مر جاتے ہیں
ہر دو صورتوں میں گاڑی اگر سڑک پر چلتی رہے تو ہوا کی Force induction کی وجہ سے Suffocation نہیں ہوتی

مری میں لوگوں کے مرنے میں دونوں وجوہات شامل ہیں۔ کھڑی ہوئی گاڑی میں اپنے ہی سائلنسر کی ایگزاسٹ گھس آنا اور دوسری وجہ بند شیشوں میں زیادہ لوگوں کے سانس لینے کی وجہ سے آکسیجن کم ہو جانا ۔

دونوں صورتوں میں گاڑی کے کیبن کے اندر کاربن مونو آکسائیڈ موت کی وجہ اس طرح بنتی ہے کہ نشانہ بننے والے چیمبر میں بیٹھے ہوئے افراد پر ایک دم سے شدید نیند کا غلبہ طاری ہوتا ہے اور چاہنے کے باوجود ہل نہیں پاتے اور مر جاتے ہیں

چند سال پہلے جب لوڈ شیڈنگ عروج پر تھی تو گرمی سے بچنے کے لیے کئی پوری پوری فیملیز رات میں شیشے چڑھانے کے بعد کار کا اے سی آن کر کے ایسے سوئیں کہ پھر دوبارہ جاگ نہیں سکیں۔

سردی ،گرمی یا برفباری ہر صورت میں کھڑی ہوئی کار کے شیشوں کو تھوڑا سا کھلے رکھنا ضروری ہے تاکہ آکسیجن کی کمی نہ ہو

03/04/2021

ایاز امیر
نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اِس حکومت کو سرکس کہنا سرکس کی توہین ہے۔ نالائقی کے کئی انداز ہوسکتے ہیں لیکن جوہم دیکھ رہے ہیں اُس کی نظیر نہیں ملتی۔ نہ اِن کو اپنی سمجھ ہے نہ ملک کی۔ جہاں تک معیشت کا حال ہے ایسٹ انڈیا کمپنی والے ہوتے تو وہ لٹیرے بھی معیشت کو بہتر چلا لیتے۔ ایک دن ہندوستان سے تجارت کا اعلان ہوتا ہے۔ دوسرے دن فیصلہ واپس لے لیا جاتا ہے۔ جگ ہنسائی کی اِنہیں کوئی پروا نہیں۔ ندامت کا کوئی ایک باعث ہو تو الگ بات ہے لیکن جہاں ہر بات پہ ندامت کا سامان بندھے وہاں شرم اور بے شرمی میں تمیز مٹ جاتی ہے
ہل کرم رویا کرتے تھے کہ اِس ملک میں ایک مسلسل قیادت کا بحران ہے۔ نیک نام لوگوں کا معمول بن چکا تھاکہ پچھلے چالیس سال کی حکومتوں کو کوسا کرتے اور اُن کی لوٹ مار کی کہانیوں کواجاگر کیا جاتا۔ اِس پس منظر میں تحریک انصاف اور اُس کے لیڈر کو ایک مسیحا اور نجات دہندہ کے طورپہ پیش کیا جارہا تھا۔ ہر جتن کیا گیا ان کو اقتدار میں لانے کیلئے۔ اقتدار میں تو یہ آ گئے لیکن گل ایسے کھلا رہے ہیں کہ قیادت کے بحران کی اصطلاح ایک نیا مفہوم حاصل کرچکی ہے۔ حکومت اِن کے بس کی بات نہیں، یہ تو عیاں ہوتا جا رہا ہے، لیکن سوال اٹھتا ہے کہ اِس بدنصیب ملک کے نصیب میں اورکیا کچھ لکھا ہے۔ یہ بس اِسی پانچ سالہ دور کیلئے ہیں۔ آگے والی بات اِن کی کوئی نہیں۔ لیکن باقی شہسواروں کو بھی ہم آزماچکے۔ بربادیاں پھیلا کے جب یہ جائیں گے تواور کونسا شہسوار میدان میں رہ جائے گا؟

06/01/2021

آؤ ایک اچھا کام کریں، ایک کمپین چلائیں۔
ملک میں اب موٹرویز کا جال ہے، ماشاللہ اور ہم میں سے ہر کوئی یہ سہولت بلکہ نعمت کہنا چاہیے استعمال کرتا ہے۔

ان موٹرویز پر آپکو برگر مل جائے گا، پیزا مل جائے گا، دہی مل جائے گا چپاتی مل جائے گی، مٹھائی کیک ٹافیاں مل جائیں گی، پھر آپکی گاڑی کیلیے فیول مل جائے گا، سروس سٹیشن، ٹائیر شاپ مل جائیں گے، یہاں تک کہ نہانے کیلیے لگژری شاور مل جائیں گے، لیکن انسان جس کے لیے یہ موٹروے بنی ہے کوئی بنیادی طبی امداد کا ہسپتال تو کیا کلینک تک نہیں ملے گا۔

موٹروے پر حادثات بہت شدید ہوتے ہیں، متاثرین کیلیے فوری طبی امداد زندگی موت کا مسئلہ ہوتی ہے، اسکے علاوہ کئی گھنٹوں کے سفر میں کسی کو کوئی بھی صحت کی ایمرجنسی ہو سکتی ہے لیکن موٹرویز کے اس سارے پلان میں اس بنیادی ترین ضرورت کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے، حادثات کی صورت میں انجان شہر یا قصبے میں بروقت قریبی ہسپتال تک پہنچنا تقریبا ناممکن ہے، اگر بالفرض پہنچ بھی جائیں تو قریبی دیہات اور قصبوں کے بنیادی صحت کے مراکز میں یا ڈاکٹر موقع پر نہیں ہوتا یا کوئی مشینی سہولت اور دوا نہیں ہوتی۔

موٹرویز پر بنیادی طبی امداد کے سینٹرز کی ایک چین ہونی چاہیے اس بیداری مہم کو کمپین کیصورت پھیلانے میں مجھے آپکی مدد چاہئے۔

یہ نیک مقصد حاصل ہونے تک اس کمپین کا حصہ بنیے!
اس موضوع کو ہر فورم پر اٹھائیں۔
اپنی صلاحیت اور اختیارات کو استعمال کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

This incident happened  in District Court, Bhupalpalli Telangana.The Hon'ble Judge, Shri Abdul Haseem,  got up from his ...
07/09/2020

This incident happened in District Court, Bhupalpalli Telangana.

The Hon'ble Judge, Shri Abdul Haseem, got up from his seat along with the relevant file and walked down the stairs from the first floor to meet an aged woman, who was a litigant.

The Judge was told by the Court Clerk that this woman was sitting on the entry of the court yard being tired due to old age and unable to climb up the stairs to attend the case relating to her Welfare Pension.

The judge sat on the floor-step near the complainant and heard her submissions. After hearing the case he resolved the issue which was pending for the last 2 years.
Respect!!!

بلا تبصرہ
17/08/2020

بلا تبصرہ

05/08/2020

اگر CSS کرنے والے اتنے قابل ہیں تو پاکستان کے ادارے تباہ حال کیوں ہے؟ اور TCS میں ایک بھی CSS آفیسر کام نہیں کرتا لیکن TCS پاکستان پوسٹ سے زیادہ منافع میں کیوں ہے؟
آپ ریلوے کا حال دیکھ لیں؟
آپ پولیس کا حال دیکھ لیں؟
‏آپ پاکستان کے تمام بڑے کاروباری اور منافع بخش ادارے دیکھ لیں وہاں کوئی CSS افسر نہیں ہے تمام کامیاب اور منافع بخش اداروں میں آپ کو پروفیشنل لوگ ملیں گے۔
اینگرو گروپ
عارف حبیب گروپ
ڈی جی خان سیمنٹ سمیت تمام کامیاب ادارے پروفیشنل لوگ چلا رہے ہیں ۔
‏دنیا میں پروفیشنل لوگوں انجینئرز، ڈاکٹرز اور سائنسدانوں اور اساتذہ کی عزت ہے۔ ایسے پروفیشنلز جو اپنے ممالک کو آسمان تک لیے گئے اور بدقسمتی میں ہمارے ملک میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے ۔ ایک پروفیشنل ڈاکٹر اور انجنیئر کے اوپر ڈپٹی کمشنر روب جماتا ہے۔
‏جس کی قابلیت صرف انگریزی کا امتحان پاس کرنا ہے ۔اگر انگریزی کو سی ایس ایس سے نکالا جائے تو پاس کرنے والے ہزاروں امیدوار ہونگے ۔

عرب ممالک میں سی ایس ایس جیسا امتحان نہیں ہوتا پر وہاں کے مضبوط اداروں کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے۔
‏جاپان اور تائیوان کے پاس کوئی قدرتی وسائل نہیں لیکن وہ ٹیکنالوجی میں دنیا سے آگے ہیں ۔
پاکستان کو ترقی کے لئے سرکاری افسر شاہی نہیں بلکہ ڈاکٹرز ۔سائنسدانوں اور انجینرنگ پروفیشنلز کی ضرورت ہے۔

31/05/2020

🌴گزارش اور گذارش میں فرق🌴

"گزارش" اور "گذارش" دو الگ الگ لفظ ہیں، دونوں کے معنی بھی مختلف ہیں۔

گزارش ز سے ہے۔۔۔۔۔۔درخواستوں اور خطوں میں بھی یہ لفظ آتا ہے، جیسے: آپ کی خدمت میں گزارش ہے۔ میری گزارش یہ ہے (وغیرہ)

گذارش ذ سے ہے۔۔۔۔۔کے معنی ہیں: چھوڑنا اب اس کی ایک مثال پیش ہے:

"عبادت گزار" کے معنی ہیں: عبادت کرنے والا۔ اِسے اگر "عبادت گذار" لکھا جائے، تو اِس کے معنی ہوں گے: عبادت چھوڑ دینے والا۔

"گزار" اور "گذار" دو مختلف لفظ ہیں۔ "گزار" میں ادا کرنے کا مفہوم شامل ہے اور "گذار" میں چھوڑنے کا مفہوم شامل ہے۔

حوالہ کتاب: "عبارت کیسے لکھیں"
از :"رشید حسن خاں"
ص : 44 تا 45

1909-لاہور سٹیشن کا ٹرین شیڈول اور لاہور کا نقشہ براے رہنمائی -
09/05/2020

1909-لاہور سٹیشن کا ٹرین شیڈول اور لاہور کا نقشہ براے رہنمائی -

02/05/2020

راولپنڈی 1975 کی نایاب ویڈیو-

Address

Awais Tower 2nd Floor 13-Fan Road Near Lahore High Court
Lahore
042

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 16:00

Telephone

+923006050015

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bhatti Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Bhatti Law Associates:

Share