Women Legal Work

Women Legal Work Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Women Legal Work, Legal Service, Lahore.

Women Legal Work is providing legal advice on family and civil matters, training and mentoring services to enhance the knowledge of communities, organizations, staff and individuals and specifically increasing awareness about pro women laws of Pakistan.

لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ: شوہر کے ظلم ثابت ہونے پر بیوی حق مہر سے محروم نہیں ہوگی، عدالت نے اہم قانونی اصول طے کر دیے...
29/07/2026

لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ: شوہر کے ظلم ثابت ہونے پر بیوی حق مہر سے محروم نہیں ہوگی، عدالت نے اہم قانونی اصول طے کر دیے۔۔

لاہور ہائیکورٹ نے خلع، فسخِ نکاح اور حق مہر سے متعلق ایک نہایت اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر بیوی یہ ثابت کر دے کہ شادی کے خاتمے کی وجہ شوہر کا ظلم، تشدد یا دیگر ازدواجی زیادتیاں ہیں تو وہ اپنے حق مہر سے محروم نہیں ہوگی۔
عدالت نے واضح کیا کہ حق مہر کا فیصلہ ہر مقدمے کے حقائق کی بنیاد پر الگ سے کیا جائے گا اور ہر خلع کے مقدمے میں حق مہر کی واپسی لازم نہیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے ارسلان کی درخواست ابتدائی سماعت پر ہی خارج کر دی۔ یہ درخواست ٹوبہ ٹیک سنگھ کی فیملی عدالت اور ڈسٹرکٹ جج کے فیصلوں کے خلاف دائر کی گئی تھی۔

درخواست گزار شوہر ارسلان نے مؤقف اختیار کیا کہ فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کی دفعہ 10 کی ذیلی دفعات (5) اور (6) کو وفاقی شرعی عدالت پہلے ہی اسلامی احکامات سے متصادم قرار دے چکی ہے، جبکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے۔ اس لیے بیوی کے حق میں حق مہر کا کوئی حصہ دینے کا حکم قانونی بنیاد نہیں رکھتا اور فیملی عدالت کا فیصلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کا نکاح 18 مارچ 2022 کو ہوا تھا اور ایک لاکھ روپے حق مہر درج کیا گیا تھا، جو ادا نہیں کیا گیا۔ بیوی نِشا شاہد نے فیملی عدالت میں دعویٰ دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ حق مہر کا مطالبہ کرنے پر شوہر نے مارپیٹ شروع کر دی، معمولی باتوں پر تشدد کرتا تھا، بے روزگار تھا، چوری اور منشیات کا عادی تھا، والدین سے رقم لانے کا مطالبہ کرتا تھا، گالم گلوچ کرتا تھا، گھر سے نکال دیا، نان و نفقہ ادا نہیں کیا اور کبھی صلح یا واپسی کی کوشش بھی نہیں کی۔
فیملی عدالت نے بیوی کا دعویٰ جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے اس کے دعوے کے مطابق مؤخر حق مہر کا پچاس فیصد دینے کا حکم دیا تھا جبکہ شوہر کی اپیل ڈسٹرکٹ جج نے ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی تھی

عدالت نے قرار دیا کہ خلع اور فسخ نکاح دو الگ قانونی تصورات ہیں۔ اگر بیوی صرف ناپسندیدگی کی بنیاد پر خلع چاہتی ہے تو حق مہر کی واپسی کا سوال پیدا ہو سکتا ہے، تاہم اگر شادی شوہر کے ظلم، تشدد، بدسلوکی، نان و نفقہ نہ دینے یا دیگر قانونی وجوہات کی بنیاد پر ختم ہو تو حق مہر برقرار رہے گا اور شوہر اس کی واپسی کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔عدالت نے واضح کیا کہ جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ ذہنی، نفسیاتی، زبانی اور معاشی تشدد بھی ظلم کے زمرے میں آتے ہیں۔ بیوی کے لیے ہر واقعے پر میڈیکل رپورٹ یا ایف آئی آر پیش کرنا ضروری نہیں، بلکہ اس کا قابل اعتماد بیان اور دیگر حالات بھی ثبوت کے طور پر کافی ہو سکتے ہیں۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ فیملی کورٹ پہلے یہ طے کرے گی کہ شادی ٹوٹنے کی اصل وجہ کیا تھی، اس کے بعد ہی حق مہر کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔ محض یہ لکھ دینے سے کہ نکاح "خلع" کے ذریعے ختم ہوا، حق مہر خودبخود ختم نہیں ہو جاتا۔ عدالت نے پنجاب حکومت اور لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کو سفارش کی کہ قانون میں نئی شق شامل کی جائے تاکہ فیملی عدالتیں شادی کے خاتمے کی وجہ کا واضح تعین کرنے کے بعد ہی حق مہر کے بارے میں فیصلہ کریں اور جہاں شوہر کا قصور ثابت ہو وہاں حق مہر متاثر نہ ہو۔ اس فیصلے کی نقل سیکریٹری قانون پنجاب اور لا اینڈ جسٹس کمیشن کو بھی ارسال کرنے کا حکم دیا گیا۔۔۔

28/07/2026
Conducted a workshop on Workplace Harassment and Exploitation with the officers and officials of   by the Punjab Women P...
28/07/2026

Conducted a workshop on Workplace Harassment and Exploitation with the officers and officials of
by the Punjab Women Protection Authority and

26/07/2026

خیبر پختونخوا کے علاقہ مانسہرہ کی رہائشی 17 سالہ صبغا (دختر امجد) کا بدین کے رہائشی طالب علم محمد رمضان جونیجو سے تقریباً ایک سال قبل فون پر رابطہ ہوا تھا، وقت کے ساتھ یہ رابطہ گہری دوستی اور محبت میں بدل گیا، جس کے بعد دونوں نے زندگی بھر کا ساتھ نبھانے کا فیصلہ کیا۔

نصیرآباد پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صبغا نے موقف اختیار کیا کہ اس کے گھر والے اس کی مرضی کے خلاف شادی ایک بڑی عمر کے شخص سے کرنا چاہتے تھے۔ اس سے بچنے کے لیے وہ صرف اپنے کپڑے لے کر گھر سے نکلی اور دو دن کا طویل سفر طے کر کے بدین پہنچی، جہاں دونوں نے مقامی عدالت میں قانونی طور پر نکاح کر لیا۔

پسند کی شادی کرنے کے بعد نو بیاہتا جوڑے نے پریس کانفرنس کے دوران اپنی جان کو خطرہ ظاہر کیا ہے، انہوں نے حکومتِ سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کی ہے کہ انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کے فیصلے کا احترام کیا جائے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے قانون کے تحت لڑکی کے لیے شادی کی کم از کم قانونی عمر 16 سال ہونی چاہیے، جس کی رو سے صبغا (17 سال) کی ہے، تاہم، صوبہ سندھ کے 'سندھ چائلڈ میرجز ریسٹرینٹ ایکٹ' کے تحت لڑکی اور لڑکے دونوں کے لیے شادی کی قانونی عمر 18 سال ہونا لازمی ہے۔

سندھ کی حدود میں 18 سال سے کم عمر کی شادی قانوناً جرم تصور ہوتی ہے،مقامی انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Women Legal Work posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Women Legal Work:

Shortcuts

Share

Category