B.A Sial & Co.

B.A Sial & Co. We serve expertly and promptly in major cities of the Pakistan. Lawyers at B.A Sial & Co. are recogn

A team of competent and experienced Lawyers, Chartered Accountants and Management consultants ably serves clients at various laws and Legal issues, Financial advisory, Assurance, Tax issues to ensure that you are able to obtain adequate and comprehensive specialist legal advice, services and respresentation under one roof. Team:
-Managing Partner: Bakhtiar Ali Sial-Advocate Supreme Court, Ex-Judge

ATC.
-Partner: Mansoor Ali Sial-Advocate High Court
--M. Taimoor Ali Sial-Advocate High Court
-Sardar Hafiz Muhammad Aasif Ali Sial, Advocate High court, Techno Legal consultant, (Environment)
Associates:
-Asim Saleem- Advocate High Court
-Nisar Ahmed Shah-Advocate High Court
-Tajammal Gillani-Advocate High Court
-Shamas Ul Hasan-Advocate High Court
-Raja Naveed, Manager Tax & Corporate Services
-Awais Butt, Manager Audit & Accounts

20/02/2026

پاکستان ،افغانستان تعلقات
"تاریخ، تلخ حقائق اور مستقبل کے تقاضے"
از بختیار علی سیال ایڈووکیٹ سپریم
افغانستان ایک قدیم تہذیبی مرکز، کثیرالقومی اور کثیرالسانی ریاست ہے۔جس کی جدید سیاسی شناخت بطور افغان ریاست1747ء میں احمد شاہ درانی کی سلطنت کے قیام سے ابھر کر سامنے آئی۔احمد شاہ درانی کی وفات کے بعد افغانستان داخلی خلفشار، انارکی، قبائلی لڑائیوں اور اقتدار کی کشمکش کا شکار رہا۔جس کے باعث مضبوط ریاستی ڈھانچے کی تشکیل کا عمل بارہا تعطل کا شکار ہوا ۔ اس پورے خطے کا تاریخی تناظر بھی قابل غور ہے کہ مختلف ادوار میں افغانستان کا بڑا حصہ برصغیر کے حکمرانوں کے زیر نگین رہا۔افغانستان میں پائے جانے والے بدھ مت کے آثار اور گندھارا تہذیب کے مقامات برصغیر کے حکمرانوں کی طویل سیاسی و ثقافتی بالادستی کا ثبوت ہیں۔
برصغیر خصوصاً پنجاب میں آباد بہت سے پنجابی خاندان اُن قدیم نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں جو یا تو افغان خطے سے بطور حملہ آور آئے یا تجارت، روزگار، سکونت اور تحفظ کی غرض سے یہاں مقیم ہوئے اور پھر اسی سرزمین کے باشندے کہلائے۔ اسی تاریخی آمد و رفت نے دونوں خطوں کو سماجی و خاندانی رشتوں میں جوڑے رکھا۔آج بھی پاک افغان سرحد کے دونوں اطراف لاکھوں لوگ ایک ہی نسل، زبان اور قبیلائی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں۔
تاریخ کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ماضی میں جب بھی افغانستان میں سیاسی تبدیلیاں آتیں اور حکمران گھرانے معزول ہوتے تو اکثر انہیں پناہ پنجاب اور ہندوستان کے دیگر علاقوں میں ملتی۔یہاں کی مقامی یاانگریز حکومت انھیں وظائف بھی دیتی،جیسا کہ بعض افغان بادشاہوں کی جلاوطنی کے دور میں ہوا۔اس کے علاوہ بعض افغان حکمرانوں کو بھی انگریزوں کی طرف سے وفاداری اور تابعداری کا صلہ نقد رقوم کی صورت میں ملتا رہا۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ماضی میں افغانستان اور دیگر شمال مغربی علاقوں کی خوشحالی اور ترقی کے ڈانڈے اس دولت سے ملتے ہیں جو بر صغیر سے لوٹ کر لے جائی گئی۔افغانستان کے باشندوں کی کثیر تعداد کی معاش کا سلسلہ پاکستان اور ماضی میں غیر منقسم برصغیر سے جڑا تھا اور یہ صورتحال آج بھی کسی نہ کسی صورت میں برقرار ہے۔اس کے برعکس برصغیر سے افغانستان جانے والوں کے تجربات اکثر تلخ اور غیر دوستانہ رہے۔جو افغان سیاسی و قبائلی نظام کی سخت نوعیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
بد قسمتی سے پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی افغانستان نے ایک ایسے طرز عمل کا آغاز کیا جسے برادران یوسف کا رویہ کہنا بے جا نہیں ہو گا۔(دونوں کا مسلم ممالک ہونے کی وجہ سے یہ فقرہ تحریر کیا گیا ہے ۔)افغانستان واحد ملک تھا جس نے پاکستان کے اقوام متحدہ میں داخلہ کی مخالفت کی اور مسلسل "پشتونستان " کے نام پر پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت جاری رکھی۔کابل نے سرد جنگ کے دور میں بھی اکثر پاکستان مخالف بلاکس کی حمایت کی جس کا نتیجہ خطے میں عدم اعتماد اور کشیدگی کی صورت میں نکلا۔اس تمام رویے کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کو برادر ہمسایہ سمجھا اور دوستی اور خیر سگالی کا ہاتھ بڑھایا۔1979ء میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد پاکستان نے جس پیمانے پر افغان عوام کی مدد کی وہ تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔اس جنگ کے دوران اور مابعد پاکستان نے چالیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو تقریبا نصف صدی تک پناہ دی۔انہیں تعلیم، صحت، روزگار، نقل و حرکت اور کاروبار کی وہ سہولتیں ملیں جو دنیا کے کسی اور ملک نے نہیں دیں۔
پاکستان نے افغان جہاد میں سیاسی، سفارتی، عسکری اور مالی محاذ پر کلیدی کردار ادا کیا۔ہزاروں پاکستانی باشندوں نے اس جنگ کو جہاد سمجھ کر اپنی جانیں قربان کیں۔جبکہ اس جنگ کے نتیجہ میں پاکستان نے نہ صرف کھربوں روپے کے معاشی نقصانات برداشت کیے اور ہزاروں جانوں کا ضیاع ہوا۔بلکہ دہشت گردی، اسلحے کی بھرمار، منشیات کے پھیلاؤ اور داخلی بدامنی جیسے سنگین نتائج بھی برداشت کیے۔ان تمام قربانیوں کا مقصد صرف یہ تھا کہ افغانستان آزاد، پرامن اور خود مختار رہ سکے۔بدقسمتی سے گزشتہ دو دہائیوں میں یہ بات کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان پر کیے گئے احسانات، مہربانیوں، خیر سگالی اور قربانیوں کے باوجود افغانستان کی طرف سے اس سطح پر خیر خواہی کا جواب نہیں ملا۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے گروہ افغان سرزمین استعمال کرتے ہیں۔پاکستان مخالف عناصر کو افغانستان میں پناہ گاہیں، تربیت اور لاجسٹک سہولتیں میسر ہیں۔پاکستان کے حساس علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی کی اکثر منصوبہ بندی افغان سرزمین پر ہوتی ہے۔موجودہ افغان حکومت بھی ایسے گروہوں کے خلاف عملی اقدامات کرنے سے گریزاں نظر آتی ہے۔ان حالات میں یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ افغانستان ان گروہوں کی سرپرستی اور پشت پناہی کر رہا ہے۔یہ رویہ نہ صرف پاکستان بلکہ خود افغانستان کے مستقبل کے لیے بھی خطرناک ہے کیونکہ دہشت گردی کی آگ کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتی۔
پاکستان اور افغانستان کی سرحد تقریبا 2600 کلومیٹر طویل ہے جو جغرافیائی محاذ آرائی نہیں بلکہ باہمی تعاون کی متقاضی ہے۔دونوں ممالک صدیوں سے مذہب، ثقافت، تجارت، زبان اور قبائلی رشتوں کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں۔دشمنی کی پالیسی نے نہ کبھی افغانستان کو فائدہ دیا اور نہ پاکستان کو، اس کے برعکس اگر دونوں ممالک اعتماد اور برابری کی بنیاد پر باہمی تعلقات مضبوط کریں تو پورا خطہ اس کے ثمرات سمیٹ سکتا ہے۔اس سلسلہ میں مستقبل میں افغانستان کے لیے پاکستان کے ساتھ دوستانہ اور ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرنا نہ صرف پاکستان کے مفاد میں ہی نہیں بلکہ خود افغانستان کی سلامتی، معاشی ترقی، علاقائی روابط اور ریاستی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔مندرجہ ذیل نکات دونوں ممالک کے مابین مسائل کے حل کی بنیاد بن سکتے ہیں؛
1۔دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی سرحدوں کااحترام اور ریاستی خود مختاری کی پاسداری کرنا ہو گی۔افغان حکومت کو پاکستان کی سرحد، حدود اور خود مختاری کا احترام کرتے ہوئے دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی ختم کرنی چاہیے۔
2۔پاکستان، افغانستان کا گرم پانیوں تک رسائی کا عملی، آسان اور سستا راستہ ہے۔تجارت کا فروغ افغانستان کی معیشت کو بے حد مضبوط کر سکتا ہے۔
3۔دہشت گردی کےخلاف مشترکہ فورس یا معلومات کے تبادلے کا نظام خطے کے امن کے لیے ضروری ہے۔
4۔عوامی روابط کی بحالی کے لئے تعلیم، صحت، ثقافت اور تجارت کے شعبوں میں عوامی سطح پر روابط کو فروغ دینے کے اقدامات کرنا جس سے اعتماد سازی میں مدد ملے گی۔
5۔مہاجرین کی باعزت واپسی کے لیے بین الاقوامی برادری کی مدد سے مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے۔تاکہ مہاجرین جلداپنے گھروں کو واپس جائیں اور پاکستان غیر ضروری مہمان نوازی اور دیگر معاشرتی و سماجی مسائل سے بچ سکے۔
پاک،افغان تعلقات کا مستقبل دشمنی یا الزام تراشی میں نہیں بلکہ ایک حقیقت پسندانہ اور بالغ نظر پالیسی میں پوشیدہ ہے۔افغانستان اگر پاکستان کے ساتھ تعلقات کو دوستی، خیر خواہی، پرامن بقائے باہم اور سرحدوں کے احترام کی بنیاد پر استوار کرے تو یہ تبدیلی نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے ترقی، تجارت، امن اور استحکام کے نئے دریچے کھول سکتی ہے اور اسی میں افغانستان اور پاکستان دونوں کا محفوظ مستقبل پوشیدہ ہے

04/02/2026

پاکستان میں قوم پرستی: فکری پس منظر، تضادات اور قومی وحدت پر اثرات

قوم پرستی بذاتِ خود کوئی منفی تصور نہیں۔ قوم پرستی اگرچہ انسانی تاریخ میں ایک فطری رحجان کر طور پر سامنے آئی ہے۔تاہم اس کی نوعیت، شدت اور سمت کا تعین ہر معاشرے کے تاریخی اور معروضی حالات کرتے ہیں۔دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قوم پرستی نے کئی اقوام کو غلامی سے نجات دلائی، سیاسی شعور پیدا کیا اور اجتماعی شناخت کو مضبوط کیا۔ تاہم جب قوم پرستی اعتدال کی حدوں سے تجاوز کر کے انتہا پسندی، تعصب اور نفرت کا روپ دھار لے تو یہ ایک تعمیری قوت کے بجائے تخریبی ہتھیار بن جاتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں قوم پرستی قابلِ تحسین کے بجائے قابلِ تشویش بن جاتی ہے۔
قوم پرستی کے جذبات محض جذباتی وابستگی کا نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ ان کی جڑیں علاقائی، تاریخی، معاشی اور سیاسی عوامل میں پیوست ہوتی ہیں۔ اکثر اوقات کسی خطے کی محرومی، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، سیاسی بے دخلی یا ثقافتی عدم تحفظ قوم پرستانہ رجحانات کو جنم دیتا ہے۔ اس اعتبار سے قوم پرستی کسی علاقے کے معروضی حالات کی پیداوار بھی ہو سکتی ہے، لیکن اس کی، سمت کا تعین قیادت، فکری شعور اور ریاستی رویوں سے ہوتا ہے۔

کثیرالقومی ریاست اور قوم پرستی کا مسئلہ

کثیرالقومی اور کثیرالسانی ریاستوں میں قوم پرستی ایک نہایت نازک مسئلہ بن جاتی ہے۔ ایسے معاشروں میں اگر قوم پرستی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ اختلافات، منافرت اور باہمی عدم اعتماد کو جنم دیتی ہے۔ پاکستان بھی ایک ایسی ہی ریاست ہے جہاں پنجابی، سندھی، بلوچ، پشتون، سرائیکی، مہاجر، کشمیری اور دیگر کئی نسلی و لسانی گروہ آباد ہیں۔ جنھیں ایک اعلٰی نظریاتی وحدت کے تحت جمع کیا گیا تھا۔ان گروہوں کا ثقافتی تنوع پاکستان کی قوت بن سکتا ہے، بشرطیکہ اسے وحدت کے فریم میں سمویا جائے، نہ کہ تقسیم کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے۔

پاکستان: ایک نظریاتی ریاست

پاکستان کوئی قدیم نسلی یا نسلی وحدت پر قائم ریاست نہیں ہے، بلکہ یہ 1947ء میں ایک طویل، صبر آزما اور قربانیوں سے بھرپور جدوجہد کے نتیجے میں ایک فکری اور دینی تصور کے تحت وجود میں آیا۔ یہ نظریہ محض جغرافیائی یا لسانی شناخت کا نہیں بلکہ ایک فکری، تہذیبی اور دینی تصور کا مظہر تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں نے پاکستان کا مطالبہ اس لیے نہیں کیا تھا کہ وہ کسی ایک نسل یا زبان کی بالادستی چاہتے تھے، بلکہ وہ ایک ایسی اسلامی ریاست چاہتے تھے جہاں وہ اپنی اجتماعی زندگی کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھال سکیں۔

قوم پرستی اور قومی وحدت پر اس کے اثرات

پاکستان میں رائج نسلی اور لسانی قوم پرستیاں اگر انتہا پسندی اختیار کریں تو وہ قومی وحدت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ایسی قوم پرستی نہ صرف باہمی نفرت کو فروغ دیتی ہے بلکہ ریاستی اداروں کو کمزور کرکے قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کر دیتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب ریاست کے اندر شناختیں ریاستی شناخت پر غالب آ جائیں تو نتیجہ سیاسی عدم استحکام، معاشی زوال اور داخلی انتشار کی صورت میں نکلتا ہے۔

اسلامی تناظر میں قوم پرستی

پاکستان کی غالب اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے اور اسلام کا تصورِ قومیت نسل، زبان یا علاقے پر نہیں بلکہ عقیدہ اور اخلاقی اصولوں پر قائم ہے۔ قرآنِ کریم نے واضح طور پر نسلی و لسانی تفاخر کو رد کرتے ہوئے تقویٰ کو فضیلت کا معیار قرار دیا ہے۔ اس تناظر میں وہ قوم پرستی جو نسلی برتری، تاریخی دشمنیوں یا لسانی تعصبات کو ہوا دے، اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ نہیں ہو سکتی۔اسی لئے یہاں ابھرنے والی ہر قوم پرستی کو اس بنیادی نظرئیے کے آئینے میں پرکھنا ناگزیر ہے۔

پنجابی قوم پرستی: ایک تنقیدی جائزہ

خصوصاً پنجابی قوم پرستی کے حوالے سے یہ نکتہ قابلِ غور ہے کہ پنجاب صدیوں تک برصغیر میں مسلم اقتدار کے خلاف مزاحمت کا مرکز رہا اور مسلم حکمرانوں کو یہاں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تاریخی پس منظر میں پنجابی قوم پرستی کو ازسرِ نو پرکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ قوم پرستی ماضی کے تضادات اور حال کے تقاضوں کو نظرانداز کر کے محض نسلی فخر یا برتری کے احساس پر مبنی ہو تو یہ قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پنجاب کی اکثریتی حیثیت کے باعث یہاں سے اٹھنے والی کوئی بھی انتہا پسندانہ قوم پرستی دیگر اکائیوں میں احساسِ محرومی اور عدم اعتماد کو بڑھا سکتی ہے، جو پہلے ہی کئی حوالوں سے حساس ہے۔کچھ عرصہ سے پنجاب میں قومیت اور نسل پرستی کے ایک نظریہ کا کچھ لوگوں کی طرف سے پر چار کیا جا رہاہے۔جو نام نہاد ترقی پسندوں کی ماضی کے سیاق و سباق سے ہٹ کر اور لا یعنی خوش فہمی پر مبنی ہے۔قوم پرستی کے دعوے دار جس دور کو اپنا قومی دور قرار دیتے ہیں وہ دور اس خطہ میں بسنے والی اکثریت کے لئے تکلیف دہ،متحارب۔مذہبی اقدار اور روایات کا دشمن دور تھا۔اس دور کو مسلمانوں کی قومی شناخت سے جوڑنا ایک سازش ہی ہو سکتا ہے۔
بلوچ قوم پرستی: محرومی، سیاست اور حقیقت
بلوچ قوم پرستی بنیادی طور پر ایک ردِعملی قوم پرستی ہے جس کی جڑیں تاریخی محرومی، سیاسی بے دخلی اور معاشی پسماندگی میں پیوست ہیں۔ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، مگر آبادی، صنعتی ترقی اور ریاستی سرمایہ کاری کے لحاظ سے سب سے زیادہ محروم رہا ہے۔ اسی عدم توازن نے بلوچ قوم پرستی کو جنم دیا۔
تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بلوچ قوم پرستی ایک ہمہ گیر عوامی تحریک کے بجائے زیادہ تر قبائلی سرداروں اور مخصوص سیاسی گروہوں کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ان سرداروں نے اکثر بلوچ عوام کی محرومی کو اپنی سیاسی بقا اور اقتدار کے لیے استعمال کیا۔ ریاست اور سرداری نظام کے درمیان تصادم میں عام بلوچ شہری مسلسل پس کر رہ گیا۔
بلوچ قوم پرستی کی انتہا پسند شکل، جو علیحدگی، مسلح جدوجہد اور ریاستی انکار تک جا پہنچی، نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی۔ یہ رجحان اسلامی تصورِ اخوت اور قومی وحدت دونوں سے متصادم ہے۔ البتہ یہ حقیقت تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ ریاست کی جانب سے مسلسل سیاسی غفلت، طاقت کے استعمال اور مکالمے کے فقدان نے اس قوم پرستی کو مزید سخت کیا۔اس سلسلہ میں گمشدہ افراد کے بیانیہ کی حقیقت کا منظر عام پر آنا بھی حالات کو بہتر کر سکتا ہے۔
سندھی قوم پرستی: تاریخی زخم اور شناخت کا بحران
سندھی قوم پرستی کی بنیاد تاریخی اور تہذیبی شعور پر استوار ہے۔ سندھ ایک قدیم تہذیب کا امین رہا ہے اور یہاں کے لوگوں کو اپنی زبان، ثقافت اور تاریخ پر فطری فخر ہے۔ تاہم قیامِ پاکستان کے بعد سیاسی تبدیلیوں، مہاجر آبادی کی آمد اور اقتدار کے نئے ڈھانچوں نے سندھی معاشرے میں شناخت کے عدم تحفظ کو جنم دیا۔
1971ء کے سانحے کے بعد سندھی قوم پرستی میں شدت آئی اور بعض حلقوں میں اسے وفاق مخالف بیانیے کے طور پر پیش کیا گیا۔ اگرچہ سندھی قوم پرستی کی اکثریت ثقافتی اور لسانی شناخت تک محدود رہی، لیکن اس کی انتہا پسند شکلوں نے نفرت، تقسیم اور احساسِ بیگانگی کو فروغ دیا۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ سندھ ہمیشہ صوفیانہ روایات، رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کا مرکز رہا ہے۔ اس تناظر میں ایسی قوم پرستی جو نفرت، لسانی تفریق اور تاریخی انتقام پر مبنی ہو، سندھ کی اصل روح سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اگر سندھی قوم پرستی کو صوبائی حقوق، ثقافتی تحفظ اور منصفانہ وسائل کی تقسیم تک محدود رکھا جائے تو یہ وفاق کے اندر رہتے ہوئے ایک مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔
پشتون قوم پرستی: سرحدی سیاست اور نظریاتی تضاد
پشتون قوم پرستی کا ظہور برصغیر کی نوآبادیاتی سیاست، ڈیورنڈ لائن اور سرحدی خطے کی مخصوص جغرافیائی حیثیت سے جڑا ہوا ہے۔ برطانوی دور میں پشتون علاقوں کو بفر زون کے طور پر استعمال کیا گیا، جس کے اثرات آج تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
قیامِ پاکستان کے بعد پشتون قوم پرستی کو ایک علاقائی اور جغرافیائی شناخت کے طور پر فروغ ملا، جس میں بعض اوقات سرحد پار نسلی رشتوں کو بنیاد بنایا گیا۔ تاہم یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پشتون قوم پرستی کے بعض نظریات پاکستان کے قیام کے نظریے سے براہِ راست متصادم رہے۔
اس کے باوجود یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان کے دفاع، سیاست اور معیشت میں پشتونوں کا کردار انتہائی اہم اور قابلِ فخر رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں بھی پشتون علاقوں نے ہی دی ہیں۔ اس پس منظر میں وہ قوم پرستی جو پشتونوں کو پاکستان سے الگ شناخت دینے کی کوشش کرے، نہ صرف تاریخی حقائق کو مسخ کرتی ہے بلکہ پشتون عوام کی اکثریتی سوچ کی نمائندہ بھی نہیں۔
پاکستان میں بلوچ، سندھی، پشتون یا پنجابی ، ہر قسم کی قوم پرستی اگر اعتدال،آئینی حدود، تہذیبی شناخت کے تحفظ اور ثقافتی تنوع کے احترام تک محدود رہے تو ایک مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔ مگر جب یہ انتہا پسندی، نفرت،تعصب اور علیحدگی کی صورت اختیار کرے تو یہ ریاست، معاشرے اور خود متعلقہ قوم کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔
پاکستان جیسی نظریاتی، کثیرالقومی اور اسلامی ریاست میں ایسی قوم پرستی کی کوئی گنجائش نہیں جو قومی وحدت کو کمزور کرے۔وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم نسلی اور لسانی شناختوں کو ثانوی اور پاکستانی و اسلامی شناخت کو اوّلیت دیں تاکہ ایک مضبوط، متحد اور مستحکم ریاست کی بنیاد رکھی جا سکے۔ لفظ پاکستان کے( لفظی ) ترکیبی اجزاء تمام علاقوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان سے مل کر ہی پاکستان وجود میں اتا ہے۔ یہی راستہ قومی یکجہتی، سیاسی استحکام اور اجتماعی ترقی کی ضمانت ہے۔

مختصراً، قوم پرستی اگر تہذیبی شناخت کے تحفظ اور ثقافتی تنوع کے احترام تک محدود رہے تو ایک مثبت کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن جب یہ انتہا پسندی، تعصب اور نفرت کا روپ دھار لے تو یہ ریاست اور معاشرے دونوں کے لیے ز کی کوئی گنجائش نہیں جو قومی وحدت کو کمزور کرے۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم نسلی اور لسانی شناختوں کو ثانوی اور پاکستانی و اسلامی شناخت کو اوّلیت دیں، تاکہ ایک مضبوط، متحد اور مستحکم ریاست کی بنیاد رکھی جا سکے۔
نوائے وقت 4۔ فروری 2026ء

12/01/2026

لاہور کا کوڑا کرکٹ اور ماحولیاتی حل
“راوی پہاڑیاں" منصوبہ ایک مجوزہ پیش رفت

دنیا کے بڑے شہروں میں بڑھتی ہوئی آبادی اور صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ سب سے بڑا مسئلہ فضلہ اور کوڑا کرکٹ کا ٹھکانے لگانا بن چکا ہے۔ لاہورڈیرھ کروڑ سے زائد آبادی کا پاکستان کا دوسرا بڑا شہر اور معاشی مرکز ہے،جو کبھی باغوں کا شہر کہلاتا تھا۔بڑھتی ہوئی آبادی، شہری توسیع اور لاکھوں افراد کی سرگرمیوں اور صنعتی پھیلاؤ کے باعث روزانہ ہزاروں ٹن کوڑا پیدا کر رہا ہے۔ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (LWMC)کے اعداد و شمار کے مطابق شہر میں یومیہ تقریباً 6,000 سے 7,000 ٹن تک سالڈ ویسٹ اکٹھا کیا جاتا ہے۔ اس فضلے کو تلف کرنے کے لیے موجود لینڈ فل سائٹس ناکافی ہو چکی ہیں۔ جبکہ شہر میں سائنسی اور باضابطہ طور پر ایک ہی لینڈ فل سائٹ "لکھو ڈہر انجینئرڈ لینڈ فل "شالیمار ٹاون کے قریب موجود ہے جو مستقبل قریب میں اپنی گنجائش پوری کر لے گی۔ اس کے باوجود کوڑے کی ایک بڑی مقدار کھلی جگہوں پر پھینکی جا رہی ہے۔جن میں دریائے راوی کے کنارے، شاہدرہ، سبزہ زار ،چونگی امر سدھو وغیرہ اور شہر میں سے گزرنے والے نالے شامل ہیں۔ان کھلی جگہوں میں کاچھا کے علاقے میں رنگ روڑ کے ساتھ ساتھ بنی ایک گہری کھائی کے کنارے کوڑے کے اونچے اونچے ڈھیروں کا مدفن شاید یہی کھائی ہو گی۔اسی طرح لاہور کا بہت ساکوڑا جل کر آلودگی کا باعث بنتا ہے۔ رہائشی سکیموں میں پڑے خالی پلاٹ کوڑے کے ڈھیر بن جاتے ہیں جنھیں مالکان جلا دیتے ہیں یا زیر زمین دبا دیتے ہیں جو بعض اوقات حادثات کا باعث بھی بنتے ہیں۔
متبادل جگہوں کی قلت ،آبادی کے دباؤ اور ماحولیاتی خدشات کے باعث نئے لینڈ فل مقامات تلاش کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔نتیجتاً ماحولیاتی آلودگی، زمینی آلودگی اور بدبو سے شہریوں کی صحت پر منفی اثرات بڑھتے جا رہے ہیں۔
ان حالات میں ضروری ہے کہ لاہور جیسے بڑے شہر کے لیے کوئی نیاطویل المیعاد،محفوظ اور ماحول دوست حل تلاش کرکے منصوبہ ترتیب دیا جائے جو نہ صرف کوڑے کرکٹ کے مسئلے کو حل کرے بلکہ ماحولیاتی توازن کی بحالی میں بھی مدد دے۔ اسی تناظر میں “راوی پہاڑیاں منصوبہ” ایک قابلِ غور اور دور اندیش تجویز ہے۔

مسئلے کی نوعیت اور موجودہ صورتحال

لاہور کا موجودہ ویسٹ مینجمنٹ نظام زیادہ تر جمع اور ٹرانسپورٹیشن تک محدود ہے۔ کوڑے کو ایک مخصوص مقام پر لا کر پھینک دیا جاتا ہے مگر اس کے ری سائیکلنگ، ویسٹ ٹو انرجی یا لینڈ فل انجینئرنگ پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔
موجودہ لینڈ فل سائٹس اب اپنی گنجائش پوری کر چکی ہیں ۔نئی جگہوں کی تلاش نہ صرف مہنگی ہے بلکہ زمین کی قلت اور ماحولیاتی اعتراضات کی وجہ سے پیچیدہ بھی ہے۔یہ کوڑا کرکٹ جب کھلے میدانوں یا غیر محفوظ مقامات پر پھینکا جاتا ہے، تو زیر زمین پانی آلودہ ہو جاتا ہے۔ہوا میں زہریلی گیسیں(میتھین، کاربن ڈائی آکسائیڈ وغیرہ ) شامل ہو جاتی ہیں اور سانس،جلد اور آنکھوں کی بیماریاں بڑھتی ہیں۔لاہور جیسے گنجان آباد شہر کے لیے یہ صورتحال ماحولیاتی ایمرجنسی سے کم نہیں۔
راوی پہاڑیاں:ایک سائنسی اور قابل عمل تجویز
لاہور میں کوڑا کرکٹ اور فضلے کو ایک دیر پا حل اور مفید مقصد کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔اس سلسلہ میں تجویز ہے کہ لاہور کے ساتھ بہنے والے دریائے راوی کے کناروں پر محکمہ ماحولیات اور ارضیات کی مشاورت سے کم از کم تین سو فٹ بلند مصنوعی پہاڑیاں تعمیر کی جائیں۔ان پہاڑیوں کی بنیاد سائنسی لینڈ فل تکنیک کے تحت رکھی جائے۔یعنی کوڑا کرکٹ تہہ در تہہ پلاسٹک شیٹ، مٹی اور مٹیریل سے ڈھانپ کر دبایا جائے تاکہ کوئی زہریلا مادہ باہر نہ نکلے۔اس طور پر ان پہاڑیوں کی تعمیر کے لیے کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کا کام کئی دہائیوں تک چلے گا اور یہ ایک طویل المدتی منصوبہ ہو گا۔جو انے والے دنوں میں آئندہ نسلوں کے کام بھی آئے گا۔
حکومت نے محمود بوٹی لینڈ فل سائٹ میں پہلے سے واقع اسی فٹ بلند 41ایکڑ پر محیط 14ملین ٹن کوڑے کے پہاڈ کو جو اپنی بد صورتی،بدبو اور خطرناک گیسوں کے اخراج کی وجہ سے اس علاقے ہی نہیں بلکہ ریجن کے ماحول کے لئے تباہ کن ثابت ہو سکتا تھا متروک کر دیا۔(کیونکہ ایک رپورٹ کے مطابق اس علاقے میں دیکھے جانے والے میتھین کے ایک بادل کا حجم لگ بھگ 126میٹرک ٹن فی گھنٹہ تھا۔انٹر نیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق 2021ء میں پاکستان دنیا کا ساتواں بڑا میتھین کا اخراج کرنے والا ملک تھا۔میتھین کے ذریعے صرف فضا کو ہی نہیں نقصان پہنچ رہا تھا،بلکہ اس ڈمپ کی وجہ سے اردو گرد کا زیر زمین پانی بھی آلودہ اور ناقابل استعمال بن رہا تھا۔)چنانچہ 2016ء میں محمود بوٹی لینڈ فل سائٹ کو ویسٹ ڈمپ کرنے کے لئے استعمال کرنا بند کر دیا۔ کوڑے کے اس پہاڑ کے نقصانات اور قباحتوں سے بچنے کے لئے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ساتھ مل کر محمود بوٹی لینڈ فل سائٹ کی بحالی کے لئے 14ملین ٹن کوڑے کو مٹی تلے دبا کر اس کے نقصانات سے بچنے کے لیے 1400 ملین روپے کے منصوبے پر کام شروع کیا ہوا ہے۔جس میں صنعتی اداروں کو بیچنے کے لئےگیس حاصل کرنے کا منصوبہ، گیارہ ایکڑ پر سولر پارک بنا کر پانچ میگا واٹ بجلی حاصل کرنے کا منصوبہ اور تیس ایکڑ پر اربن فاریسٹ لگانے کا منصوبہ شامل ہیں ۔لاہور کے دیگر علاقوں جہاں پر کوڑا کرکٹ پھینکا جا رہا ہے وہاں بھی آئندہ اس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس لئے ضروری ہے کہ مستقبل میں ان قباحتوں اور مشکلات سے بچنے کیلئے سائنسی بنیادوں پر راوی پہاڑیوں جیسے منصوبے اختیار کیے جائیں اور محمود بوٹی سائٹ سے سبق سیکھا جائے۔

اس منصوبے سے بہت سے فوائد حاصل ہونگے جن میں :

1. جگہ کا مؤثر استعمال:
لاہور کے گردونواح میں زمین انتہائی قیمتی ہو چکی ہے۔ پہاڑی طرز پر کوڑا جمع کرنے سے کم سے کم زمین میں زیادہ مواد محفوظ کیا جا سکتا ہے اور زمین موثر طور پر استعمال ہو سکتی ہے ۔
2. ماحولیاتی تحفظ:
ان پہاڑیوں کو مکمل طور پر مٹی، گھاس اور درختوں سے ڈھانپا جا سکتا ہے، جس سے یہ نہ صرف ماحولیاتی نقصان سے محفوظ رہیں گی بلکہ آکسیجن کی فراہمی میں اضافہ بھی کریں گی۔اس سے پہلے بھی لاہور میں اس طرح کی مثالیں موجود ہیں۔مثلا" باغ جناح کی پہاڑیاں۔شملہ پہاڑی اور گورنر ہاؤس کی پہاڑی وغیرہ جو لاہور کی خوبصورتی میں ماحول دوست اضافہ کا سبب ہیں۔میتھین گیسز کو توانائی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔اس سلسلہ میں حکومت پہلے ہی لکھو ڈہر انجیبئرڈ لینڈ فل سائٹ کے اسی فٹ بلند منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

3. تفریحی مقامات کی تشکیل:
جب یہ پہاڑیاں مکمل طور پر ہریالی سے ڈھک جائیں گی تو انہیں شہریوں کے لیے واک ٹریکس، سائیکلنگ روٹس، پارکس اور پکنک سپاٹس کی صورت میں استعمال کیا جا سکے گا۔ یہ منصوبہ لاہور کے لیے ایک نئی اکو ٹورزم (Eco-Tourism) کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

4. ماحولیاتی آگاہی:
ان پہاڑیوں کے گرد ماحول دوست تعلیمی مراکز، ری سائیکلنگ میوزیمز اور شجرکاری مہمات کے مراکز قائم کیے جا سکتے ہیں، تاکہ عوام میں ماحولیاتی شعور پیدا ہو۔اس کے علاوہ بھی میدانی علاقے میں یہ بلند مقامات کئی طرح کے دیگر مقاصد کے لئے استعمال ہو سکتے ہیں جن میں مواصلاتی ٹاورز اور مراکز کی تعمیر، پناہ گاہیں اور گودام وغیرہ شامل ہیں۔بہرحال وقت کے ساتھ ساتھ ان کے کئی مصرف نکل سکتے ہیں۔

دنیا کے بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں اس نوعیت کے منصوبے کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں:

جن میں جنوبی کوریا میں “Nanjido Eco Park” کبھی کوڑا گھر تھا، مگر آج 15 ملین ٹن کوڑے کا ذخیرہ ایک سرسبز پہاڑی پارک اور جدید تفریحی مقام بن چکا ہے۔

جرمنی کے شہر “Essen” میں کوڑا کرکٹ سے بنی پہاڑی پر اب ایک مشہور تفریحی مقام “Tetrahedron” واقع ہے۔ اس طرح امریکہ کے “Freshkills Park” (نیویارک) کو ایک وقت میں دنیا کا سب سے بڑا لینڈ فل کہا جاتا تھا، جو اب 2,200 ایکڑ پر مشتمل ایک خوبصورت قدرتی پارک میں تبدیل ہو چکا ہے۔
ان مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر سائنسی اصولوں کے مطابق کام کیا جائے تو کوڑا کرکٹ ایک بوجھ نہیں بلکہ ایک وسیلہ اور ماحولیاتی حسن کا حصہ بن سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں کئی اعتراضات اور مشکلات بھی ھو سکتی ھیں جو قابل حل ہیں۔

1۔لاگت :اس سلسلہ میں پہلا اعتراض اس پر آنے والی لاگت ہو سکتا ہے۔ابتدائی طور پر یہ منصوبہ مہنگا دکھائی دیتا ہے، مگر طویل المدت بنیادوں پر زمین کی بچت، ماحولیاتی بحالی اور دیگر فوائد کے اخراجات میں کمی سے یہ سرمایہ کاری سودمند ثابت ہوگی۔اس سلسلہ میں بین الاقوامی ادارے بھی امداد فراہم کر سکتے ہیں۔
2. ماحولیاتی نگرانی کی غرض سےہر پہاڑی کے نیچے لائننگ سسٹم نصب کر کے زہریلے مادوں کو زیر زمین جانے سے روکا جا سکتا ہے۔اس کے لیے بین الاقوامی معیار کے مطابق ماحولیاتی آڈٹ کا اہتمام کیا جاسکتایے۔
3. عوامی شعور کی کمی:
منصوبے کی کامیابی کے لیے عوامی شرکت ناگزیر ہے۔ شجرکاری مہمات، اسکولوں اور کالجوں میں آگاہی پروگرام، اور میڈیا مہمات سے اس منصوبے کے لئے عوامی تائید حاصل کی جا سکتی ہے۔اگرچہ حکومت کسی بھی عوامی فلاحی یا ترقیاتی منصوبے کو شروع کرنے کے لئے عوامی رائے لینا گوار نہیں کرتی۔

لاہور کے بڑھتے ہوئے ماحولیاتی مسائل کو دیکھتے ہوئے “راوی پہاڑیاں” منصوبہ ایک جدید، قابلِ عمل اور ماحولیاتی لحاظ سے محفوظ حل ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر حکومتِ پنجاب، لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی، محکمہ ماحولیات اور محکمہ جنگلات مل کر اس منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں تو لاہور نہ صرف کوڑا کرکٹ سے پاک ہو سکتا ہے بلکہ ایک بار پھر “باغوں کا شہر” بننے کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔

اس تجویز کوایک سوچ کی تبدیلی کی علامت قرار دیا جا دیا جا سکتا ہے۔ایسی سوچ جس میں کوڑے کو ایک بوجھ نہں بلکہ ایک موقع سمجھا جائے۔اگر ہم آج قدم اٹھائیں تو آنے والی نسلیں لاہور کو ایک سرسبز ،صاف ستھرا زیادہ خوبصورت اور پُرکشش شہر کے طور پر پائیں گی۔

07/12/2025

پاکستان کا سیاسی منظرنامہ اور جمہوری استحکام کی ضرورت

پاکستان چوبیس کروڑ نفوس کا وہ ملک ہے جو بے شمار قربانیوں، طویل جدوجہد اور عظیم جذبۂ آزادی کے بعد دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ قیام کے فوراً بعد سے ہی اقتدار کے متلاشی عناصر نے اس ملک کو اپنی ذاتی خواہشات اور سیاسی مفادات کی تجربہ گاہ بنا دیا۔
شروع میں سیاسی گروہ بندی اور جماعتی کشمکش نے قومی سفر کو متاثر کیا، مگر گزشتہ کئی دہائیوں سے سیاست ایک نئے رخ پر جا چکی ہے۔ آج پاکستان کا منظرنامہ یوں دکھائی دیتا ہے جیسے یہ ریاست چند بااثر شخصیات کی ہوسِ اقتدار کا میدان بن چکی ہو—جہاں اقتدار، گرفتاری، رہائی اور بریت کی سیاست چلتی ہے؛ اور عوام کے مسائل، ان کی فلاح و بہبود اور ترقیاتی ضروریات پس منظر میں دھکیل دی جاتی ہیں۔

ملک ایک ایسے سیاسی اکھاڑے میں بدل چکا ہے جہاں دو طاقتور دھڑے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کے گرد جمع ہونے والے افراد اپنے اپنے مفادات کی حفاظت میں مصروف ہیں؛ یوں عوام اور ریاست کے اصل مسائل کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔
حزبِ اختلاف کا کردار محض حکومت کو گرانا اور اسے بے چین رکھنا بن چکا ہے، جبکہ حزبِ اقتدار کا محور صرف مخالفین کو دبانا اور اقتدار کو محفوظ رکھنا رہ گیا ہے۔ اس باہمی کشمکش نے ریاستی اداروں، قومی پالیسیوں اور عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حزبِ اختلاف اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے عوامی مسائل کے حل، قانون سازی اور قومی پالیسیوں میں بہتری کے لیے مثبت کردار ادا کرے۔ عوامی ایجنڈا اور ملکی ترقی کے پروگرام صرف احتجاجی جلسوں یا حکومتی تنقید تک محدود نہیں رہنے چاہییں، بلکہ پارلیمنٹ، قائمہ کمیٹیوں اور شیڈو کابینہ کے تحت منظم جدوجہد کا حصہ بننے چاہییں۔
اسی طرح اگر کوئی حکومت اپنی کارکردگی میں ناکام ہوتی ہے تو جمہوری طریقہ یہی ہے کہ آئندہ انتخابات میں اسے جوابدہ ٹھہرایا جائے اور مخالف جماعتیں ووٹ کی طاقت سے اقتدار میں آئیں.نہ کہ حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی سیاست مسلسل جاری رکھی جائے۔

پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، اور اسے صرف اور صرف جمہوری اصولوں، آئینی روایات، ادارہ جاتی استحکام اور عوامی فلاح کے تحت ہی چلایا جا سکتا ہے۔ اگر سیاسی قیادت اپنی ذاتی کشمکش اور مفادی جنگوں سے نکل کر قومی وحدت اور اجتماعی بھلائی کو مقدم رکھے تو پاکستان ایک کامیاب، مضبوط اور باوقار ریاست بن سکتا ہے۔

20/10/2025

---

نیا انتظامی نقشہ — قومی وحدت کی سمت ایک قدم

تحریر: بختیار علی سیال

> "ریاستیں کمزور قانون سے نہیں، غیر متوازن نظام سے ٹوٹتی ہیں۔"

پاکستان جب سے معرض وجود میں آیا ہے اسی وقت سے نت نئے مسائل میں گھرا ہوا ہے۔آئے دن کوئی نہ کوئی نیا شگوفہ پھوٹ نکلتا ہے۔ کبھی زبان کا مسئلہ تو کبھی صوبوں کی تقسیم یا وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا شکوہ سامنے آتا ہے۔ سترہویں آئینی ترمیم سے لے کر اٹھارویں ترمیم تک کئی آئینی اقدامات ہوئے، مگر عملی سطح پر عوامی مشکلات اپنی جگہ برقرار ہیں۔یہ تمام الجھنیں دراصل انتظامی ناانصافی اور اختیارات کی غیر متوازن تقسیم کا نتیجہ ہیں۔ جب چند بڑے صوبے ساری طاقت اور وسائل اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں تو دیگر علاقے احساسِ محرومی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہی احساس بعد میں سیاسی اور لسانی تحریکوں کی شکل اختیار کرتا ہے۔

ڈویژنوں کو صوبوں میں بدلنے کا تصور

اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے انتظامی ڈھانچے کو ازسرِنو دیکھیں۔ سابقہ مغربی پاکستان کے بارہ ڈویژن ایک مکمل انتظامی شناخت رکھتے ہیں۔ اگر ان ڈویژنوں کو صوبوں کا درجہ دے دیا جائے تو نہ صرف اختیارات کی تقسیم بہتر ہو گی بلکہ انتظامی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔اسی طرز پر سندھ اور بلوچستان جیسے بڑے صوبوں کو مزید چھوٹے صوبوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے تاکہ حکومتی توجہ صرف چند بڑے شہروں تک محدود نہ رہے۔ اس عمل میں سابقہ ریاستوں (جیسے بہاولپور۔خیرپور، قلات وغیرہ) کو بھی زیرِ غور لایا جا سکتا ہے تاکہ تاریخی اور جغرافیائی توازن برقرار رہے۔

کمشنری نظام کا درست استعمال

ملک میں پہلے ہی کمشنری سطح کا ڈھانچہ موجود ہے۔ اگر ہر کمشنر کو گورنر کا درجہ دے دیا جائے — جو ایک غیر سیاسی سرکاری افسر ہو — تو صوبائی سیاست کی کڑواہٹ بھی کم ہو سکتی ہے۔ اس طرح گورنر ہاؤسوں کی سیاست اور سفارش کلچر کا دروازہ بند ہو جائے گا۔
ماضی کی ڈویژنل کونسلیں جو مقامی نمائندگی کی بنیاد رکھتی تھیں، ان کی طرز پر عوام کے بلا واسطہ ووٹوں سے صوبائی نمائندے منتخب کیے جائیں ۔ان اسمبلیوں کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ ان اسمبلیوں کے اراکین کے لئے شرط رکھی جائے کہ ان کا انتخاب رضاکارانہ ہو گا کوئی تنخواہ نہیں ہو گی اور نہ وہ اپنی تنخواہ کے سلسلہ میں کوئی قانون سازی کر سکیں گے، البتہ اجلاس کے دوران اگر وہ چاہیں تو روزانہ خرچ وصول کر سکیں گے۔ اس طرح قومی خزانے پر بوجھ کم ہوگا اور نمائندگی کا تصور خالص خدمت کی صورت اختیار کرے گا۔اس سلسلہ میں انفراسٹرکچر پہلے ہی موجود ہے۔

متوازن وفاق — مضبوط پاکستان

اگر یہ اصلاحات نافذ کی جائیں تو کئی دیرینہ مسائل خودبخود حل ہو سکتے ہیں۔
1۔صوبائی تعصب اور لسانی تقسیم میں نمایاں کمی آئے گی۔
2۔عوامی مسائل مقامی سطح پر حل ہوں گے۔
3۔ قومی بجٹ کا بڑا حصہ انتظامی اخراجات کی بجائے حقیقی عوامی ترقیاتی منصوبوں پر صرف ہو سکے گا۔4۔اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں گے۔جس سے جمہوریت مضبوط ہو گی۔
5۔عوام کا ریاست پر اعتماد بحال ہوگا۔وفاق اور صوبوں کے درمیان اعتماد کی بحالی کے علاوہ توازن بھی پیدا ہو گا۔
6۔ آبادی کی شہروں کو منتقلی میں کمی آئے گی۔
7۔ چھوٹے شہر بھی ترقی کریں گے اور موجودہ صوبائی دارالحکومتوں کے انتظامی مسائل میں کمی آئے ۔
یہ محض ایک نظری تجویز نہیں، بلکہ ایک عملی نقشہ ہے جس پر عمل کر کے پاکستان کو ایک جدید، متوازن اور فعال ریاست بنایا جا سکتا ہے۔یہ تجویز کسی ایک طبقے یا جماعت کے مفاد میں نہیں بلکہ پورے ملک کے استحکام، ہم آہنگی اور خوشحالی کی ضامن ہے۔
ریاست کی طاقت اس کے حجم میاں نہیں بلکہ اس کے نظامِ انصاف اور تقسیمِ اختیارات میں مضمر ہوتی ہے۔ آج جب دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک انتظامی طور پر چھوٹے مگر مؤثر یونٹوں میں تقسیم ہو چکے ہیں ۔اگرپاکستان کو واقعی ایک جدید، انصاف پر مبنی اور متوازن ریاست بنانا ہے تو پاکستان کو بھی اپنے ماضی کےپرانے فرسودہ صوبائی سانچے سے نکل کر ایک نئے انتظامی تصور کی طرف بڑھنا ہوگا۔ ایسا تصور جو عوام کے قریب، اخراجات میں کم اور نتائج میں زیادہ ہو۔یہی راستہ قومی وحدت، معاشی استحکام ،ترقی اور عوامی اطمینان کی ضمانت بن سکتا ہے۔

30/06/2024

PLJ 2024 Cr.C 720
2024 YLR 1510

If any conversation is recorded through mobile phone and converted into Compact Disc (CD), then without production of the mobile phone as well as forensic analysis of the conversation and merely by producing CD, said conversation cannot be proved.
Jail Appeal
228667/18
Abu Bakar Samoosa etc etc. Vs The State etc

21/04/2024

عمر لاحاصل اس حسرت میں بیتی کہ نعت لکھوں
حاصل زیست دامن میں دو قطرے اشک ندامت کےگرے

28/12/2023

ریاست پاکستان کی مرکزی اور صوبائی حکومتیں انسان اور عوام دوستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوں اور لائسنسوں کی فیسوں میں ظالمانہ ہزار گنا تک کا آضافہ واپس لیں اور نادرہ کے شر سے عوام کو بچائیں۔

15/09/2023

سول کیس میں (12)2 کی درخواست کے بارے میں بہترین فیصلہ

PLD 2023 Lahore 555

By now it is also well settled that fraud and misrepresentation, which is ground for the application of 12(2) of the Code, should be practiced during the proceedings in the court and not outside the Court.

PLD 2023 Lahore 555

Section 12(1) of the Code provides that when a person is precluded by rules in respect of any particular cause of action then on such cause of action he is not entitled to institute a further or separate suit in any Court. Sub-section (2) of section 12 of the Code is providing the remedy of filing application against the judgment and decree or order, if obtained by fraud, misrepresentation or want of jurisdiction. Combined reading of the two sub-sections makes it profusely clear that application under section 12(2) of the Code can only be made if the misrepresentation is made or fraud is committed with respect to the subject matter of the suit on which the order, judgment or decree is passed, as the aggrieved litigant is precluded under subsection 12(1) of the Code to pursue an independent remedy.
By now it is also well settled that fraud and misrepresentation, which is ground for the application of 12(2) of the Code, should be practiced during the proceedings in the court and not outside the Court.

25/07/2023

پہلا دعوی واپس لینے سے پہلے ھی دوسرا دعوی اگر دائر کر دیا جائے تو آرڈر 23 پابندی عائد نہیں کر سکتا۔۔
2023 CLC 1368

Whether the subsequent suit instituted during the pendency of the earlier suit was hit by the bar contained in Order XXIII Rule 1(3) CPC.?

The words in which Order XXIII Rule 1(3) CPC are couched, it does not preclude a plaintiff from filing multiple suits on the same subject matter as it merely places an embargo on a plaintiff to file a suit on the subject matter, which he has already withdrawn/abandoned without seeking permission of the court to re-agitate the same.

If during the pendency of a suit, without withdrawing the same, on the same subject matter, a subsequent suit is filed, , the subsequent suit will be maintainable and by no means will hit by the bar contained in Order XXIII Rule 1 CPC.
If a suit is not decided on merits the same would not constitute or operate as Res judicata.

Address

9/39-Lower Mall
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 08:00 - 18:00
Tuesday 08:00 - 18:00
Wednesday 08:00 - 18:00
Thursday 08:00 - 18:00
Friday 08:00 - 18:00
Saturday 08:00 - 18:00

Telephone

923244454567

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when B.A Sial & Co. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to B.A Sial & Co.:

Share

Category