M.K LAW FIRM

Call Directions Website Contact the business

M.K LAW FIRM we are providing our client a comfortable enviorment to sort out their legal problems.we have profes

     May Allah protect our country from all evil eyes.Ameen
13/08/2026



May Allah protect our country from all evil eyes.
Ameen

خلع کا دعوی مرد کے حق میں (نوجوان وکلاء کے لیے ایک بہترین فیصلہ) اگر عورت غلط ایڈریس لکھ کر یا اپنی اصل جائے رہائش کے عل...
10/08/2026

خلع کا دعوی مرد کے حق میں (نوجوان وکلاء کے لیے ایک بہترین فیصلہ)
اگر عورت غلط ایڈریس لکھ کر یا اپنی اصل جائے رہائش کے علاوہ کسی دوسری عدالت میں خلع کا دعویٰ دائر کرے، تو ایسے مقدمے کو ایک وکیل کیسے خارج کروائے گا؟ تفصیل جانیے۔۔
میرے موکل کی بیوی، جو سیالکوٹ کی رہائشی تھی اُس نے اسلام آباد فیملی کورٹ میں خلع کا دعویٰ دائر کیا۔ میں نے شوہر کی جانب سے جوابِ دعویٰ کے ساتھ Order VII Rule 11 CPC کی درخواست دائر کی اور مؤقف اختیار کیا گیا کہ عدالت کو Territorial Jurisdiction حاصل نہیں۔
مزید میں نے عدالت سے Local Commission مقرر کرنے کی استدعا کی تاکہ مدعیہ کے دیے گئے پتے کی تصدیق ہو سکے۔ کمیشن کی رپورٹ میں یہ سامنے آیا کہ مدعیہ نہ صرف اس پتے پر رہائش پذیر نہیں تھی بلکہ درج شدہ مقام کی بھی تصدیق نہ ہو سکی۔
معزز عدالت نے West Pakistan Family Courts Rules, 1965 کے Rules 5 اور 6 اور PLD 2012 Supreme Court 66 کی روشنی میں قرار دیا کہ اسلام آباد فیملی کورٹ کو اس مقدمے کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں۔ چنانچہ دعویٰ واپس (Returned) کر دیا گیا تاکہ مناسب دائرۂ اختیار رکھنے والی عدالت میں پیش کیا جا سکے۔
یہ فیصلہ اس بات کی مثال ہے کہ مقدمات کا فیصلہ صرف دعووں پر نہیں بلکہ قانون، شواہد اور درست قانونی حکمتِ عملی پر ہوتا ہے۔
Jurisdiction Matters | Family Court Returned the Khula Suit Due to Lack of Territorial Jurisdiction
Order VII Rule 11 CPC
Rule 5 & Rule 6
Territorial Jurisdiction
Local Commission
PLD 2012 SC 66

منشیات کے مقدمات میں مؤثر جرح اور نیا معیار - سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلہ 2025 SCMR 923 کی روشنی میں ۔قانونی اعتراضات اور...
01/08/2026

منشیات کے مقدمات میں مؤثر جرح اور نیا معیار - سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلہ 2025 SCMR 923 کی روشنی میں ۔

قانونی اعتراضات اور مؤثر Cross-Examination کی عملی گائیڈ

منشیات کے مقدمات میں صرف برآمدگی کافی نہیں۔ استغاثہ پر یہ قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ برآمد شدہ منشیات کی برآمدگی سے لے کر فرانزک تجزیہ اور عدالت میں پیشی تک ہر مرحلے کی محفوظ تحویل (Chain of Custody) ناقابلِ شبہ دستاویزی ثبوت سے ثابت کرے۔

ذیل میں ایسے مؤثر سوالات درج کر رہا ہوں جو تفتیشی افسر، انچارج مالخانہ اور فرانزک ماہر سے جرح کے دوران مقدمے کی خامیاں نمایاں کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں

حصہ اول:

تفتیشی افسر (Investigating Officer / Recovery Officer) سے جرح

کیا آپکو وقوعہ سے قبل کوئی خفیہ یا پیشگی اطلاع موصول ہوئی تھی؟
2. کیا اس اطلاع کا اندراج Rule 22.49 Police Rules 1934 کے مطابق رجسٹر نمبر II (روزنامچہ) میں کیا گیا؟
3. کیا آپ عدالت کو اس اندراج کا نمبر اور وقت بتا سکتے ہیں؟
4. کیا آپ نے دفعہ 20 قانون انسدادِ منشیات 1997 کے تحت سرچ وارنٹ حاصل کیا؟
5. اگر سرچ وارنٹ حاصل نہیں کیا گیا تو کیا اس کی وجوہات روزنامچہ میں درج کی گئیں؟
6. کیا موقع پر دو غیرجانبدار اور آزاد گواہوں کو شامل کیا گیا؟
7. اگر نہیں، تو انکار کی وجوہات کیا ہیں اور کیا وہ بھی روزنامچہ میں درج ہیں؟

⸻

B۔ برآمدگی، وزن اور سیلنگ

8. برآمد شدہ منشیات کس ترازو سے تولی گئی؟
9. کیا اس ترازو کی Calibration یا Verification Certificate موجود ہے؟
10. تین نمائندہ نمونے کس وقت، کس مقام پر اور کس کی موجودگی میں تیار کیے گئے؟
11. کیا نمونے آپ نے تیار کیے یا محرر/کسی اور اہلکار نے؟
12. کیا ہر نمونے پر مقدمہ نمبر، تاریخ، مقام، دستخط اور مہر موجود ہے؟
13. باقی مال کس نے سیل کیا؟
14. کیا Form 22.70 پر Sample Seal محفوظ کی گئی؟
15. کیا آپ عدالت میں وہ Sample Seal دکھا سکتے ہیں؟

⸻

C۔ Chain of Custody کا آغاز

16. برآمدگی کے فوراً بعد مال کس کے قبضے میں رہا؟
17. مالخانہ میں جمع کرانے تک وہ کس کی تحویل میں تھا؟
18. کیا اس دوران کسی مرحلے کا تحریری ریکارڈ موجود ہے؟

⸻

حصہ دوم

محرر / انچارج مالخانہ (Moharrir / Malkhana Incharge) سے جرح

سپریم کورٹ کے مطابق Chain of Custody کی بنیاد

1. کیا آپ متعلقہ تھانے کے انچارج مالخانہ ہیں؟
2. کیا آپ نے مقدمہ کی ضبط شدہ پراپرٹی وصول کی؟
3. تاریخ، وقت اور مقام بتائیں۔
4. کیا اس کا اندراج رجسٹر نمبر XIX میں کیا گیا؟
5. رجسٹر کا Serial Number کیا ہے؟
6. کیا رجسٹر عدالت میں پیش کیا گیا ہے؟
7. کیا اس اندراج کی مصدقہ نقل موجود ہے؟
8. کیا لیبارٹری بھیجنے سے پہلے Road Certificate (Form 10.17 / Rule 22.72) تیار کیا گیا؟
9. روڈ سرٹیفکیٹ نمبر کیا ہے؟
10. نمونے لے جانے والے اہلکار کا نام کیا ہے؟
11. وہ کس تاریخ اور وقت روانہ ہوا؟
12. کیا اس کی روانگی اور واپسی دونوں کا اندراج رجسٹر میں موجود ہے؟
13. کیا لیبارٹری سے واپسی پر نیا روڈ سرٹیفکیٹ تیار کیا گیا؟
14. کیا مقدمہ کی پراپرٹی کی ہر نقل و حرکت کا مکمل دستاویزی ریکارڈ عدالت میں موجود ہے؟

انتہائی اہم سوال

15. اگر رجسٹر XIX اور روڈ سرٹیفکیٹ عدالت میں موجود نہیں تو کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ محفوظ تحویل (Chain of Custody) دستاویزی طور پر ثابت نہیں کی جا سکتی؟

⸻

اہم عدالتی نکتہ

اگر گواہ زبانی یادداشت سے جواب دے تو فوراً اعتراض کریں:

“جناب والا! آرٹیکل 102 قانونِ شہادت کے مطابق جب دستاویزی ثبوت موجود ہونا چاہیے تو زبانی شہادت ناقابلِ قبول ہے۔ پہلے متعلقہ رجسٹر اور روڈ سرٹیفکیٹ پیش کیے جائیں۔”

⸻

حصہ سوم

فرانزک / PFSA / Chemical Examiner سے جرح

1. پارسل آپ کو کس شخص نے فراہم کیا؟
2. کیا اس کے ساتھ Road Certificate موجود تھا؟
3. اس کا نمبر کیا تھا؟
4. پارسل وصول کرتے وقت کیا مہر صحیح اور سالم حالت میں تھی؟
5. کیا آپ نے Sample Seal کا موازنہ کیا؟
6. وصولی کا اندراج کس رجسٹر میں کیا گیا؟
7. کیا وہ رجسٹر عدالت میں موجود ہے؟
8. تجزیہ مکمل ہونے کے بعد پارسل کس کے حوالے کیا؟
9. واپسی کے روڈ سرٹیفکیٹ کا نمبر کیا تھا؟
10. کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ Road Certificate یا Chain of Custody کے کسی بھی مرحلے کی عدم موجودگی نمونے کی Integrity پر سوال اٹھا دیتی ہے؟
11. کیا یہی اصول سپریم کورٹ نے 2025 SCMR 923 میں اختیار کیا ہے؟

⸻

حصہ چہارم

ناقص اور نامکمل تفتیش

سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ محض ایک مبینہ پیڈلر کی گرفتاری مؤثر تفتیش نہیں۔

مندرجہ ذیل سوالات اس خامی کو نمایاں کرتے ہیں:

1. کیا آپ نے معلوم کیا کہ منشیات کا اصل سپلائر کون تھا؟
2. کیا آپ نے خریدار یا وصول کنندہ کی نشاندہی کی؟
3. کیا کسی بڑے نیٹ ورک کا سراغ لگایا گیا؟
4. کیا موبائل فون، کال ریکارڈ یا ڈیجیٹل شواہد حاصل کیے گئے؟
5. کیا بینک اکاؤنٹس اور مالی لین دین کی جانچ کی گئی؟
6. کیا دفعہ 26 CNSA کے تحت اثاثوں اور جائیداد کی تحقیقات کی گئیں؟
7. کیا کسی شریک ملزم کو گرفتار کیا گیا؟
8. کیا کسی منشیات فروش گروہ یا مینوفیکچرر تک پہنچنے کی کوشش کی گئی؟
9. اگر نہیں، تو کیا آپ تسلیم کرتے ہیں کہ تفتیش صرف ایک شخص کی گرفتاری تک محدود رہی؟

⸻

سپریم کورٹ کے فیصلے 2025 SCMR 923 سے اخذ کردہ تین مضبوط قانونی اعتراضات

1۔ آرٹیکل 102 قانونِ شہادت

“جناب والا! استغاثہ Chain of Custody زبانی شہادت سے ثابت کرنا چاہتا ہے جبکہ قانون دستاویزی ثبوت کا تقاضا کرتا ہے۔ رجسٹر نمبر XIX، روزنامچہ اور Road Certificate پیش کیے بغیر زبانی شہادت قابلِ قبول نہیں۔”

⸻

2۔ آرٹیکل 129(g) قانونِ شہادت

“استغاثہ نے وہ دستاویزات پیش نہیں کیں جو اس کے قبضے میں تھیں، لہٰذا عدالت منفی مفروضہ قائم کر سکتی ہے کہ اگر یہ ریکارڈ پیش کیا جاتا تو وہ استغاثہ کے مؤقف کے خلاف ہوتا۔”

⸻

3۔ محفوظ تحویل (Chain of Custody) ثابت نہ ہونا

“استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ برآمد شدہ منشیات برآمدگی سے لے کر فرانزک تجزیہ اور عدالت میں پیش ہونے تک ہر مرحلے پر محفوظ اور غیر تبدیل شدہ حالت میں رہیں۔ لہٰذا فرانزک رپورٹ اپنی قانونی اہمیت کھو دیتی ہے۔”

⸻

سنہری اصول (Golden Rule of Cross-Examination)

سوال ہمیشہ مختصر، واضح اور Leading ہوں۔
ہر سوال کا جواب صرف “ہاں” یا “نہیں” تک محدود رکھیں۔
گواہ کو غیر ضروری وضاحت دینے کا موقع نہ دیں۔
جہاں ممکن ہو گواہ کو متعلقہ دستاویز دکھا کر سوال کریں۔
اگر دستاویز موجود نہ ہو تو فوراً اعتراض ریکارڈ کروائیں۔

⸻

جرح کا فیصلہ کن سوال

آخر میں گواہ سے لازماً یہ اقرار ریکارڈ کروانے کی کوشش کریں:

“میں تسلیم کرتا ہوں کہ رجسٹر نمبر XIX، متعلقہ Road Certificate، اور Chain of Custody ثابت کرنے والی تمام دستاویزات معزز عدالت میں پیش نہیں کی گئیں۔

📣○SUMMER VACATIONS NOTIFIACTION○🏦📚🖋️MK LAW FIRM📚🖋️🏦 Will Remain closed🔒 for next 15 days  from 1 of AUG 2026 to 15 of AU...
01/08/2026

📣○SUMMER VACATIONS NOTIFIACTION○

🏦📚🖋️MK LAW FIRM📚🖋️🏦

Will Remain closed🔒 for next 15 days from 1 of AUG 2026 to 15 of AUG 2026 due Scheduled court vacations.

Note:-🛑

《《Only urgent matters will be entertained in off days》》.

{FOR ANY QUERY CONTACT US }⤵️

🪀+92-311-432-16-79
📱+92-321-657-94-91

Stay safe yourself from frightful polluted Air.

◇Keep enjoying your time◇

THANK YOU ♧

MK LAW FIRM

( ~```_ADVOCATES, LEGAL CONSULTANTS, TAXATION & CORPORATE LAW```~ )_

OFFICE # 8, 2ND FLOOR, HD TOWER, 3-FANE ROAD, LAHORE.

24/07/2026

Dear,

Income Tax Return filing for Tax Year 2026 will open from Monday, 27 July 2026. All taxpayers are advised to file their returns accurately & honestly, ensuring that all declared information is true & correct. Timely & truthful compliance strengthens the tax system for everyone.

MK LAW FIRM.

27/05/2026
ادھار دی ہوئی رقم 406 کے زمرے میں نہیں آتی-سپریم کورٹ آف پاکستان نے FIR خارج کر دی-2025 SCMR 1117
27/02/2026

ادھار دی ہوئی رقم 406 کے زمرے میں نہیں آتی-
سپریم کورٹ آف پاکستان نے FIR خارج کر دی-
2025 SCMR 1117

2025 CLC 1158ہبہ کو ثابت کرنے کے لیے آٹھ لازمی شرائطہائی کورٹعدالتِ عالیہ کے سامنے ایک ایسا مقدمہ آیا جس میں ایک بھائی ن...
24/02/2026

2025 CLC 1158

ہبہ کو ثابت کرنے کے لیے آٹھ لازمی شرائط
ہائی کورٹ

عدالتِ عالیہ کے سامنے ایک ایسا مقدمہ آیا جس میں ایک بھائی نے اپنے والد کی جائیداد سے بہن کو اس کے شرعی حق سے محروم کرنے کے لیے ہبہ (Gift) کا جعلی دعویٰ کیا۔ ابتدائی عدالت اور اپیلٹ کورٹ نے بھائی کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے فیصلہ اس کے حق میں دے دیا، تاہم ہائی کورٹ نے دونوں فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بہن کے حق میں فیصلہ صادر کیا۔

عدالتِ عالیہ نے واضح کیا کہ جو فریق کسی معاملے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہو، اسی پر اس معاملے کو ثابت کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ چونکہ بھائی ہبہ کا بینیفشری تھا، اس لیے اس پر لازم تھا کہ وہ ہبہ کو قانونی اور قابلِ اعتماد شہادت سے ثابت کرے۔

عدالت نے قرار دیا کہ کسی بھی ہبہ کو قانونی طور پر ثابت کرنے کے لیے درج ذیل آٹھ بنیادی شرائط کا پورا ہونا ناگزیر ہے:

1. ایجاب (Offer): ہبہ کرنے والے کی جانب سے واضح اور غیر مبہم اعلان۔

2. قبول (Acceptance): ہبہ لینے والے کی جانب سے صریح قبولیت۔

3. قبضہ (Delivery of Possession): جائیداد کا حقیقی قبضہ ہبہ لینے والے کے سپرد ہونا۔

4. ہبہ کنندہ کی نیت (Donor’s Intention): ہبہ خلوصِ نیت پر مبنی ہو، فراڈ یا فریب پر نہیں۔

5. آزادیٔ ارادہ (Free Consent): ہبہ کسی دباؤ، جبر یا دھوکے کے بغیر کیا گیا ہو۔

6. گواہان کی موجودگی (Witnesses): ایجاب و قبول معتبر گواہوں کے روبرو ہوا ہو۔

7. محکمہ مال میں درست اندراج (Mutation in Revenue Record): لینڈ ریونیو ایکٹ کے مطابق انتقال کا اندراج کیا گیا ہو۔

8. شہادت میں مطابقت (Consistency in Evidence): گواہان کے بیانات اور سرکاری ریکارڈ میں کوئی تضاد موجود نہ ہو۔

عدالت کے مشاہدات کے مطابق بھائی کے پیش کردہ گواہوں کے بیانات آپس میں متضاد تھے۔ روزنامچہ واقعاتی (Roznamcha Waqiati) اور ایجاب و قبول کے وقت کے بارے میں بھی واضح تضاد پایا گیا۔ مزید یہ کہ بیٹے کی بطور گواہ شہادت ناقابلِ قبول قرار دی گئی کیونکہ وہ ایجاب و قبول کے وقت موجود ہی نہیں تھا۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ لینڈ ریونیو ایکٹ، 1967 کی دفعہ 42 کے تحت انتقال کا عوامی اعلان (Public Attestation) ثابت نہیں کیا جا سکا، جو ہبہ کے قانونی ثبوت کے لیے ایک لازمی تقاضا ہے۔

2025 CLC 1158

Eight Essential Ingredients Required to Prove a Valid Gift
High Court

The High Court dealt with a case in which a brother, in order to deprive his sister of her lawful Islamic share in their father’s property, put forward a false and fabricated claim of gift (Hiba). The trial court as well as the appellate court had decided the matter in favour of the brother. However, the High Court set aside both judgments and decreed the suit in favour of the sister.

The Court observed that the burden of proof lies upon the party who seeks to derive benefit from a particular fact. Since the brother was the beneficiary of the alleged gift, it was incumbent upon him to establish the gift through credible and lawful evidence.

The High Court held that for a gift to be legally proved, the following eight essential ingredients must be strictly fulfilled:

1. Offer: A clear and unequivocal declaration by the donor.

2. Acceptance: An explicit acceptance by the donee.

3. Delivery of Possession: Actual transfer of possession of the property to the donee.

4. Donor’s Intention: The gift must be genuine and bona fide, free from fraud or deception.

5. Free Consent: The gift must be made voluntarily, without coercion, undue influence, or misrepresentation.

6. Witnesses: The offer and acceptance must take place in the presence of credible witnesses.

7. Mutation in Revenue Record: Proper mutation must be sanctioned in accordance with the Land Revenue Act.

8. Consistency in Evidence: There must be no contradiction between the statements of witnesses and the official revenue record.

While evaluating the evidence, the Court found that the statements of the witnesses produced by the brother were mutually contradictory. Clear inconsistencies were also noticed regarding the Roznamcha Waqiati and the timing of offer and acceptance. Furthermore, the testimony of the son was held to be unreliable and inadmissible, as he was not present at the time of the alleged offer and acceptance.

The Court further held that the mandatory requirement of public attestation of mutation under Section 42 of the Land Revenue Act, 1967, was not proved, rendering the alleged gift legally unsustainable.

It is settled law that closing the right of evidence and dismissal of a suit under Order XVII Rule 3 CPC, without adhere...
05/02/2026

It is settled law that closing the right of evidence and dismissal of a suit under Order XVII Rule 3 CPC, without adherence to due process and without affording a meaningful and effective opportunity to the defaulting party, is neither legally sustainable nor in consonance with the settled principles of natural justice. Such an approach is impermissible particularly where evidence has already been brought on record or where the party or its witness is present and willing to proceed.
It is also settled law that procedural law is intended to advance the cause of justice and not to punish a litigant by denying adjudication on merits. Any exercise of power under qaOrder XVII Rule 3 CPC which results in shutting out a party without examining the evidence already tendered amounts to a misapplication of jurisdiction. In the present case, where the appellant’s witness had already tendered his affidavit in evidence along with documentary record and was admittedly present before the learned Trial Court on the relevant date, the Court, while applying provisions of Order XVII Rule 3 CPC, was legally obligated to ask him to come for cross-examination and should also record such fact in its order (order sheet) that a chance was given to the litigant which he had not availed. The outright discarding of such evidence, closure of the right to produce remaining evidence, and dismissal of the suit under Order XVII Rule 3 CPC clearly runs afoul of the law laid down by the Hon’ble Supreme Court in the case reported as Syed Tahir Hussain Mehmoodi and other v. Agha Syed Liaqat Ali and others (2014 SCMR 637).

The right to fair trial and due process for the determination of civil rights and obligations is a settled constitutional command enshrined in Article 10-A of the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, 1973.
RFA No.66044 of 2025 Sui Northern Gas Pipelines Limited Versus M/s Value CNG
Date of hearing:12.01.2026.
2026LHC53

Address

HD TOWER 2ND FLOOR, OFFICE # 8, 3-FANE Road LAHORE
Lahore
55500

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923216579491

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M.K LAW FIRM posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to M.K LAW FIRM:

Shortcuts

Share