25/06/2026
آیا ضامن عدالت میں جمع کروائے گئے اپنے ضمانت نامے کو بعد ازاں یکطرفہ طور پر واپس لے سکتے ہیں یا نہیں۔ عدالت نے واضح طور پر قرار دیا کہ ضامن ایسا نہیں کر سکتے۔
اہم قانونی نکات:
1۔ رضاکارانہ ذمہ داری اور عدالتی عہد
ضامنوں نے اپنی آزاد مرضی سے عدالت کے روبرو ضمانتی نامے جمع کروائے اور واضح طور پر یہ ذمہ داری قبول کی کہ اگر اصل قرض دار (Judgment Debtor) ڈکری کی رقم ادا نہ کرے تو وہ خود اس رقم کی ادائیگی کے پابند ہوں گے۔ یہ محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ عدالت کے سامنے دیا گیا ایک قانونی اور قابلِ نفاذ عہد تھا۔
2۔ ضامن کی ذمہ داری اصل مقروض کے مساوی ہے
معاہدہ ایکٹ، 1872 کی دفعہ 128 کے مطابق ضامن کی ذمہ داری اصل قرض دار کی ذمہ داری کے ساتھ ہم رتبہ (Co-extensive) ہوتی ہے۔ لہٰذا ڈکری ہولڈر اصل قرض دار کے خلاف تمام ذرائع آزمانے کا پابند نہیں اور وہ براہِ راست ضامنوں سے بھی رقم وصول کر سکتا ہے۔
3۔ ضمانت کی یکطرفہ واپسی کا کوئی حق موجود نہیں
قانون ضامن کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ عدالت کی جانب سے ضمانت قبول کیے جانے کے بعد محض اپنی مرضی یا ارادہ تبدیل ہونے کی بنیاد پر وہ اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہو جائے۔ معاہدہ ایکٹ کی دفعہ 130، جو بعض صورتوں میں مسلسل یا مستقبل کی ضمانت (Continuing Guarantee) کی واپسی سے متعلق ہے، ایسے عدالتی ضمانتی ناموں پر لاگو نہیں ہوتی جن کے تحت ذمہ داری پہلے ہی متعین اور حتمی ہو چکی ہو۔
4۔ عدالتی وعدوں اور یقین دہانیوں کا تقدس
عدالتی نظام اس اصول پر قائم ہے کہ عدالت کے روبرو دی گئی یقین دہانیاں اور وعدے پورے کیے جائیں گے۔ اگر ضامنوں کو بعد ازاں اپنی ذمہ داری سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہونے کی اجازت دے دی جائے تو عملدرآمد (Ex*****on) کی کارروائی غیر مؤثر ہو جائے گی اور ڈکری ہولڈر کے حقوق شدید متاثر ہوں گے۔
5۔ قانون میں کوئی استثنا موجود نہیں
نہ معاہدہ ایکٹ، 1872 اور نہ ہی ضابطہ دیوانی (C.P.C.) میں کوئی ایسی شق موجود ہے جو عدالت کی جانب سے قبول شدہ ضمانتی نامے سے ضامن کو یکطرفہ طور پر دستبردار ہونے کا اختیار دیتی ہو۔ ایسی ذمہ داری صرف قانون کے مطابق یا کسی جائز قانونی بنیاد پر ہی ختم ہو سکتی ہے۔
خلاصۂ فیصلہ
جب کوئی شخص ڈکری کی ادائیگی کے لیے عدالت میں ضامن بنتا ہے اور عدالت اس ضمانت کو قبول کر لیتی ہے تو وہ محض درخواست دے کر یا اپنا ارادہ تبدیل کر کے اس ذمہ داری سے بری نہیں ہو سکتا۔ ضامن اپنی ذمہ داری سے صرف اسی صورت میں آزاد ہو سکتا ہے جب قانون یا معاہدے کی شرائط کے تحت اسے باقاعدہ طور پر ڈسچارج کیا جائے۔
Mukhtar Law Firm
0321.9463261