Mukhtar Law Firm

Directions

Mukhtar Law Firm Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mukhtar Law Firm, Legal, BM Building, Opposite Family Hospital, 4/Mozang Road, Lahore.

مشترکہ جائیداد کے مالکان کیلئے - لاہور ہائی کورٹ ( بنچ) نے ایک نہایت اہم قانونی نکتہ واضح کر دیا ہے جو ہزاروں مشترکہ جائ...
21/09/2026

مشترکہ جائیداد کے مالکان کیلئے - لاہور ہائی کورٹ ( بنچ) نے ایک نہایت اہم قانونی نکتہ واضح کر دیا ہے جو ہزاروں مشترکہ جائیدادوں کے مقدمات پر اثر انداز ہوتا ہے-

کیا مشترکہ جائیداد (Joint Property) کا کوئی ایک شریک مالک
بغیر تقسیم (Partition) کروائے
دوسرے شریک کے خلاف
مستقل حکمِ امتناع (Permanent Injunction) کا دعویٰ دائر کر سکتا ہے؟اور سٹے لے سکتا ؟

عدالت کا واضح جواب:

ہاں، کر سکتا ہے — مگر مخصوص حالات میں۔

ہر شریک مالک، مشترکہ جائیداد کے ہر انچ کا مالک ہوتا ہے جب تک باقاعدہ تقسیم نہ ہو جائے۔
کوئی بھی شریک:
• جائیداد کی نوعیت تبدیل نہیں کر سکتا
• تعمیرات نہیں کر سکتا
• دوسرے شریک کے حقوق کو نقصان نہیں پہنچا سکتا
جب تک باقی شرکاء کی رضامندی یا باقاعدہ تقسیم موجود نہ ہو۔

اگر کوئی شریک:

زبردستی تعمیر کرے
زمین کا استعمال بدل دے
دوسرے شریک کو نقصان پہنچائے

تو متاثرہ شریک براہِ راست Injunction کا مقدمہ دائر کر سکتا ہے-
Partition
پہلے کروانا لازمی شرط نہیں

لیکن اگر؟

صرف ملکیت یا قبضے کا تنازع ہو
کسی نے جائیداد کی نوعیت نہیں بدلی

تو پھر Partition Suit ہی مناسب راستہ ہوگا۔

اگر آپ مشترکہ زمین کے مالک ہیں اور دوسرا شریک
ناجائز تعمیر
زمین کا غلط استعمال
نوعیت میں تبدیلی
کر رہا ہے — تو آپ بغیر Partition بھی عدالت جا سکتے ہیں۔

مشترکہ زمین پر زبردستی تعمیر اب نہیں.

Mukhtar Law Firm
0321.9463261

سپریم کورٹ کا خلع اور ظلم کی بنیاد پر تنسیخ نکاح سے متعلق تاریخی فیصلہPLJ 2026 SC 406Mst. Selab Akhtar Vs Quwat KhanCPLA...
21/09/2026

سپریم کورٹ کا خلع اور ظلم کی بنیاد پر تنسیخ نکاح سے متعلق تاریخی فیصلہ
PLJ 2026 SC 406

Mst. Selab Akhtar Vs Quwat Khan
CPLA No. 4792 of 2025 - فیصلہ 06 جنوری 2026
بنچ: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس شاہد بلال حسن، جسٹس شکیل احمد

پس منظر کیس:
فریقین کی شادی 19.09.2016 کو تحصیل مٹہ ضلع سوات میں شریعت محمدی کے مطابق ہوئی، 30 تولہ سونا حق مہر مقرر ہوا۔ بیوی کا موقف تھا کہ شوہر اور سسرال نے ظلم، جبر، ذہنی اذیت اور تشدد کا نشانہ بنایا اور گھر سے نکال دیا۔
بیوی نے فیملی کورٹ سوات میں دعویٰ دائر کیا: 1) ظلم کی بنیاد پر تنسیخ نکاح، 2) 30 تولہ حق مہر کی واپسی، 3) نان نفقہ۔
فیملی کورٹ نے 29.06.2019 کو فیصلہ دیا: ظلم ثابت نہیں ہوا لیکن عدالت نے خود ہی نکاح کو *خلع کی بنیاد پر* ختم کر دیا۔ اور کہا کہ 10 تولہ بیوی پہلے ہی وصول کر چکی ہے، باقی 20 تولہ خلع کے تحت واپس کرنا ہوگا۔ صرف عدت کا خرچ 5000 روپے ماہانہ دیا، ماضی کا نان نفقہ خارج۔
اپیلٹ کورٹ اور پھر پشاور ہائیکورٹ مینگورہ بنچ (22.09.2025) نے بھی یہی فیصلہ برقرار رکھا۔ جس پر بیوی نے سپریم کورٹ میں اپیل کی۔

سپریم کورٹ کے سامنے بنیادی سوال:
کیا جب بیوی ظلم کی بنیاد پر خلع کا دعویٰ کرے اور ظلم ثابت نہ کر سکے، تو کیا فیملی کورٹ اسے زبردستی خلع پر مجبور کر کے اس کا حق مہر ضبط کر سکتی ہے؟

سپریم کورٹ نے قرار دیا:

1. ظلم اور خلع میں مالی فرق بہت بڑا ہے:
اگر ظلم ثابت ہو جائے تو بیوی کو پورا حق مہر ملتا ہے اور اسے معاف نہیں کرنا پڑتا۔ لیکن اگر خلع کی بنیاد پر نکاح ختم ہو تو بیوی کو حق مہر واپس کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے عدالت بیوی کے دعویٰ کو میکینکل طور پر خلع میں تبدیل نہیں کر سکتی۔ اس سے بیوی کے قیمتی مالی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔

2. خلع بیوی کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا:
سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلوں _Ibrahim Khan vs Mst. Saima Khan (PLD 2024 SC 645)_ اور _Dr. Faryal Maqsood vs Khurram Shehzad Durrani (PLD 2025 SC 262)_ کا حوالہ دے کر کہا:
خلع ایک الگ قانونی راستہ ہے جو بیوی کے واضح اور رضاکارانہ فیصلے پر مبنی ہے۔ اگر بیوی نے صرف ظلم کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے تو عدالت کو اس سے *واضح طور پر پوچھنا ہوگا* کہ کیا وہ ظلم والا دعویٰ چھوڑ کر خلع لینا چاہتی ہے؟ اس کی باخبر اور آزاد مرضی معلوم کرنا ضروری ہے۔

3. اگر نکاح ناقابل تلافی حد تک ٹوٹ چکا ہو تو کیا ہوگا؟
عدالت نے کہا کہ حقیقت سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں۔ اگر:
- ظلم قانون کے مطابق ثابت نہ ہو
- لیکن شادی حقیقت میں مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہو، میاں بیوی الگ رہ رہے ہوں، نفرت بڑھ چکی ہو اور بیوی واپس جانے سے صاف انکار کر رہی ہو
تو عدالت زبردستی ان کو ساتھ رہنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ ایسی صورت میں عدالت کو بیوی کو *آپشن (Choice)* دینا چاہیے کہ وہ اپنا دعویٰ واپس لے یا قانونی شرائط پر خلع قبول کر لے۔ مردہ رشتے کو صرف کاغذوں میں زندہ نہیں رکھا جا سکتا۔

4. ظلم کا مطلب اب صرف جسمانی تشدد نہیں:
سپریم کورٹ نے وضاحت کی کہ ظلم کا دائرہ اب بہت وسیع ہو چکا ہے۔ اس میں شامل ہے:
مسلسل تذلیل، جذباتی تشدد، جبر، کنٹرول، محرومی، بے عزتی اور ایسا رویہ جس سے ساتھ رہنا ناقابل برداشت ہو جائے۔ ذہنی ظلم بھی ظلم میں شامل ہے۔

*5. ثبوت کا معیار:*
فیملی کیسز میں ثبوت کا معیار _Preponderance of Probabilities_ ہے، یعنی فوجداری مقدمات کی طرح سخت ثبوت کی ضرورت نہیں۔ حالات، رویہ اور ریکارڈ کو دیکھا جائے گا۔

موجودہ کیس میں سپریم کورٹ کا حکم:
سپریم کورٹ نے اس نکتے کو بہت اہم قرار دیا کہ فیملی کورٹ نے بیوی سے اس کی واضح مرضی معلوم کیے بغیر اس کا دعویٰ خلع میں بدل کر اس کا 20 تولہ حق مہر ضبط کر لیا، جو درست نہیں۔

یہ فیصلہ تمام فیملی وکلاء اور خلع کے کیسز کے لیے ایک رہنما فیصلہ ہے۔

مزید اہم قانونی فیصلوں اور اپڈیٹس کے لیے ہمارے پیج کو فالو کریں۔

Mukhtar Law Firm
0321.9463261

30 روپے کا شاپنگ بیگ, معروف برینڈ کھاڈی کو عدالت نے  50 ہزار کا جرمانہ و معاوضہ صارف کو ادا کرنے کا حکم دے دیا ۔کنزیومر ...
18/09/2026

30 روپے کا شاپنگ بیگ, معروف برینڈ کھاڈی کو عدالت نے 50 ہزار کا جرمانہ و معاوضہ صارف کو ادا کرنے کا حکم دے دیا ۔

کنزیومر پروٹیکشن کورٹ نے معروف برانڈ کھاڈی (Khaadi) کے خلاف ایک صارف کی شکایت منظور کرکے کھاڈی کو حکم دیا ،

کیس میں کیا ہوا؟
عدالت کے مطابق صارف نے 20 دسمبر 2025 کو کھاڈی کے آؤٹ لیٹ سے تقریباً 7,000 روپے کے کپڑے خریدے۔ خریداری کے ساتھ برانڈ کے لوگو والا شاپنگ بیگ 30 روپے میں دیا گیا

صارف نے اس 30 روپے چارج کے خلاف کنزیومر کورٹ سے رجوع کیا

عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ بیگ پر کمپنی کا برانڈ لوگو موجود تھا، اس لیے وہ صرف صارف کی سہولت کے لیے نہیں بلکہ برانڈ کی تشہیر کے لیے بھی استعمال ہو رہا تھا۔ عدالت کے مطابق ایسے حالات میں صارف سے اضافی رقم وصول کرنا Unfair Trade Practice کے زمرے میں آتا ہے

عدالت نے کھاڈی کو حکم دیا کہ:

صارف سے وصول کیے گئے 30 روپے واپس کیے جائیں
صارف کو 25,000 روپے بطور معاوضہ (Compensation) ادا کیے جائیں
حکومت کو 25,000 روپے جرمانہ (Fine) ادا کیا جائے

یعنی صرف 30 روپے کے بیگ کے تنازع پر مجموعی طور پر 50,030 روپے کی مالی ذمہ داری عائد ہوئی

فیصلہ: 16 ستمبر 2026
⚖️ عدالت: Consumer Protection Court,
👨‍⚖️ جج: نصیر اللہ خان

Mukhtar Law Firm
0321.9463261

1۔کیا ضابطہ فوجداری (Cr.P.C) کی دفعہ 491 کے تحت عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ بچے کی تحویل والدہ کو دیتے وقت سخت شرائ...
08/09/2026

1۔کیا ضابطہ فوجداری (Cr.P.C) کی دفعہ 491 کے تحت عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ بچے کی تحویل والدہ کو دیتے وقت سخت شرائط اور بندشیں عائد کرے؟
2۔ کیا ایڈیشنل سیشن جج کے اس حکم کو آئینی دائرہ اختیار میں چیلنج کیا جا سکتا ہے؟
3۔دفعہ 491 اور گارڈین کورٹ کے اختیارات میں کیا فرق ہے؟

کیس کا پس منظر
* سائلہ (Petitioner): مسماۃ مصباح بی بی
* مخالف فریق (Respondent): ایڈیشنل سیشن جج وغیرہ (بشمول بچے کے والد)
* جج: جسٹس اسد علی باجوہ
* معاملہ: سائلہ (والدہ) نے ایڈیشنل سیشن جج شیخوپورہ کے ایک حکم کے خلاف ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی۔ سیشن جج نے ایک سال کے بچے کی عبوری تحویل (Custody) والدہ کے حوالے کرتے وقت دو شرطیں عائد کی تھیں:
* والدہ 7 لاکھ روپے کا مچلکہ (Surety Bond) جمع کروائے۔
* والدہ بچے کو عدالت کی علاقائی حدود (Territorial Jurisdiction) سے باہر نہیں لے جائے گی (سوائے صحت کی ہنگامی صورتحال کے)۔
والدہ کیونکہ اپنے والدین کے ساتھ ضلع حافظ آباد میں رہ رہی تھی، اس لیے شیخوپورہ کی حدود سے باہر نہ جانے کی شرط ان کے لیے انتہائی دشوار تھی۔
عدالت کے سامنے اہم سوال
کیا ضابطہ فوجداری (Cr.P.C) کی دفعہ 491 (جس کے تحت حبسِ بے جا سے آزادی دلائی جاتی ہے) کے تحت عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ بچے کی تحویل والدہ کو دیتے وقت ایسی سخت شرائط اور بندشیں عائد کرے؟
ہائی کورٹ کا فیصلہ اور قانونی نکات
1. درخواست کا قابلِ سماعت ہونا (Maintainability):
مخالف فریق نے اعتراض اٹھایا کہ یہ درخواست قابلِ سماعت نہیں ہے۔ عدالت نے اعتراض رد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کیونکہ سیشن جج کے اس حکم کے خلاف کوئی دوسرا متبادل راستہ/علاج دستیاب نہیں تھا، اس لیے آئینی درخواست (Constitutional Petition) مکمل طور پر قابلِ سماعت ہے۔
2. دفعہ 491 اور گارڈین کورٹ کے اختیارات میں فرق:
* دفعہ 491 Cr.P.C ایک عارضی اور ہنگامی اقدام (Stop-gap arrangement) ہوتا ہے تاکہ بچے کو فوری طور پر غیر قانونی قبضے سے نکال کر اس کے اصل حقدار (والدہ) کے حوالے کیا جا سکے۔
* بچے کی مستقل تحویل یا اس سے متعلق طویل المدتی فیصلے کرنا گارڈین کورٹ (Guardians and Wards Act, 1890) کا دائرہ اختیار ہے۔ سیشن جج دفعہ 491 کے تحت سنتے ہوئے گارڈین جج کا نقش دھار کر اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کر سکتا۔
3. آزادی اور نقل و حرکت پر غیر قانونی پابندی:
* جب ایک بار عدالت نے تسلیم کر لیا کہ ایک سال کے شیر خوار بچے کی تحویل کے لیے ماں ہی موزوں ترین شخص ہے، تو اس کے بعد ماں پر 7 لاکھ روپے کا بھاری مچلکہ اور شہر چھوڑنے پر پابندی لگانا آئینِ پاکستان کے تحت ملنے والی بنیادی آزادیوں پر بلاجواز قدغن ہے۔
* ایسی سخت شرائط کا دفعہ 491 کے ہنگامی مقاصد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
4. فیصلہ (Final Decision):
لاہور ہائی کورٹ نے سائلہ کی درخواست منظور کر لی اور ایڈیشنل سیشن جج شیخوپورہ کی عائد کردہ دونوں شرائط (7 لاکھ روپے کا مچلکہ اور علاقائی حدود نہ چھوڑنے کی پابندی) کو کالعدم (Set Aside) قرار دے دیا۔
حاصلِ کلام (Bottom Line)
دفعہ 491 Cr.P.C کے تحت جب بچے کی عارضی تحویل ماں کو دی جاتی ہے، تو عدالتیں اس پر ایسی شرائط یا سفری پابندیاں نہیں لگا سکتیں جو اس کی عام زندگی اور نقل و حرکت کی آزادی کو سلب کریں۔ اگر بچے کے والد کو کوئی خدشہ ہو، تو وہ اس کے لیے متعلقہ گارڈین کورٹ سے رجوع کر سکتا ہے۔

Mukhtar Law Firm
0321.9463261

اگر نابالغ کا باپ یا دادا اسکا نام ونفقہ ادا کرنے کی بالکل استطاعت نہ رکھتا ہو تو عدالت کو کیا کرنا چاہیے؟سپریم کورٹ نے ...
08/09/2026

اگر نابالغ کا باپ یا دادا اسکا نام ونفقہ ادا کرنے کی بالکل استطاعت نہ رکھتا ہو تو عدالت کو کیا کرنا چاہیے؟
سپریم کورٹ نے ہدایات جاری کی ہیں کہ مناسب طریقہ یہ ہوگا کہ متعلقہ شخص کا معاملہ غور کے لیے بیت المال کو بھیج دیا جائے۔ اس کے بعد بیت المال اپنی قابل اطلاق پالیسی اور اہلیت کے معیار کے مطابق درخواست دہندہ کے حالات کا جائزہ لے سکتا ہے، اور مناسب امداد کی حد کا تعین کر سکتا ہے
Accordingly, for future cases, where circumstances disclosed before a Court appear to warrant recourse to Bait-ul-Mal, the appropriate course would be to refer the case of the person concerned to Bait-ul-Mal for consideration. Bait-ul-Mal may thereafter facilitate the making of the necessary application, assess the circumstances of the applicant in accordance with the applicable policy and eligibility criteria, and determine the form and extent of assistance appropriate to the particular case. This course allows a Court to bring a deserving case within the reach of the welfare institution established to respond to it, without displacing the framework through which that institution is required to administer its assistance.
C.M.A.1477/2023
Pakistan Bait ul Mal Thr. Managing Director. Islamabad v. Raj Ram and others
Mr. Justice Yahya Afridi
24-08-2026

Mukhtar Law Firm
0321.9463261

07/09/2026

⚖️ سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ — وکیل کی غفلت کا خمیازہ فریق کو بھگتنا پڑ سکتا ہے
2026 SCMR 1033
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ صرف یہ مؤقف اختیار کرنا کہ وکیل نے مقدمے کی پیروی نہیں کی یا عدالت میں پیش نہیں ہوا، ہر صورت میں فریق کو قانونی ذمہ داری سے بری نہیں کرتا۔
عدالت کے مطابق ہر litigant کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مقدمے کی پیش رفت سے باخبر رہے۔ وکیل کی عام غفلت کو اصولاً موکل کی غفلت بھی تصور کیا جا سکتا ہے۔
📌 اہم اصول:
اگر Ex-parte decree ہو جائے تو اسے ختم کرانے کے لیے صرف وکیل کی غفلت کا عذر کافی نہیں؛ فریق کو Sufficient Cause ثابت کرنا ہوگا۔
البتہ اگر وکیل کی عدم حاضری ایسے حالات کی وجہ سے ہو جو اس کے اختیار سے باہر ہوں، مثلاً وفات، شدید معذوری یا دیگر Force Majeure حالات، تو عدالت ان حالات کو الگ طور پر دیکھ سکتی ہے
⚖️ قانونی مشورہ اور رہنمائی کے لیے رابطہ کریں

Mukhtar Law Firm
0321.9463261

⚖️ سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ | PLD 2026 SC 333_"سول کیس زیر التوا ہو تو بھی Illegal Dispossession Act 2005 کے تحت کارروائی...
07/09/2026

⚖️ سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ | PLD 2026 SC 333
_"سول کیس زیر التوا ہو تو بھی Illegal Dispossession Act 2005 کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے"_

السلام علیکم
جائیداد پر قبضے اور قبضہ گروپ کے خلاف متاثرین کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک تاریخی فیصلہ۔ عدالت نے واضح کر دیا کہ سول مقدمہ چل رہا ہو تب بھی 2005 ایکٹ کے تحت فوجداری شکایت قابل سماعت ہے۔ تفصیل حاضر ہے 👇

کیس کا خلاصہ:
کیس: QAISER JABBAR ---Petitioner
بمقابلہSyed MATI ULLAH SHAH and others ---Respondents
حوالہ: P L D 2026 Supreme Court 333-340
بنچ:Jamal Khan Mandokhail and Miangul Hassan Aurangzeb, JJ
کیس نمبر: Crl.P.L.A. No. 1121 of 2021
فیصلے کی تاریخ: 8th August, 2025
سماعت: 2nd June, 2025

واقعہ کیا تھا؟ [صفحہ 335-336]
1. پیٹیشنر کا موقف:
قیصر جبار اور ان کی اہلیہ نے اسلام آباد، موضع تمہ میں 16 کنال زمین 2015 اور 2018 کی رجسٹرڈ بیع اور انتقالات کے ذریعے خریدی۔ زمین کا انتظام گارڈ خالق داد کے سپرد تھا۔
2. الزام:
15.09.2020 کو جواب دہندہ نمبر 1 سید متی اللہ شاہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر غیر قانونی طور پر زمین پر قبضہ کر لیا۔ جواب دہندہ نے اپنے اس عمل کو 03.01.2020 کے معاہدے سے جواز پیش کیا۔
3. نچلی عدالتیں:
ایڈیشنل سیشن جج نے 30.04.2021 کو شکایت اس بنیاد پر خارج کر دی کہ فریقین غیر منقسم زمین کے شریک مالک ہیں اور سول مقدمہ زیر التوا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 23.08.2021 کو ریویژن بھی خارج کر دی۔

سپریم کورٹ کے 5 بڑے قانونی اصول
1. سول مقدمہ رُکاوٹ نہیں [صفحہ 333, 339]
Held: Illegal Dispossession Act 2005 کے تحت دائر شکایت اس وقت بھی قابل سماعت ہے جب فریقین کے درمیان سول کارروائی زیر التوا ہو۔
وجہ:
سول اور فوجداری ذمہ داری "Dual-trace" نوعیت کی ہیں۔ دونوں آزادانہ اور بیک وقت چل سکتی ہیں۔ صرف سول مقدمے کی موجودگی پر فوجداری شکایت کو خارج کرنا قانونی طور پر ناقابل جواز ہے۔

2. 2005 ایکٹ کا مقصد [صفحہ 337]
یہ ایک "Remedial Statute" ہے جس کا مقصد قانونی مالکان اور قابضین کو غیر قانونی اور اکثر پرتشدد قبضوں سے بچانا ہے۔ سیشن کورٹ کا دائرہ اختیار سول ٹائٹل کے پیچیدہ سوالات طے کرنا نہیں، بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ آیا غیر قانونی بے دخلی کا کیس بنتا ہے یا نہیں۔

3. 2005 ایکٹ کی دفعہ 3 کے 4 شرائط [صفحہ 337]
عدالت نے Mumtaz Hussain v. Dr. Nasir Khan 2010 SCMR 1254 کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا:
1. جائیداد غیر منقولہ ہو
2. شخص مالک ہو یا قانونی قبضے میں ہو
3. ملزم نے غیر قانونی طور پر داخلہ کیا ہو
4. داخلے کا مقصد بے دخل کرنا، نکالنا یا قبضے سے محروم کرنا ہو

4. شریک مالکی اور غیر منقسم زمین بہانہ نہیں [صفحہ 334, 339]
صرف اس وجہ سے کہ شکایت کنندہ اور ملزم غیر منقسم زمین کے شریک مالک ہیں، ٹرائل کورٹ اس سوال پر انکوائری سے انکار نہیں کر سکتی کہ آیا شکایت کنندہ کو بے دخل کیا گیا یا نہیں۔

5. ٹرائل کورٹ کی غلطی [صفحہ 334, 339-340]
ٹرائل کورٹ نے 19.12.2020 کے حکم میں پولیس سے جو رپورٹ مانگی تھی اس میں "قبضے" کا سوال جواب طلب نہیں تھا۔ رپورٹ میں بھی یہ واضح نہ تھا۔ ٹرائل کورٹ 2005 ایکٹ کی دفعہ 5(1) کے تحت مزید انکوائری کا حکم دے سکتی تھی لیکن اس نے صرف سول مقدمے کی بنیاد پر شکایت خارج کر دی۔ یہ "Jurisdictional Error" تھا۔

حتمی حکم [صفحہ 340]
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کے احکامات کو کالعدم قرار دیا۔
کیس کو ٹرائل کورٹ کو واپس بھیج دیا گیا اس ہدایت کے ساتھ کہ 2005 ایکٹ کی دفعات کے مطابق سختی سے کارروائی کرے اور یہ طے کرے کہ آیا پیٹیشنر کو پیرا-2 میں مذکور زمین سے بے دخل کیا گیا تھا یا نہیں۔
Petition converted into appeal and allowed. Case remanded.

عوام اور وکلاء کے لیے پیغام:
1. قبضہ گروپ کا دفاع ناکام:
اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ "سول کیس چل رہا ہے اس لیے 2005 ایکٹ نہیں لگے گا"۔
2. فوری ریلیف:
2005 ایکٹ سول پروسیس سے الگ، تیز اور مؤثر قانونی علاج فراہم کرتا ہے۔
3. قانون اپنے ہاتھ میں نہیں:
کوئی بھی مالک یا قانونی قابض کو غیر قانونی طور پر بے دخل کر کے بعد میں سول مقدمے کا بہانہ نہیں بنا سکتا۔

اس فیصلے کو شیئر کریں تاکہ ہر شخص اپنے جائیداد کے حق سے آگاہ ہو۔




Mukhtar Law Firm
0321.9463261

مسمات تبسم طاہرہ کی شادی فیاض احمد سے ہوئی تھی۔ دونوں میاں بیوی کے درمیان تعلقات کشیدہ تھے اور ان کے درمیان اکثر جھگڑا ر...
07/09/2026

مسمات تبسم طاہرہ کی شادی فیاض احمد سے ہوئی تھی۔ دونوں میاں بیوی کے درمیان تعلقات کشیدہ تھے اور ان کے درمیان اکثر جھگڑا رہتا تھا۔

25 فروری 2020ء کو تبسم طاہرہ نے فون پر شکایت کنندہ کو بتایا کہ اس کا اپنے شوہر کے ساتھ شدید جھگڑا ہوا ہے۔ شکایت کنندہ اپنی بہن کے گھر گئی تاکہ میاں بیوی کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو حل کیا جا سکے، اور پھر اسی گھر میں رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔

اگلی صبح تقریباً ساڑھے پانچ بجے گھر سے چیخ و پکار کی آوازیں آئیں۔ شکایت کنندہ، طلحہ فیاض اور زیبا فیاض واش روم کی طرف بھاگے۔

وہاں پہنچ کر انہوں نے دیکھا کہ مسز تبسم طاہرہ زمین پر پڑی ہوئی تھیں جبکہ ملزم فیاض احمد ان پر چھری سے متعدد وار کر رہا تھا۔

🏛️ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ

واقعے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا اور پولیس نے تفتیش مکمل کرکے چالان عدالت میں پیش کر دیا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے گیارہ گواہان پیش کیے۔

ملزم نے صحتِ جرم سے انکار کرتے ہوئے خود کو بے گناہ قرار دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ اسے جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔ تاہم اس نے اپنے دفاع میں نہ حلف پر اپنا بیان ریکارڈ کرایا اور نہ ہی کوئی زبانی یا دستاویزی ثبوت پیش کیا۔

ایڈیشنل سیشن جج، گجرات نے 31 جنوری 2023ء کو فیاض احمد کو قتلِ عمد کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی اور مقتولہ کے قانونی ورثاء کو چار لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا۔

⚔️ ہائیکورٹ میں ملزم کے اعتراضات

ملزم کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ مقدمہ درج کرنے میں چھ گھنٹے سے زیادہ تاخیر ہوئی، جبکہ مقتولہ کے پوسٹ مارٹم میں بھی تقریباً دس گھنٹے کی تاخیر ہوئی۔

یہ بھی مؤقف اپنایا گیا کہ شکایت کنندہ وقوعہ کے گھر کی رہائشی نہیں تھی اور مقتولہ کی بیٹی زیبا فیاض نے اپنی خالہ کے اثر و رسوخ میں آکر ملزم کے خلاف بیان دیا۔

دفاع نے طبی اور عینی شہادت میں مبینہ تضاد، مقتولہ کے کپڑوں پر چھری کے وار کے مطابق کٹ نہ ہونے اور استغاثہ کی جانب سے بعد میں کہانی تیار کیے جانے کا بھی مؤقف اختیار کیا۔

👧 ملزم کی اپنی بیٹی اہم گواہ بن گئی

مقدمے میں سب سے اہم گواہوں میں سے ایک زیبا فیاض، ملزم کی اپنی بیٹی تھی۔

عدالت نے قرار دیا کہ وہ وقوعہ کے وقت گھر میں موجود تھی اور ایک قدرتی گواہ تھی۔ دفاع یہ ثابت نہیں کر سکا کہ وہ وقوعہ کے وقت گھر میں موجود نہیں تھی۔

عدالت نے اس بات کو بھی اہم قرار دیا کہ ایک بیٹی کا اپنی ماں کے قتل کے مقدمے میں اپنے ہی والد کے خلاف جھوٹی گواہی دینا محض الزام کی بنیاد پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی گواہی کو عدالت نے قابلِ اعتماد اور سچائی پر مبنی قرار دیا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ قانونِ شہادت کے تحت بعض حالات میں ایک قابلِ اعتماد گواہ کی گواہی بھی کسی ملزم کی سزا کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔

🔪 طبی شہادت پر بھی عدالت نے وضاحت کی

دفاع کی جانب سے کہا گیا کہ ڈاکٹر نے بعض زخم ایسے بیان کیے جو بظاہر چھری سے لگنے والے زخم نہیں تھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ یہ کوئی قطعی اصول نہیں کہ چھری سے ایسے زخم پیدا نہیں ہو سکتے۔ زخم کی نوعیت چھری کی قسم، وزن اور جسم کے جس حصے پر وار کیا گیا ہو، اس پر منحصر ہو سکتی ہے۔

لہٰذا عدالت نے طبی اور عینی شہادت میں ایسا تضاد تسلیم نہیں کیا جو استغاثہ کے مقدمے کو مشکوک بنا دے۔

👕 مقتولہ کے کپڑوں پر کٹ کیوں نہیں تھے؟

دفاع نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ مقتولہ کے کپڑوں پر چھری کے وار کے مطابق کٹ موجود نہیں تھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ وقوعہ صبح تقریباً ساڑھے پانچ بجے واش روم میں پیش آیا تھا۔ اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ مقتولہ نہانے کے لیے اپنے کپڑے اتار چکی ہوں۔ ایسی صورت میں کپڑوں پر چھری کے کٹ نہ ہونا قابلِ فہم ہے۔

🩸 خون آلود چھری بھی برآمد ہوئی

ملزم کی نشاندہی پر ایک چھری برآمد ہوئی جس پر خون موجود تھا۔ فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ نے اس پر انسانی خون کی موجودگی کی تصدیق کی۔

عدالت نے اس شہادت کو بھی استغاثہ کے مؤقف کی تائید کرنے والا اہم قرینہ قرار دیا۔

🏭 ملزم نے کہا کہ وہ فیکٹری میں موجود تھا

ملزم نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ وقوعہ کے وقت وہ گھر میں نہیں بلکہ سیمنٹ فیکٹری میں ڈیوٹی پر تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ اگر ملزم واقعی فیکٹری میں موجود تھا تو وہ اپنی موجودگی ثابت کرنے کے لیے متعلقہ دستاویزات، کسی ساتھی ملازم یا فیکٹری انتظامیہ کے کسی شخص کو بطور گواہ پیش کر سکتا تھا، لیکن ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

اس لیے عدالت نے اس مؤقف کو ذمہ داری سے بچنے کی کوشش قرار دیا۔

⚖️ گھر میں بیوی کی موت ہو تو قانونی ذمہ داری کا اہم اصول

فیصلے کا سب سے اہم قانونی پہلو بارِ ثبوت سے متعلق ہے۔

عدالت نے قانونِ شہادت کے متعلقہ آرٹیکلز پر تفصیلی غور کرتے ہوئے قرار دیا کہ جب استغاثہ یہ بنیادی حقائق ثابت کر دے کہ:

اول: موت ملزم کے گھر میں ہوئی؛
دوم: موت غیر طبعی تھی؛
سوم: موت کسی مخصوص ہتھیار یا طریقے سے ہوئی؛

تو حالات کے مطابق ثبوت پیش کرنے کی ذمہ داری ملزم کی طرف منتقل ہو سکتی ہے اور اسے ان ثابت شدہ حالات کی وضاحت یا تردید کرنا پڑ سکتی ہے۔

اگر ملزم یہ مؤقف اختیار کرے کہ قتل کے وقت وہ کسی دوسری جگہ موجود تھا تو اس مخصوص حقیقت کو ثابت کرنے کی ذمہ داری اس پر عائد ہو سکتی ہے۔

اسی طرح جو حقیقت کسی شخص کے خصوصی علم میں ہو، اس کے ثبوت کی ذمہ داری بھی اسی شخص پر ہو سکتی ہے۔

❗ ملزم کی خاموشی بھی حالات میں اہم ہو سکتی ہے

عدالت نے قانونِ شہادت کے تحت اس اصول پر بھی غور کیا کہ اگر کسی شخص کے پاس کسی اہم حقیقت کی وضاحت موجود ہو لیکن وہ مناسب وضاحت پیش نہ کرے، تو مقدمے کے دیگر ثابت شدہ حقائق کے ساتھ عدالت اس کے طرزِ عمل سے منفی نتیجہ اخذ کر سکتی ہے۔

تاہم یہ اصول استغاثہ کے بنیادی ثبوت کی جگہ نہیں لیتا؛ پہلے استغاثہ کو اپنے مقدمے کے بنیادی حقائق ثابت کرنا ہوتے ہیں۔

🏛️ لاہور ہائیکورٹ کا حتمی فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کا جرم معقول شک سے بالاتر ثابت کرنے میں کامیاب رہا۔

چنانچہ عدالت نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی عمر قید کی سزا برقرار رکھی اور فیاض احمد کی فوجداری اپیل خارج کر دی۔

⚠️ عدالت کا اہم مشاہدہ

فیصلے کے آخر میں عدالت نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ قانون میں ایسے مقدمات کے لیے مزید واضح قانونی دفعات کی ضرورت ہے، خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں کسی خاتون کی موت اس کے شوہر کے گھر میں واقع ہو۔

عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین جیسے کمزور طبقے کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے قانون سازی کے ذریعے مؤثر راستہ نکالا جانا چاہیے۔

مقدمہ: فیاض احمد بنام ریاست
فوجداری اپیل نمبر: 10150-جے/2023
عدالت: لاہور ہائیکورٹ، لاہور
سماعت: 23 ستمبر 2025ء

Mukhtar Law Firm
0321.9463261

لائسنس کے بغیر لاپرواہ ڈرائیونگ پر ضمانت نہیں مل سکتی؛ لاہور ہائی کورٹ کا اہم قانونی فیصلہیہ لاہور ہائی کورٹ (ملتان بینچ...
06/09/2026

لائسنس کے بغیر لاپرواہ ڈرائیونگ پر ضمانت نہیں مل سکتی؛ لاہور ہائی کورٹ کا اہم قانونی فیصلہ

یہ لاہور ہائی کورٹ (ملتان بینچ) کا 20 اگست 2026 کا ایک تفصیلی فیصلہ (Order Sheet) ہے، جس کی مکمل تفصیلات درج ذیل ہیں:

​1. کیس کا پس منظر اور بنیادی معلومات

​عدالت: لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ، ملتان

​کیس نمبر: Criminal Miscellaneous No. 5377-B of 2026
​تاریخِ فیصلہ: 20.08.2026

​جج: جسٹس تنویر احمد شیخ (Justice Tanveer Ahmad Sheikh)
​سائل (Petitioner): ریاض حسین (Riaz Hussain)
​مخالف فریق (Respondents): ریاست اور دیگر (The State and another)

​درخواست کی نوعیت: پوسٹ اریسٹ ضمانت (Post-Arrest Bail Application)

​مقدمہ/ایف آئی آر تفاصیل: FIR No. 1101/2025، مورخہ 15.11.2025، تھانہ صدر شجاع آباد، ضلع ملتان، تحتِ دفعہ 322 PPC۔

​2. واقعاتی پس منظر (Prosecution Case)

​حادثہ: 15 نومبر 2025 کو شام 7:00 بجے کے قریب 'اڈہ ناصر موڑ' پر موٹر سائیکل (نمبر 3937-MNX) پر چار افراد (محمد ابو بکر، علی حمزہ، یاسر اور ان کا دوست محمد امجد) جا رہے تھے۔ اگلے دن یاسر کی شادی تھی۔
​واقعہ: مخالف سمت سے ایک تیز رفتار اور لاپرواہ بس (نمبر 6478-DGI) غلط سائیڈ سے آئی اور موٹر سائیکل سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں چاروں نوجوان موقع پر ہی فوت ہو گئے۔
​3. فریقین کے دلائل
​سائل (ملزم) کے وکیل کے دلائل:
​ایف آئی آر میں عدم نامزدگی: ملزم ایف آئی آر میں نامزد نہیں تھا، بلکہ 23.12.2025 کو ضمنی بیان (Supplementary Statement) کے ذریعے شامل کیا گیا، جو کیس کو "مزید انکوائری" (Further Inquiry) کے زمرے میں لاتا ہے۔
​دفعات کا تنازع: وقوعہ پر PPC کی دفعہ 320 (قابلِ ضمانت) بنتی ہے، نہ کہ 322 PPC۔
​دیت کا پہلو: اگر 322 PPC مان بھی لی جائے تو اس کی سزا صرف "دیت" ہے، جو کہ Cr.P.C کی دفعہ 497 کی ممنوعہ شق (Prohibitory Clause) میں نہیں آتی، لہٰذا حق کے طور پر ضمانت ملنی چاہیے۔
​پراسیکیوشن اور مدعی کے دلائل:
​بغیر لائسنس ڈرائیونگ: ملزم کے پاس Public Service Vehicle (PSV) کا جائز ڈرائیونگ لائسنس نہیں تھا، لہٰذا اس کا بس چلانا خود ایک غیر قانونی عمل (Unlawful Act) تھا جو اسے 322 PPC کے زمرے میں لاتا ہے۔
​4. عدالت کا قانون اور قانونی نقطہ (Legal Principles Set)
​عدالت نے 318، 319، 320، 321، اور 322 PPC کا موازنہ کر کے اہم قانونی اصول (Golden Principles) طے کیے:
​قتل الخطا (Section 320 PPC):
​اگر ڈرائیور کے پاس جائز اور مؤثر (Valid & Effective) ڈرائیونگ لائسنس ہو اور وہ تیز رفتاری یا لاپرواہی سے حادثہ کرے، تو یہ عمل "قتل الخطا" (Section 320 PPC) میں آئے گا، کیونکہ گاڑی چلانا قانوناً جائز تھا لیکن ڈرائیونگ لاپرواہ تھی۔
​قتل بالسبب (Section 322 PPC) اور "غیر قانونی عمل":
​اگر ڈرائیور کے پاس مطلوبہ ڈرائیونگ لائسنس (PSV) نہ ہو، تو اس کا پبلک بس چلانا خود ایک غیر قانونی اور خلافِ قانون (Unlawful) عمل ہے۔ ایسے غیر قانونی عمل کے دوران اگر حادثہ میں کسی کی جان جائے تو وہ "قتل بالسبب" (Section 322 PPC) کے زمرے میں آتا ہے۔
​دیت اور ضمانت کا اصول:
​عدالت نے واضح کیا کہ محض اس وجہ سے کہ دفعہ 322 PPC کی سزا صرف دیت (Diyat) ہے، ملزم خود بخود ضمانت کا حقدار نہیں ہو جاتا۔ عدالت کو کیس کے مجموعی حالات و واقعات کو دیکھنا ہوتا ہے۔
​5. عدالت کا حتمی آرڈر (Final Order)
​سابقہ نظیر (Precedent) کا حوالہ: عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلے 'Majid Nadeem Vs. The State and another' (2011 SCMR 1227) پر اتکا کیا، جس میں تیز رفتاری سے 5 افراد کو کچلنے پر ضمانت خارج کی گئی تھی۔
​عدالتی فیصلہ: ملزم کے پاس PSV لائسنس نہیں تھا، اس کی لاپرواہی سے 4 قیمتی جانیں گئیں اور کیس میں مزید انکوائری کا کوئی پہلو نہیں۔
​نتیجہ: عدالت نے ریاض حسین کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست (Post-Arrest Bail) خارج (Dismissed) کر دی۔
​نوٹ: یہ فیصلہ رپورٹیبل (Approved for Reporting) قرار دیا گیا۔

Mukhtar Law Firm
0321.9463261

لاہور ہائیکورٹ نے خلع، حق مہر، جہیز اور بیوی کے نام گھر کی ملکیت سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ خلع کے...
06/09/2026

لاہور ہائیکورٹ نے خلع، حق مہر، جہیز اور بیوی کے نام گھر کی ملکیت سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ خلع کے عوض شوہر صرف اسی حق مہر کی واپسی کا مطالبہ کر سکتا ہے جو اس نے اپنی جانب سے ادا کیا ہو، اگر حق مہر میں دیا گیا سونا خریدنے کیلئے رقم بیوی کے والد نے فراہم کی ہو اور شوہر اپنی ادائیگی ثابت نہ کر سکے تو وہ سونا یا اس کی قیمت واپس لینے کا حقدار نہیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شخ نے ڈاکٹر رخسانہ کوثر اور شاہد نذیر کے درمیان تنازع کا فیصلہ سناتے ہوئے بیوی کی درخواست جزوی طور پر منظور کر لی اور 11 تولے سونا یا اس کی قیمت شوہر کو واپس کرنے کا حکم ختم کر دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ پر موجود مجموعی شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ 11 تولے سونا خریدنے کیلئے رقم خاتون کے والد نے فراہم کی تھی، جبکہ شوہر اپنی جانب سے رقم ادا کرنے کا قابل اعتماد ثبوت پیش نہیں کر سکا، محض نکاح نامے میں حق مہر درج ہونے کی بنیاد پر شوہر کو اس کی واپسی کا حقدار قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عدالت کے مطابق خلع کی صورت میں حق مہر کی واپسی کا اصول اسی صورت میں لاگو ہوگا جب یہ ثابت ہو کہ متعلقہ حق مہر حقیقتاً شوہر کی جانب سے ادا کیا گیا تھا، شوہر کی جانب سے ادائیگی ثابت نہ ہونے کی صورت میں بیوی کو وہ مال واپس کرنے کا پابند نہیں کیا جا سکتا جس کی خریداری کیلئے رقم اس کے والد نے فراہم کی ہو۔

فیصلے میں عدالت نے شوہر کی مالی حیثیت سے متعلق متضاد مؤقف کو بھی اہم قرار دیا، عدالت نے کہا کہ شوہر ایک طرف 19 لاکھ 50 ہزار روپے مالیت کا گھر اور 11 تولے سونا خریدنے کی استطاعت کا دعویٰ کرتا رہا، جبکہ دوسری جانب نابالغ بچے کے نان نفقہ کے معاملے میں اپنی مالی حیثیت کم ظاہر کرتا رہا۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان نفقہ والد کی صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی ذمہ داری بھی ہے، والد اپنی آمدن کم ظاہر کر کے اس ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا، گھر کی ملکیت کے معاملے پر عدالت نے قرار دیا کہ بینک ریکارڈ اور گواہوں کی شہادت سے ثابت ہوا کہ گھر کی خریداری کی رقم خاتون کے والد نے فراہم کی تھی، شوہر اپنے وسائل سے گھر خریدنے کے دعوے کے حق میں قابل اعتماد دستاویز پیش نہ کر سکا۔

عدالت نے خاتون کی جانب سے گھر اپنے والد کے نام تمليك کرنے کو بھی قانونی قرار دیا اور شوہر کا یہ اعتراض مسترد کر دیا کہ والد کو گھر کا قبضہ منتقل نہیں کیا گیا، عدالت کے مطابق خاتون خود گھر کی قانونی مالک تھی اور گھر میں رہائش پذیر تھی، اس لیے ہر صورت میں قبضے کی الگ ظاہری منتقلی ضروری نہیں تھی، تاہم عدالت نے 22 تولے زیورات اور 63 ہزار روپے زچگی کے اخراجات کی واپسی کے دعوے مسترد کرنے کا ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا۔

عدالت کے مطابق خاتون یہ ثابت نہیں کر سکی کہ مذکورہ زیورات شوہر یا اس کے خاندان کے قبضے میں رہ گئے تھے، جبکہ زچگی کے اخراجات کی ادائیگی بھی والدین کی جانب سے کیے جانے کا قابل اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے بیوی کی درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے 11 تولے سونا یا اس کی قیمت شوہر کو واپس کرنے کا حکم ختم کر دیا، جبکہ فیصلے کے دیگر حصے برقرار رکھتے ہوئے شوہر کی دیگر درخواستیں مسترد کر دیں۔
Writ Petition No.21804 of 2020
Dr. Rukhsana Kausar and another Versus Shahid Nazeer and others
2026LHC5363
Announced in the Open Court on 31.08.2026.

Mukhtar Law Firm
0321.9463261

Address

BM Building, Opposite Family Hospital, 4/Mozang Road
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 08:00 - 18:00
Tuesday 08:00 - 18:00
Wednesday 08:00 - 18:00
Thursday 08:00 - 18:00
Friday 08:00 - 18:00
Saturday 08:00 - 18:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mukhtar Law Firm posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category