Kakar Law Associates

Kakar Law Associates Advocate Shahzad Khan Kakar is a distinguished attorney-at-law based in Lahore, renowned for his exceptional legal expertise and commitment to social justice.

He is widely respected among his peers and has a vast network of fellow lawyers.

19/06/2026

2026 SCMR 966
PLJ 2026 SC 210
زبانی معاہدہ بیع کے متعلق سپریم کورٹ کا نہایت اہم فیصلہ
C.P.L.A. No. 4361 of 2024
Ghulam Ali Vs. Ali Sher and others
اردو ترجمہ
غیر منقولہ جائیداد کی زبانی بیع کے معاہدے (Oral Agreement to Sell) کے نفاذ سے متعلق قانون اب مکمل طور پر طے شدہ ہے اور سپریم کورٹ متعدد مستند فیصلوں میں اس اصول کو بارہا دہرا چکی ہے۔
یہ ایک مسلمہ قانونی اصول ہے کہ جب کوئی فریق صرف زبانی معاہدے کی بنیاد پر غیر منقولہ جائیداد کی مخصوص ادائیگی (Specific Performance) کی ڈگری طلب کرتا ہے تو اس پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ثابت کرے کہ دونوں فریقین کے درمیان معاہدے کی تمام بنیادی شرائط پر باہمی رضامندی اور مکمل اتفاقِ رائے موجود تھا۔
زبانی معاہدے کا دعویٰ کرنے والے فریق کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے دعویٰ (Plaint) یا جوابِ دعویٰ (Written Statement) میں واضح طور پر درج کرے:
معاہدے کی تاریخ؛
معاہدے کا وقت؛
معاہدے کی جگہ؛
اور ان گواہوں کے نام جن کی موجودگی میں معاہدہ طے پایا۔
یہ تمام تفصیلات زبانی معاہدۂ بیع کو ثابت کرنے کے لیے ناگزیر (Sine Qua Non) حیثیت رکھتی ہیں۔ سپریم کورٹ اپنے مختلف فیصلوں میں اس اصول کو مستقل طور پر تسلیم اور واضح کر چکی ہے۔
اگر فریق ان بنیادی تفصیلات کو نہ تو اپنے pleadings میں بیان کرے اور نہ ہی قابلِ اعتماد شہادت سے ثابت کرے تو صرف زبانی دعویٰ کی بنیاد پر مخصوص ادائیگی کی ڈگری نہیں دی جا سکتی۔
اہم قانونی اصول:
زبانی معاہدہ بیع کا دعویٰ انتہائی مضبوط، واضح اور ناقابلِ ابہام شہادت کا متقاضی ہوتا ہے کیونکہ غیر منقولہ جائیداد کے معاملات میں قانون احتیاط اور یقین کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔

18/06/2026

Writing
⚖️ PLD 2026 Lahore 388
قانونِ نادرا آرڈیننس 2000 کی دفعہ 18 میں واضح طور پر ان وجوہات کا ذکر موجود ہے جن کی بنیاد پر کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) کو منسوخ، ضبط یا تحویل میں لیا جا سکتا ہے۔
مذکورہ قانونی دفعات کا مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) کے حوالے سے قانون میں کہیں بھی “بلاک” کرنے کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔ مزید برآں، معزز ٹرائل کورٹ کو قانون کے تحت یہ اختیار حاصل نہیں تھا کہ وہ درخواست گزار کے CNIC کو منسوخ، ضبط یا تحویل میں لینے کا حکم جاری کرتی۔ اس طرح ٹرائل کورٹ کا صادر کردہ حکم اختیارِ سماعت (Jurisdiction) نہ رکھنے کی وجہ سے غیر قانونی قرار پایا۔
اسی طرح عدالت کی جانب سے درخواست گزار کے پاسپورٹ کو بھی “بلاک” کرنے کا حکم دیا گیا، حالانکہ پاسپورٹ ایکٹ 1974 میں بھی “بلاک” کرنے کی اصطلاح استعمال نہیں ہوئی۔ قانون میں صرف پاسپورٹ کو منسوخ (Cancel)، ضبط (Impound) یا تحویل میں لینے (Confiscate) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ مزید یہ کہ پاسپورٹ ایکٹ 1974 کی دفعہ 8 میں ان مخصوص حالات کی وضاحت موجود ہے جن میں پاسپورٹ کی منسوخی، ضبطی یا تحویل کا حکم دیا جا سکتا ہے، اور ان دفعات کے تحت بھی ٹرائل کورٹ کو ایسا حکم جاری کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔
لہٰذا پاسپورٹ ایکٹ 1974 کی مذکورہ دفعات بھی اس امر کو واضح کرتی ہیں کہ ٹرائل کورٹ نے اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے حکم جاری کیا۔
مزید برآں، درخواست گزار کے مختلف بینک اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کے حوالے سے ٹرائل کورٹ نے نادرا (NADRA) کو ہدایت جاری کی، تاہم نادرا نے واضح طور پر مؤقف اختیار کیا کہ انہیں قانون کے تحت ایسا کوئی اختیار حاصل نہیں کہ وہ بینکنگ اداروں کو کسی صارف کے اکاؤنٹس بلاک کرنے کا حکم دے سکیں۔
📚 حوالہ:
PLD 2026 Lahore 388
Criminal Revision No.205 of 2025
(Abdul Rehman Vs. The State and five others)

فقہ جعفریہ اور فقہ حنفیہ میں مرحوم کی جائیداد کی تقسیم کے بارے میں ہائی کورٹ کا فیصلہ۔ لازمی پڑھیں۔/--------------------...
16/06/2026

فقہ جعفریہ اور فقہ حنفیہ میں مرحوم کی جائیداد کی تقسیم کے
بارے میں ہائی کورٹ کا فیصلہ۔ لازمی پڑھیں۔
/-----------------------------**////----------------
پھالیہ، منڈی بہاؤالدین کا علی محمد فوت ہوا تو اسکے ورثاء میں
صرف بیٹیاں تھیں، بیٹا نہ تھا۔ بیٹیوں نے اپنے باپ کو شیعہ/ فقہ جعفریہ کا پیروکار ظاہر کیا اور 30 جنوری کو ساری جائیداد اپنے نام انتقال کروا لی۔ لیکن یہ انتقال 6 فروری کو ریونیو افسر نے اس وجہ سے منسوخ کر دیا کہ بیٹیاں شجرۂ نسب ثابت کرنے میں ناکام رہی تھیں۔

اس کے بعد بیٹیوں نے 26 فروری کو اپنے والد کا ایک ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنوایا جس میں واضح طور پر اپنے والد کا مسلک "فقہ جعفریہ" لکھوایا۔ اس سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر 29 مئی کو فقہ جعفریہ کے مطابق وراثتی انتقال بیٹیوں کے نام ہو گیا، اگرچہ اس موقع پر کچھ افراد نے تصدیق کی کہ مرحوم شیعہ تھے، جبکہ چار افراد نے گواہی دی کہ مرحوم سنی تھے، مگر افسرِ مال نے شیعہ مسلک کو تسلیم کر لیا۔

(واضح رہے کہ اگر متوفی کی صرف بیٹیاں ہوں اور کوئی بیٹا نہ ہو تو فقہ حنفی کے مطابق دو تہائی وراثت بیٹیوں کو اور باقی قریبی رشتہ داروں کو ملتی ہے، جبکہ فقہ جعفریہ کے مطابق ایسی صورت میں تمام جائیداد صرف بیٹیوں کو ہی ملتی ہے۔ رض)

علی محمد کا ایک قریبی رشتہ دار (کزن) خوشی محمد تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ علی محمد سنی / فقہ حنفی کا پیروکار تھا، لہٰذا اسکی وراثت میں سے مجھے بھی میرا حصہ دیا جائے۔ خوشی محمد نے سول کورٹ میں اپنا وراثتی حصہ لینے کیلئے مقدمہ دائر کر دیا۔

خوشی محمد کی طرف سے عدالت میں محلے کے امام مسجد بطور گواہ پیش ہوئے، جنہوں نے گواہی دی کہ مرحوم علی محمد کا جنازہ انہوں نے پڑھایا تھا اور وہ سنی حنفی تھا۔ گاؤں کے یونین ناظم حامد علی، جو خود شیعہ تھے، انہوں نے گواہی دی کہ علی محمد سنی تھا۔ اسی طرح علی محمد کے ایک بھانجے شیر محمد نے بھی اس کے سنی ہونے کی گواہی دی۔

دوسری طرف متوفی علی محمد کی بیٹی 'صاحب بی بی' بطور گواہ پیش ہوئی اور کہا کہ اس کے والد شیعہ تھے۔ جب اس پر جرح ہوئی تو اس نے اقرار کیا کہ اس کے والد فصلوں کی پیداوار میں سے دس فیصد (عشر) غریبوں کو دیتے تھے۔ وہ شیعہ اور سنی اذان میں فرق نہ بتا سکی۔ باغِ فدک بارے سوال ہوا تو اس کے بارے میں بھی نہ بتا سکی۔ مزید اقرار کیا کہ اس کا نکاح منظور احمد نامی سنی مولوی نے پڑھایا تھا۔ کہا کہ والد کا جنازہ نقوی صاحب نے پڑھایا تھا۔ بیٹیوں کے ایک گواہ نے کہا کہ جنازہ مولوی منظور نے پڑھایا اور ایک کے مطابق سید اعجاز نے پڑھایا۔

سول (ٹرائل) کورٹ نے ان شہادتوں کو سامنے رکھتے ہوئے قرار دیا کہ مرحوم سنی المسلک تھا، بیٹیاں باپ کی تمام جائیداد خود لینے کے لیے اسے شیعہ ثابت کرنا چاہ رہی ہیں۔ عدالت نے خوشی محمد کا دعویٰ اس کے حق میں ڈگری کر دیا۔

علی محمد کی بیٹیوں نے ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل کی جو خارج ہوگئی۔ انہوں نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا، جہاں جسٹس احمد ندیم ارشد نے جنوری 2025ء میں سماعت کی اور فیصلہ تحریر کیا۔

ہائیکورٹ نے لکھا کہ سپریم کورٹ "پٹھانا بنام وسائی" کیس (پی ایل ڈی 1965 ایس سی 134) میں یہ قرار دے چکی ہے کہ "برصغیر میں ہر مسلمان کو سنی مسلک کا سمجھا جاتا ہے جب تک کہ اس کے برعکس کوئی ٹھوس ثبوت نہ دیا جائے"۔ یوں مرحوم کو شیعہ ثابت کرنے کی ذمہ داری بیٹیوں کی تھی، جس میں وہ بری طرح ناکام رہیں۔ جبکہ مدعی نے امام مسجد، گاؤں ناظم اور دیگر گواہوں و دستاویزی شہادتوں سے ثابت کیا کہ علی محمد سنی المسلک تھا۔

علی محمد کی بیٹی صاحب بی بی نے دعویٰ کیا کہ وہ 30، 32 برسوں سے مجالس میں شرکت کرتی اور اپنے گھر میں مجلس بھی کراتی ہے۔ پھر بھی وہ قضیہ باغِ فدک سے قطعی ناواقف تھی۔ باغِ فدک وہ اہم تاریخی واقعہ ہے جو حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا اور خلافت کے درمیان باغِ فدک کی ملکیت سے متعلق ہے۔ یہ شیعہ اسلام کا ایک مرکزی موضوع ہے جو ہر مجلس میں بیان ہوتا ہے۔ جو شخص 30 سال سے مجالس میں شامل ہو، اس کا اس موضوع سے قطعی بے خبر ہونا غیر منطقی اور ناقابلِ یقین ہے۔

صاحب بی بی نے تسلیم کیا کہ والد فصل کا دسواں حصہ (عشر) دیتے تھے، جو کہ سنی مسلک کا طریقۂ کار ہے، جبکہ شیعہ مسلک میں عشر نہیں بلکہ سالانہ بچت کا پانچواں حصہ بطور "خمس" سادات کو ادا کیا جاتا ہے۔ صاحب بی بی نے اعتراف کیا کہ اسکا اور اسکے بیٹے کا نکاح سنی مولوی نے پڑھایا۔ بیٹیوں کے گواہان اس بات پر متفق نہ ہو سکے کہ جنازہ کس نے پڑھایا۔ جبکہ مدعی نے خود جنازہ پڑھانے والے امام کو پیش کیا اور اسے جرح میں نہیں توڑا گیا۔ پہلے انتقال کے منسوخ ہونے کے فوراً بعد ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں مرحوم کا مسلک "فقہ جعفریہ" درج کروانا مدعاعلیہم کی ایک سوچی سمجھی چال تھی تاکہ مرحوم کی مکمل جائیداد ہتھیا سکیں۔

ہائیکورٹ نے ماتحت عدالتوں کے مرحوم علی محمد کو سنی المسلک قرار دینے کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے صاحب بی بی وغیرہ کی پٹیشن خارج کر دی۔

15/06/2026

2026 SCMR 843
PLJ 2026 SC 118
سرکاری ملازم کیخلاف اسکے کسی فوجداری مقدمہ میں ملوث ہونے کی بنا پر کی گئی محکمانہ کارروائی اس ملازم کی فوجداری مقدمہ میں بریت کے بعد جاری نہیں رہ سکتی
(a) Where departmental proceedings rest on independent and probeable evidence of misconduct, an acquittal in the criminal case does not absolve the employee, and both proceedings may lawfully run concurrently.

(b) However, where the departmental action is founded solely on the registration or pendency of an FIR, without any distinct charge of misconduct, the employee’s subsequent acquittal extinguishes that foundation, rendering any ensuing penalty legally untenable and constitutionally infirm.
C.P. No. 4757 of 2024
GHULAM MURTAZA versus DISTRICT POLICE OFFICER, GUJRAT

14/06/2026

2026 SCMR 703
PLJ 2026 SC CrC 125
VVVVVVI. MUST READ JUDGEMENT.
منشیات برآمدگی کیس میں کال ڈیٹا ریکارڈ کے مطابق مدعی اور گواہان برآمدگی کی موجودگی مبینہ جائے برآمدگی پر ثابت نہ ہوئی۔
ملزم بری
There is another aspect which also makes the case of the prosecution doubtful. The petitioner has brought on record the Call Data Records (CDRs) of the seizing officer Ghulam Abbas, SI, and Lady Constable Aqsa Saddique (PW-1), which were not effectively rebutted by the prosecution. The CDRs reveal that at the time of occurrence, the mobile device attributed to PW-1 was located in Chak No. 1, Tehsil Burewala, District Vehari, far away from the place of occurrence. Similarly, the mobile data pertaining to SI Ghulam Abbas indicates his mobile cell number was connected to a cell tower situated in the area of Yosefwala other than the place of occurrence. The mere denial by the said prosecution witnesses that their mobile phones were not in their possession at the material time, unsupported by any corroborative evidence such as the production of a second SIM, mobile swap record, or any (naeem)logical explanation, does not suffice to rebut the documentary evidence produced by the petitioner. It is trite law that where circumstances create reasonable doubt in a prudent mind regarding the truth of the prosecution's case, the accused is entitled to the benefit of such doubt as a matter of right, not of concession.
Crl.P.L.A.379/2025
Mst. Sabran Bibi v. The State thr. Prosecutor General Punjab

13/06/2026

مبینہ برامدہ منشیات کے نمونہ جات کے پارسل چار دن کی تاخیر سے لیبارٹری بھجوائے گئے۔
ملزم بری
2026 SCMR 703
PLJ 2026 SC(CrC) 125
S.9(1)(c)---Possession of narcotics substance---

Delay of four days in sending the sample to laboratory for analysis---Consequential---Prosecution case was that 2360-grams charas was recovered from the possession of the accused-petitioner---Record showed that contraband narcotic allegedly recovered from the petitioner was seized on 19.11.2022---However, the samples were dispatched for chemical analysis to the Forensic Science Agency on 23.11.2022, after a delay of 04 days for which no explanation, much less plausible, had been furnished by the prosecution---In cases involving recovery of contraband, the chemical analysis report constitutes the cornerstone of the prosecution's evidence---Such an inordinate delay in forwarding the seized item to Forensic Science Agency inevitably casted a shadow of doubt on the integrity and authenticity of the samples---In such view of the matter the possibility of tampering, substitution or contamination of the seized narcotics could not be excluded---
Mst. SABRAN BIBI vs The State

12/06/2026

2024 SCMR 1123
متوجہ ہوں ایس ایچ او صاحبان
مندرجہ بالا SCMR کے مطابق ایف ائی ار درج کرنے سے پہلے انکوائری کرنا ضروری نہیں ہوتی ہے اگر جرم قابل دست اندازی پولیس کی اطلاع متعلقہ ایس ایچ او کو ملے تو ایس ایچ او زیر دفعہ 154ض ف اور پولیس رولز باپ نمبر24 فقرہ1 کے تحت ایف ائی ار درج کرنے کا پابند ہے

07/06/2026

🚨 لاہور ہائی کورٹ نے اوورسیز پاکستانیوں کی خصوصی عدالتوں کے دائرۂ اختیار کو وسعت دے دی

ایک اہم فیصلے میں لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ پنجاب اسٹیبلشمنٹ آف اسپیشل کورٹس (اوورسیز پاکستانیز پراپرٹی) ایکٹ 2025 کے تحت قائم خصوصی عدالتوں کا دائرۂ اختیار صرف ملکیت (Ownership) یا قبضہ (Possession) کے تنازعات تک محدود نہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ اگر کسی مقدمے میں ایک فریق بھی اوورسیز پاکستانی ہو اور تنازعہ غیر منقولہ جائیداد (Immovable Property) سے متعلق ہو تو خصوصی عدالت اس مقدمے کی سماعت کر سکتی ہے، بشمول:

🔹 دعویٰ تکمیل معاہدہ (Specific Performance)
🔹 دستاویزات کی تنسیخ (Cancellation of Documents)
🔹 ہبہ (Gift) سے متعلق تنازعات
🔹 تقسیمِ جائیداد (Partition) کے مقدمات
🔹 وراثتی تنازعات (Inheritance Matters)
🔹 حقِ ملکیت (Title) کے تنازعات
🔹 جائیداد سے متعلق دیگر ضمنی و متعلقہ دعوے

عدالت نے مزید قرار دیا کہ قانون کا اطلاق اس بات پر منحصر نہیں کہ اوورسیز پاکستانی مدعی ہے یا مدعا علیہ۔ اصل معیار یہ ہے کہ مقدمے کا تعلق غیر منقولہ جائیداد سے ہو اور فریقین میں سے کوئی ایک اوورسیز پاکستانی ہو۔

یہ فیصلہ پنجاب بھر میں اوورسیز پاکستانیوں سے متعلق جائیداد کے مقدمات پر دور رس اثرات مرتب کرے گا۔

⚖️ محمد مدثر اقبال بنام لیک سٹی ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ

FAO No. 3305 of 2026
لاہور ہائی کورٹ

📌 Legal Logs | Case Law Update

لاہور ہائی کورٹ نے کریمنل جسٹس سسٹم میں مجسٹریٹس کی جانب سےاینٹی ریپ ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت متاثرہ کا بیانات ریکارڈ کرنے...
06/06/2026

لاہور ہائی کورٹ نے کریمنل جسٹس سسٹم میں مجسٹریٹس کی جانب سےاینٹی ریپ ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت متاثرہ کا بیانات ریکارڈ کرنے کے روایتی انداز پر اہم ریمارکس دیے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگر دفعہ 164 کا بیان مروجہ طریقہ کار (ویڈیو ریکارڈنگ اور جرح کے موقع) کے بغیر ریکارڈ کیا جائے تو اس کی قانونی حیثیت کیا ہوگی۔
لاہور ہائی کورٹ (ملتان بینچ) کا یہ فیصلہ ایک ملزم، **سونارا خان عرف سونہارا خان**، کی بعد از گرفتاری ضمانت (Post-arrest Bail) کی منظوری سے متعلق ہے، جس پر ایک نابالغ لڑکی سے جنسی بدسلوکی (سیکشن 377-B تعزیراتِ پاکستان - PPC) کا الزام تھا۔
جسٹس طارق سلیم شیخ نے اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے درج ذیل اہم نکات اور قانونی اصولوں کی وضاحت کی ہے:
# # # 1۔ کیس کا پس منظر اور الزامات
* **ایف آئی آر (FIR) کا موقف:** متاثرہ لڑکی کی ماں (شکایت کنندہ) کے مطابق، 12 جولائی 2025ء کو اس کی 14/15 سالہ بیٹی (K.B.) گنے کے کھیت میں چارہ کاٹ رہی تھی کہ ملزم سونارا خان اور اس کے ساتھی طاہر نے اسے اکیلا پا کر نازیبا اشارے کیے، ہراساں کیا اور اس کے نازک اعضاء کو ہاتھ لگایا۔ لڑکی کے شور مچانے پر جب گھر والے پہنچے تو ملزم فرار ہو گئے۔
* **سیکشن 161 کا بیان:** پولیس تفتیش کے دوران لڑکی اور گواہان نے پہلے اسی کہانی کی تصدیق کی۔
# # # 2۔ ملزم کے وکیل کا مؤقف اور تضاد
ملزم کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ملزم بے گناہ ہے اور اسے جھوٹا پھنسایا گیا ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ جب مجسٹریٹ کے سامنے لڑکی کا **دفعہ 164 ضابطہ فوجداری (Cr.P.C) کے تحت بیان** ریکارڈ کیا گیا، تو اس نے بالکل الگ کہانی سنائی۔
> **لڑکی کا دفعہ 164 کا بیان:** لڑکی نے مجسٹریٹ کو بتایا کہ ملزم نے صرف اس کی کلائی پکڑی تھی اور اسے پیسے دکھائے تھے، جس پر اس نے شور مچا دیا۔ اس بیان میں نازک اعضاء کو چھونے یا جنسی بدسلوکی کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
>
# # # 3۔ عدالت کی قانونی تشریحات (دفعہ 164 اور اینٹی ریپ ایکٹ 2021)
عدالت نے دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے جانے والے بیانات کی قانونی حیثیت پر تفصیلی روشنی ڈالی:
* **بغیر جرح کے بیان کی حیثیت:** اگر دفعہ 164 کا بیان ملزم کی غیر موجودگی میں ریکارڈ کیا جائے اور ملزم کے وکیل کو جرح (Cross-examination) کا موقع نہ ملے، تو اسے ٹرائل کے دوران بنیادی ثبوت (Substantive Evidence) کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، اسے تفتیشی ریکارڈ کا حصہ مانا جائے گا اور ضمانت کے مرحلے پر تضاد پرکھنے کے لیے دیکھا جا سکتا ہے۔
* **اینٹی ریپ ایکٹ 2021 کی خلاف ورزی:** عدالت نے نوٹ کیا کہ اینٹی ریپ ایکٹ کی دفعہ 14 کے تحت متاثرہ کا بیان لازمی طور پر **ویڈیو ریکارڈ** ہونا چاہیے اور ملزم کے وکیل کو **جرح کا موقع** ملنا چاہیے، لیکن اس کیس میں مجسٹریٹ نے ان دونوں قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا۔
# # # 4۔ عدالت کا فیصلہ اور ضمانت کی وجہ
عدالت نے پایا کہ ایف آئی آر اور لڑکی کے دفعہ 164 کے بیان میں **شدید تضاد** ہے۔
* سیکشن 377-B (جنسی بدسلوکی) صرف تب لاگو ہوتا ہے جب چھونا، ٹٹولنا یا کوئی فحش حرکت ثابت ہو۔ جبکہ لڑکی کے اپنے بیان کے مطابق ملزم نے صرف ہاتھ پکڑا، جو کہ دفعہ 354 PPC (عورت کی حیا پر حملہ) کے زمرے میں آ سکتا ہے اور یہ ایک قابلِ ضمانت (Bailable) جرم ہے۔
* اس تضاد کی وجہ سے عدالت نے قرار دیا کہ کیس مزید انکوائری/تفتیش کا محتاج ہے (**Further Inquiry** تحت دفعہ 497(2) Cr.P.C)۔ چنانچہ عدالت نے ملزم کی ضمانت **2 لاکھ روپے** کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی۔
# # # 5۔ مجسٹریٹوں کے لیے اہم ہدایات
جسٹس طارق سلیم شیخ نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ پنجاب میں مجسٹریٹ دفعہ 164 کے بیانات روایتی اور لاپرواہی کے انداز میں ریکارڈ کرتے ہیں۔ عدالت نے پنجاب کے تمام سیشن ججز کو درج ذیل احکامات جاری کیے:
1. مجسٹریٹ بیانات کو گواہ یا متاثرہ کے اپنے الفاظ میں لکھیں، نہ کہ لکھی لکھائی قانونی زبان میں۔
2. اینٹی ریپ ایکٹ 2021 کے تحت بیانات کی ویڈیو ریکارڈنگ اور ملزم کے وکیل کو جرح کا موقع دینے کے قانون پر سختی سے عمل کرایا جائے۔
3. سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق، ریپ یا جنسی زیادتی کی متاثرہ خواتین کے بیانات ترجیحی طور پر **خاتون مجسٹریٹ** کے سامنے ہی ریکارڈ کیے جائیں۔
— feeling relaxed in Lahore.

04/06/2026

حصول میڈیکل کے بعد 21 روز کے اندر میڈیکل کو چیلنج کِیا جا سکتا ہے۔
A madical can be challenge within 21 days from the date of issuance.
2018 YLR 46 note 58.
2009 PCrLJ 1281
1999 PCrLJ 1870.

Address

1/Turner Road, Maqbool Manzil, , Opposite Lahore High Court
Lahore
54000

Telephone

+924237222786

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kakar Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Kakar Law Associates:

Share