Kakar Law Associates

Kakar Law Associates Advocate Shahzad Khan Kakar is a distinguished attorney-at-law based in Lahore, renowned for his exceptional legal expertise and commitment to social justice.

He is widely respected among his peers and has a vast network of fellow lawyers.

20/08/2026

بیوی نکاح کے فورا بعد سے خرچہ نان و نفقہ کی حقدار ہو جاتی ہے رخصتی ضروری نا ہے
2026 SCMR 1

A Muslim wife’s right to maintenance accrues immediately upon the solemnization of a valid marriage, irrespective of consummation. Non-consummation is not a ground to deny maintenance unless the husband proves that the wife, without lawful excuse, wilfully refused to cohabit or withdrew from the marital relationship.
Overseas Pakistanis Foundation
Punjab Kings
LAHORE BAR Lawyers

17/08/2026

ایف آئی اے کسی کو آف لوڈ نہیں کر سکتی۔۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم:-
وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایکٹ، 1974 ایف آئی اے کو بعض مخصوص جرائم کی تحقیق (Investigation) کا اختیار دیتا ہے، مگر یہ اختیار اسے بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے شہریوں کی ایمیگریشن کلیئرنس کو دوبارہ جانچنے یا اس پر نظرِ ثانی کرنے کا ریگولیٹری اختیار (Regulatory Jurisdiction) نہیں دیتا۔

حسین جمال و دیگر بنام وفاقِ پاکستان و دیگران
آئینی درخواستیں نمبر 1585 و 1587/2026 اور 5338/2025
اسلام آباد ہائی کورٹ، اسلام آباد
فاضل جج: جناب جسٹس ارباب محمد طاہر
فیصلہ: 06.08.2026

آئینِ پاکستان، 1973—آرٹیکلز 4، 9، 25 اور 33—ایمیگریشن آرڈیننس، 1979—ایمیگریشن رولز، 1979—وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایکٹ، 1974—بیرونِ ملک سفر کا حق—ائیرپورٹس پر مسافروں کو آف لوڈ کرنا—ایف آئی اے امیگریشن حکام کے اختیارات—دائرۂ اختیار—مساواتِ شہری—علاقائی و جغرافیائی بنیادوں پر پروفائلنگ—اختیارات سے تجاوز۔

حقِ سفر—بنیادی حق: بیرونِ ملک سفر کرنا شہری کی آزادی کا حصہ اور آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت بنیادی حق ہے۔ بین الاقوامی سفر محض انتظامی سہولت نہیں بلکہ آزادی، روزگار، تعلیم، کاروبار اور ایک بامقصد زندگی کے حصول سے منسلک ہے۔ لہٰذا اس حق پر پابندی صرف واضح قانونی و آئینی اختیار کے تحت ہی عائد کی جاسکتی ہے۔

ایمیگریشن کلیئرنس—محافظِ تارکینِ وطن کا قانونی دائرۂ اختیار: ایمیگریشن آرڈیننس، 1979 اور اس کے تحت بنائے گئے ایمیگریشن رولز، 1979 نے بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے شہریوں کی تصدیق، جانچ، پروسیسنگ اور کلیئرنس کا مکمل قانونی نظام وضع کیا ہے۔ قانون نے اس مقصد کے لیے Protector of Emigrants کو مخصوص اتھارٹی مقرر کیا ہے۔ مذکورہ اتھارٹی شہری کے روزگار، ملازمت کے معاہدے، اہلیت، دستاویزات اور دیگر متعلقہ امور کی جانچ کے بعد رجسٹریشن اور کلیئرنس جاری کرتی ہے۔

ایف آئی اے کا اختیار—تحقیق، ریگولیشن نہیں: وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایکٹ، 1974 ایف آئی اے کو بعض مخصوص جرائم کی تحقیق (Investigation) کا اختیار دیتا ہے، مگر یہ اختیار اسے بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے شہریوں کی ایمیگریشن کلیئرنس کو دوبارہ جانچنے یا اس پر نظرِ ثانی کرنے کا ریگولیٹری اختیار (Regulatory Jurisdiction) نہیں دیتا۔ تحقیقِ جرم اور کسی قانونی سرگرمی کی ریگولیشن دو مختلف تصورات ہیں۔ ایمیگریشن کی ریگولیشن کا اختیار Protector of Emigrants کو دیا گیا ہے، جبکہ ایف آئی اے کا متعلقہ اختیار مخصوص جرائم کی تفتیش تک محدود ہے۔

قانونی اختیار کے بغیر انتظامی کارروائی—اختیار سے تجاوز: ہر سرکاری ادارہ قانون کی پیداوار ہے اور صرف وہی اختیار استعمال کرسکتا ہے جو قانون نے اسے صراحتاً یا لازمی طور پر تفویض کیا ہو۔ شہری کے حقوق کو متاثر کرنے والی ہر کارروائی کا کوئی نہ کوئی واضح قانونی ماخذ ہونا ضروری ہے۔ اگر قانونی اختیار موجود نہ ہو تو کارروائی اختیار سے تجاوز (ultra vires) اور بلاجواز قانونی اختیار تصور ہوگی، خواہ اسے کتنی ہی نیک نیتی سے کیوں نہ کیا گیا ہو۔

ایف آئی اے امیگریشن اسٹاف کو اپیل یا نظرِ ثانی کا اختیار حاصل نہیں: اگر Protector of Emigrants نے قانون کے مطابق کسی شہری کے کاغذات، ملازمت، ویزا اور دیگر متعلقہ امور کی جانچ کرکے اسے ایمیگریشن کلیئرنس اور رجسٹریشن دے دی ہو تو ایف آئی اے امیگریشن اسٹاف محض ائیرپورٹ پر موجود ہونے کی بنیاد پر اسی معاملے کو دوبارہ نہیں کھول سکتا۔ نہ ہی وہ Protector of Emigrants کے فیصلے کے خلاف اپیل یا ریویو اتھارٹی کے طور پر کام کرسکتا ہے، کیونکہ قانون میں ایسا کوئی اختیار فراہم نہیں کیا گیا۔

قانونی نظام کو بے معنی بنانے سے گریز: اگر ایف آئی اے کو Protector of Emigrants کی جانب سے پہلے ہی کی گئی جانچ کے بعد دوبارہ وہی معاملات جانچنے اور مختلف نتیجہ اخذ کرنے کا اختیار تسلیم کرلیا جائے تو اس سے Protector of Emigrants کے پورے قانونی نظام کی حیثیت بے معنی ہوجائے گی اور قانون کے تحت مقرر کردہ رجسٹریشن کا عمل محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جائے گا۔ قانون کی ایسی تشریح سے گریز کیا جانا چاہیے جو کسی قانونی شق یا قانونی طریقۂ کار کو بے اثر یا غیر مؤثر بنا دے۔

پیشگی یا قیاسی شبہ—بنیادی حقوق محدود نہیں کیے جاسکتے: محض اس بنیاد پر کہ ماضی میں کسی مخصوص طبقے یا اسی نوعیت کے افراد نے بیرونِ ملک جا کر قانون کی خلاف ورزی کی، کسی موجودہ شہری کے بنیادی حقوق محدود نہیں کیے جاسکتے۔ قانون کسی حقیقی خلاف ورزی پر کارروائی کی اجازت دیتا ہے، مگر محض قیاسی شبہ (predictive suspicion) کی بنیاد پر کسی شہری کو سفر سے روکنے کا اختیار نہیں دیتا۔

علاقائی یا جغرافیائی بنیادوں پر پروفائلنگ—آئین کے منافی: پاکستان میں آئینی طور پر صرف ایک قسم کی شہریت ہے، یعنی پاکستانی شہریت۔ صوبہ، ضلع، علاقہ، نسل، قبیلہ یا رہائش شہریوں کی الگ الگ آئینی کلاسز تشکیل نہیں دیتے۔ ہر شہری مساوی عزت، احترام اور قانونی تحفظ کا مستحق ہے۔ کسی شہری کے ساتھ محض اس کے ضلع، صوبے یا جغرافیائی تعلق کی بنیاد پر مختلف یا منفی سلوک آئین کے آرٹیکلز 4 اور 25 کی مساوات کی ضمانت اور آرٹیکل 33 میں موجود علاقائی، نسلی، قبائلی، فرقہ وارانہ اور صوبائی تعصبات کی حوصلہ شکنی کے اصول سے متصادم ہوگا۔

ہر شہری کو اس کے اپنے کردار کی بنیاد پر جانچا جائے: ریاستی ادارے کسی شہری کا جائزہ اس کے اپنے طرزِ عمل، اس کے مخصوص حقائق اور اس کے ذاتی دستاویزات کی بنیاد پر لے سکتے ہیں، لیکن اسے اس کے ضلع، علاقے یا رہائش سے منسوب عمومی تصورات اور دقیانوسی مفروضوں کی بنیاد پر مشتبہ قرار نہیں دے سکتے۔ مساوی شہریت محض آئینی خواہش نہیں بلکہ ایک قابلِ نفاذ آئینی ضمانت ہے۔

آف لوڈنگ—واضح قانونی بنیاد لازم: اگر کسی شہری کے پاس درست پاسپورٹ، درست ویزا اور Protector of Emigrants کی جانب سے قانون کے مطابق ایمیگریشن کلیئرنس اور رجسٹریشن موجود ہو تو اسے سفر سے روکنے یا آف لوڈ کرنے کے لیے کسی مخصوص قانونی شق کا حوالہ دینا لازم ہے۔ ایسی قانونی بنیاد کی عدم موجودگی میں آف لوڈنگ بلا قانونی اختیار اور دائرۂ اختیار سے باہر کارروائی ہوگی۔

موجودہ مقدمات میں نتیجہ: درخواست گزاروں کے پاس درست پاسپورٹ، غیر ملکی روزگار کے ویزے اور Protector of Emigrants کی جانب سے جاری کردہ رجسٹریشن/ایمیگریشن کلیئرنس موجود تھی۔ ان کے روزگار کے معاہدوں، اسناد اور دیگر متعلقہ امور کی پہلے ہی مجاز قانونی اتھارٹی جانچ کرچکی تھی۔ وفاقی حکومت یا ایف آئی اے عدالت کے سامنے کوئی ایسی قانونی شق پیش نہ کرسکی جو ایف آئی اے امیگریشن حکام کو Protector of Emigrants کے فیصلے کو دوبارہ جانچنے یا اس پر نظرِ ثانی کا اختیار دیتی ہو۔ چنانچہ درخواست گزاروں کو انہی امور کی بنیاد پر آف لوڈ کرنا، جنہیں مجاز اتھارٹی پہلے ہی جانچ اور منظور کرچکی تھی، بلا قانونی اختیار قرار پایا۔

انسانی اسمگلنگ اور دیگر جرائم—قانون سازی کا حل: عدالت نے انسانی اسمگلنگ، غیر قانونی ہجرت، منظم بھیک مانگنے اور بیرونِ ملک روزگار کے ذرائع کے غلط استعمال جیسے مسائل کی سنگینی کو تسلیم کیا، تاہم قرار دیا کہ اگر موجودہ قانونی نظام ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہے تو اس کا حل قانون سازی اور قانونی اصلاحات ہیں، نہ کہ ایف آئی اے کی جانب سے ائیرپورٹس پر ایک متوازی اور غیر قانونی اسکریننگ نظام قائم کرنا۔

اداروں کا احتساب—آف لوڈ ہونے والا ہر شخص سوال اٹھاتا ہے: عدالت نے اہم طور پر نشاندہی کی کہ ہر آف لوڈ کیا جانے والا تارکِ وطن درحقیقت Protector of Emigrants کے نظامِ کلیئرنس کی ناکامی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ اس کے باوجود ریکارڈ پر ایسا کچھ موجود نہیں تھا کہ متعلقہ Protector of Emigrants یا Overseas Employment Promoter کے خلاف کوئی انکوائری، محکمانہ کارروائی یا اصلاحی اقدام کیا گیا ہو۔ صرف مسافروں کو نشانہ بنانا جبکہ ان سرکاری و متعلقہ اہلکاروں کا احتساب نہ کرنا جنہوں نے کلیئرنس دی، موجودہ آف لوڈنگ پریکٹس کی قانونی حیثیت، انصاف اور افادیت پر سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔

حتمی فیصلہ: آئینی درخواستیں نمبر 1585 اور 1587/2026 منظور کی گئیں اور ان درخواست گزاروں کی آف لوڈنگ کو بلا قانونی اختیار اور دائرۂ اختیار قرار دیا گیا۔ آئینی درخواست نمبر 5338/2025 نمٹا دی گئی، جبکہ فیصلے کے متعلقہ پیراگرافس میں دی گئی آئینی و قانونی آبزرویشنز برقرار رہیں۔ عدالت نے فیصلے کی نقول سیکریٹری وزارتِ داخلہ، سیکریٹری وزارتِ اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو تعمیل اور ضرورت پڑنے پر قانونی اصلاحات کے لیے بھجوانے کی ہدایت بھی کی۔

قانونی اصول / Ratio Decidendi:
اگر کوئی پاکستانی شہری درست پاسپورٹ، درست ویزا اور ایمیگریشن آرڈیننس، 1979 اور ایمیگریشن رولز، 1979 کے تحت Protector of Emigrants سے باقاعدہ ایمیگریشن کلیئرنس اور رجسٹریشن حاصل کرچکا ہو تو ایف آئی اے امیگریشن حکام کو قانون میں واضح اختیار کے بغیر اس کلیئرنس کو دوبارہ جانچنے، اس پر اپیل یا ریویو کی حیثیت سے بیٹھنے یا شہری کو آف لوڈ کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ ایسی کارروائی، اگر کسی مخصوص قانونی اختیار کے بغیر کی جائے، تو شہری کے حقِ سفر اور آئینی ضمانتوں سے متصادم ہونے کے ساتھ ساتھ بلا قانونی اختیار اور دائرۂ اختیار سے تجاوز کے مترادف ہوگی۔۔۔

12/08/2026

نابالغ کی تحویل: بچے کی فلاح اور اس کی رائے کو اہمیت دینا لازم، سپریم کورٹ

PLD 2026 Supreme Court 238

سپریم کورٹ نے نابالغ بچوں کی تحویل کے ایک اہم مقدمے میں قرار دیا ہے کہ بچے کی فلاح کا مطلب صرف مالی سہولت یا مادی آسودگی نہیں بلکہ اس کی جذباتی، نفسیاتی، تعلیمی، طبی اور ذہنی نشوونما بھی اس میں شامل ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ بچے کی عمر اور سمجھ بوجھ کے مطابق اس کی رائے کو سننا اور اس پر مناسب غور کرنا ضروری ہے۔

بچے کی فلاح صرف مالی سہولت نہیں

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ نابالغ کی فلاح کا تصور صرف مالی یا مادی ضروریات تک محدود نہیں۔ بچے کی جذباتی، نفسیاتی، ثقافتی، تعلیمی اور ذہنی نشوونما بھی اس کے بہترین مفاد کا حصہ ہے۔

بچے کے بہترین مفاد کو بنیادی اہمیت

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ تحویلِ اطفال کے مقدمات میں اصل معیار والد یا والدہ کی خواہش نہیں بلکہ بچے کا بہترین مفاد ہے۔ عدالت کو ہر مقدمے میں بچے کے موجودہ حالات اور ضروریات کو سامنے رکھنا ہوگا۔

بچے کی رائے سننا ضروری

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بچے کی عمر اور سمجھ بوجھ کے مطابق اس کی رائے سننا ضروری ہے۔ بچے کو عدالتی کارروائی میں سننا محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ اس کے وقار اور شخصیت کے احترام کا تقاضا ہے۔

بچے کی خواہش اور بچے کا بہترین مفاد

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بچے کو سننے کا مطلب یہ نہیں کہ عدالت لازماً وہی فیصلہ کرے جو بچہ چاہتا ہے۔ عدالت بچے کے نقطۂ نظر کو سمجھ کر اس کے بہترین مفاد کے مطابق فیصلہ کرے گی۔

ماں کا ملازمت کرنا تحویل سے محرومی کی وجہ نہیں

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ماں کا ملازمت پیشہ ہونا بذاتِ خود اسے بچوں کی تحویل کے لیے ناموزوں نہیں بناتا۔ اگر ماں بچوں کو محفوظ، مستحکم اور بہتر ماحول فراہم کر رہی ہو تو اس کا ملازمت کرنا اس کے خلاف فیصلہ کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔

خصوصی ضروریات رکھنے والے بچے کی خصوصی دیکھ بھال

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ خصوصی ضروریات رکھنے والے بچے کی تحویل کا فیصلہ کرتے وقت اس کی نفسیاتی، طبی اور جذباتی ضروریات کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔

1890 کا قانون جدید تقاضوں کے مطابق سمجھا جائے گا

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ Guardians and Wards Act, 1890 ایک پرانا قانون ہونے کے باوجود اس کی تشریح موجودہ آئینی اقدار اور بچوں کے تسلیم شدہ حقوق کے مطابق کی جائے گی۔

بچے کی فلاح ایک جامد معیار نہیں

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بچے کی فلاح ایک جامد تصور نہیں بلکہ بدلتی ہوئی ضروریات کے ساتھ اس کا دائرہ بھی وسیع ہوتا ہے۔ عدالت کو بچے کی عمر، تعلیم، نفسیاتی صحت، جذباتی حالت، طبی ضروریات اور گھر کے ماحول سمیت تمام متعلقہ حالات کا جائزہ لینا ہوگا۔

موجودہ حالات کو دیکھ کر تحویل کا فیصلہ ہوگا

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ تحویلِ اطفال کے مقدمات میں والدین کے ماضی کے حالات کے بجائے موجودہ حالات، ان کی صلاحیت اور بچے کی موجودہ ضروریات کو بھی اہمیت دی جائے گی۔

فیصلہ

موجودہ مقدمے میں سپریم کورٹ نے بچوں کے حالات، ان کی تعلیم، نفسیاتی اور جذباتی ضروریات، گھر کے ماحول اور والدین کی موجودہ مصروفیات کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ بچوں کا بہترین مفاد ماں کے پاس رہنے میں ہے۔ چنانچہ والد کی نظرثانی کی درخواست مسترد کر دی گئی۔

حوالہ: Dr. Muhammad Asif v. Dr. Sana Sattar and others, PLD 2026 Supreme Court 238.

Hashtags

#

11/08/2026

PLD 2026 SC 2222
Statements under section 161, Cr.P.C. are not admissible except for limited purpose of contradiction under Article 140 of Qanun-e-Shahadat, 1984.

11/08/2026

2026 PCrL.J 1175
Offence under Section 489-F PPC attracts only when the following conditions are fulfilled and proved by the prosecution.

(i)issuance of cheque;
(ii)such issuance was with dishonest intention;
(iii)the purpose of issuance of cheques should be: -
(a) to repay a loan; or
(b) to fulfil an obligation (which in wide term inter alia applicable to lawful agreements, contracts, services, promises by which one is bound or an act which binds person to some performance).
(iv) on representation, the cheque is dishonoured.

Every transaction where a cheque is dishonoured does not constitute an offence unless necessary ingredient of the provision of Section 489-F PPC i.e dishonestly issuing of a cheque towards repayment of a loan or fulfilment of an obligation has been proved before the learned trial Court by the prosecution. In the present case, complainant has failed to prove such necessary ingredient beyond shadow of doubt. It is settled principle of law that for giving benefit of doubt, it is not necessary that there should be many circumstances creating doubt. If there is a circumstance which creates reasonable doubt in the prudent mind about the guilt of the accused, then he would be entitled to its benefit not as a matter of grace or concession but as of right.
Criminal Revision No.272 of 2025
Shamim Aslam Versus The State etc.

مشترکہ کھاتے ختم ۔۔زمین کی تقسیم کا مسئلہ حل ۔ کسی فریق کے انکار کے باوجود بھی زمین کے ونڈے ہوں گے۔جائیداد کے مشترکہ کھا...
09/08/2026

مشترکہ کھاتے ختم ۔۔زمین کی تقسیم کا مسئلہ حل ۔
کسی فریق کے انکار کے باوجود بھی زمین کے ونڈے ہوں گے۔
جائیداد کے مشترکہ کھاتے پنجاب کا ایک انتہائی پیچیدہ اور سنگین مسئلہ ہے۔ جو لڑائی جھگڑوں کا باعث بنتا ہے اور دیہاتوں میں لوگوں کی جان و مال پر بھاری پڑتا ہے۔
اس سنگین مسئلے کے حل کےلئے بورڈ آف ریونیو نے قانون میں اہم تبدیلی کی ہے۔
جس سے اب زمینوں کا مشترکہ رہنا مشکل ہو گیا ہے اور اگر کوئی فریق انکار بھی کرتا ہے پھر بھی زمین تقسیم ہو گی۔۔
طریقہ کار پر بات کریں تو ۔۔
سب سے پہلے تو جو لوگ باہمی رضا مندی سے کھاتے تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو وہ پٹواری تحصیلدار یا اراضی ریکارڈ سنٹر پر جا کر بیان دے کر کھاتے تقسیم کروا سکتے ہیں۔
دوسرا معاملہ سنگین ہے کہ مشترکہ کھاتوں میں ایک دو فریق صاف انکار کر دیتے ہیں تو ایسی زمین کی تقسیم کیسے ہو گی۔
سیکرٹری ریونیو شفقت اللہ مشتاق کے مطابق
سب سے پہلے متعلقہ فریقین کو تحصیلدار کے سامنے درخواست دینی ہو گی۔ وہ پٹواری کے ذریعے تمام فریقین کو بلائے گا۔ اگر کوئی فریق نہیں آئے گا تو تحصیلدار پٹواری اور نمبر کے ذریعے زمین کی کمرشل ویلیو اور قبضے کو دیکھ کر کھاتہ تقسیم کر دے گا۔
اگر تحصیلدار 2 مہینے میں ونڈہ نہیں بنائے گا تو اس کا متعلقہ تحصیل سے تبادلہ کرنے کے ساتھ ساتھ پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کیس خود بخود اسسٹنٹ کمشنر کو ٹرانسفر ہو جائے گا۔
اگر کو فریق تحصیلدار یا اے سے فیصلے سے متفق نہیں ہوتا تو وہ ضلع کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو کے پاس اپیل کر سکتا ہے اور اگر پھر بھی کسی فریق کو اختلاف ہوتا ہے تو کیس سیدھا ممبر بورڈ آف ریونیو کے پاس آئے گا جس کا فیصلہ حتمی ہو گا۔ سیکنڈ اپیل یعنی کہ اب کیس کمشنر آفس نہیں جائے گا سیدھا بورڈ آف ریونیو آئے گا۔
سیکرٹری ریونیو کا کہنا ہے چیف سیکرٹری پنجاب اور سنئیر ممبر بورڈ آف ریونیو نے بہترین فیصلہ کیا ہے۔ شہریوں کو فائدہ اٹھا کر جائیداد کے مشترکہ کھاتوں کے جھنجھٹ سے جان چھڑا لینی چاہیے۔

07/08/2026

⚖️ سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم فیصلہ
2026 SCMR 1019
Section 115 CPC (Revisional Jurisdiction)
سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ہائی کورٹ اپنے ریویژنل اختیارات استعمال کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے Concurrent Findings of Fact میں اس وقت تک مداخلت نہیں کر سکتی جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ:
✅ شواہد کو غلط پڑھا گیا ہو (Misreading of Evidence)
✅ اہم شواہد کو نظر انداز کیا گیا ہو (Non-reading of Evidence)
✅ فیصلہ واضح طور پر خلافِ قانون یا Perverse ہو۔
اہم اصول:
ریویژنل دائرہ اختیار نگرانی (Supervisory Jurisdiction) ہے، شواہد کا ازسرِنو جائزہ لینے یا اپیل کی طرح کیس دوبارہ سننے کا فورم نہیں۔

07/08/2026

*"ویزا ختم ہونے کے بعد پاکستان میں قیام (Overstay) اور غیر قانونی داخلہ (Illegal Entry) دو الگ جرائم ہیں، جبکہ POC یا شہریت کی درخواست زیر التواء ہونے پر صرف انتظامی تاخیر کی بنیاد پر قید میں نہیں رکھا جا سکتا۔"*

*Illegal Entry and Overstay Are Distinct Offences: Supreme Court Clarifies the Scope of Sections 14, 14(1), 14(2), and 14A of the Foreigners Act, 1946*

مسٹر جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ:

اس درخواست کے ذریعے درخواست گزار نے ایف آئی آر نمبر 7/2026، تھانہ نوّاگئی، ضلع باجوڑ میں درج مقدمہ، جو غیر ملکی ایکٹ 1946 کی دفعہ 14 کے تحت قائم کیا گیا، میں بعد از گرفتاری ضمانت (Post-Arrest Bail) کی استدعا کی ہے۔ پشاور ہائی کورٹ نے مورخہ 11.05.2026 کے اپنے حکم کے ذریعے یہ درخواست مسترد کر دی تھی۔

2۔ مقدمے کے مختصر حقائق
استغاثہ کے مطابق درخواست گزار ایک غیر ملکی شہری ہے جو متعلقہ تھانے کی حدود میں مؤثر ویزا یا رہائشی اجازت نامہ (Residence Permit) کے بغیر مقیم پایا گیا، لہٰذا اس کے خلاف غیر ملکی ایکٹ 1946 کی دفعہ 14 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

3۔ درخواست گزار کے وکیل کے دلائل
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ:

درخواست گزار ایک غیر ملکی شہری ہے جس نے یکم مئی 1994ء کو پاکستانی خاتون تسلیم بی بی سے باقاعدہ رجسٹرڈ نکاح کیا۔

تسلیم بی بی پیدائشی طور پر پاکستانی شہری ہیں۔

اس شادی سے ان کے بچے بھی ہیں۔

اسی ازدواجی تعلق کی بنیاد پر درخواست گزار نے پاکستان اوریجن کارڈ (POC) کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔

اس مقصد کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست بھی دائر کی گئی ہے۔

درخواست گزار کو پاکستان شہریت ایکٹ 1951 کی دفعہ 10 کے تحت ڈومیسائل، قومی شناختی کارڈ برائے اوورسیز/رہائشی پاکستانی یا متبادل طور پر پاکستانی شہریت کے اندراج کا قانونی حق حاصل ہے۔

جب تک وفاقی حکومت اس کی قانونی حیثیت کا فیصلہ نہیں کر دیتی، اس دوران پاکستان میں اس کی موجودگی کو خودبخود ایسا جرم قرار نہیں دیا جا سکتا جس پر غیر ملکی ایکٹ 1946 کے تحت فوجداری سزا دی جائے۔

4۔ ریاست کا مؤقف
اس کے برعکس، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل اور تفتیشی افسر نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ:

درخواست گزار خود تسلیم کرتا ہے کہ وہ غیر ملکی شہری ہے۔

اس کے پاس متعلقہ مدت کے لیے درست ویزا یا قیام کی اجازت موجود نہیں تھی۔

کسی پاکستانی خاتون سے شادی کر لینے سے ازخود پاکستانی شہریت حاصل نہیں ہوتی اور نہ ہی غیر ملکی ایکٹ 1946 کی پابندیوں سے استثنا ملتا ہے۔

دفعہ 14 کے تحت جرم مسلسل جاری رہنے والا (Continuing Offence) ہے، جب تک غیر ملکی بغیر قانونی اجازت پاکستان میں رہتا رہے۔

5۔ عدالت کا جائزہ
عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد نوٹ کیا کہ ہائی کورٹ نے بعد از گرفتاری ضمانت صرف اس بنیاد پر مسترد کی کہ دفعہ 14A کے تحت ضمانت پر پابندی موجود ہے۔

6۔ عدالت کی قانونی تشریح
اس معاملے کے فیصلہ کے لیے ضروری ہے کہ غیر ملکی ایکٹ 1946 کی متعلقہ دفعات کا جائزہ لیا جائے۔

قانون نے دفعہ 14 کے تحت جرائم کو دو الگ اقسام میں تقسیم کیا ہے:

(i) دفعہ 14(1):
اگر کوئی شخص قانون، اس کے تحت جاری کردہ حکم یا ہدایت کی خلاف ورزی کرے، مثلاً قانونی طور پر پاکستان آنے کے بعد اس کا ویزا یا قیام کی اجازت ختم ہو جائے لیکن وہ پاکستان میں مقیم رہے، تو سزا تین سال تک قید ہے۔

(ii) دفعہ 14(2):
اگر کوئی شخص جان بوجھ کر غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہو تو سزا دس سال تک قید ہے۔

اسی طرح دفعہ 14A صرف انہی افراد پر لاگو ہوتی ہے جن پر دفعہ 14(2) کے تحت الزام ہو۔ اس دفعہ کے مطابق ایسے ملزم کو ضمانت نہیں دی جا سکتی اگر عدالت کے سامنے ایسے معقول شواہد موجود ہوں جن سے اس کے جرم میں ملوث ہونے کا یقین پیدا ہو۔

لہٰذا عدالت نے واضح کیا کہ:

اگر کوئی شخص قانونی طریقے سے پاکستان آیا لیکن بعد میں اس کا ویزا یا اجازت نامہ ختم ہوگیا تو اس پر صرف دفعہ 14(1) لاگو ہوگی۔

ایسے مقدمات میں دفعہ 14A کی ضمانت پر پابندی لاگو نہیں ہوتی۔

لیکن اگر الزام یہ ہو کہ وہ ابتداء ہی سے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوا تو پھر دفعہ 14(2) اور دفعہ 14A دونوں لاگو ہوں گی۔

موجودہ مقدمے میں ایف آئی آر میں کہیں بھی یہ الزام موجود نہیں کہ درخواست گزار غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوا تھا۔

اس کے خلاف صرف یہ الزام ہے کہ وہ POR کارڈ سے متعلق انتظامی تبدیلیوں اور حکومتی نوٹیفکیشنز کے بعد بھی پاکستان میں موجود رہا۔

لہٰذا بادی النظر میں یہ مقدمہ دفعہ 14(1) کے دائرہ میں آتا ہے، نہ کہ دفعہ 14(2) کے۔

چونکہ دفعہ 14(1) میں زیادہ سے زیادہ سزا تین سال ہے، اس لیے یہ جرم ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497 کی ممانعتی شق (Prohibitory Clause) میں شامل نہیں ہوتا، جہاں اصول یہ ہے کہ ضمانت دینا قاعدہ ہے جبکہ انکار استثناء۔

7۔ پاکستانی خواتین کے غیر ملکی شوہروں سے متعلق اہم قانونی پہلو
عدالت نے مزید کہا کہ اس معاملے کا ایک نہایت اہم پہلو پاکستانی خواتین کے غیر ملکی شوہروں کی شہریت سے متعلق بھی ہے۔

پاکستان شہریت ایکٹ 1951 کی دفعہ 10 میں پہلے صرف یہ سہولت تھی کہ غیر ملکی عورت پاکستانی مرد سے شادی کرے تو شہریت حاصل کر سکتی ہے، لیکن غیر ملکی مرد کے لیے ایسی کوئی سہولت نہیں تھی۔

اس صنفی امتیاز کو وفاقی شرعی عدالت نے از خود نوٹس کیس (PLD 2008 FSC 1) میں غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ:

آئین کے آرٹیکل 2A اور 25 کی خلاف ورزی ہے،

صنفی مساوات کے خلاف ہے،

پاکستان کے بین الاقوامی وعدوں سے متصادم ہے،

اور قرآن و سنت کے بھی منافی ہے۔

اگرچہ اس فیصلے کے خلاف شرعی اپیل سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے، تاہم مختلف ہائی کورٹس مسلسل ایسے مقدمات میں حکومت اور نادرا کو POC جاری کرنے اور درخواستوں پر فیصلہ کرنے کی ہدایات دیتی رہی ہیں۔

موجودہ مقدمے میں بھی:

درخواست گزار 1994 سے پاکستانی خاتون کا شوہر ہے۔

اس کے بچے موجود ہیں۔

پشاور ہائی کورٹ پہلے ہی حکومت اور نادرا کو اس کے POC کے بارے میں فیصلہ کرنے کی ہدایت دے چکی ہے۔

اسی طرح بچوں کی شہریت کے متعلق بھی الگ آئینی درخواست میں احکامات جاری ہو چکے ہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ ایسے حالات میں جبکہ حکومت خود اس کی قانونی حیثیت کا فیصلہ کرنے میں تاخیر کر رہی ہے، اس تاخیر کو بنیاد بنا کر درخواست گزار کو جیل میں رکھنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

8۔ مزید تفتیش (Further Inquiry)
عدالت نے کہا کہ جب کسی شخص کی قانونی حیثیت، شہریت اور انتظامی کارروائیاں ابھی زیر التواء ہوں تو معاملہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497(2) کے تحت مزید تفتیش (Further Inquiry) کے زمرے میں آتا ہے۔

درخواست گزار کی:

1994 سے پاکستانی خاتون سے شادی،

اس شادی سے بچوں کی موجودگی،

ہائی کورٹ کی جانب سے POC اور قانونی حیثیت کے تعین سے متعلق احکامات،

یہ تمام ایسے حقائق ہیں جو ضمانت کے مرحلے پر انتہائی اہم ہیں۔

ایسے حالات میں مقدمہ چلنے سے پہلے اسے جیل میں رکھنا کسی جائز مقصد کو پورا نہیں کرتا۔

9۔ فیصلہ
مندرجہ بالا وجوہات کی بنا پر عدالت نے:

پشاور ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔

اس درخواست کو اپیل میں تبدیل کرکے منظور کر لیا۔

درخواست گزار کو بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے 20,000 روپے کے مچلکوں اور اسی مالیت کے دو ضامن پیش کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے میں کی گئی تمام قانونی آراء صرف ضمانت کے مرحلے تک محدود ہیں اور ان کا مقدمے کے ٹرائل یا درخواست گزار کی شہریت، ڈومیسائل، قومی شناختی کارڈ یا POC سے متعلق کسی انتظامی یا سول کارروائی پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ ان معاملات کا فیصلہ متعلقہ فورم اپنے سامنے موجود شواہد اور قانون کی بنیاد پر آزادانہ طور پر کرے گا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کا قانونی تجزیاتی جائزہ
Crl. Petition No. 894 of 2026
محمد ہاشم خان کاکڑ، جج
موضوع: غیر ملکی شوہر، پاکستانی شہریت، POC، غیر ملکی ایکٹ 1946 اور بعد از گرفتاری ضمانت

یہ فیصلہ صرف ایک ضمانت کا فیصلہ نہیں بلکہ امیگریشن قانون، شہریت، آئینی مساوات، بنیادی حقوق اور ضمانت کے قانون کے حوالے سے ایک اہم نظیر (Precedent) ہے۔ عدالت نے متعدد قانونی اصول واضح کیے ہیں جن کا اطلاق مستقبل کے ایسے تمام مقدمات پر ہو سکتا ہے۔

1۔ بنیادی قانونی سوالات (Core Legal Issues)
عدالت کے سامنے بنیادی سوالات یہ تھے:

کیا پاکستانی خاتون کا غیر ملکی شوہر، جس کا ویزا ختم ہو چکا ہو، دفعہ 14(1) یا دفعہ 14(2) کے تحت آئے گا؟

کیا ایسے شخص پر دفعہ 14A کے تحت ضمانت کی پابندی لاگو ہوگی؟

کیا POC یا شہریت کی درخواست زیر التواء ہونے کے دوران اس کی گرفتاری جائز ہے؟

کیا انتظامی تاخیر (Administrative Delay) کو جرم میں تبدیل کیا جا سکتا ہے؟

عدالت نے ان تمام سوالات کا تفصیلی جواب دیا۔

2۔ دفعہ 14 کی پہلی جامع تشریح
یہ اس فیصلے کا سب سے اہم قانونی پہلو ہے۔

سپریم کورٹ نے پہلی مرتبہ واضح کیا کہ:

(الف) دفعہ 14(1)
یہ ان افراد پر لاگو ہوتی ہے جو

قانونی طور پر پاکستان آئے ہوں،

لیکن بعد میں ویزا ختم ہو گیا ہو،

یا رہائشی اجازت ختم ہوگئی ہو۔

یعنی ان کا داخلہ غیر قانونی نہیں تھا۔

سزا:

تین سال تک قید

(ب) دفعہ 14(2)
یہ صرف ان افراد پر لاگو ہوگی جو

جان بوجھ کر غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوں۔

سزا:

دس سال تک قید

عدالت کا اہم اصول
عدالت نے کہا کہ

ہر غیر ملکی جس کا ویزا ختم ہو جائے، وہ دفعہ 14(2) کے تحت نہیں آتا۔

یہ ایک نہایت اہم اصول ہے۔

3۔ دفعہ 14A کی نئی تشریح
عدالت نے قرار دیا کہ

دفعہ 14A صرف انہی مقدمات پر لاگو ہوگی جن میں

الزام دفعہ 14(2) کا ہو۔

اگر مقدمہ صرف

Overstay

کا ہے تو

14A لاگو نہیں ہوگی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ

ہزاروں ایسے مقدمات میں جہاں صرف ویزا ختم ہونے کا معاملہ ہے

ضمانت روکی نہیں جا سکتی۔

4۔ پہلی مرتبہ "Overstay" اور "Illegal Entry" میں فرق
اس فیصلے کی سب سے بڑی قانونی اہمیت یہی ہے۔

عدالت نے واضح کیا

Illegal Entry
پاکستان میں غیر قانونی داخل ہونا

اور

Illegal Stay
قانونی طور پر داخل ہونے کے بعد غیر قانونی قیام

دونوں مختلف جرائم ہیں۔

پولیس اکثر دونوں کو ایک ہی سمجھتی ہے۔

سپریم کورٹ نے اس غلطی کو درست کیا۔

5۔ ضمانت کا اصول
عدالت نے دفعہ 497 Cr.P.C. کی تشریح کرتے ہوئے کہا

چونکہ دفعہ 14(1) میں سزا

صرف تین سال ہے

لہٰذا

یہ

Prohibitory Clause

سے باہر ہے۔

نتیجہ:

ضمانت اصول ہوگی جبکہ انکار استثناء ہوگا۔

یہ اصول مستقبل میں تمام ایسے مقدمات پر اثر انداز ہوگا۔

6۔ پاکستانی خاتون کے غیر ملکی شوہر کے حقوق
یہ فیصلہ اس حوالے سے بھی انتہائی اہم ہے۔

عدالت نے تسلیم کیا کہ

درخواست گزار

پاکستانی خاتون کا شوہر ہے۔

1994 سے شادی شدہ ہے۔

اس کے بچے بھی پاکستانی ہیں۔

یہ حقائق محض اتفاقی نہیں بلکہ قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔

7۔ صنفی مساوات (Gender Equality)
عدالت نے پہلی مرتبہ تفصیل سے

Federal Shariat Court

کے فیصلے

PLD 2008 FSC 1

کا حوالہ دیا۔

اس فیصلے میں کہا گیا تھا

کہ

پاکستانی مرد کی غیر ملکی بیوی کو شہریت دینا

لیکن

پاکستانی عورت کے غیر ملکی شوہر کو شہریت نہ دینا

امتیازی سلوک ہے۔

یہ

Article 25

Article 2A

کی خلاف ورزی ہے۔

سپریم کورٹ نے اگرچہ حتمی فیصلہ نہیں دیا کیونکہ شرعی اپیل زیر سماعت ہے،

لیکن اس اصول کو انتہائی اہم قرار دیا۔

8۔ POC کی قانونی حیثیت
عدالت نے کہا

اگر کسی شخص کی

POC

کی درخواست زیر التواء ہو

تو صرف اس بنیاد پر اسے جیل بھیج دینا

غیر مناسب ہوگا۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ

POC صرف ایک شناختی کارڈ نہیں

بلکہ قانونی حیثیت کے تعین کا اہم ذریعہ ہے۔

9۔ انتظامی تاخیر جرم نہیں
یہ فیصلے کا ایک انقلابی اصول ہے۔

عدالت نے کہا

اگر حکومت خود

POC

یا

شہریت

کا فیصلہ نہیں کر رہی

تو

اس تاخیر کی سزا درخواست گزار کو نہیں دی جا سکتی۔

یعنی

Administrative Delay

کو

Criminal Liability

میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

10۔ Further Inquiry کا دائرہ وسیع
سپریم کورٹ نے کہا

جب کسی شخص کی قانونی حیثیت خود متنازع ہو

تو

دفعہ 497(2)

کے تحت

Further Inquiry

پیدا ہو جاتی ہے۔

یہ اصول آئندہ متعدد امیگریشن مقدمات میں استعمال ہوگا۔

11۔ عدالتی احکامات کی اہمیت
عدالت نے کہا

جب پہلے ہی

ہائی کورٹ

NADRA

اور

وفاقی حکومت

کو ہدایات دے چکی ہو

تو

اس کے باوجود ملزم کو جیل میں رکھنا

ان عدالتی احکامات کی روح کے خلاف ہے۔

12۔ آئینی پہلو
یہ فیصلہ بالواسطہ درج ذیل آئینی حقوق کی حفاظت کرتا ہے:

آرٹیکل 4 (قانون کے مطابق سلوک)

آرٹیکل 9 (زندگی اور آزادی)

آرٹیکل 10A (منصفانہ ٹرائل)

آرٹیکل 25 (برابری)

13۔ امیگریشن قانون پر اثرات
یہ فیصلہ مستقبل میں درج ذیل مقدمات میں بطور نظیر استعمال ہوگا:

ویزا ختم ہونے والے غیر ملکی

POC درخواست گزار

پاکستانی خواتین کے غیر ملکی شوہر

شہریت زیر التواء مقدمات

امیگریشن ضمانت کے مقدمات

غیر ملکی ایکٹ 1946 کی دفعہ 14 کے مقدمات

14۔ وکلاء کے لیے اہم قانونی نکات
اس فیصلے سے درج ذیل دلائل اخذ کیے جا سکتے ہیں:

Overstay ہرگز Illegal Entry نہیں۔

دفعہ 14(1) اور 14(2) الگ الگ جرائم ہیں۔

دفعہ 14A صرف دفعہ 14(2) پر لاگو ہوتی ہے۔

انتظامی تاخیر ملزم کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتی۔

POC زیر التواء ہونا ضمانت کے حق میں ایک اہم حقیقت ہے۔

پاکستانی خاتون سے شادی ایک متعلقہ قانونی حقیقت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ایسے مقدمات عموماً Further Inquiry کے زمرے میں آئیں گے۔

نتیجتاؓ مختصراؓ ۔۔۔
یہ فیصلہ امیگریشن، شہریت اور ضمانت کے قانون میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ سپریم کورٹ نے پہلی مرتبہ واضح اصول قائم کیا کہ قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونے کے بعد ویزا کی مدت ختم ہو جانا (Overstay) اور ابتدا ہی سے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونا (Illegal Entry) دو الگ جرائم ہیں۔ مزید یہ کہ دفعہ 14A کے تحت ضمانت کی پابندی صرف دفعہ 14(2) کے مقدمات تک محدود ہے، جبکہ POC یا شہریت کی درخواست زیر التواء ہونے کی صورت میں انتظامی تاخیر کو بنیاد بنا کر کسی شخص کو فوجداری سزا یا غیر ضروری حراست میں نہیں رکھا جا سکتا۔

یہ فیصلہ مستقبل میں غیر ملکی ایکٹ 1946، پاکستان شہریت ایکٹ 1951، POC، غیر ملکی شوہروں کے حقوق، اور بعد از گرفتاری ضمانت سے متعلق مقدمات میں ایک مضبوط اور قابلِ استناد عدالتی نظیر کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔

2026  SCMR  561     Husband claiming recovery of various items given to wife relating to wedding functions---Permissibil...
06/08/2026

2026 SCMR 561
Husband claiming recovery of various items given to wife relating to wedding functions---Permissibility---Law draws a clear distinction between dower, dowry, Bridal gifts and presents---Items given by a husband or his family in connection with marriage fall within the category of Bridal gifts or presents and, as such, vest absolutely in the bride---Such items cannot be reclaimed by the husband, as they do not constitute dower nor are they recoverable as personal property of the husband.
Lahore High Court Lahore - Bar Association
Lawyers
LAHORE BAR Lawyers

Dying Declarations قانون شہادت آرٹیکل 46پولیس رولز باب25 فقرہ 21مجموعہ ضابطہ فوجداری دفعہ 174(3)
28/07/2026

Dying Declarations
قانون شہادت آرٹیکل 46
پولیس رولز باب25 فقرہ 21
مجموعہ ضابطہ فوجداری دفعہ 174(3)

Address

1/Turner Road, Maqbool Manzil, , Opposite Lahore High Court
Lahore
54000

Telephone

+924237222786

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kakar Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Kakar Law Associates:

Shortcuts

Share