Pak-Lawyer Associates

Pak-Lawyer Associates To know more about us please visit our office and get complete information about our previous record and success rate.

Pak-Lawyer Associates is a professional law firm in Lahore Pakistan dealing in Family Law, Overseas Pakistani Property Matters, Khula, Divorce, Child Custody, Civil Litigation, Corporate Law and Immigration related legal services. PAKLAWYER.COM was launched in 2010 by Pak-Lawyer Associates to fulfill the growing needs of the people searching the Internet for immediate and easy access to understand

able legal advice. It has been seen that there are many people who do not have means to hire the legal services of established lawyers, people who are unaware of their rights, legal status of their actions, do not know how to proceed lawfully when something goes wrong, or get trapped in the hands of miscreants. Erudite team of PakLawyer Associates is here to provide legal assistance to people especially the overseas Pakistanis according to the Pakistani laws and regulations. We try our best to provide an honest, sincere and professional legal advice to our online clients with the help of most professional and competent lawyers of Pakistan.

Congratulations! Heartiest congratulations to our Senior Lawyer at Pak-Lawyer Associates , Mr. Muhammad Asif Bhatti, Adv...
19/08/2026

Congratulations!

Heartiest congratulations to our Senior Lawyer at Pak-Lawyer Associates , Mr. Muhammad Asif Bhatti, Advocate Supreme Court of Pakistan, on his appointment as President of AIL District Lahore, Punjab Chapter, Pakistan.

We wish him great success and continued excellence in his professional and leadership role. ⚖️👏

The Association of International Lawyers (AIL Global) is delighted to announce the appointment of Mr. Muhammad Asif Bhatti as President of AIL District Lahore, Punjab Chapter, Pakistan, for the year 2026.

We extend our sincere and heartfelt congratulations to Mr. Muhammad Asif Bhatti on assuming this prestigious responsibility.

We are confident that his professional experience, strong leadership, integrity and dedication will strengthen AIL’s presence in District Lahore and effectively serve the legal fraternity.

During his tenure, we look forward to his valuable contribution towards promoting the rule of law, protecting human rights, safeguarding the independence of the judiciary and advancing the mission of the Association of International Lawyers.

We wish him every success in his new role.

Saeed Ahmad Hashmi
President
Association of International Lawyers
(AIL Global)

Learn the complete Divorce and Khula procedure in Pakistan through Family Court, including the legal process, required d...
15/08/2026

Learn the complete Divorce and Khula procedure in Pakistan through Family Court, including the legal process, required documents, reconciliation proceedings, decree, Union Council procedure and NADRA divorce certificate.

Divorce & Khula Procedure in Pakistan 2026 | Family Court Process E...

🇵🇰 **Happy Independence Day, Pakistan!** 🇵🇰Wishing all our valued clients, colleagues, and the entire legal fraternity a...
13/08/2026

🇵🇰 **Happy Independence Day, Pakistan!** 🇵🇰

Wishing all our valued clients, colleagues, and the entire legal fraternity across Pakistan a very **Happy Independence Day**.

May Pakistan continue to prosper, strengthen its institutions, uphold the rule of law, and earn greater respect and recognition in the world.

**Pakistan Zindabad! 🇵🇰💚**

— **Pak-Lawyer Associates**

*نئے مالی سال کے لئے دیت کی رقم ایک کروڑ ترانوے لاکھ باون ہزار تین سو نوے روپے مقرر۔**ہر سال وفاقی حکومت یہ رقم تعزیرات ...
28/07/2026

*نئے مالی سال کے لئے دیت کی رقم ایک کروڑ ترانوے لاکھ باون ہزار تین سو نوے روپے مقرر۔*
*ہر سال وفاقی حکومت یہ رقم تعزیرات پاکستان کی دفعہ 323 کے تحت مقرر کرتی ہے۔*
*یہ رقم قتل کی صورت میں مقتول کے وارثان کو ادا کی جاتی یے۔*
*یاد رہے کہ یہ رقم کم سے کم ہوتی ہے۔ عدالت فیصلہ کرتے وقت اس رقم میں مقدمہ کے حقائق اور ملزم/مجرم اور مقتول کی مالی حیثیت کو دیکھتے ہوئے بڑھا بھی سکتی ہے۔

📌 پنجاب بھر کے تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو ہدایت کی گئی کہ 6 ماہ سے زائد عرصہ سے زیر التواء تمام فیملی مقدمات کی رپورٹس...
22/07/2026

📌 پنجاب بھر کے تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو ہدایت کی گئی کہ 6 ماہ سے زائد عرصہ سے زیر التواء تمام فیملی مقدمات کی رپورٹس طلب کریں، تاخیر کی وجوہات معلوم کریں اور قانون کے مطابق فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمات جلد نمٹانے کو یقینی بنائیں۔

**📢 لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ برائے فیملی مقدمات**
**2026 LHC 4731 | محمد اقبال افضل بنام جج فیملی کورٹ و دیگر**
⚖️ **مسٹر جسٹس محسن اختر کیانی**

فیملی مقدمات میں غیر ضروری تاخیر کے خلاف لاہور ہائیکورٹ کا نہایت اہم اور رہنمائی فراہم کرنے والا فیصلہ۔ عدالت نے واضح کیا کہ فیملی کورٹ کا بنیادی مقصد **سستا، فوری اور مؤثر انصاف** فراہم کرنا ہے۔

# اہم قانونی نکات:

✅ فیملی مقدمات کو **قانوناً 6 ماہ** کے اندر نمٹایا جانا چاہیے، جیسا کہ فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کے سیکشن 12-A میں مقرر کیا گیا ہے۔

✅ فیملی کورٹ ایک خصوصی عدالت ہے، لہٰذا **Code of Civil Procedure (CPC)** اور **قانونِ شہادت (QSO)** عام طور پر ان مقدمات پر لاگو نہیں ہوتے، سوائے ان حدود کے جو قانون میں بیان کی گئی ہیں۔

✅ غیر ضروری درخواستوں، بار بار التواء اور تکنیکی اعتراضات کے ذریعے مقدمات کو طول دینا قانون کی روح کے خلاف ہے۔

✅ فیملی جج ہر درخواست پر تحریری جواب طلب کرنے کے بجائے، جہاں ممکن ہو، **اسی روز سماعت کرکے فیصلہ** کرے تاکہ مقدمات میں تاخیر نہ ہو۔

✅ ضمنی درخواستوں کو حتی الامکان **3 دن کے اندر** نمٹایا جائے اور غیر ضروری تاریخیں نہ دی جائیں۔

✅ مناسب مواقع فراہم ہونے کے بعد مزید بار بار مہلت دینا "فیئر ٹرائل" کا تقاضا نہیں ہے۔

✅ فوٹو کاپیز اور دستاویزات کی اصل پیش کرنے کے نام پر غیر ضروری التواء سے اجتناب کیا جائے، ان کی قانونی حیثیت کا جائزہ حتمی فیصلے میں لیا جا سکتا ہے۔

✅ عدالتی کارروائی پر مؤثر کنٹرول رکھنا، غیر ضروری التواء روکنا اور مقدمات کو مقررہ مدت میں مکمل کرنا **فیملی جج کی قانونی ذمہ داری** ہے۔

# عدالت کی اہم ہدایات:

📌 درخواست گزار کی آئینی درخواست مسترد کر دی گئی کیونکہ متعدد مواقع دیے جانے کے باوجود وہ مقدمہ طول دیتا رہا۔

📌 متعلقہ فیملی کورٹ کو حکم دیا گیا کہ مقدمہ **روزانہ کی بنیاد پر** چلایا جائے اور **15 دن کے اندر** مکمل کرکے رپورٹ ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے ذریعے لاہور ہائیکورٹ کو بھجوائی جائے۔

📌 پنجاب بھر کے تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو ہدایت کی گئی کہ **6 ماہ سے زائد عرصہ سے زیر التواء تمام فیملی مقدمات** کی رپورٹس طلب کریں، تاخیر کی وجوہات معلوم کریں اور قانون کے مطابق فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمات جلد نمٹانے کو یقینی بنائیں۔

⚖️ **یہ فیصلہ فیملی کورٹس میں غیر ضروری تاخیر کے خاتمے، مؤثر کیس مینجمنٹ اور بروقت انصاف کی فراہمی کے حوالے سے ایک اہم نظیر ہے۔**

🌐

PakLawyer.com (Pvt) Ltd is a trusted law firm in Lahore offering family law, divorce, khula, child custody, civil litigation, NADRA, and overseas Pakistani legal services.

⚖️ لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ: سپلیمنٹری بیان کی بنیاد پر گرفتاری غیر قانونی قرارCrl. Misc. No. 39870/2026Umer Faroo...
22/07/2026

⚖️ لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ: سپلیمنٹری بیان کی بنیاد پر گرفتاری غیر قانونی قرار

Crl. Misc. No. 39870/2026
Umer Farooq alias Ahtisham Vs. The State etc.
2026 LHC 4789
مورخہ: 16-07-2026
مسٹر جسٹس محمد طارق ندیم

اہم قانونی اصول (Tag Line):

✅ (1) کسی پہلے سے نامعلوم ملزم کو محض تاخیر سے ریکارڈ کیے گئے سپلیمنٹری بیان، غیر ظاہر شدہ ذرائع، مبہم شبہات یا غیر مصدقہ مخبر کی اطلاع کی بنیاد پر نامزد یا گرفتار کرنا قانوناً قابلِ قبول نہیں۔ ایسی بنیاد پر گرفتاری پولیس اختیارات کا من مانی اور جابرانہ استعمال ہے، جس سے استغاثہ کا مقدمہ مشکوک ہو جاتا ہے اور ملزم ضابطۂ فوجداری (Cr.P.C.) کی دفعہ 497 کے تحت ضمانت کا حق دار بن جاتا ہے۔

✅ (2) دورانِ تفتیش پولیس کے سامنے کیا گیا اعترافِ جرم قانوناً کوئی شہادتی حیثیت نہیں رکھتا اور آرٹیکلز 38 اور 39، قانونِ شہادت آرڈر 1984 کے تحت بطور بنیادی شہادت عدالت میں قابلِ قبول نہیں۔

فیصلے کے اہم نکات:

🔹 لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ صرف سپلیمنٹری بیان کی بنیاد پر کسی شخص کو گرفتار کرنا شہری کے بنیادی حقوق اور قانون کے تقاضوں کے منافی ہے۔

🔹 سماعت کے دوران ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب نے عدالت کے روبرو اعتراف کیا کہ قانون میں صرف سپلیمنٹری بیان کی بنیاد پر کسی شخص کو نامزد یا گرفتار کرنے کی کوئی واضح قانونی شق موجود نہیں۔

🔹 عدالت نے واضح کیا کہ محض شک، زبانی اطلاع یا تاخیر سے دیے گئے اضافی بیان کی بنیاد پر گرفتاری قانوناً برقرار نہیں رہ سکتی۔

🔹 عدالت نے انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کو ہدایت جاری کی کہ اس فیصلے کی نقول تمام RPOs، CPOs اور DPOs کو ارسال کی جائیں تاکہ آئندہ قانون کے مطابق تفتیش اور گرفتاری کو یقینی بنایا جا سکے۔

⚖️ یہ فیصلہ سپلیمنٹری بیانات کی بنیاد پر گرفتاریوں کے حوالے سے ایک اہم عدالتی نظیر (Judicial Precedent) ہے، جو تفتیشی افسران کے اختیارات اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے درمیان قانونی توازن کو واضح کرتا ہے۔

🌐 www.paklawyer.com

پشاور ہائیکورٹ کا اہم عبوری حکم: افغان سابق سیکیورٹی اہلکاروں، صحافیوں، وکلا، اساتذہ اور دیگر پناہ گزینوں کو 60 روزہ قان...
15/07/2026

پشاور ہائیکورٹ کا اہم عبوری حکم: افغان سابق سیکیورٹی اہلکاروں، صحافیوں، وکلا، اساتذہ اور دیگر پناہ گزینوں کو 60 روزہ قانونی تحفظ

پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے افغانستان سے تعلق رکھنے والے سابق سیکیورٹی اہلکاروں، صحافیوں، وکلا، اساتذہ، انسانی حقوق کے کارکنان اور دیگر افغان شہریوں کی مجموعی طور پر 123 آئینی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے اہم عبوری حکم جاری کیا ہے۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ درخواست گزاروں کو آئندہ 60 روز تک نہ گرفتار کیا جائے اور نہ ہی پاکستان سے بے دخل کیا جائے۔

یہ عبوری حکم جسٹس وقار احمد اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جاری کیا۔ سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا جبکہ وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔

درخواست گزاروں کے مطابق وہ افغانستان میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں، سیاسی وابستگی، انسانی حقوق کی سرگرمیوں یا صنفی بنیادوں پر شدید خطرات سے دوچار رہے، جس کے باعث انہیں پاکستان میں پناہ لینا پڑی۔ ان کا مؤقف تھا کہ متعدد درخواست گزار UNHCR کے ساتھ بطور مہاجر رجسٹرڈ ہیں، جبکہ کئی افراد کی تیسرے ممالک میں منتقلی (Resettlement) کا عمل جاری ہے یا مکمل ہو چکا ہے۔

وفاقی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزاروں کی پاکستان میں موجودگی Foreigners Act, 1946 کے تحت ریگولیٹ ہوتی ہے۔ سرکاری مؤقف کے مطابق بیشتر افراد کے ویزوں کی مدت ختم ہو چکی ہے، اس لیے ان کا مزید قیام قانونی جواز نہیں رکھتا اور درخواستیں ناقابلِ سماعت قرار دی جانی چاہئیں۔
مزید اہم حقائق:
عدالت کے روبرو یہ بھی بتایا گیا کہ یہ درخواستیں تقریباً 140 افغان خاندانوں اور افراد کی جانب سے دائر کی گئی ہیں، جن میں سابق افغان حکومت اور اس کے اتحادی اداروں کے ملازمین، دفاعی و سیکیورٹی شعبے سے وابستہ افراد، ججز، پراسیکیوٹرز، وکلا، یونیورسٹی اساتذہ، صحافی، سول سوسائٹی کے کارکنان اور خواتین شامل ہیں۔ بیشتر درخواست گزاروں نے UNHCR سے بین الاقوامی تحفظ حاصل کرنے اور تیسرے ممالک میں آبادکاری (Resettlement) کے لیے رجوع کر رکھا ہے، جبکہ متعدد افراد کے ریفیوجی اسٹیٹس کے تعین (Refugee Status Determination) اور سیکیورٹی کلیئرنس سمیت مختلف مراحل مکمل ہو چکے ہیں۔

وفاقی حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ Illegal Foreigners Repatriation Plan (IFRP) کے تحت یکم ستمبر 2025 سے آخری مرحلہ نافذ العمل ہے، لہٰذا جن افغان شہریوں کے پاس مؤثر ویزا یا پاسپورٹ موجود نہیں، وہ Foreigners Act, 1946 کے تحت وطن واپسی کے پابند ہیں، خواہ ان کا تیسرے ملک میں آبادکاری کا عمل زیر التوا ہی کیوں نہ ہو۔

درخواست گزاروں کے وکلا نے عدالت کے سامنے Non-Refoulement کے بین الاقوامی اصول پر بھی انحصار کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ایسے افراد کو ایسے ملک واپس نہیں بھیجا جا سکتا جہاں انہیں جان، آزادی یا سلامتی کو حقیقی خطرات لاحق ہوں۔ عدالت نے عبوری طور پر وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کی Refugee Status اور قانونی حیثیت کا تعین کیا جائے، اور اس دوران 60 روز تک انہیں گرفتار، حراست میں لینے یا پاکستان سے بے دخل نہ کیا جائے۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کی قانونی حیثیت کا مکمل جائزہ لیا جائے۔ مزید یہ کہ آئندہ 60 روز تک کسی بھی درخواست گزار کو گرفتار یا ملک بدر نہ کیا جائے تاکہ ان کے قانونی حقوق محفوظ رہیں اور مقدمات قانون کے مطابق نمٹائے جا سکیں۔

قانونی اہمیت

یہ عبوری حکم اس اصول کی عکاسی کرتا ہے کہ جب کسی غیر ملکی شہری کی قانونی حیثیت، پناہ کے دعوے یا بین الاقوامی تحفظ سے متعلق معاملات عدالت کے زیرِ غور ہوں تو حتمی فیصلے تک عدالت مناسب عبوری تحفظ فراہم کر سکتی ہے تاکہ قانونی کارروائی مؤثر انداز میں مکمل ہو سکے اور بنیادی قانونی حقوق متاثر نہ ہوں۔

71 سالہ قانونی جنگ کے بعد خاتون کو انصاف مل گیا. # # # **سپریم کورٹ آف پاکستان کا مختصر حتمی فیصلہ (C.P.L.A. No.1103/L/2...
01/07/2026

71 سالہ قانونی جنگ کے بعد خاتون کو انصاف مل گیا.

# # # **سپریم کورٹ آف پاکستان کا مختصر حتمی فیصلہ (C.P.L.A. No.1103/L/2016)**

**مورخہ: 30 جون 2026**

**مختصر نوٹ (Final Order):**

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا کہ **زبانی ہبہ (Oral Gift)** ثابت کرنے کی ذمہ داری اس شخص پر ہوتی ہے جو ہبہ سے فائدہ اٹھا رہا ہو۔ صرف **انتقال (Mutation)** یا طویل قبضہ ہبہ کا ثبوت نہیں بنتا، بلکہ ہبہ کے تینوں لازمی ارکان یعنی **ایجاب (Offer)، قبول (Acceptance) اور قبضہ کی حوالگی (Delivery of Possession)** قابلِ اعتماد شہادت سے ثابت کرنا ضروری ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ خواتین کو وراثت سے محروم کرنے والے ہبہ، انتقالات اور دیگر انتظامات کو انتہائی سخت عدالتی جانچ کا سامنا کرنا ہوگا۔ وراثتی حقوق شریعت اور قانون کے تحت وفات کے ساتھ ہی وارثوں کو منتقل ہو جاتے ہیں، جنہیں جعلی انتقالات، خاندانی دباؤ یا محض ریونیو ریکارڈ کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

# # # **حتمی حکم (Final Order):**

* درخواست کو **اپیل میں تبدیل کرکے منظور** کر لیا گیا۔
* ٹرائل کورٹ، اپیلیٹ کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے **کالعدم** قرار دے دیے گئے۔
* **انتقال نمبر 75 مورخہ 17-04-1955** اور اس کی بنیاد پر ہونے والے تمام بعد کے انتقالات اور لین دین **غیر قانونی، باطل اور غیر مؤثر** قرار دیے گئے۔
* درخواست گزاروں کو مرحوم **روشن ولد بورا** کی جائیداد میں قانونِ وراثت کے مطابق ان کا حصہ دینے کا حکم دیا گیا۔
* ریونیو حکام کو ریکارڈ درست کرنے اور قانونی طریقے سے حصص کی تعیین و تقسیم کرنے کی ہدایت کی گئی۔
* اخراجات (Costs) کے متعلق کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔

**قانونی اصول (Ratio Decidendi):**
**صرف انتقال (Mutation) ملکیت یا ہبہ کا ثبوت نہیں؛ خواتین کے وراثتی حقوق کے خاتمے کا دعویٰ کرنے والے پر ہبہ کے تمام شرائط ثابت کرنے کا بوجھ ہوتا ہے، اور عدالتیں خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ایسے معاملے کا سختی سے جائزہ لینے کی پابند ہیں۔**

⚖️ **کیا "Punjab Control of Habitual Offenders and Anti-Social Behaviour Bill, 2026" شہری آزادیوں کے لیے خطرہ ہے؟**اس مج...
29/06/2026

⚖️ **کیا "Punjab Control of Habitual Offenders and Anti-Social Behaviour Bill, 2026" شہری آزادیوں کے لیے خطرہ ہے؟**

اس مجوزہ قانون کے تحت پولیس اور انتظامیہ کو ایسے غیر معمولی اختیارات دینے کی تجویز ہے جن کے ذریعے پاسپورٹ، شناختی کارڈ، بینک اکاؤنٹ، جائیداد، سوشل میڈیا اور نقل و حرکت تک محدود کی جا سکتی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ بل **بنیادی آئینی حقوق، منصفانہ ٹرائل، عدلیہ کی آزادی اور اصولِ انصاف (Natural Justice)** سے متعلق اہم آئینی سوالات پیدا کرتا ہے۔

📖 اس مجوزہ قانون کا مکمل قانونی و آئینی تجزیہ پڑھیں:
https://paklawyer.com/punjab-control-of-habitual-offenders-bill-2026/


https://paklawyer.com/punjab-control-of-habitual-offenders-bill-2026/

Address

2nd Floor, Mian Khalid Chambers, 1 Fane Road
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 09:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923214610092

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pak-Lawyer Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Pak-Lawyer Associates:

Shortcuts

Share