Pak-Lawyer Associates

Pak-Lawyer Associates To know more about us please visit our office and get complete information about our previous record and success rate.

Pak-Lawyer Associates is a professional law firm in Lahore Pakistan dealing in Family Law, Overseas Pakistani Property Matters, Khula, Divorce, Child Custody, Civil Litigation, Corporate Law and Immigration related legal services. PAKLAWYER.COM was launched in 2010 by Pak-Lawyer Associates to fulfill the growing needs of the people searching the Internet for immediate and easy access to understand

able legal advice. It has been seen that there are many people who do not have means to hire the legal services of established lawyers, people who are unaware of their rights, legal status of their actions, do not know how to proceed lawfully when something goes wrong, or get trapped in the hands of miscreants. Erudite team of PakLawyer Associates is here to provide legal assistance to people especially the overseas Pakistanis according to the Pakistani laws and regulations. We try our best to provide an honest, sincere and professional legal advice to our online clients with the help of most professional and competent lawyers of Pakistan.

اگر کسی شخص کا نام کسی قانونی stop list، blacklist، PNIL، ECL یا کسی مجاز قانونی order میں شامل نہ ہو تو اسے محض خدشہ کی...
29/05/2026

اگر کسی شخص کا نام کسی قانونی stop list، blacklist، PNIL، ECL یا کسی مجاز قانونی order میں شامل نہ ہو تو اسے محض خدشہ کی بنیاد پر سفر سے روکنا غیر قانونی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ۔

Case Title: Muhammad Abbas Vs. Federation of Pakistan through Secretary Interior and others
Case No.: Writ Petition No. 27534 of 2026
Citation/Reference: 2026 LHC 3249
Court: Lahore High Court, Lahore
Judge: Mr. Justice Raheel Kamran
Date of Hearing: 20.05.2026

اہم قانونی نکات:

1. لاہور ہائی کورٹ کے روبرو petitioner Muhammad Abbas نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے Sialkot International Airport سے Nigeria جانے سے غیر قانونی طور پر off-load کیا گیا۔

2. petitioner کے مطابق اس کے پاس تمام ضروری سفری دستاویزات موجود تھیں، جن میں valid passport، Nigerian visit visa، return ticket اور دیگر travel documents شامل تھے۔

3. airline نے travel documents verify کرنے کے بعد petitioner کو boarding card جاری کیا، جبکہ immigration counter پر اس کے passport پر exit stamp بھی لگا دی گئی تھی۔

4. اس کے باوجود Shift Incharge Immigration Departure, Sialkot Airport نے petitioner کو اس بنیاد پر off-load کیا کہ وہ Nigeria جانے کا مجاز نہیں، اور محض اس خدشہ پر کہ وہ Dubai میں skip کر جائے گا اور پاکستان واپس نہیں آئے گا۔

5. judgment کا بنیادی قانونی سوال یہ تھا کہ کیا کسی شہری کو محض شک، اندازے یا apprehension کی بنیاد پر سفر سے روکا جا سکتا ہے، جبکہ اس کے پاس تمام قانونی سفری دستاویزات موجود ہوں؟

6. Lahore High Court نے اصولی طور پر واضح کیا کہ شہری کا بیرونِ ملک سفر کرنا ایک قانونی حق ہے، اور ریاستی ادارے اس حق میں مداخلت صرف قانون، ٹھوس مواد، lawful authority اور due process کی بنیاد پر ہی کر سکتے ہیں۔

7. کسی مسافر کو valid visa، passport، return ticket اور immigration clearance کے باوجود صرف assumption یا suspicion پر off-load کرنا قانونی طور پر درست نہیں ہو سکتا۔

8. FIA/Immigration authorities کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قانونی تقاضوں کے مطابق documents verify کریں، مگر یہ اختیار arbitrary یا mechanical انداز میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

9. اگر کسی شخص کا نام کسی قانونی stop list، blacklist، PNIL، ECL یا کسی مجاز قانونی order میں شامل نہ ہو تو اسے محض خدشہ کی بنیاد پر سفر سے روکنا بنیادی حقوق کے منافی ہو سکتا ہے۔

10. یہ judgment overseas travel, airport off-loading, FIA immigration powers اور citizens’ fundamental rights کے حوالے سے ایک اہم رہنما فیصلہ ہے۔

Pak-Lawyer Associates Legal Note:

یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ پاکستانی شہری کو بیرون ملک سفر سے روکنے کے لیے صرف شک یا ذاتی اندازہ کافی نہیں۔ اگر مسافر کے پاس valid passport، valid visa، return ticket اور مکمل سفری دستاویزات موجود ہوں تو FIA/Immigration حکام کو قانونی بنیاد کے بغیر اسے off-load نہیں کرنا چاہیے۔

Pak-Lawyer Associates
Immigration Law | FIA Off-Loading Cases | ECL/PNIL/Blacklist Matters | Constitutional Petitions
www.paklawyer.com | +92 321 4610092

28/05/2026

alert Facebook

اقوامِ متحدہ نے اسرائیلی فورسز کو اپنی سالانہ “List of Shame / Blacklist” میں شامل کر دیا ہے، تاہم یہ بلیک لسٹنگ فلسطینی قیدیوں کے معاملے پر نہیں بلکہ مسلح تنازعات میں بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں، بچوں کی ہلاکتوں، زخمی ہونے، اسکولوں اور اسپتالوں پر حملوں کے تناظر میں کی گئی ہے۔

فلسطینی قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک، تشدد، خفیہ حراست، وکیل تک رسائی نہ ہونے اور جیلوں میں اموات کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق ماہرین نے اسرائیل پر الگ سے سنگین تحفظات ظاہر کیے ہیں اور شفاف تحقیقات و جوابدہی کا مطالبہ کیا ہے۔

لہٰذا درست خبر یہ ہے کہ اسرائیل کو UN Blacklist میں بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں پر شامل کیا گیا، جبکہ فلسطینی قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک پر UN ماہرین نے اسرائیل سے جوابدہی اور تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔



“اقوامِ متحدہ نے اسرائیل کو بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں پر اپنی ‘List of Shame’ میں شامل کیا ہے، جبکہ UN انسانی حقوق ماہرین نے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ تشدد، غیر انسانی سلوک، خفیہ حراست اور جنسی بدسلوکی کے سنگین الزامات پر اسرائیل سے جوابدہی اور تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔”

فلسطینی قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک پر اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق ماہرین نے اسرائیل پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ UN رپورٹس کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد ہزاروں فلسطینیوں کو طویل اور خفیہ حراست، وکیل تک رسائی نہ ہونے، تشدد، تذلیل آمیز سلوک اور جنسی بدسلوکی جیسے سنگین الزامات کا سامنا رہا۔
یہ بات بھی درست ہے کہ اقوامِ متحدہ نے اسرائیلی فورسز کو اپنی سالانہ “List of Shame” میں شامل کیا، تاہم یہ اقدام بنیادی طور پر مسلح تنازع میں بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں، بچوں کی ہلاکت و زخمی ہونے، اور اسکولوں و اسپتالوں پر حملوں کے تناظر میں کیا گیا تھا۔
دنیا بھر کے انسانی حقوق اداروں کا مطالبہ ہے کہ فلسطینی قیدیوں کے ساتھ ہونے والے مبینہ تشدد، غیر انسانی سلوک اور اموات کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، کیونکہ قیدی خواہ کوئی بھی ہو، international law کے تحت اس کے ساتھ انسانی وقار کے مطابق سلوک لازمی ہے۔

28/05/2026

28 مئی 1998 کو ٹریگرنگ میکینزم ڈیزائن کرنے والے ایک نوجوان افسر محمد ارشد کو جوہری دھماکے کے لیے بٹن دبانے کے لیے منتخب کیا گیا تھا جنھوں نے ’اللہ اکبر‘ کہتے ہوئے اس عمل...

 # # کشمیر، سی پیک اور پاک چین تعلقات: پاکستان کا مؤقف ایک بار پھر عالمی سطح پر مضبوط 🇵🇰🤝🇨🇳پاکستان اور چین کے مشترکہ اعل...
26/05/2026

# # کشمیر، سی پیک اور پاک چین تعلقات: پاکستان کا مؤقف ایک بار پھر عالمی سطح پر مضبوط 🇵🇰🤝🇨🇳

پاکستان اور چین کے مشترکہ اعلامیے میں **جموں و کشمیر** کے ذکر کے بعد خطے کی سفارتی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ پاکستان نے چین کو جموں و کشمیر کی تازہ صورتحال سے آگاہ کیا، جس پر چین نے اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ **جموں و کشمیر ایک تاریخی تنازع ہے** جسے اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کے مطابق **پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔**

یہ بیان کشمیری عوام کے لیے ایک اہم سفارتی حوصلہ افزائی ہے، کیونکہ دہائیوں سے کشمیری عوام اپنے بنیادی حقِ خودارادیت، انسانی وقار اور انصاف کے منتظر ہیں۔ کشمیر صرف زمین کا مسئلہ نہیں، بلکہ لاکھوں انسانوں کے مستقبل، عزت، آزادی اور بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔

بھارت نے اس مشترکہ اعلامیے میں کشمیر کے ذکر پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ اس کے “اٹوٹ انگ” ہیں، تاہم پاکستان کا مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ جموں و کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے، جس کا حتمی حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔

اسی مشترکہ اعلامیے میں پاکستان اور چین نے **سی پیک، قراقرم ہائی وے، گوادر بندرگاہ، خنجراب پاس اور علاقائی رابطوں** کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ گوادر کو علاقائی تجارت اور روابط کا اہم مرکز بنایا جائے گا، جبکہ سی پیک میں مزید فریقین کی شمولیت کا بھی خیر مقدم کیا گیا۔

پاکستان نے ملک میں موجود چینی شہریوں اور منصوبوں کے تحفظ کے لیے بھرپور اقدامات کی یقین دہانی کرائی، جبکہ چین نے پاکستان کی **خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت** کے دفاع میں اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ یہ تعاون پاکستان کے لیے نہ صرف معاشی ترقی بلکہ علاقائی استحکام کے حوالے سے بھی نہایت اہم ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں پاکستان نے **ون چائنہ پالیسی** کے ساتھ اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اظہار کیا اور تائیوان کو چین کا ناقابلِ تنسیخ حصہ قرار دیتے ہوئے چین کی قومی وحدت کی حمایت کی۔ جواباً چین نے بھی پاکستان کے قومی مفادات، علاقائی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ میں اپنی حمایت کو دہرایا۔

دونوں ممالک نے انسدادِ دہشت گردی، دفاعی تعاون، علاقائی امن اور افغانستان کے معاملے پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ کسی فرد، گروہ یا تنظیم، بشمول **تحریک طالبان پاکستان TTP** اور **ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ ETIM** کو کسی بھی سرزمین کو دہشت گرد کارروائیوں یا علاقائی سلامتی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

چین کی جانب سے دو پاکستانی خلا بازوں کی تربیت کا خیر مقدم بھی پاکستان کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ امید ظاہر کی گئی کہ ایک پاکستانی خلا باز چین کے خلائی اسٹیشن میں شامل ہونے والے ابتدائی غیر ملکی خلا بازوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ یہ پاکستان کے نوجوانوں، سائنسدانوں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک نیا خواب اور نیا افق ہے۔ 🚀

**Pak-Lawyer Associates کا مؤقف:**
کشمیر کا مسئلہ صرف سیاسی نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور حقِ خودارادیت سے جڑا ہوا ایک بنیادی قانونی و انسانی مسئلہ ہے۔ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ خطے میں پائیدار امن کے لیے کشمیری عوام کی آواز سنے اور اس دیرینہ تنازع کو انصاف، قانون اور انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق حل کروانے میں کردار ادا کرے۔

🌐 [www.paklawyer.com](http://www.paklawyer.com)

کوہستان میگا کرپشن سکینڈل، “پری زاد ہاؤس” اور عوام کے لیے قانونی سبقپاکستان کے معروف ڈرامہ **“پری زاد”** میں دکھایا گیا ...
26/05/2026

کوہستان میگا کرپشن سکینڈل، “پری زاد ہاؤس” اور عوام کے لیے قانونی سبق

پاکستان کے معروف ڈرامہ **“پری زاد”** میں دکھایا گیا خوبصورت فارم ہاؤس ایک بار پھر سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق اس گھر کو **کوہستان میگا کرپشن سکینڈل** سے جوڑا گیا، تاہم اس حوالے سے اب متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب حکام نے دعویٰ کیا کہ کوہستان کرپشن سکینڈل میں مبینہ طور پر بنائے گئے اثاثوں میں فارم ہاؤسز، جائیدادیں، گاڑیاں، نقد رقم، غیر ملکی کرنسی اور سونا شامل ہیں۔ دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس کیس میں مرکزی ملزم قیصر اقبال نے احتساب عدالت کے سامنے **1.235 ارب روپے سے زائد مالیت کے منجمد اثاثے** سرنڈر کیے، جبکہ نیب کے مطابق اس سکینڈل میں اب تک 41 افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں، 6 ملزمان کے پلی بارگین معاہدوں کی مالیت **8.43 ارب روپے** بتائی گئی، اور منجمد اثاثوں کی مجموعی مالیت **27.16 ارب روپے** تک پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اس سے قبل بزنس ریکارڈر کے مطابق نیب خیبر پختونخوا نے اسی کوہستان میگا سکینڈل میں **4.05 ارب روپے** کی پلی بارگین ریکوری کو اپنی بڑی ریکوریز میں شمار کیا، جسے احتساب عدالت نے منظور کیا۔ رپورٹ کے مطابق مقدمہ سرکاری خزانے سے مبینہ غیر قانونی ادائیگیوں، بے نامی اکاؤنٹس اور جعلی تعمیراتی کمپنیوں کے گرد گھومتا ہے۔

دوسری طرف، “پری زاد ہاؤس” کے مبینہ مالک عثمان ظفر چیمہ نے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ ڈرامہ میں دکھایا گیا اصل گھر کسی کوہستان سکینڈل یا ملزم سے منسلک ہے۔ ان کے مطابق یہ گھر 2015 سے ان کی فیملی کی ملکیت ہے اور ڈرامہ “پری زاد” اسی 10 کنال فارم ہاؤس پر شوٹ ہوا، جبکہ نیب کی جانب سے سیل کیا گیا فارم ہاؤس الگ بتایا جا رہا ہے۔

قانونی طور پر یہ بات نہایت اہم ہے کہ جب تک کسی عدالت سے کوئی الزام ثابت نہ ہو، کسی شخص، خاندان یا جائیداد کو حتمی طور پر جرم سے منسوب کرنا درست نہیں۔ میڈیا رپورٹس، سوشل میڈیا پوسٹس یا ابتدائی تفتیش کو حتمی فیصلہ سمجھنا قانونی اور اخلاقی طور پر خطرناک ہو سکتا ہے۔ غلط خبر پھیلانے سے کسی بے گناہ شخص کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے اور اس کے خلاف ہتکِ عزت یا دیگر قانونی کارروائی کا راستہ بھی کھل سکتا ہے۔

**Pak-Lawyer Associates کی عوامی رائے:**
کوہستان میگا کرپشن سکینڈل بلاشبہ ایک بڑا عوامی مفاد کا معاملہ ہے، کیونکہ اس میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن، بے نامی جائیدادیں، پلی بارگین اور سرکاری رقوم کی واپسی جیسے سنگین قانونی پہلو شامل ہیں۔ مگر “پری زاد ہاؤس” کے حوالے سے عوام کو احتیاط کرنی چاہیے، کیونکہ اس وقت نیب کے دعوے اور مبینہ مالک کے مؤقف میں فرق موجود ہے۔ اصل حقیقت کا تعین صرف مستند ریکارڈ، ملکیتی دستاویزات، نیب کی حتمی رپورٹ اور عدالتی کارروائی سے ہی ہو سکتا ہے۔

📌 **قانونی مشورہ:**
کسی بھی وائرل خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کے ذرائع، عدالتی ریکارڈ اور سرکاری مؤقف کی تصدیق ضرور کریں۔ خاص طور پر جب معاملہ کسی شخص کی ملکیت، ساکھ، کرپشن، نیب انکوائری یا فوجداری الزام سے متعلق ہو، تو غیر مصدقہ پوسٹ شیئر کرنا قانونی مسئلہ بن سکتا ہے۔



"

🚨 عوامی آگاہی پیغام 🚨اپنا CNIC، پاسپورٹ، فنگر پرنٹس، دستخط یا دیگر ذاتی دستاویزات کسی بھی غیر مصدقہ ویب سائٹ، واٹس ایپ ن...
22/05/2026

🚨 عوامی آگاہی پیغام 🚨

اپنا CNIC، پاسپورٹ، فنگر پرنٹس، دستخط یا دیگر ذاتی دستاویزات کسی بھی غیر مصدقہ ویب سائٹ، واٹس ایپ نمبر یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کرنے سے پہلے ضرور سوچیں۔

دنیا بھر میں شناختی دستاویزات کے غلط استعمال، آن لائن فراڈ، جعلی سمز، بینکنگ دھوکہ دہی اور سائبر کرائم کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک معمولی غفلت آپ کو مالی نقصان، قانونی پیچیدگیوں اور شناخت کے ناجائز استعمال جیسے سنگین مسائل سے دوچار کر سکتی ہے۔

📌 اپنی حفاظت کیلئے چند اہم احتیاطی تدابیر:

✔️ نامعلوم واٹس ایپ نمبرز یا سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کبھی بھی ذاتی دستاویزات شیئر نہ کریں
✔️ کسی بھی شخص کو OTP، بینک کوڈ یا تصدیقی معلومات فراہم نہ کریں
✔️ کسی ادارے یا ایجنسی کو ادائیگی سے پہلے اس کی قانونی حیثیت اور تصدیق ضرور کریں
✔️ اہم قانونی اور ذاتی دستاویزات کی کاپیاں محفوظ مقام پر رکھیں
✔️ اپنی شناختی معلومات صرف مستند اور قانونی ذرائع کے ساتھ شیئر کریں
✔️ سوشل میڈیا پر اپنی ذاتی معلومات غیر ضروری طور پر ظاہر کرنے سے گریز کریں

📖 یاد رکھیں:
ڈیجیٹل دنیا میں احتیاط، قانونی شعور اور معلومات ہی آپ کا اصل تحفظ ہیں۔

⚖️ باخبر رہیں — محفوظ رہیں۔

— Pak-Lawyer Associates
🌐 [www.paklawyer.com](http://www.paklawyer.com)

, , , , , , , , ゚viralシ

⚖️ اہم قانونی آگاہی — 2026 SCMR 77سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ صرف کسی الزام کا ثابت نہ ہو...
17/05/2026

⚖️ اہم قانونی آگاہی — 2026 SCMR 77

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ صرف کسی الزام کا ثابت نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ اطلاع جھوٹی تھی۔

📌 عدالت نے قرار دیا کہ: دفعہ 182 تعزیراتِ پاکستان کے تحت کارروائی کرنے کے لیے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ اطلاع جان بوجھ کر، بدنیتی اور جھوٹ کی نیت سے دی گئی تھی۔

⚠️ اس فیصلے کا مقصد یہ ہے کہ کسی شہری کو محض شک یا ناکافی ثبوت کی بنیاد پر سزا یا قانونی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

✅ عوام کے لیے اہم پیغام: اگر کوئی شخص قانون نافذ کرنے والے ادارے کو اطلاع دیتا ہے لیکن بعد میں الزام ثابت نہیں ہو پاتا، تو صرف اسی بنیاد پر اس کے خلاف دفعہ 182 کی کارروائی نہیں کی جا سکتی، جب تک بدنیتی کے واضح اور ٹھوس شواہد موجود نہ ہوں۔

⚖️ 2026 SCMR 77
🌐 www.paklawyer.com

Pak-Lawyer Associates
Legal Awareness | Public Guidance | Professional Legal Services
, , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

📘 سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم قانونی اصول — 2026 SCMR 87سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر ...
17/05/2026

📘 سپریم کورٹ آف پاکستان کا اہم قانونی اصول — 2026 SCMR 87

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر قانون کسی کام کو انجام دینے کا ایک مخصوص طریقہ کار مقرر کرے، تو وہ کام صرف اسی مقررہ قانونی طریقے سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ قانون سے ہٹ کر اختیار کیا گیا طریقہ قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔

⚖️ یہ فیصلہ قانونی شفافیت، انصاف اور Rule of Law کے اصول کو مضبوط کرتا ہے، اور واضح پیغام دیتا ہے کہ ادارے، افسران اور تمام متعلقہ حکام قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی اقدامات کرنے کے پابند ہیں۔

📌 2026 SCMR 87
⚖️ قانونی اصول اور طریقہ کار
🌐 www.paklawyer.com

Pak-Lawyer Associates
Civil | Family | Corporate Laws Experts

, , , , , , , , , , , , , , , , , , ,

Address

2nd Floor, Mian Khalid Chambers, 1 Fane Road
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 09:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923214610092

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pak-Lawyer Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Pak-Lawyer Associates:

Share