Advocate Syed Khurram Shah

Advocate Syed Khurram Shah Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Advocate Syed Khurram Shah, Advocate Syed Khurram Shah House Street No1 Hosue No1, Lahore.
(4)

Lawyer & Tax consultant & Digital Creator🎬

Criminal law, Civil Law, Family law. ⚖️📚
Contact Us For
1.Income Tax Return
2.SECP Company reg
3.Sale Tax Return
4.Business Registration
5.Govt Employees Tax Return
6.Salary Tax Return
From Nankana Sahib, Lhr Hello I am Adv Syed Khurram shah
Tax Lawyer
Tax Advisor
Tax Consultant
Corporate Lawyer
Family lawyer
Legal Consultant
Criminal cases lawyer
Civil cases lawyer

وکلا اور پولیس کی قیادت میں معاملہ حل کر دیا ہڑتال کو موخر کر دیا گیا.
11/05/2026

وکلا اور پولیس کی قیادت میں معاملہ حل کر دیا ہڑتال کو موخر کر دیا گیا.

🌷 Happy Mother’s Day 🌷ماں محبت، قربانی اور دعا کا دوسرا نام ہے۔ماں وہ ہستی ہے جس کے قدموں تلے جنت ہے۔آج کے دن دنیا کی تم...
10/05/2026

🌷 Happy Mother’s Day 🌷
ماں محبت، قربانی اور دعا کا دوسرا نام ہے۔
ماں وہ ہستی ہے جس کے قدموں تلے جنت ہے۔
آج کے دن دنیا کی تمام ماؤں کو سلام ❤️
تمام ماؤں کو مدرز ڈے مبارک
اللہ تعالیٰ ہر ماں کو صحت، خوشی اور لمبی زندگی عطا فرمائے۔ آمین 🤲
Advocate Syed Khurram Shah
⚖️ Tax Consultant & Lawyer
❤️

10/05/2026

Section 18(b), National Accountability Ordinance (NAO), 1999
یہ “Cognizance of Offences” سے متعلق ہے۔
متن (سادہ الفاظ میں):
Section 18(b) کے مطابق NAB reference (ریفرنس) شروع کیا جا سکتا ہے:
appropriate government کی طرف سے موصولہ reference پر؛ یا
کسی complaint (شکایت) کی وصولی پر؛ یا
NAB اپنے طور پر (suo motu / own accord) بھی کارروائی شروع کر سکتا ہے۔ �

آسان تشریح:
یعنی اگر کرپشن یا بدعنوانی کی اطلاع آئے، تو National Accountability Bureau (NAB) تین طریقوں سے inquiry/reference initiate کر سکتا ہے:
حکومت بھیج دے،
کوئی شہری شکایت کرے،
یا NAB خود نوٹس لے۔

08/05/2026

FBR Penalty - FBR Notice

07/05/2026

کراچی بار کے الیکشن دوبارہ سے مبینہ دھاندلی کی وجہ سے منسوخ کر دیے گئے ہیں اور انہیں معطل کر دیا گیا ہے۔
اب نئی انتخابی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

فوجداری قوانین (CrPC) میں حالیہ ترامیم (2024-25) کے بعد، ایف آئی آر (FIR) کے اندراج کے لیے اب پولیس کی اجارہ داری کافی ح...
06/05/2026

فوجداری قوانین (CrPC) میں حالیہ ترامیم (2024-25) کے بعد، ایف آئی آر (FIR) کے اندراج کے لیے اب پولیس کی اجارہ داری کافی حد تک کم ہو گئی ہے اور علاقہ مجسٹریٹ کو پہلے سے زیادہ بااختیار بنایا گیا ہے۔
نیچے ان نئی قانونی تبدیلیوں اور مجسٹریٹ کے اختیارات کی تفصیل دی گئی ہے:
1. مجسٹریٹ کے اختیارات میں نئی تبدیلیاں (Power of Magistrate)
پہلے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے شہریوں کو دفعہ 22-A/22-B کے تحت سیشن جج (جسٹس آف پیس) کے پاس جانا پڑتا تھا، جو کہ ایک طویل عمل تھا۔ اب نئی ترامیم کے تحت:
• براہِ راست مداخلت (Direct Intervention): مجسٹریٹ اب صرف ریمانڈ دینے والا جج نہیں رہا۔ اگر پولیس ایف آئی آر درج کرنے میں لیت و لعل سے کام لے، تو سائل سیکشن 156(3) اور سیکشن 190 کے تحت مجسٹریٹ کو درخواست دے سکتا ہے۔
• حکمِ اندراجِ مقدمہ: مجسٹریٹ کے پاس اب یہ واضح اختیار ہے کہ وہ پولیس کو حکم دے کہ فوری طور پر ایف آئی آر درج کر کے اس کی نقل عدالت میں پیش کی جائے۔
• پولیس کی جواب طلبی: اگر پولیس 24 گھنٹے کی ٹائم لائن کے اندر اندراج نہیں کرتی، تو مجسٹریٹ متعلقہ ایس ایچ او (SHO) کو طلب کر کے اس کے خلاف تادیبی کارروائی کے لیے اعلیٰ حکام کو لکھ سکتا ہے۔
2. نئے قانون کی اہم ترامیم (2024-25)
نئے سسٹم کا مقصد "انصاف آپ کی دہلیز پر" کے تصور کو حقیقت بنانا ہے۔ اہم نکات درج ذیل ہیں:
الف) ڈیجیٹل ایف آئی آر اور ٹائم لائن
• اب ہر درخواست کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ اگر پولیس 24 گھنٹے کے اندر کوئی فیصلہ نہیں کرتی (یعنی پرچہ درج کرنا یا خارج کرنا)، تو سسٹم میں وہ درخواست خود بخود "Pending" ظاہر ہوتی ہے جس کا جواب ڈی پی او (DPO) کو دینا پڑتا ہے۔
ب) زیرو ایف آئی آر (Zero FIR)
• نئی ترمیم کے تحت کوئی بھی تھانہ یہ کہہ کر درخواست مسترد نہیں کر سکتا کہ "یہ علاقہ ہمارے پاس نہیں آتا"۔ انہیں پرچہ درج کرنا ہوگا (جسے زیرو ایف آئی آر کہتے ہیں) اور پھر اسے متعلقہ تھانے منتقل کرنا ہوگا۔
ج) پولیس افسر کے خلاف سزا (Section 166-A PPC)
• اگر کوئی پولیس افسر جان بوجھ کر ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرے یا تاخیر کرے، تو اسے تعزیراتِ پاکستان کے تحت قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ مجسٹریٹ اس کارروائی کا آغاز کروا سکتا ہے۔
3. ایف آئی آر درج کروانے کا نیا طریقہ کار (Step-by-Step)
اگر آپ کا مقدمہ درج نہیں ہو رہا، تو آپ ان مراحل سے گزر سکتے ہیں:
1. پہلا مرحلہ: تھانے میں تحریری درخواست دیں اور ڈائری نمبر (Tag Number) حاصل کریں۔ یا پنجاب پولیس کی ایپ/خدمت مرکز پر آن لائن اپلائی کریں۔
2. دوسرا مرحلہ: اگر 24 گھنٹے میں پرچہ درج نہ ہو، تو ایک درخواست ایس ڈی پی او (SDPO/DSP) یا ڈی پی او (DPO) کو دیں۔
3. تیسرا مرحلہ (عدالتی راستہ): اگر پولیس پھر بھی کارروائی نہ کرے، تو اپنے وکیل کے ذریعے علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں درخواست دیں۔ مجسٹریٹ ریکارڈ طلب کرے گا اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں پولیس کو پرچہ درج کرنے کا حکم جاری کرے گا۔

1. سیکشن 154 میں ترمیم (FIR کا ڈیجیٹل اور خودکار اندراج)
نئی ترمیم کے بعد اب ایف آئی آر (FIR) درج کرنے کا طریقہ کار صرف تھانیدار کی مرضی پر منحصر نہیں رہا:
• آن لائن اندراج: اب کوئی بھی شہری آن لائن پورٹل یا مخصوص ایپ کے ذریعے اطلاع دے سکتا ہے۔ اگر اطلاع قابلِ دست اندازی (Cognizable) جرم کی ہے، تو سسٹم اسے خودکار طریقے سے رجسٹر کرنے کا پابند ہے۔
• وقت کی پابندی: پولیس افسر اب ایف آئی آر درج کرنے میں غیر ضروری تاخیر نہیں کر سکتا۔ اگر وہ انکار کرے تو سسٹم میں اس کا اندراج "ڈیفالٹ" کے طور پر ظاہر ہوتا ہے جس کی جوابدہی اعلیٰ افسران کو کرنی پڑتی ہے۔
2. مجسٹریٹ کے اختیارات (سیکشن 190 اور 156 میں اضافہ)
2025 کی ترامیم میں مجسٹریٹ کو تھانے کے معاملات پر زیادہ کنٹرول دیا گیا ہے تاکہ 22-A اور 22-B کے بوجھ کو کم کیا جا سکے:
• براہِ راست حکمِ اندراج: اگر پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرے، تو سائل براہِ راست متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ کو درخواست دے سکتا ہے۔ مجسٹریٹ کو اب یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے اور اس کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے (پہلے یہ اختیار زیادہ تر سیشن جج کے پاس 22-A کے تحت تھا)۔
• مداخلت کا اختیار: مجسٹریٹ اب صرف ریمانڈ دینے تک محدود نہیں، بلکہ وہ تفتیش کے معیار اور ایف آئی آر کے اندراج میں ہونے والی تاخیر پر پولیس افسر کے خلاف تادیبی کارروائی کی سفارش بھی کر سکتا ہے۔
3. زیرو ایف آئی آر (Zero FIR) کا تصور
نئی ترمیم میں یہ قانونی تحفظ دیا گیا ہے کہ اگر کوئی جرم کسی دوسرے تھانے کی حدود میں ہوا ہے، تب بھی متعلقہ تھانہ اطلاع ملنے پر "زیرو ایف آئی آر" درج کرنے کا پابند ہے۔ بعد میں اسے متعلقہ تھانے منتقل کر دیا جائے گا، لیکن اندراج سے انکار جرم تصور ہوگا۔
خلاصہ: 2025 کی ترامیم کا مقصد
1. پولیس کی صوابدید کا خاتمہ: پولیس اب یہ نہیں کہہ سکتی کہ "پہلے انکوائری ہوگی پھر پرچہ ہوگا"۔ اگر جرم ہوا ہے تو پرچہ فوری درج کرنا لازمی ہے۔
2. مجسٹریٹ کی بااختیاری: عوام کو ہائی کورٹ یا سیشن کورٹ جانے کے بجائے مقامی مجسٹریٹ سے فوری ریلیف دلوانا۔
3. ٹیکنالوجی کا استعمال: انسانی مداخلت کم کر کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے اندراج کو یقینی بنانا۔
قانونی نکتہ: یہ ترامیم فی الحال پنجاب کی سطح پر "پنجاب کرمنل لا (ترمیمی) آرڈیننس/ایکٹ" کے ذریعے نافذ العمل کی جا رہی ہیں تاکہ نظامِ انصاف کو نچلی سطح پر تیز کیا جا سکے۔

1. فوری اندراج (Instant Registration)
• قابلِ دست اندازی جرائم (Cognizable Offenses): اگر جرم کی اطلاع واضح ہے اور وہ سنگین نوعیت کا ہے (جیسے ڈکیتی، قتل، اغوا یا زیادتی)، تو پولیس فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنے کی پابند ہے۔ اس میں کسی قسم کی "ابتدائی انکوائری" کی گنجائش نہیں چھوڑی گئی۔
2. 24 گھنٹے کی ڈیڈ لائن (The 24-Hour Rule)
• اگر اطلاع ملنے پر پولیس کو جرم کی نوعیت کے حوالے سے شک ہو یا معاملہ مالی لین دین (Civil nature) جیسا لگے، تو وہ ابتدائی تصدیق کر سکتی ہے، لیکن اس کے لیے بھی اب وقت مقرر ہے:
• زیادہ سے زیادہ وقت: اطلاع ملنے کے 24 گھنٹوں کے اندر اندر پولیس کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ پرچہ درج کرنا ہے یا اسے خارج کرنا ہے۔
• آن لائن درخواست: اگر درخواست "پنجاب پولیس ایپ" یا "خدمت مرکز" کے ذریعے دی گئی ہے، تو سسٹم خودکار طریقے سے وقت کا حساب رکھتا ہے (Time Stamping)۔
3. مجسٹریٹ کا حکم اور ٹائم لائن
• سیکشن 154 اور 156 کے تحت: اگر سائل مجسٹریٹ کے پاس جائے اور مجسٹریٹ ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے (Direction for FIR)، تو پولیس کو عام طور پر 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر اندر کمپلائنس رپورٹ عدالت میں جمع کروانی ہوتی ہے۔
4. حساس جرائم کے لیے ترجیحی وقت
• خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم: ایسے مقدمات میں ٹائم لائنز مزید سخت ہیں۔ آئی جی پنجاب کی حالیہ ہدایات اور ترامیم کے مطابق، ایسے واقعات کی اطلاع ملتے ہی 1 سے 2 گھنٹوں کے اندر اندراج کو یقینی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ میڈیکل یا دیگر شواہد ضائع نہ ہوں۔
اگر پولیس ٹائم لائن کی خلاف ورزی کرے تو کیا ہوگا؟
نئی ترامیم کے تحت اگر تھانہ مقررہ وقت میں پرچہ درج نہیں کرتا تو:
1. ڈیجیٹل الرٹ: پولیس کا انٹرنل مانیٹرنگ سسٹم (Dashboard) متعلقہ ڈی پی او (DPO) کو الرٹ بھیج دیتا ہے کہ درخواست "Pendency" میں چلی گئی ہے۔
2. سیکشن 166-A (PPC): اگر پولیس افسر جان بوجھ کر قانونی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج نہیں کرتا، تو اس کے خلاف مجرمانہ غفلت کی کارروائی ہو سکتی ہے جس میں قید اور جرمانہ شامل ہے۔

06/05/2026

HEC Degree Verification System 🇵🇰⚖️

05/05/2026

Child custody ka faisla court kis base par karti hai? Maa ya baap?"

#حضانہ #عدالت #قانون #حقوقالانسان

پنجاب حکومت کو مشورہ ہے فورسز بنائیں فرعون نہیں !!
04/05/2026

پنجاب حکومت کو مشورہ ہے فورسز بنائیں فرعون نہیں !!

قابل توجہ!پاکستان میں ایک ٹیلیوژن ڈراما چل رہا ہے جس کا نام ہے shdai اس ڈرامے میں ایک ڈرائیور یا cook کا ایک کریکٹر ہے ج...
03/05/2026

قابل توجہ!
پاکستان میں ایک ٹیلیوژن ڈراما چل رہا ہے جس کا نام ہے shdai اس ڈرامے میں ایک ڈرائیور یا cook کا ایک کریکٹر ہے جس کو وکیل کا یونیفارم پہنا کے پیش کیا گیا ہے جو کے وکالت کے شعبے کے خلاف کھلم کھلا توہین کی گئی ہے اس کے خلاف کوئی ایکشن ہونا چاہیے ..

Punjab Bar Council

Address

Advocate Syed Khurram Shah House Street No1 Hosue No1
Lahore
54792

Telephone

+923328138311

Website

https://youtube.com/@advocate_syed_khurram_shah?si=bRYgNlAGllr

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Syed Khurram Shah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Advocate Syed Khurram Shah:

Share