02/09/2026
اسلام آباد سے ظاہر جعفر نے کراچی میں موجود اپنے والد ذاکر جعفر کو فون پر بتایا کہ گھر میں کچھ گڑبڑ ہوگئی ہے۔ باپ ذاکر نے اسلام آباد کے منشیات سے بحالی کے کلینک 'تھراپی ورکس' فون کیا کہ فوری طور پر گھر ایک ٹیم بھیجیں کیونکہ ظاہر کسی لڑکی کے ساتھ 'کچھ' کر رہا ہے۔ تھراپی ورکس کی ٹیم رات آٹھ بجے کے قریب ظاہر کے گھر پہنچی۔ وہاں انہوں نے نور مقدم نامی لڑکی کی لاش دیکھی۔ تھراپی ٹیم نے بپھرے ظاہر کو قابو کرتے ہوئے رسیوں سے باندھ دیا۔
پولیس کو وقوعے کی اطلاع دی گئی۔ رات دس بجے کے قریب تھانہ کوہسار کی پولیس نے مقتولہ نور مقدم کے والد شوکت مقدم کو مطلع کیا۔ اس نے پولیس کو آکر بتایا کہ نور کل سے اپنے گھر سے لاپتہ تھی۔ یہ 20 جولائی 2021ء کی تاریخ تھی۔ رات تقریباً ساڑھے گیارہ بجے پولیس نے شوکت مقدم کی مدعیت میں قتل، ریپ اور اغواء برائے قتل و دیگر دفعات پر مبنی ایف آئی آر درج کرلی۔
پولیس نے ملزم کے گھر کے صحن کی CCTV فوٹیج حاصل کی، جس میں دیکھا گیا کہ مقتولہ جان بچانے کے لیے باہر بھاگی، لیکن ملزم نے اسے پکڑ کر کیبن میں بند کیا، تشدد کیا، اور پھر گھسیٹ کر واپس گھر کے اندر لے گیا۔ جبکہ دو گھریلو ملازمین، افتخار اور محمد جان نے نہ تو ملزم کو روکا اور نہ ہی مقتولہ کو گھر سے بھاگنے میں مدد کی۔
جائے وقوعہ سے ایک خون آلود چھری ملی، جس پر مقتولہ کا خون لگا ہوا تھا۔ اگلی صبح مقتولہ کا پوسٹ مارٹم کیا گیا، جس کے مطابق مقتولہ کے سینے پر چھری کے وار کیے گئے تھے اور سر کاٹ کر الگ کردیا گیا تھا۔ ڈی این اے رپورٹ سے تصدیق ہوئی کہ مقتولہ کے ساتھ جنسی زیادتی بھی کی گئی تھی، اور مقتولہ کے جسم سے حاصل ہونے والا سیمن ملزم کے ڈی این اے سے میچ کرگیا۔
مقامی سیشن کورٹ میں ٹرائل چلا۔ ملزم ظاہر جعفر نے صحتِ جرم سے انکار کیا اور دفعہ 342 کا تفصیلی بیان ریکارڈ کروایا کہ:
"وہ بے گناہ ہے۔ وہ اور مقتولہ ایک عرصے سے لیونگ ریلیشن شپ (بغیر نکاح اکٹھے رہنا) میں تھے جسکا علم دونوں خاندانوں کو تھا۔ 18 جولائی 2021ء کو مقتولہ خود کافی زیادہ منشیات لے کر اسکے گھر آئی اور ڈرگ پارٹی کی ضد کی۔ اس (ظاہر) کا 19 جولائی کا امریکہ کا ٹکٹ بک تھا، لیکن مقتولہ نے زبردستی اسے جانے سے روکا۔ 20 جولائی کو مزید دوست آئے اور ڈرگ پارٹی ہوئی۔ وہ نشے کی زیادتی کی وجہ سے ہوش کھو بیٹھا اور جب ہوش آیا تو وہ گھر میں بندھا ہوا تھا۔ کسی اور نے مقتولہ کا قتل کیا اور اسے صرف اس لیے پھنسایا جا رہا ہے کیونکہ وقوعہ اس کے گھر پیش آیا۔ اس وقت کے SSP اسلام آباد مصطفیٰ تنویر کو مقتولہ کے سامان سے بھاری منشیات ملی تھیں، جس کا میڈیا میں انکشاف کرنے پر انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔"
تاہم ملزم اپنے ان دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہ کرسکا۔ یہ موقف مسترد کردیا گیا کیونکہ کسی بھی طبی شہادت میں نہ تو ملزم اور نہ ہی مقتولہ کے جسم میں کوئی نشہ آور شے شناخت ہوئی، اور نہ ہی CCTV فوٹیج میں ڈرگ پارٹی کا کوئی مہمان نظر آیا۔
ٹرائل کورٹ نے 24 فروری 2022 کو ملزم ظاہر جعفر کو قتل کے الزام میں سزائے موت مع 5 لاکھ ہرجانہ، اغواء برائے قتل کے الزام میں دس سال قید اور ریپ کے الزام میں 25 سال قید مع 2 لاکھ جرمانہ و دیگر سزائیں سنائیں۔ جبکہ ظاہر کے گھریلو ملازمین افتخار اور محمد جان، کو مختلف الزامات میں دس، دس سال قید کی سزائیں سنائیں۔
ملزمان نے سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ ہائی کورٹ نے 13 مارچ 2023ء کو ملزم ظاہر کی اپیل مسترد کرتے ہوئے نہ صرف سزائے موت کو برقرار رکھا، بلکہ ریپ کی دی گئی 25 سال قید کی سزا کو بڑھا کر سزائے موت کر دیا۔ جبکہ شریک ملزمان کی سزاؤں کو بھی برقرار رکھا۔ ملزمان نے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔
سپریم کورٹ میں ملزم ظاہر جعفر کے وکیل سلمان صفدر ایڈووکیٹ نے دلائل دیے کہ استغاثہ کا مقدمہ مکمل طور پر واقعاتی شہادت پر مبنی ہے، جو چشم دید گواہ کی عدم موجودگی میں ملزم کے جرم کو یقینی طور پر ثابت نہیں کرتی۔ اور یہ واقعاتی شہادت کا سلسلہ بھی نامکمل ہے، لہذا اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی اور فرد اس جرم کا مرتکب ہوا ہو۔ یوں ملزم کو شک کا فائدہ دیا جائے۔
سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے مئی 2025ء میں کیس کی حتمی سماعت کی اور جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ قانون واقعاتی شواہد کی بنیاد پر سزائے موت دینے سے نہیں روکتا، شرط یہ ہے کہ کڑی سے کڑی ملتی ہو اور وہ ڈائریکٹ ملزم کی گردن تک پہنچتی ہو۔ اس کیس میں یہ زنجیر بالکل مکمل ہے۔ قوانین میں نئی ترامیم کے بعد سی سی ٹی وی فوٹیج اب بنیادی ثبوت، یعنی Primary Evidence، کا درجہ رکھتی ہے۔ "خاموش گواہ کے نظریہ" کے تحت اگر فوٹیج کی ساکھ ثابت ہو جائے، جو کہ فرانزک رپورٹ سے ثابت تھی، تو اسے کسی انسانی گواہ کی تصدیق کے بغیر مکمل ثبوت مانا جاتا ہے۔
وقوعہ ملزم کی رہائش گاہ پر ہوا، لاش وہاں سے ملی، سی سی ٹی وی میں وہ مقتولہ پر تشدد کرتا نظر آ رہا ہے، اور اس نے اپنے 342 کے بیان میں اپنی موجودگی اور لاش کی برآمدگی کی کوئی معقول وضاحت نہیں دی۔ ملزم کا فعل انتہائی سفاکانہ تھا، جس میں اس نے مقتولہ کے سینے پر وار کیے اور اس کا سر قلم کیا۔ ملزم انتہائی خطرناک اور کسی ہمدردی کا مستحق نہ ہے۔
سپریم کورٹ نے ملزم ظاہر کی اپیل خارج کرتے ہوئے قتل پر سزائے موت برقرار رکھی۔ جبکہ شریک ملزمان افتخار اور محمد جان کی سزائیں اب تک کاٹی گئی قید کی مدت تک محدود کردی۔
بنچ میں شامل جسٹس علی باقر نجفی نے فیصلے میں اپنا اضافی نوٹ لکھا کہ یہ واقعہ بالائی طبقے میں پھیلتی ہوئی living relationship ( بغیر نکاح اکٹھے رہنا) کی وباء کا نتیجہ ہے۔ جو نہ صرف ملکی قانون بلکہ شریعت کی بھی خلاف ورزی اور براہِ راست اللہ تعالیٰ سے بغاوت ہے۔ نوجوان نسل کو اس فعل کے بھیانک نتائج، جو اس کیس میں سامنے آئے ہیں، کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔
مجرم ظاہر نے اس فیصلے کے خلاف بھی نظرِ ثانی پٹیشن دائر کی کہ اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہ تھا، لہٰذا سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا جائے۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بوقتِ وقوعہ وہ دماغی طور پر تندرست تھا۔ مجرم نے انتہائی گھناؤنے اور بہیمانہ جرم کا ارتکاب کیا ہے، جو کسی ہمدردی و رعایت کا مستحق نہ ہے۔
سپریم کورٹ نے مجرم ظاہر کی نظرِ ثانی پٹیشن بھی خارج کردی.