Service law consultants.

Service law consultants. Feel free to discuss any Query regarding your Service Matters...
A forum for Govt Servants to help them in their Service problems.

13/08/2026

اٹھائیسویں آئینی ترمیم
(تجویز کردہ آئینی مسودہ)
باب اول: ریاست کا انتظامی ڈھانچہ
پاکستان ایک وفاقی، جمہوری اور آئینی ریاست ہوگا، جس میں مضبوط وفاق، بااختیار صوبے اور مکمل خودمختار بلدیاتی نظام قائمیا جائے گا۔ تمام ریاستی ادارے آئین کے تابع ہوں گے۔

باب دوم: نئے صوبے

بہتر انتظام، متوازن ترقی اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لیے ملک کو انتظامی بنیادوں پر درج ذیل صوبوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

پنجاب

1. شمالی پنجاب
2. سنٹرل پنجاب
3. جنوبی پنجاب
4. پوٹھوہار
5. بہاولپور

سندھ

6. کراچی
7. حیدرآباد
8. میرپورخاص
9. سکھر
10. لاڑکانہ

خیبر پختونخوا

11. پشاور
12. ہزارہ
13. ملاکنڈ
14. ڈیرہ اسماعیل خان

بلوچستان

15. کوئٹہ
16. مکران
17. ژوب
18. قلات

دیگر وفاقی اکائیاں

19. گلگت بلتستان
20. آزاد جموں و کشمیر (آئینی و سیاسی اتفاقِ رائے کے مطابق)



باب سوم: صدرِ مملکت

* صدر ریاست، وفاق اور آئین کی علامت ہوگا۔
* صدر کا انتخاب براہِ راست عوام کریں گے۔
* صدر وفاقی حکومت کا سربراہ ہوگا۔
* وفاقی کابینہ صدر کے ماتحت کام کرے گی۔
* صدر قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور وفاقی اداروں کا نگران ہوگا۔



باب چہارم: وفاقی کابینہ

* تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ وفاقی کابینہ کے رکن ہوں گے۔
* ہر وزیراعلیٰ اپنے صوبے کے معاملات میں بااختیار ہوگا لیکن قومی و وفاقی معاملات میں صدر کو جواب دہ ہوگا۔
* قومی پالیسی سازی میں تمام وزرائے اعلیٰ شریک ہوں گے تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی قائم رہے۔



باب پنجم: گورنر

* ہر صوبے میں ایک گورنر ہوگا جو وفاق اور صدرِ مملکت کا نمائندہ ہوگا۔
* گورنر آئین کے نفاذ اور وفاقی پالیسی پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گا۔
* اگر کوئی وزیراعلیٰ آئین کی خلاف ورزی کرے یا اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا نہ کرے تو گورنر، صدر کی منظوری سے، آئینی طریقۂ کار کے مطابق وزیراعلیٰ کو معزول کرنے کی سفارش یا اقدام کر سکے گا، جس کا عدالتی جائزہ وفاقی آئینی عدالت میں لیا جا سکے گا۔
باب ششم: وفاقی مقننہ

* قومی اسمبلی ختم کر دی جائے۔
* سینیٹ واحد وفاقی قانون ساز ایوان ہوگا۔
* تمام وفاقی قوانین، بجٹ اور آئینی ترامیم سینیٹ سے منظور ہوں گی۔
* سینیٹرز کا انتخاب صوبائی اسمبلیاں اوپن بیلٹ کے ذریعے کریں گی۔



باب ہفتم: صوبائی حکومت

* ہر صوبے میں منتخب صوبائی اسمبلی ہوگی۔
* وزیراعلیٰ کا انتخاب صوبائی اسمبلی کے اراکین کریں گے۔
* صوبائی کابینہ صوبے کے انتظامی امور چلائے گی۔



باب ہشتم: وفاقی آئینی عدالت

* وفاقی آئینی عدالت ملک کی اعلیٰ ترین آئینی عدالت ہوگی۔
* یہی ادارہ سپریم کورٹ کا آئینی کردار ادا کرے گا۔
* آئین کی تشریح، بنیادی حقوق کے تحفظ اور وفاق و صوبوں کے درمیان تنازعات کا حتمی فیصلہ اسی عدالت کے پاس ہوگا۔



باب نہم: بلدیاتی نظام

* ہر ضلع میں ضلع ناظم براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہوگا۔
* ڈپٹی کمشنر (DC) ضلع ناظم کے ماتحت انتظامی افسر ہوگا۔
* ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (DPO) ضلع ناظم کے ماتحت ضلعی امن و امان کے انتظام میں کام کرے گا، جبکہ پولیس کے پیشہ ورانہ اور قانونی اختیارات آئین اور قانون کے مطابق محفوظ رہیں گے۔
* تحصیل ناظم اور یونین کونسل کا نظام آئینی تحفظ کے ساتھ قائم ہوگا۔
* ترقیاتی فنڈز کا بڑا حصہ براہِ راست بلدیاتی اداروں کو منتقل کیا جائے گا۔



باب دہم: بنیادی اصول

1. مضبوط وفاق، بااختیار صوبے۔
2. طاقتور اور آئینی بلدیاتی نظام۔
3. تیز، شفاف اور غیر سیاسی احتساب۔
4. آزاد وفاقی آئینی عدالت۔
5. اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی۔
6. تمام ریاستی ادارے آئین اور قانون کے تابع ہوں گے۔
& Johri law associate

23/07/2026

🚨 سپریم کورٹ آف پاکستان (آئینی بینچ) کا تاریخی فیصلہ
ایک ہی بیچ میں بھرتی ہونے والے ملازمین کی سینیارٹی صرف میرٹ لسٹ کے مطابق ہوگی، جوائننگ ڈیٹ کے مطابق نہیں
🔴 1️⃣ مقدمہ کا تعارف
سپریم کورٹ آف پاکستان (آئینی بینچ) نے Capt. Muhammad Ali Khan Vs. Port Qasim Authority میں ایک نہایت اہم اصول طے کیا کہ اگر تمام ملازمین ایک ہی اشتہار، ایک ہی سلیکشن پراسس اور ایک ہی بیچ کے ذریعے بھرتی ہوئے ہوں تو ان کی سینیارٹی کا تعین بھرتی کے وقت مرتب کی گئی میرٹ لسٹ کے مطابق ہوگا، نہ کہ جوائننگ کی تاریخ کی بنیاد پر۔

🔴 2️⃣ مقدمہ کا پس منظر
اس مقدمہ میں بعض ملازمین نے دوسروں سے پہلے جوائن کر لیا، جس کی بنیاد پر انہیں سینئر قرار دے دیا گیا، حالانکہ اصل میرٹ لسٹ میں اپیل کنندہ کا نمبر ان سے اوپر تھا۔ اس پر سپریم کورٹ نے سینیارٹی کے تعین کے قانونی اصول واضح کیے۔

🔴 3️⃣ میرٹ لسٹ کو بنیادی حیثیت
عدالت نے قرار دیا کہ سلیکشن کمیٹی یا پبلک سروس کمیشن کی مرتب کردہ میرٹ لسٹ ہی سینیارٹی کا بنیادی اور قانونی معیار ہے۔ انتظامیہ کسی انتظامی سہولت یا جوائننگ کی تاریخ کی بنیاد پر اس ترتیب کو تبدیل نہیں کر سکتی۔

🔴 4️⃣ جوائننگ ڈیٹ فیصلہ کن معیار نہیں
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اگر امیدوار ایک ہی سلیکشن پراسس کے تحت منتخب ہوئے ہوں تو صرف پہلے یا بعد میں جوائن کرنا سینیارٹی کا معیار نہیں بن سکتا، خصوصاً جب تاخیر امیدوار کی اپنی غلطی سے نہ ہوئی ہو۔

🔴 5️⃣ قانون سے متصادم کنٹریکٹ کی شرط
عدالت نے قرار دیا کہ اگر تقرری کے کنٹریکٹ، آفس آرڈر یا کسی انتظامی ہدایت میں ایسی شرط شامل ہو جو متعلقہ سروس رولز یا قانون کے خلاف ہو تو ایسی شرط مؤثر نہیں ہوگی اور قانون کو فوقیت حاصل ہوگی۔

🔴 6️⃣ تاخیر (Laches) کا اصول
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر محکمہ یہ ثابت نہ کر سکے کہ سینیارٹی لسٹ متعلقہ ملازمین کو بروقت فراہم یا مشتہر کی گئی تھی تو صرف تاخیر کی بنیاد پر ان کا دعویٰ مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

🔴 7️⃣ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم
سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار نہیں رکھا اور ہدایت کی کہ سینیارٹی لسٹ دوبارہ مرتب کی جائے تاکہ تمام ملازمین کو ان کی اصل میرٹ پوزیشن کے مطابق حق دیا جا سکے۔

🔴 8️⃣ سرکاری اداروں کے لیے اہم ہدایات
سپریم کورٹ کے اصولوں کی روشنی میں تمام سرکاری اداروں کو چاہیے کہ:
ہر نئی بھرتی کے بعد سینیارٹی لسٹ مرتب کریں۔
ہر پروموشن یا ریگولرائزیشن کے بعد سینیارٹی کا جائزہ لیں۔
ہر سال سینیارٹی لسٹ کی نظرثانی کریں۔
سینیارٹی لسٹ تمام ملازمین تک پہنچائیں۔
شفافیت کے لیے سینیارٹی لسٹ سرکاری ویب سائٹ یا نوٹس بورڈ پر شائع کریں۔

🔴 9️⃣ فیصلے کی قانونی اہمیت
یہ فیصلہ پاکستان کے تمام وفاقی اور صوبائی سرکاری اداروں کے لیے ایک اہم نظیر ہے۔ اس کے مطابق ایک ہی بیچ میں بھرتی ہونے والے ملازمین کی سینیارٹی کا بنیادی معیار میرٹ ہوگا، نہ کہ صرف جوائننگ کی تاریخ۔ البتہ جہاں متعلقہ سروس رولز کسی مخصوص صورتِ حال میں مختلف اصول مقرر کرتے ہوں، وہاں انہی قواعد پر عمل کیا جائے گا۔

الحمدللہ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز  کے حق میں ایک اور بہترین حکم۔ نوٹیفکیشن 24.11.2011 کے تناظر میں ہونے والی اپ گریڈیشن جا...
18/07/2026

الحمدللہ الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کے حق میں ایک اور بہترین حکم۔ نوٹیفکیشن 24.11.2011 کے تناظر میں ہونے والی اپ گریڈیشن جائز قرار دی۔
لاہور ہائیکورٹ نے میری رٹ پیٹیشن منظور کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی طرف سے جاری ملازمین کو جاری ریکوری نوٹسز کالعدم قرار دیتے ہوئے 2011 سے دی گئی تمام اپ گریڈیشنز کو قانونی قرار دے دیا
عدالت نے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں پر انحصار کرتے ہوئے قرار دیا کہ:۔
اگر کسی ملازم کو قانونی طور پر اپ گریڈیشن کا فائدہ مل چکا ہو تو بعد میں بغیر قانونی اختیار، نوٹس اور مؤثر موقعِ سماعت کے وہ فائدہ واپس نہیں لیا جا سکتا۔
عدالت نے اپنے سابقہ فیصلوں، خصوصاً W.P. No. 11158 of 2022 اور W.P. No. 80089 of 2022 کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اسی نوعیت کے مقدمات میں پہلے بھی فیصلہ دیا جا چکا ہے کہ:
- ملازمین کو ان کے اپ گریڈ شدہ عہدوں سے ریٹائرڈ تصور کیا جائے گا۔
- پنشن اور تمام ریٹائرمنٹ فوائد اپ گریڈ شدہ عہدوں کے مطابق ادا کیے جائیں گے۔
- اضافی ادائیگی کی بنیاد پر ریکوری کے نوٹس بھی قانونی جواز کے بغیر برقرار نہیں رہ سکتے۔

As per rule 24-A of the Fundamental Rules, if a government servant retires from service before conclusion of disciplinar...
20/02/2026

As per rule 24-A of the Fundamental Rules, if a government servant retires from service before conclusion of disciplinary proceedings initiated against him/her, the same stand abated.

It is imperative to note that as per section 21 of the PEEDA Act, 2006 departmental proceedings, initiated against a government servant, are to be completed within two years of his retirement.

No time frame can be fixed for initiation of disciplinary proceedings against a government servant but at the same time, nobody can be allowed to initiate proceedings against a government servant on the basis of any incident took place two decades prior to initiation of departmental proceedings. Insofar as the matters in hand are concerned, no reason for initiation of proceedings in the year 2011 and 2012 on account of the alleged transactions took place in mid-90s was given by the competent authority which prima facie smacks clear-cut foul-play on its part.

W.P.12365-16
RAJA ASGHAR ALI VS DCOCHAIRMAN ETC
Mr. Justice Shujaat Ali Khan
19-02-2026
2026 LHC 1191

پنجاب لیبر کوڈ 2026 پاس اور 27 لیبر قوانین منسوخ ورکرز/مزدوروں اور وکلاء کیلئے ایک اچھی خبر پنجاب گورنمنٹ لیبر کوڈ 2026 ...
18/02/2026

پنجاب لیبر کوڈ 2026 پاس اور 27 لیبر قوانین منسوخ
ورکرز/مزدوروں اور وکلاء کیلئے ایک اچھی خبر پنجاب گورنمنٹ لیبر کوڈ 2026 پاس کر دیا ہے اور 27 لیبر قوانین کو منسوخ کر دیا ہیں۔
1. the Workmen’s Compensation Act, 1923 (VIII of 1923);
2. the Children (Pledging of Labour) Act, 1933 (II of 1933);
3. the Factories Act, 1934 (XXV of 1934);
4. the Payment of Wages Act, 1936 (IV of 1936);
5. the Employer’s Liability Act, 1938 (XXIV of 1938);
6. the Industrial Statistics Act, 1942 (XIX of 1942);
7. the Essential Personnel (Registration) Ordinance, 1948 (X of 1948);
8. the Employment (Record of Service) Act, 1951 (XIX of 1952);
9. the Punjab Maternity Benefit Ordinance, 1958 (###II of 1958);
10. the Coal Mines (Fixation of Rates of Wages) Ordinance, 1960 (###IX of 1960) (in its application to the province of Punjab);
11. the Road Transport Workers Ordinance, 1961 (XXVIII of 1961);
12. the Tea Plantations Labour Ordinance 1962 (###IX of 1962);
13. the Control of Employment Ordinance, 1965 (###II of 1965);
14. the Industrial and Commercial Employment (Standing Orders) Ordinance, 1968 (VI of 1968);
15. the Companies Profit (Worker’s Participation) Act, 1968 (XII of 1968);
16. the Shops and Establishment Ordinance, 1969 (VIII of 1969);
17. the Punjab Fair Price Shops (Factories) Ordinance, 1971 (VIII of 1969);
18. the Fee Charging Employment Agencies (Regulation) Act, 1976 (LXXVII of 1976);
19. the Bonded Labour System (Abolition) Act, 1992 (III of 1992);
20. the Punjab Industrial Relations Act 2010 (XIX of 2010);
21. the Punjab Prohibition of Child Labour at Brick Kilns Act 2016 (###VII of 2016);
22. the Punjab Restriction on Employment of Children Act 2016 (L of 2016);
23. the Punjab Occupational Safety and Health Act 2019 (IV of 2019);
24. the Punjab Minimum Wages Act 2019 (XXVIII of 2019);
25. the Punjab Domestic Workers Act 2019 (II of 2019); and
26. the Punjab Home-based Workers Act 2023 (V of 2023).

Address

5-Mozang Road
Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Service law consultants. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share