Mian Abdul Qadir AnXari

Mian Abdul Qadir AnXari Advocate | Committed to Justice, Integrity & Legal Excellence

🚨 پراپرٹی پر قبضہ کرنے والوں کے لیے بڑی خبر! 🚨⚖️ لاہور ہائی کورٹ کا اہم اور تاریخی فیصلہلاہور ہائی کورٹ نے پراپرٹی اور غ...
06/06/2026

🚨 پراپرٹی پر قبضہ کرنے والوں کے لیے بڑی خبر! 🚨

⚖️ لاہور ہائی کورٹ کا اہم اور تاریخی فیصلہ

لاہور ہائی کورٹ نے پراپرٹی اور غیر قانونی قبضوں کے مقدمات کے جلد اور مؤثر فیصلوں کے لیے خصوصی ٹربیونلز قائم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

✅ ناجائز قبضہ کے متاثرین کو فوری قانونی ریلیف مل سکے گا۔
✅ جائیداد کے تنازعات کو تیزی سے نمٹانے میں مدد ملے گی۔
✅ قبضہ مافیا کے خلاف قانونی کارروائی مزید مؤثر ہوگی۔
✅ انصاف کی فراہمی کے عمل کو بہتر اور تیز بنایا جائے گا۔

اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ماہر قانونی مشورہ حاصل کریں۔

دفعہ 337-A PPC (سر اور چہرے پر چوٹ)پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعہ 337-A سر یا چہرے پر لگنے والی چوٹوں سے متعلق ہے۔تعریف:...
03/06/2026

دفعہ 337-A PPC (سر اور چہرے پر چوٹ)

پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعہ 337-A سر یا چہرے پر لگنے والی چوٹوں سے متعلق ہے۔

تعریف:
اگر کوئی شخص دوسرے شخص کے سر یا چہرے پر ایسی چوٹ لگائے جس سے نقصان پہنچے تو جرم کی نوعیت اور چوٹ کی شدت کے مطابق دفعہ 337-A کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

اقسام:
1. شجہ خفیفہ – معمولی چوٹ
2. شجہ موضحہ – ہڈی ظاہر ہو جائے
3. شجہ ہاشمہ – ہڈی ٹوٹ جائے
4. شجہ منقلہ – ہڈی اپنی جگہ سے ہٹ جائے
5. شجہ آمہ – دماغی جھلی تک زخم پہنچ جائے
6. شجہ دامغہ – دماغ کو نقصان پہنچ جائے

سزا:
سزا ہر قسم کی چوٹ کے مطابق مختلف ہوتی ہے، جس میں دیت، ارش، دمان اور قید شامل ہو سکتی ہے۔

پوسٹر ہیڈنگ کے لیے مختصر متن:

PPC 337-A
سر اور چہرے پر چوٹ (Head & Face Injuries)

“اگر کسی شخص کے سر یا چہرے پر چوٹ پہنچائی جائے تو جرم کی نوعیت کے مطابق دفعہ 337-A PPC کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔”

ANSARI & CO.
Mian AbdulQadir Ansari Advocate High Court
📞 03217524624
📍 Office No. 121, Subhan Center, Lahore

قابلِ دست اندازی جرم (Cognizable Offence) کیا ہے؟قابلِ دست اندازی جرم وہ جرم ہوتا ہے جس میں پولیس کو قانون کے تحت یہ اخت...
01/06/2026

قابلِ دست اندازی جرم (Cognizable Offence) کیا ہے؟

قابلِ دست اندازی جرم وہ جرم ہوتا ہے جس میں پولیس کو قانون کے تحت یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ مجسٹریٹ کی پیشگی اجازت کے بغیر ایف آئی آر درج کرے، تفتیش شروع کرے اور بعض صورتوں میں ملزم کو گرفتار بھی کر سکے۔

مثالیں:
• قتل
• ڈکیتی
• اغوا
• راہزنی
• سنگین نوعیت کے تشدد کے جرائم

قانونی اہمیت:
ایسے جرائم معاشرے کے امن و امان کے لیے زیادہ خطرناک سمجھے جاتے ہیں، اس لیے قانون پولیس کو فوری کارروائی کا اختیار دیتا ہے تاکہ جرم کی روک تھام اور ملزمان کی گرفتاری بروقت ممکن ہو سکے

قابلِ دست اندازیِ پولیس جرم وہ ہوتا ہے جس میں پولیس مجسٹریٹ کی پیشگی اجازت کے بغیر ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر سک...
30/05/2026

قابلِ دست اندازیِ پولیس جرم وہ ہوتا ہے جس میں پولیس مجسٹریٹ کی پیشگی اجازت کے بغیر ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر سکتی ہے، اور قانون کے مطابق بعض صورتوں میں گرفتاری بھی کر سکتی ہے۔

مثالیں:
• قتل
• ڈکیتی
• اغوا
• سنگین نوعیت کے جرائم

غیر قابلِ دست اندازیِ پولیس جرم وہ ہوتا ہے جس میں پولیس عام طور پر مجسٹریٹ کے حکم یا اجازت کے بغیر نہ تفتیش شروع کر سکتی ہے اور نہ ہی کارروائی کر سکتی ہے۔

مثالیں:
• معمولی جھگڑا
• ہلکی مارپیٹ
• بعض نوعیت کی ہتکِ عزت یا معمولی نوعیت کے دیگر جرائم

البتہ کسی جرم کے قابلِ دست اندازی یا غیر قابلِ دست اندازی ہونے کا حتمی تعین متعلقہ قانون اور اس جرم کی مخصوص دفعات کے مطابق کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس حوالے سے ضابطۂ فوجداری (Cr.P.C.) کے شیڈولز اور متعلقہ تعزیری دفعات دیکھی جاتی ہیں

دفعہ 489-F تعزیراتِ پاکستان (PPC)دفعہ 489-F کے تحت اگر کوئی شخص قرض، واجب الادا رقم یا کسی مالی ذمہ داری کی ادائیگی کے ل...
30/05/2026

دفعہ 489-F تعزیراتِ پاکستان (PPC)

دفعہ 489-F کے تحت اگر کوئی شخص قرض، واجب الادا رقم یا کسی مالی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے چیک جاری کرے اور وہ چیک رقم نہ ہونے یا دیگر وجوہات کی بنا پر ڈس آنر (Dishonour) ہو جائے، اور ثابت ہو کہ چیک دھوکہ دہی یا بدنیتی سے جاری کیا گیا تھا، تو یہ جرم شمار ہو سکتا ہے۔

سزا:
اس جرم کی سزا تین سال تک قید، یا جرمانہ، یا دونوں ہو سکتے ہیں۔

اہم نکتہ:
ہر ڈس آنر ہونے والا چیک لازماً 489-F کا جرم نہیں بنتا۔ استغاثہ کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ چیک کسی مالی ذمہ داری یا قرض کی ادائیگی کے لیے جاری کیا گیا تھا اور اس میں بدنیتی یا دھوکہ دہی کا عنصر موجود تھا۔

عبدالقادر انصاری ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
📞 0321-7524624

وفاقی حکومت نے وزارت انسداد منشیات کو وزارت داخلہ میں ضم کر دیا، اب انسداد منشیات فورس وزارت داخلہ کے ادارے کے طور پر کا...
13/02/2025

وفاقی حکومت نے وزارت انسداد منشیات کو وزارت داخلہ میں ضم کر دیا، اب انسداد منشیات فورس وزارت داخلہ کے ادارے کے طور پر کام کرے گا، وزارت داخلہ و انسداد منشیات کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وزارت انسداد منشیات ڈویژن کو وزارت داخلہ میں بطور ونگ ضم کر دیا گیا ہے۔ اینٹی نارکوٹکس فورس ( اے این ایف) کو وزارت داخلہ کے ماتحت ایک منسلک محکمہ قرار دیا گیا ہے،
اس فیصلے کے بعد، وزارت داخلہ کا نام تبدیل کرکے "وزارت داخلہ و انسداد منشیات ” رکھ دیا گیا ہے، جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ تمام سرکاری خط و کتابت میں اب "وزارت داخلہ و انسداد منشیات ” کا نام استعمال کیا جائے گا

شام کی عدالتیں شروع کرنے کا فیصلہ تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو مراسلہ
08/02/2025

شام کی عدالتیں شروع کرنے کا فیصلہ
تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو مراسلہ

Alhamdolillah 🎓🦅👑
01/02/2025

Alhamdolillah 🎓🦅👑

*‏لاہور کی آلودہ فضاء**لاہور سکولز میں آوٹ ڈور ایکٹویٹی اور اسمبلی پر 31 جنوری 2025 تک پابندی لگادی گئی۔*
24/10/2024

*‏لاہور کی آلودہ فضاء*

*لاہور سکولز میں آوٹ ڈور ایکٹویٹی اور اسمبلی پر 31 جنوری 2025 تک پابندی لگادی گئی۔*

Punjab Revenue Authority Extended Due Date Filing of Sales Tax Return for Tax Period September 2024 up to 25th Oct, 2024...
24/10/2024

Punjab Revenue Authority Extended Due Date Filing of Sales Tax Return for Tax Period September 2024 up to 25th Oct, 2024.
Regards;
Mian Abdul Qadir Ansari
Advocate High Court

Address

Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

03217524624

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mian Abdul Qadir AnXari posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mian Abdul Qadir AnXari:

Share