489F cheque

Call Directions Website

489F cheque For more information call or whatsapp +92-3244010279)
we are law firm from Lahore. Adv Mahar Ghulam Murtaza

24/09/2026

ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ جب فروخت کا معاہدہ کراچی میں ہوا، رقم بھی کراچی میں ادا کی گئی اور مدعا علیہ بھی کراچی کا رہائشی تھا تو ان حالات میں کراچی کی عدالت کو رقم کی واپسی اور ہرجانے کے دعوے کی سماعت کا اختیار حاصل تھا۔

24/09/2026

سندھ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اگر غیر منقولہ جائیداد کی فروخت کا معاملہ مکمل نہ ہو اور خریدار جائیداد میں کسی حق یا مفاد کا دعویٰ کرنے کے بجائے صرف ادا شدہ رقم کی واپسی اور ہرجانے کا مطالبہ کرے، تو ایسا دعویٰ جائیداد سے الگ اور قابلِ تفریق سمجھا جا سکتا ہے؛ چنانچہ صرف اس بنیاد پر کہ جائیداد کسی دوسرے شہر میں واقع ہے، عدالت کا دائرۂ اختیار ختم نہیں ہوتا۔

23/09/2026

⚖️ معاہدۂ فروخت کے اجرا کا اقرار ہو تو دو تصدیقی گواہوں کی پیشی ضروری نہیں

سپریم کورٹ نے 2020 SCMR 197 میں ایک اہم مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر کسی ایسی دستاویز کے اجرا کا خود اس شخص کی جانب سے اقرار کر لیا جائے جس نے اسے execute کیا ہے، تو صرف اس وجہ سے دستاویز ناقابلِ قبول نہیں ہو جاتی کہ اس کے دونوں تصدیقی گواہوں کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

🔹 مقدمے کا پس منظر

فریقین کے درمیان 29 کنال اراضی کی فروخت کا معاہدہ ہوا۔ معاہدۂ فروخت پر دو تصدیقی گواہوں کے دستخط موجود تھے، تاہم عدالت میں ان دونوں میں سے صرف ایک گواہ پیش کیا گیا۔

دوسری جانب معاہدہ کرنے والے فریق نے معاہدے پر اپنے دستخط اور اس کے اجرا سے انکار نہیں کیا، البتہ اس کے مندرجات کے حوالے سے اعتراض اٹھایا گیا۔

⚖️ سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ قانونِ شہادت کے آرٹیکل 81 کے تحت اگر کسی attested document کے اجرا کا اقرار خود اس کے executant کی جانب سے کر دیا جائے تو اس کے اجرا کو ثابت کرنے کے لیے تصدیقی گواہوں کو پیش کرنا ضروری نہیں رہتا۔

عدالت نے واضح کیا کہ آرٹیکل 81 اس عمومی اصول سے استثنا ہے جس کے تحت قانوناً تصدیق شدہ دستاویز کے اجرا کے ثبوت کے لیے تصدیقی گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

🔹 ایک گواہ پیش نہ ہونے کا اثر

عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ معاہدۂ فروخت پر دو تصدیقی گواہوں کی تصدیق موجود تھی اور اس کے اجرا کا اقرار خود executant کی جانب سے کیا گیا تھا، اس لیے دوسرے تصدیقی گواہ کو عدالت میں پیش نہ کرنا قانونی طور پر فیصلہ کن نہیں تھا۔

⚖️ پاور آف اٹارنی بھی اہم تھی

اس مقدمے میں فروخت کنندہ کی جانب سے اپنے بھائی کے حق میں رجسٹرڈ پاور آف اٹارنی بھی دی گئی تھی، جس میں فروخت اور منتقلی کے اختیارات شامل تھے۔ سپریم کورٹ نے معاہدۂ فروخت اور پاور آف اٹارنی کو مجموعی طور پر دیکھتے ہوئے نچلی عدالتوں کے نتائج میں مداخلت سے انکار کیا۔

✅ قانونی اصول

اس فیصلے سے اہم اصول یہ سامنے آتا ہے کہ اگر کسی attested document کے اجرا کا اقرار خود executant کر دے تو آرٹیکل 81 قانونِ شہادت کے تحت اس کے اجرا کے ثبوت کے لیے دونوں تصدیقی گواہوں کو پیش کرنا لازمی نہیں رہتا۔

حوالہ: 2020 SCMR 197 — Muhammad Afzal (decd.) through LRs and others v. Muhammad Bashir and another

23/09/2026

مختصر کہانی
یہ مقدمہ ایک مکان کی ملکیت سے متعلق تھا۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ اصل مالک نے اپنی زندگی میں اپنا نصف حصہ ان کے والد کو زبانی ہبہ کر دیا تھا، اس لیے وہ وراثت کی بنیاد پر مکان کے مالک ہیں۔
ٹرائل کورٹ نے دعویٰ مسترد کیا، جبکہ اپیل میں بھی یہ فیصلہ برقرار رہا۔ معاملہ پشاور ہائی کورٹ کے مینگورہ بینچ کے سامنے آیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار زبانی ہبہ کے بنیادی ارکان یعنی ایجاب، قبول اور قبضہ کی معتبر، براہِ راست اور قابلِ اعتماد شہادت سے تصدیق نہیں کر سکے۔ دعویٰ میں مبینہ ہبہ کی تاریخ، وقت اور جگہ بھی واضح طور پر بیان نہیں کی گئی تھی۔ مزید یہ کہ مکان کی درست تفصیل بھی پیش نہیں کی گئی جبکہ مخالف فریق نے بعد کی فروخت کی دستاویزات بھی ثابت کر دیں

22/09/2026

مقدمہ ایک مکان کی ملکیت سے متعلق تھا۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ اصل مالک نے اپنی زندگی میں اپنا نصف حصہ ان کے والد کو زبانی ہبہ کر دیا تھا، اس لیے وہ وراثت کی بنیاد پر مکان کے مالک ہیں۔
ٹرائل کورٹ نے دعویٰ مسترد کیا، جبکہ اپیل میں بھی یہ فیصلہ برقرار رہا۔ معاملہ پشاور ہائی کورٹ کے مینگورہ بینچ کے سامنے آیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار زبانی ہبہ کے بنیادی ارکان یعنی ایجاب، قبول اور قبضہ کی معتبر، براہِ راست اور قابلِ اعتماد شہادت سے تصدیق نہیں کر سکے۔ دعویٰ میں مبینہ ہبہ کی تاریخ، وقت اور جگہ بھی واضح طور پر بیان نہیں کی گئی تھی۔ مزید یہ کہ مکان کی درست تفصیل بھی پیش نہیں کی گئی جبکہ مخالف فریق نے بعد کی فروخت کی دستاویزات بھی ثابت کر دیں۔

21/09/2026

⚖️ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر کوئی دستاویز حقیقی اور مقدمے میں زیرِ تنازع معاملے کے تعین کے لیے متعلقہ ہو تو اسے صرف اس بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کارروائی کے ابتدائی مرحلے میں پیش نہیں کی گئی۔ ایسی دستاویز کو کارروائی کے کسی بھی مرحلے پر، حتیٰ کہ اپیل کے مرحلے پر بھی، ریکارڈ کا حصہ بنایا جا سکتا ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔

تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر دستاویز لازماً کسی بھی وقت قبول کرلی جائے گی۔ دستاویز کا حقیقی اور متعلقہ ہونا ضروری ہے، اور دوسرے فریق کو اس پر اعتراض، جواب، جرح یا تردید کا مناسب موقع دینا بھی ضروری ہے۔ سپریم کورٹ نے اسی مقدمے میں قرار دیا کہ اگر نئی دستاویز کے باعث کسی فریق کو ممکنہ نقصان ہو تو اسے rebuttal اور cross-examination کا مناسب موقع دے کر اس تعصب کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔

📚 حوالہ: 2016 SCMR 1، Muhammad Ijaz Ahmad Chaudhry v. Mumtaz Ahmad Tarar and others؛ سپریم کورٹ نے اس اصول کے لیے Bisvil Spinners (Pvt.) Ltd. v. Pakistan, PLD 1992 SC 96 کا حوالہ بھی دیا۔





21/09/2026

⚖️ ہبہ کیا ہے اور کب مؤثر ہوتی ہے؟

ہبہ سے مراد کسی شخص کا اپنی ملکیت کسی دوسرے شخص کو بلا معاوضہ تحفے کے طور پر دینا ہے۔ ہبہ کے مکمل ہونے کے لیے صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ جائیداد دے دی گئی ہے۔ عام طور پر ہبہ میں عطیہ دینے والے کی طرف سے واضح پیشکش، دوسرے شخص کی طرف سے قبولیت، اور جائیداد کا قبضہ منتقل کرنا اہم سمجھا جاتا ہے۔

اگر ہبہ کے بارے میں بعد میں تنازع پیدا ہو جائے تو عدالت دستاویزات، فریقین کے بیانات اور قبضے سمیت تمام متعلقہ حالات کا جائزہ لیتی ہے۔

اس لیے جائیداد کی ہبہ کرتے وقت قانونی تقاضوں کو پورا کرنا بہت ضروری ہے۔

21/09/2026

ایک تعمیراتی کمپنی نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ساتھ سڑک کی مرمت اور دیکھ بھال کا معاہدہ کیا، لیکن مقررہ مدت میں کام مکمل نہ کیا۔ متعدد مواقع دینے کے باوجود صرف 13.9 فیصد کام مکمل ہو سکا۔
🔹 نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے کام میں تاخیر پر معاہدہ ختم کرنے کا نوٹس دیا۔ کمپنی نے سول عدالت سے حکمِ امتناعی مانگا تاکہ نوٹسِ خاتمہ معطل ہو اور اتھارٹی کسی تیسرے فریق کو کام نہ دے۔
🔹 عدالت نے قرار دیا کہ کمپنی نے اپنا کام مکمل کرنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے، جبکہ سڑک کا منصوبہ عام لوگوں کے سفر اور سہولت سے متعلق تھا۔ اس لیے حکمِ امتناعی کی بنیادی شرائط کمپنی کے حق میں پوری نہیں ہوتیں۔
⚖️ عدالت کا اہم فیصلہ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ جب ٹھیکیدار معاہدے کے تحت سڑک کی مرمت یا دیکھ بھال کا کام مقررہ وقت میں مکمل نہ کرے، متعدد مواقع ملنے کے باوجود کام آگے نہ بڑھائے، اور منصوبے کی تاخیر سے عوام متاثر ہو رہے ہوں، تو صرف مالی نقصان کی بنیاد پر حکمِ امتناعی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

Address

Jail Road
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when 489F cheque posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category