489F cheque

489F cheque For more information call or whatsapp +92-3244010279)
we are law firm from Lahore. Adv Mahar Ghulam Murtaza

21/05/2026

آرڈر 37 کے مقدمہ میں 15 کروڑ کے سکیورٹی بانڈ کی شرط ختم

لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

مقدمہ کیا تھا؟

✦ مدعی نے آرڈر 37 CPC کے تحت 15 کروڑ روپے کی ریکوری کا دعویٰ پرونوٹ کی بنیاد پر دائر کیا۔

✦ مؤقف اختیار کیا گیا کہ مدعا علیہ نے رقم لے کر Promissory Note تحریر کیا تھا۔

---

مدعا علیہ کا دفاع

✦ مدعا علیہ نے دعویٰ مکمل طور پر مسترد کر دیا۔

✔ رقم لینے سے انکار کیا۔
✔ پرونوٹ execute کرنے سے انکار کیا۔
✔ دستاویز کو جعلی، فراڈ اور نقالی پر مبنی قرار دیا۔

---

ٹرائل کورٹ نے کیا کیا؟

✦ ٹرائل کورٹ نے کہا کہ معاملہ evidence کے بغیر حل نہیں ہو سکتا۔

✦ عدالت نے Leave to Defend تو دے دی لیکن شرط لگا دی کہ:

✔ 15 کروڑ روپے کا سکیورٹی/ضمانتی مچلکہ جمع کروایا جائے۔

---

ہائی کورٹ نے قرار دیا

⚖️ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ:

✔ جب دفاع بظاہر معقول اور قابلِ سماعت ہو تو غیر مشروط Leave to Defend دی جانی چاہیے۔

✔ صرف مدعی کے مطالبے پر بھاری شرط عائد نہیں کی جا سکتی۔

✔ عدالت کو آزادانہ قانونی ذہن استعمال کرنا لازم ہے۔

✔ جعلسازی اور دستخط کے انکار جیسے معاملات مکمل ٹرائل اور ثبوت طلب کرتے ہیں۔

---

اہم قانونی اصول

✦ آرڈر 37 کے مقدمات میں:

✔ Leave to Defend دینا عدالت کا صوابدیدی اختیار ہے۔
✔ یہ اختیار مضبوط قانونی وجوہات پر استعمال ہونا چاہیے۔
✔ غیر ضروری سخت شرائط عائد نہیں کی جا سکتیں۔

---

حتمی فیصلہ

✦ ہائی کورٹ نے 15 کروڑ روپے کے سکیورٹی بانڈ کی شرط ختم کر دی۔

✦ مدعا علیہ کو Unconditional Leave to Defend دے دی گئی۔

✦ ٹرائل کورٹ کو مقدمہ جلد نمٹانے کا حکم دیا گیا۔

---

English Title

Lahore High Court Removes Rs. 15 Crore Security Condition in Order 37 Recovery Suit











21/05/2026

آرڈر 37 کے مقدمہ میں 15 کروڑ کے سکیورٹی بانڈ کی شرط ختم
لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
مقدمہ کیا تھا؟
✦ مدعی نے آرڈر 37 CPC کے تحت 15 کروڑ روپے کی ریکوری کا دعویٰ پرونوٹ کی بنیاد پر دائر کیا۔
✦ مؤقف اختیار کیا گیا کہ مدعا علیہ نے رقم لے کر Promissory Note تحریر کیا تھا۔
مدعا علیہ کا دفاع
✦ مدعا علیہ نے دعویٰ مکمل طور پر مسترد کر دیا۔
✔ رقم لینے سے انکار کیا۔
✔ پرونوٹ execute کرنے سے انکار کیا۔
✔ دستاویز کو جعلی، فراڈ اور نقالی پر مبنی قرار دیا۔
ٹرائل کورٹ نے کیا کیا؟
✦ ٹرائل کورٹ نے کہا کہ معاملہ evidence کے بغیر حل نہیں ہو سکتا۔
✦ عدالت نے Leave to Defend تو دے دی لیکن شرط لگا دی کہ:
✔ 15 کروڑ روپے کا سکیورٹی/ضمانتی مچلکہ جمع کروایا جائے۔
ہائی کورٹ نے قرار دیا
⚖️ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ:
✔ جب دفاع بظاہر معقول اور قابلِ سماعت ہو تو غیر مشروط Leave to Defend دی جانی چاہیے۔
✔ صرف مدعی کے مطالبے پر بھاری شرط عائد نہیں کی جا سکتی۔
✔ عدالت کو آزادانہ قانونی ذہن استعمال کرنا لازم ہے۔
✔ جعلسازی اور دستخط کے انکار جیسے معاملات مکمل ٹرائل اور ثبوت طلب کرتے ہیں۔
اہم قانونی اصول
✦ آرڈر 37 کے مقدمات میں:
✔ Leave to Defend دینا عدالت کا صوابدیدی اختیار ہے۔
✔ یہ اختیار مضبوط قانونی وجوہات پر استعمال ہونا چاہیے۔
✔ غیر ضروری سخت شرائط عائد نہیں کی جا سکتیں۔
حتمی فیصلہ
✦ ہائی کورٹ نے 15 کروڑ روپے کے سکیورٹی بانڈ کی شرط ختم کر دی۔
✦ مدعا علیہ کو Unconditional Leave to Defend دے دی گئی۔
✦ ٹرائل کورٹ کو مقدمہ جلد نمٹانے کا حکم دیا گیا۔
English Title
Lahore High Court Removes Rs. 15 Crore Security Condition in Order 37 Recovery Suit










20/05/2026

متروکہ جائیداد کے معاوضہ سے دوبارہ کٹوتی غیر قانونی قرار
سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کا اہم فیصلہ
مقدمہ کا پس منظر
✦ ایک متروکہ جائیداد پہلے اصل الاٹی کے نام تھی۔
✦ بعد میں الاٹی نے جائیداد ہبہ نامہ کے ذریعے دوسرے افراد کو منتقل کر دی۔
✦ بعد ازاں حکومت نے جائیداد حاصل کر لی اور اس کے بدلے معاوضہ مقرر ہوا۔
✦ نگرانِ متروکہ املاک نے معاوضہ کی رقم سے مالکانہ حقوق اور خدماتی اخراجات کے نام پر کٹوتی کر لی۔
✦ نئے مالکان نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ پہلے ہی مقررہ اخراجات ادا کر چکے ہیں، اس لیے دوبارہ کٹوتی غیر قانونی ہے۔
ہائی کورٹ کا فیصلہ
✦ ہائی کورٹ نے نئے مالکان کے حق میں فیصلہ دیا۔
✦ عدالت نے قرار دیا کہ قانون کے مطابق ادائیگی کے بعد دوبارہ رقم نہیں کاٹی جا سکتی۔
سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر کا فیصلہ
✦ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مالکانہ حقوق کے نام پر دوبارہ کٹوتی غیر قانونی تھی۔
✦ عدالت نے واضح کیا کہ نئے مالکان پہلے ہی مقررہ رقم ادا کر چکے تھے۔
✦ عدالت نے مزید قرار دیا کہ خدماتی اخراجات کی کٹوتی قانون کے مطابق درست تھی۔
✦ سپریم کورٹ نے اپیل جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے غیر قانونی کٹوتی ختم کر دی۔
اہم قانونی اصول
✦ اگر متروکہ جائیداد منتقل ہو جائے اور مقررہ رقم پہلے ہی ادا کی جا چکی ہو تو دوبارہ وصولی نہیں کی جا سکتی۔
✦ نگرانِ متروکہ املاک صرف قانون کے مطابق جائز اخراجات ہی وصول کر سکتا ہے۔
✦ خدماتی اخراجات اور مالکانہ حقوق کی رقم الگ قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔
نظیر
Custodian Evacuee Property, AJK v. Majid Rafique
ہیش ٹیگز
#معاوضہ

20/05/2026

بلدیاتی نمائندوں کو نظر انداز کرنا آئین کے آرٹیکل 140A کی خلاف ورزی قرار
2026 CLC 743 — اہم قانونی فیصلہ
Balochistan High Court نے قرار دیا کہ بلدیاتی نمائندوں کو ضلع کی انتظامی سرگرمیوں اور ترقیاتی فیصلوں سے باہر رکھنا آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 140A کے منافی ہے۔
مقدمہ میں منتخب چیئرمین ضلع کونسل کو اپنے ضلع میں منعقد ہونے والے میلہ کے انتظامات سے الگ رکھا گیا تھا، جس پر عدالت نے سخت نوٹس لیا۔
✦ مختصر کہانی
درخواست گزار Mir Bijar Chakar Domki ضلع کونسل کے منتخب چیئرمین تھے۔
ضلعی انتظامیہ نے میلہ کے انتظامات اور فیصلوں میں انہیں شامل نہیں کیا۔
چیئرمین ضلع کونسل نے مؤقف اختیار کیا کہ:
وہ عوام کے منتخب نمائندہ ہیں۔
ضلع کی ترقی، انتظامات اور عوامی معاملات میں ان کی شرکت آئینی حق ہے۔
انتظامیہ کا انہیں نظر انداز کرنا آرٹیکل 140A کی خلاف ورزی ہے۔
ہائی کورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے بلدیاتی اداروں کے آئینی کردار کو تسلیم کیا۔
✦ اہم نکات
✦ ہائی کورٹ نے قرار دیا:
بلدیاتی حکومتیں کوئی رعایت نہیں بلکہ آئینی حکم ہیں۔
✦ ہائی کورٹ نے قرار دیا:
آرٹیکل 140A کے تحت صوبائی حکومت پر لازم ہے کہ سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات بلدیاتی اداروں کو منتقل کرے۔
✦ ہائی کورٹ نے قرار دیا:
ڈپٹی کمشنر سمیت تمام ضلعی افسران ترقیاتی اور عوامی معاملات میں منتخب ضلع کونسل سے مشاورت کے پابند ہیں۔
✦ ہائی کورٹ نے قرار دیا:
منتخب نمائندوں کو نظر انداز کرنا جمہوری نظام اور آئین دونوں کو کمزور کرتا ہے۔
✦ ہائی کورٹ نے قرار دیا:
عوام کی مرضی، جو منتخب نمائندوں کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے، ضلع کی منصوبہ بندی کی بنیاد ہونی چاہیے۔
✦ ہائی کورٹ نے قرار دیا:
بلدیاتی اداروں کو غیر مؤثر یا معطل کرنے والا ہر اقدام آئین کے خلاف ہوگا۔
✦ ہائی کورٹ نے قرار دیا:
میلہ کے انتظامات میں ضلع کونسل کو مرکزی کردار دیا جائے۔
✦ ہائی کورٹ نے قرار دیا:
صوبائی حکومت آئین کے مطابق بلدیاتی اداروں کو مکمل طور پر فعال بنائے۔
✦ عدالت کے اہم مشاہدات
✦ آئینی وژن
عدالت نے واضح کیا کہ پاکستان کا آئینی نظام عوامی شرکت اور جمہوری نمائندگی پر قائم ہے۔
✦ بلدیاتی حکومت کی حیثیت
بلدیاتی ادارے صرف انتظامی ڈھانچہ نہیں بلکہ عوامی نمائندگی کا بنیادی ستون ہیں۔
✦ انتظامیہ کی ذمہ داری
ضلعی افسران مقامی حکومتوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔
✦ حوالہ جات
Constitution of Pakistan
Metropolitan Corporation Islamabad v. Chairman CDA
PLD 2021 Islamabad 144
PLD 2024 Lahore 238

20/05/2026

⚖️ گیس بقایاجات کی ریکوری پر Limitation لاگو نہیں ہوتی — لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
Sui Northern Gas Pipelines Limited کے خلاف ایک شہری نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ گیس بقایاجات کی ریکوری کا دعویٰ مقررہ مدت (Limitation) کے بعد دائر کیا گیا، لہٰذا عدالت کو اس بارے میں الگ Issue فریم کرنا چاہیے تھا۔
ٹرائل کورٹ نے یہ درخواست مسترد کر دی جس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کی گئی۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ Gas (Theft Control and Recovery) Act, 2016 کے تحت گیس واجبات کی ریکوری پر عمومی Limitation لاگو نہیں ہوتی، اس لیے Limitation کا الگ Issue فریم کرنا غیر ضروری تھا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ قانون کی تشریح ہمیشہ قانون ساز کی نیت اور قانون کے مقصد کے مطابق کی جائے گی۔ اگر ہر ایسے معاملے میں غیر ضروری Issues فریم کیے جائیں تو مقدمات میں تاخیر اور عدالتی وقت کا ضیاع ہو گا۔
ہائی کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ آئینی اختیار صرف اسی صورت استعمال ہوتا ہے جب ماتحت عدالت کے حکم میں واضح غیر قانونی پہلو، قانونی خامی یا انصاف کے تقاضوں کے خلاف کوئی سنگین خرابی موجود ہو۔ چونکہ درخواست گزار ایسی کوئی خرابی ثابت نہ کر سکا، اس لیے آئینی درخواست خارج کر دی گئی۔
📌 اہم قانونی نکات
⚖️ گیس بقایاجات کی ریکوری پر Limitation لاگو نہیں ہوتی۔
⚖️ غیر ضروری Issues فریم کرنا عدالتی وقت کے ضیاع کے مترادف ہے۔
⚖️ عدالت قانون کی تشریح قانون ساز کی نیت کے مطابق کرتی ہے۔
⚖️ آئینی درخواست میں مداخلت صرف واضح قانونی خرابی کی صورت میں ہوتی ہے۔
⚖️ Order VII Rule 11 C.P.C. کے تحت maintainability کا Issue وسیع قانونی اعتراضات کا احاطہ کرتا ہے۔
🏛️ حوالہ مقدمہ
2026 CLC 748 Lahore
Muhammad Ashraf Vs. Sui Northern Gas Pipelines Limited Company
#️⃣

20/05/2026

⚖️ گیس بقایاجات کی ریکوری پر Limitation لاگو نہیں ہوتی — لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
Sui Northern Gas Pipelines Limited کے خلاف ایک شہری نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ گیس بقایاجات کی ریکوری کا دعویٰ مقررہ مدت (Limitation) کے بعد دائر کیا گیا، لہٰذا عدالت کو اس بارے میں الگ Issue فریم کرنا چاہیے تھا۔
ٹرائل کورٹ نے یہ درخواست مسترد کر دی جس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کی گئی۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ Gas (Theft Control and Recovery) Act, 2016 کے تحت گیس واجبات کی ریکوری پر عمومی Limitation لاگو نہیں ہوتی، اس لیے Limitation کا الگ Issue فریم کرنا غیر ضروری تھا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ قانون کی تشریح ہمیشہ قانون ساز کی نیت اور قانون کے مقصد کے مطابق کی جائے گی۔ اگر ہر ایسے معاملے میں غیر ضروری Issues فریم کیے جائیں تو مقدمات میں تاخیر اور عدالتی وقت کا ضیاع ہو گا۔
ہائی کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ آئینی اختیار صرف اسی صورت استعمال ہوتا ہے جب ماتحت عدالت کے حکم میں واضح غیر قانونی پہلو، قانونی خامی یا انصاف کے تقاضوں کے خلاف کوئی سنگین خرابی موجود ہو۔ چونکہ درخواست گزار ایسی کوئی خرابی ثابت نہ کر سکا، اس لیے آئینی درخواست خارج کر دی گئی۔
📌 اہم قانونی نکات
⚖️ گیس بقایاجات کی ریکوری پر Limitation لاگو نہیں ہوتی۔
⚖️ غیر ضروری Issues فریم کرنا عدالتی وقت کے ضیاع کے مترادف ہے۔
⚖️ عدالت قانون کی تشریح قانون ساز کی نیت کے مطابق کرتی ہے۔
⚖️ آئینی درخواست میں مداخلت صرف واضح قانونی خرابی کی صورت میں ہوتی ہے۔
⚖️ Order VII Rule 11 C.P.C. کے تحت maintainability کا Issue وسیع قانونی اعتراضات کا احاطہ کرتا ہے۔
🏛️ حوالہ مقدمہ
2026 CLC 748 Lahore
Muhammad Ashraf Vs. Sui Northern Gas Pipelines Limited Company
#️⃣

20/05/2026

بلدیاتی حکومتیں آئینی حکم ہیں، رعایت نہیں — بلوچستان ہائی کورٹ
Balochistan High Court نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا کہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کو ضلعی فیصلوں اور ترقیاتی معاملات سے الگ رکھنا آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 140A کی خلاف ورزی ہے۔
مقدمہ میں منتخب چیئرمین ضلع کونسل کو ضلع میں منعقد ہونے والے میلہ کے انتظامات سے باہر رکھا گیا تھا، جس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ:
✦ بلدیاتی ادارے آئینی ادارے ہیں۔
✦ صوبائی حکومت مقامی حکومتوں کو اختیارات منتقل کرنے کی پابند ہے۔
✦ ڈپٹی کمشنر اور دیگر افسران منتخب ضلع کونسل سے مشاورت کے پابند ہیں۔
✦ منتخب نمائندوں کو نظر انداز کرنا جمہوری نظام کو کمزور کرتا ہے۔
✦ عوام کی نمائندگی ہی ضلعی منصوبہ بندی کی بنیاد ہونی چاہیے۔
ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ متعلقہ میلہ کے انتظامات میں ضلع کونسل کو مرکزی کردار دیا جائے اور آئین کے مطابق بلدیاتی اداروں کو فعال بنایا جائے۔
2026 CLC 743









19/05/2026

⚖️ سول کورٹ میں نکاح نامہ منسوخی کا دعویٰ، فیملی کورٹ کی کارروائی نہیں روک سکتا
✦ مقدمہ کا پس منظر ✦
🔹 بیوی نے فیملی کورٹ میں مہر اور نان نفقہ کا مقدمہ دائر کیا۔
🔹 شوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے پہلے ہی سول کورٹ میں نکاح نامہ منسوخی کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔
🔹 شوہر نے ہائی کورٹ سے استدعا کی کہ فیملی کورٹ کی کارروائی سول مقدمہ کے فیصلے تک روک دی جائے۔
✦ ہائی کورٹ نے کیا قرار دیا؟ ✦
⚖️ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ صرف سول دعویٰ دائر ہونے سے فیملی کورٹ کی کارروائی نہیں روکی جا سکتی۔
⚖️ عدالت نے قرار دیا کہ Family Courts Act 1964 ایک خصوصی قانون ہے جس کا مقصد خاندانی مقدمات کا جلد فیصلہ کرنا ہے۔
⚖️ خصوصی قانون کو عام قانون پر فوقیت حاصل ہوتی ہے۔
⚖️ فیملی کورٹ میں مقدمہ ٹرائل مرحلہ میں تھا، اس لیے کارروائی روکنے کا کوئی جواز موجود نہ تھا۔
⚖️ ہائی کورٹ نے شوہر کی آئینی درخواست ابتدائی مرحلہ پر ہی خارج کر دی۔
✦ قانونی اصول ✦
📌 سول کورٹ میں declaratory suit دائر ہونے سے فیملی کورٹ کا مقدمہ خود بخود معطل نہیں ہوتا۔
📌 خاندانی مقدمات میں عدالتیں جلد انصاف کو ترجیح دیتی ہیں۔
📌 خصوصی قوانین (Special Laws) عام قوانین پر غالب ہوتے ہیں۔
✦ اہم نظائر ✦
📚 State Life Insurance Corporation of Pakistan v. Mst. Sardar Begum
📚 The Lahore Polo Club v. Additional District Judge
📚 Tariq Hussain Shah v. Additional District Judge Sahiwal
#️⃣








Address

Jail Road
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when 489F cheque posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category