21/09/2026
⚖️ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر کوئی دستاویز حقیقی اور مقدمے میں زیرِ تنازع معاملے کے تعین کے لیے متعلقہ ہو تو اسے صرف اس بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کارروائی کے ابتدائی مرحلے میں پیش نہیں کی گئی۔ ایسی دستاویز کو کارروائی کے کسی بھی مرحلے پر، حتیٰ کہ اپیل کے مرحلے پر بھی، ریکارڈ کا حصہ بنایا جا سکتا ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔
تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر دستاویز لازماً کسی بھی وقت قبول کرلی جائے گی۔ دستاویز کا حقیقی اور متعلقہ ہونا ضروری ہے، اور دوسرے فریق کو اس پر اعتراض، جواب، جرح یا تردید کا مناسب موقع دینا بھی ضروری ہے۔ سپریم کورٹ نے اسی مقدمے میں قرار دیا کہ اگر نئی دستاویز کے باعث کسی فریق کو ممکنہ نقصان ہو تو اسے rebuttal اور cross-examination کا مناسب موقع دے کر اس تعصب کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔
📚 حوالہ: 2016 SCMR 1، Muhammad Ijaz Ahmad Chaudhry v. Mumtaz Ahmad Tarar and others؛ سپریم کورٹ نے اس اصول کے لیے Bisvil Spinners (Pvt.) Ltd. v. Pakistan, PLD 1992 SC 96 کا حوالہ بھی دیا۔