23/05/2026
جعلی انجری کے امکان پر عدالت کا اہم فیصلہ، ملزم کی پری اریسٹ بیل منظور!!
ملزم عمر فاروق نے مقدمہ نمبر 575 مورخہ 11-07-2023، تھانہ سرائے مغل، ضلع قصور میں درج کراس ورژن، زیر دفعات 337-F(v)، 337-A(i)، 337-L(ii)، 148، 149 تعزیراتِ پاکستان میں قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست دائر کی۔
الزام یہ تھا کہ ملزم نے وارث علی کے سر پر پستول کے بٹ سے وار کیا، جس سے اس نے ہاتھ آگے کیا اور اس کی دائیں ہاتھ کی انگلی فریکچر ہو گئی۔
عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ کراس ورژن غیر معمولی تاخیر سے درج کیا گیا۔ ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں زخمی کے ہاتھ پر صرف سوجن ظاہر کی گئی جبکہ کسی ہتھیار کے نشان یا چوٹ کی تصدیق نہیں ہوئی، بلکہ ڈاکٹر نے جعلسازی کے امکان کا بھی ذکر کیا۔ بعد ازاں ڈسٹرکٹ میڈیکل بورڈ نے بھی ابتدائی ڈاکٹر کی رائے برقرار رکھی۔ تاہم صوبائی میڈیکل بورڈ نے ایک انجری کو درست قرار دیا لیکن دوسری انجری کے بارے میں جعلسازی کے امکان کو تسلیم کیا۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ اگر واقعی بھرپور حملہ کیا گیا ہوتا تو صرف ایک انگلی متاثر ہونا اور باقی ہاتھ محفوظ رہنا شک پیدا کرتا ہے۔ مزید یہ کہ صوبائی بورڈ نے تقریباً دس ماہ بعد دوبارہ معائنہ کیا، اس لیے ابتدائی انجکشن کے نشانات وغیرہ ختم ہو چکے تھے۔
عدالت نے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قبل از گرفتاری ضمانت میں بھی میرٹ اور مزید انکوائری کو دیکھا جا سکتا ہے، اور اگر شک پیدا ہو تو ملزم کو فائدہ دیا جاتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جب ملزم ویسے بھی بعد از گرفتاری ضمانت کا حقدار بن سکتا ہو تو اسے صرف چند دن گرفتار رکھنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
لہٰذا عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ملزم کی عبوری قبل از گرفتاری ضمانت مبلغ 50,000 روپے مچلکوں کے عوض کنفرم کر دی۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ تمام مشاہدات عارضی نوعیت کے ہیں اور ٹرائل پر اثر انداز نہیں ہوں گے