Bajwa Law Associates

Bajwa Law Associates Trusted legal experts providing comprehensive solutions. Experienced in civil and criminal litigation

10/06/2026

سپریم کورٹ پاکستان نے بجلی چوری کے مقدمہ میں ایک اہم فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جب جرم غیر ممنوعہ (Non-Prohibitory) نوعیت کا ہو تو ضمانت اصول اور گرفتاری استثنا ہوتی ہے۔

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ صرف پولیس کی رائے یا دفعہ 161 کے بیانات کی بنیاد پر کسی شخص کو آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ مزید یہ کہ جب قانون خود سزا کے طور پر قید کے بجائے صرف جرمانے کی گنجائش بھی دیتا ہو، تو ضمانت دینے کا اصول مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔

عدالت نے ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم کی قبل از گرفتاری ضمانت منظور کر لی اور واضح کیا کہ ذاتی آزادی ایک بنیادی آئینی قدر ہے جسے غیر معمولی وجوہات کے بغیر سلب نہیں کیا جا سکتا۔

10/06/2026

جہاں قانون جرمانہ کی سزا کی بھی اجازت دیتا ہو، وہاں ضمانت کا حق مزید مضبوط ہوتا ہے۔
___
ممکن ہے آخرکار ملزم کو صرف جرمانہ کی سزا ملے، اس لیے قبل از گرفتاری ضمانت دینے کا جواز مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔

---
اس فیصلے میں عدالتِ عظمیٰ نے چند اہم قانونی اصول (Legal Propositions) واضح کیے ہیں:

1۔ نان پروہیبٹری کلاز (Non-Prohibitory Clause) کے مقدمات میں ضمانت اصول ہے

عدالت نے قرار دیا کہ دفعہ 462-J PPC کی سزا دو سال تک ہے، لہٰذا یہ جرم دفعہ 497 Cr.P.C کی نان پروہیبٹری کلاز میں آتا ہے۔ ایسے مقدمات میں:

> ضمانت دینا اصول (Rule) ہے جبکہ انکار استثناء (Exception) ہے۔

ضمانت صرف غیر معمولی حالات میں روکی جا سکتی ہے۔

---

2۔ غیر معمولی حالات ثابت کرنا استغاثہ کی ذمہ داری ہے

عدالت نے قرار دیا کہ نان پروہیبٹری جرم میں ضمانت روکنے کے لیے پراسیکیوشن کو یہ دکھانا ہوگا کہ:

ملزم فرار ہو سکتا ہے؛

گواہوں یا ثبوتوں پر اثرانداز ہو سکتا ہے؛

دوبارہ جرم کرنے کا خطرہ ہے۔

اگر ایسے حالات موجود نہ ہوں تو ضمانت دی جانی چاہیے۔

---

3۔ دفعہ 161 Cr.P.C کے بیانات بذاتِ خود مضبوط شہادت نہیں

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ:

> پولیس کے تحت ریکارڈ شدہ دفعہ 161 Cr.P.C کے بیانات substantive evidence نہیں ہوتے۔

اس لیے صرف ان بیانات کی بنیاد پر ضمانت مسترد نہیں کی جا سکتی۔

---

4۔ تفتیشی افسر کی رائے عدالت پر لازم نہیں

عدالت نے کہا:

> Investigating Officer کی یہ رائے کہ ملزم قصوروار ہے، عدالت پر binding نہیں ہوتی۔

عدالت کو اپنا آزادانہ ذہن استعمال کرکے ریکارڈ کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔

---

5۔ ضمانت کے مرحلے پر ٹرائل نہیں کیا جا سکتا

عدالت نے قرار دیا کہ:

تفتیشی مواد کی حتمی جانچ ٹرائل کورٹ کا کام ہے؛

ضمانت کے مرحلے پر صرف عارضی (Tentative) جائزہ لیا جاتا ہے؛

عدالت کو قبل از وقت جرم ثابت یا غیر ثابت نہیں کرنا چاہیے۔

---

6۔ جہاں قانون صرف جرمانہ کی سزا کی بھی اجازت دیتا ہو، وہاں ضمانت کا حق مزید مضبوط ہوتا ہے

دفعہ 462-J میں سزا:

قید،

جرمانہ،

یا دونوں

ہو سکتی ہے۔

لہٰذا عدالت نے قرار دیا کہ ممکن ہے آخرکار ملزم کو صرف جرمانہ کی سزا ملے، اس لیے قبل از گرفتاری ضمانت دینے کا جواز مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔

---

7۔ شخصی آزادی (Personal Liberty) کو بنیادی اہمیت حاصل ہے

عدالت نے کہا کہ:

> آزادی کا حق آئینی قدر (Constitutional Value) رکھتا ہے۔

معمولی نوعیت کے مالی نقصان کے مقدمات میں گرفتاری کے نتیجے میں:

روزگار کا نقصان،

معاشرتی بدنامی،

مالی مشکلات،

اور آزادی سے محرومی

کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔

8۔ ضمانت کے فیصلے میں دی گئی آبزرویشنز عارضی ہوتی ہیں

سپریم کورٹ نے آخر میں واضح کیا کہ:

> ضمانت دیتے وقت کی گئی تمام آبزرویشنز صرف Tentative ہیں اور ٹرائل کورٹ ان سے متاثر ہوئے بغیر مقدمہ کا فیصلہ کرے گی۔

اس فیصلے کا اہم قانونی اصول (Ratio Decidendi)

نان پروہیبٹری جرائم میں، خصوصاً جہاں قانون صرف جرمانہ کی سزا کی بھی اجازت دیتا ہو، اور استغاثہ کوئی غیر معمولی وجہ ثابت نہ کر سکے، وہاں شخصی آزادی کو ترجیح دیتے ہوئے قبل از گرفتاری یا بعد از گرفتاری ضمانت دی جانی چاہیے۔

23/05/2026

جعلی انجری کے امکان پر عدالت کا اہم فیصلہ، ملزم کی پری اریسٹ بیل منظور!!

ملزم عمر فاروق نے مقدمہ نمبر 575 مورخہ 11-07-2023، تھانہ سرائے مغل، ضلع قصور میں درج کراس ورژن، زیر دفعات 337-F(v)، 337-A(i)، 337-L(ii)، 148، 149 تعزیراتِ پاکستان میں قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست دائر کی۔

الزام یہ تھا کہ ملزم نے وارث علی کے سر پر پستول کے بٹ سے وار کیا، جس سے اس نے ہاتھ آگے کیا اور اس کی دائیں ہاتھ کی انگلی فریکچر ہو گئی۔

عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ کراس ورژن غیر معمولی تاخیر سے درج کیا گیا۔ ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں زخمی کے ہاتھ پر صرف سوجن ظاہر کی گئی جبکہ کسی ہتھیار کے نشان یا چوٹ کی تصدیق نہیں ہوئی، بلکہ ڈاکٹر نے جعلسازی کے امکان کا بھی ذکر کیا۔ بعد ازاں ڈسٹرکٹ میڈیکل بورڈ نے بھی ابتدائی ڈاکٹر کی رائے برقرار رکھی۔ تاہم صوبائی میڈیکل بورڈ نے ایک انجری کو درست قرار دیا لیکن دوسری انجری کے بارے میں جعلسازی کے امکان کو تسلیم کیا۔

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ اگر واقعی بھرپور حملہ کیا گیا ہوتا تو صرف ایک انگلی متاثر ہونا اور باقی ہاتھ محفوظ رہنا شک پیدا کرتا ہے۔ مزید یہ کہ صوبائی بورڈ نے تقریباً دس ماہ بعد دوبارہ معائنہ کیا، اس لیے ابتدائی انجکشن کے نشانات وغیرہ ختم ہو چکے تھے۔

عدالت نے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قبل از گرفتاری ضمانت میں بھی میرٹ اور مزید انکوائری کو دیکھا جا سکتا ہے، اور اگر شک پیدا ہو تو ملزم کو فائدہ دیا جاتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جب ملزم ویسے بھی بعد از گرفتاری ضمانت کا حقدار بن سکتا ہو تو اسے صرف چند دن گرفتار رکھنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

لہٰذا عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ملزم کی عبوری قبل از گرفتاری ضمانت مبلغ 50,000 روپے مچلکوں کے عوض کنفرم کر دی۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ تمام مشاہدات عارضی نوعیت کے ہیں اور ٹرائل پر اثر انداز نہیں ہوں گے

29/04/2026

🚨 بڑی خبر: سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ - اب بلاوجہ گرفتاری نہیں ہوگی! 🚨
​سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملزم کی قبل از گرفتاری ضمانت خارج ہونے کی صورت میں وہ بعد از گرفتاری ضمانت کا حقدار بن جائے گا، تو ایسی صورت میں ملزم کو جیل بھیجنا محض ایک 'کاغذی کارروائی' (Procedural Formality) ہوگی جس کا کوئی تعمیری مقصد نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے کہہ دیا ہے کہ اگر کیس ایسا ہے جس میں بعد میں ضمانت ملنی ہی ملنی ہے، تو ملزم کو صرف "رسم پوری کرنے" کے لیے جیل میں ڈالنا انسانی وقار اور انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ — طلاق یافتہ بیٹی بھی فیملی پنشن کی حقدار قراراسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک نہایت اہم اور ...
15/04/2026

اسلام آباد ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ — طلاق یافتہ بیٹی بھی فیملی پنشن کی حقدار قرار

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک نہایت اہم اور اصولی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ طلاق یافتہ بیٹی بھی فیملی پنشن کی حقدار ہے اور اسے صرف اس بنیاد پر محروم نہیں کیا جا سکتا کہ وہ پہلے شادی شدہ رہی ہے۔

کیس کا پس منظر: درخواست گزار ایک ریٹائرڈ ملازم کی طلاق یافتہ بیٹی تھی، جسے والد کے انتقال کے بعد متعلقہ کمپنی (OGDCL) کی جانب سے فیملی پنشن دینے سے انکار کر دیا گیا۔ کمپنی کا مؤقف تھا کہ وہ “غیر شادی شدہ بیٹی” کی تعریف میں نہیں آتی۔

عدالت کا فیصلہ اور قانونی نکات:

🔹 عدالت نے قرار دیا کہ فیملی پنشن کا بنیادی مقصد مرحوم ملازم کے زیر کفالت افراد کو مالی تحفظ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اس کی وفات کے بعد مشکلات کا شکار نہ ہوں۔

🔹 عدالت نے واضح کیا کہ پنشن کوئی خیرات نہیں بلکہ ایک قانونی حق ہے، جو ملازم کی خدمات کے بدلے میں دیا جانے والا مؤخر معاوضہ (Deferred Compensation) ہے۔

🔹 عدالت نے کہا کہ قوانین کی تشریح کرتے وقت سماجی بہبود اور معاشی تحفظ کے وسیع تر مقصد کو مدنظر رکھنا چاہیے، نہ کہ تنگ یا تکنیکی انداز اپنایا جائے۔

🔹 عدالت کے مطابق، طلاق کے بعد بیٹی دوبارہ غیر شادی شدہ حیثیت میں آ جاتی ہے، لہٰذا اسے “Unmarried Daughter” کے زمرے سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔

🔹 عدالت نے قرار دیا کہ کمپنی کا جاری کردہ لیٹر:

قانون کے منافی تھا

آئینی اصولوں کے خلاف تھا

اور دراصل ایک غیر مجاز انتظامی اقدام کے ذریعے قانون میں ترمیم کے مترادف تھا

🔹 عدالت نے مزید کہا کہ طلاق یافتہ بیٹی کو خارج کرنا امتیازی سلوک (Discrimination) ہے، جو آئین میں دیے گئے برابری کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔

عدالتی احکامات:

✔️ کمپنی کا متنازعہ لیٹر کالعدم قرار دے دیا گیا
✔️ درخواست گزار کو فیملی پنشن منتقل کرنے کا حکم دیا گیا
✔️ 2016 سے اب تک کی تمام بقایاجات اور اضافہ شدہ رقم ادا کرنے کی ہدایت
✔️ پنشن کا کمیوٹڈ حصہ بھی بحال کر کے ادا کرنے کا حکم

اہم قانونی اصول: 📌 کوئی بھی درجہ بندی (Classification) تبھی درست ہوتی ہے جب:

اس کی بنیاد معقول ہو

اور اس کا قانون کے مقصد سے براہ راست تعلق ہو

بصورت دیگر، ایسا امتیاز آئین کے تحت ناقابل قبول ہے۔

یہ فیصلہ نہ صرف طلاق یافتہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے بلکہ اس بات کی بھی توثیق کرتا ہے کہ ریاستی اور نیم سرکاری ادارے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے شہریوں کے قانونی حقوق سلب نہیں کر سکتے۔



📢 اس اہم فیصلے کو آگے شیئر کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنے حقوق کا علم ہو۔

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ “بخدمت جناب ایس ایچ او” لکھنا ممنوع صرف “جناب ایس ایچ او” لکھا جائے گا ایس ایچ او عوام کا خاد...
01/02/2026

سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ
“بخدمت جناب ایس ایچ او” لکھنا ممنوع
صرف “جناب ایس ایچ او” لکھا جائے گا
ایس ایچ او عوام کا خادم ہے، حاکم نہیں
ایف آئی آر درج کروانے والا شہری اب “اطلاع دہندہ” ہوگا
“فریادی” کا لفظ ممنوع
ایف آئی آر میں تاخیر ناقابلِ قبول
تاخیر پر دفعہ ۲۰۱ تعزیراتِ پاکستان کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے
فیصلہ: ۳۰ جنوری ۲۰۲۶ء
قانون سب کے لیے برابر

پنجاب  حکومت نے بیان حلفی اسٹامپ پیپرز کی فیس میں اضافہ کر دیا.ای سٹامپ پیپر کی فیس 100 روپے سے بڑھا کر 300 روپے کردی گئ...
24/01/2026

پنجاب حکومت نے بیان حلفی اسٹامپ پیپرز کی فیس میں اضافہ کر دیا.
ای سٹامپ پیپر کی فیس 100 روپے سے بڑھا کر 300 روپے کردی گئی ،

*پراپرٹی سیلز ایگریمنٹ ای سٹامپ پیپر کی فیس 1200 روپے سے بڑھا کر 3ہزار روپے کردی گئی ہے ۔*

پراپرٹی کے علاوہ کسی بھی معاہدے کیلئے استعمال ہونے والے ای سٹامپ پیپر کی فیس 100 روپے سے بڑھا کر 500 کردی گئی ہے ۔

*5 لاکھ روپے تک معاہدے کیلئے ای سٹامپ پیپر کی فیس 1200 سے بڑھا کر 3 ہزار کردی گئی ہے ،5 لاکھ روپے سے 10 لاکھ روپے تک معاہدے کی فیس میں 3 ہزار اضافہ کردیا، ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کیلئے استعمال ہونے والے اسٹامپ پیپر کی فیس میں 20 ہزار روپے اضافہ کیا گیا ۔*

طلاق کیلئے استعمال ہونے والے سٹامپ پیپر کی فیس 100 روپے سے بڑھا کر 1 ہزار روپے مقرر

*پاور آف اٹارنی کے ای سٹامپ پیپر فیس 1500 سے 1800 اضافہ کیا گیا ہے

24/01/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Thermoporesheet Fraz Butt, Minhaj Ali

06/01/2026

پولیس اسٹیشن میں 25 رجسٹرز ہوتے ہیں اور ان مختلف نوعیت کی کاروائی تحریر کی جاتی ہے۔_

_*رجسٹر نمبر 1*: رپورٹ ابتدائی اطلاعی_

_*رجسٹر نمبر 2*: روزنامچہ_

_*رجسٹر نمبر 3*: فائل (سٹینڈنگ آرڈرز، سرکلر آرڈرز و دیگر احکام)_

_*رجسٹر نمبر 4*: روپوشان و مفروران_

_*رجسٹر نمبر 5*: خط و کتابت_
جسٹر نمبر 6*: متفرق_

_*رجسٹر نمبر 7*: پھاٹک مویشیاں (حذف ہوا)_

_*رجسٹر نمبر 8*: سرچ سلپ و پیروی مقدمات_

_*رجسٹر نمبر 9*: کرائم رجسٹر_

_*رجسٹر نمبر 10*: رجسٹر نگرانی_

_*رجسٹر نمبر 11*: انڈیکس ہسٹری شیٹ و پرسنل فائل_

_*رجسٹر نمبر 12*: پرچہ جات مجاریہ و موصولہ_

_*رجسٹر نمبر 13*: کتب برائے افسران گزٹ شدہ_

_*رجسٹر نمبر 14*: فائل بک رپورٹ ہائے ملاحظہ جات_

_*رجسٹر نمبر 15Z
_*رجسٹر نمبر 18*: رسید کتب برائے اسلحہ گولی بارود_

_*رجسٹر نمبر 19*: رجسٹر مالخانہ_

_*رجسٹر نمبر 20*: رجسٹر حسابات_

_*رجسٹر نمبر 21*: فائل بک روڈ سرٹیفکیٹ_

_*رجسٹر نمبر 22*: چھاپہ شدہ کتب رسیدات_

_*رجسٹر نمبر 23*: فائل (پولیس گزٹ، گزٹ انکشاف جرائم)_

_*رجسٹر نمبر 24*: مجموعہ قوائد پولیس_

_*رجسٹر نمبر 25*: یاداشت ہائے افسران مہتمم تھانہ جات_۔

⚖️ کیا آپ سیل ڈیڈ (Sale Deed) لکھوانے جا رہے ہیں؟تو ذرا رُکیں! ✋سیل ڈیڈ لکھنے سے پہلے یہ نکات جاننا آپ کے لیے انتہائی ضر...
06/01/2026

⚖️ کیا آپ سیل ڈیڈ (Sale Deed) لکھوانے جا رہے ہیں؟
تو ذرا رُکیں! ✋
سیل ڈیڈ لکھنے سے پہلے یہ نکات جاننا آپ کے لیے انتہائی ضروری ہیں، ورنہ معمولی لاپرواہی بڑا قانونی مسئلہ بن سکتی ہے۔

🔍 سیل ڈیڈ سے پہلے اہم قانونی نکات:

1️⃣ Title Verification
پراپرٹی کے اصل مالک اور ملکیت کی مکمل تصدیق کریں۔

2️⃣ Check for Liens & Disputes
کسی قسم کے قرض، رہن یا قانونی تنازعہ کی جانچ لازمی کریں۔

3️⃣ Document Verification
تمام دستاویزات کی قانونی حیثیت اور تسلسل (Chain of Ownership) چیک کریں۔

4️⃣ Physical Inspection
پراپرٹی کا موقع پر جا کر فزیکل معائنہ کریں۔

5️⃣ Check Layout & Approvals
نقشہ، الاٹمنٹ اور متعلقہ اتھارٹی کی منظوری کی تصدیق کریں۔

6️⃣ Check Outstanding Dues
پراپرٹی ٹیکس، واٹر، بجلی، گیس اور دیگر واجبات کی ادائیگی یقینی بنائیں۔

7️⃣ Pre-Sale Agreement
سیل ڈیڈ سے پہلے باقاعدہ تحریری معاہدہ کرنا قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

⚠️ یاد رکھیں:
غلط یا نامکمل سیل ڈیڈ مستقبل میں کروڑوں کے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

Address

Office No. 1 Tufail Road
Lahore
CANTTCOURTS

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923224331479

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bajwa Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Bajwa Law Associates:

Share