ATTA Law Associates

ATTA Law Associates Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from ATTA Law Associates, Corporate lawyer, Lahore.

For Services: NTN, INCOME TAX RETURNS, PRA, SALES TAX, FIRM, WEBOC, SECP COMPANY REGISTRATION, TRADE MARK, CUSTOM TAX, FILER STATUS, BRA, SRA, BANKING & ALL CIVIL, CRIMINAL....

FBR said that a limitation of 120 days has been imposed with regard to the period of time during which amendment of asse...
16/08/2021

FBR said that a limitation of 120 days has been imposed with regard to the period of time during which amendment of assessment under section 122 of the Ordinance must be completed.
Regards,

24/07/2021
Concealing income is not possible anymore- Your expenses say it all. Visit www.fbr.gov.pk and click on FBR Maloomat TaxR...
12/11/2020

Concealing income is not possible anymore- Your expenses say it all. Visit www.fbr.gov.pk and click on FBR Maloomat TaxRayApp and view your expenditure details for yourself.
All persons/companies having taxable income are advised to file returns to avoid punitive consequences before 8th December, 2020.

02/10/2020

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ریوینیو حصول کی مد میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق ایف بی آر نے پہلی سہ ماہی میں 1004 ارب روپے کانیٹ ریوینیو حاصل کیا ہےجبکہ مقر رکردہ ہدف 970 ارب روپے تھا اس طرح 34 ارب روپے کا اضافہ حاصل ہوا ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں انکم ٹیکس کی مد میں 358 ارب روپے حاصل ہوئے، سیلز ٹیکس سے حاصل کردہ ریونیو426 ارب، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 56 ارب اور کسٹمز ڈیوٹی 164 ارب رہا۔ایف بی آر نے پہلی مرتبہ سال کی پہلی سہ ماہی میں گراس اور نیٹ ریوینیو 1 ٹریلین سے زائد اکھٹا کیا ہے۔ سہ ماہی کا کل گراس ریوینیو 1052 ارب روپے ہے۔
ریکارڈ سہ ماہی میں حاصل ہونے والے ریوینیو کے باوجود رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 48 ارب روپے کے ریفنڈز جاری ہوئے ہیں جبکہ پچھلے سال جاری کردہ ریفنڈز 26.5 ارب روپے کے تھے۔ریفنڈز اضافہ کی بدولت معاشی سرگرمیوں میں بہتری آئی ہے۔کرونا وبا کے باعث معیشت کی سست روی اور حکومت کے فنانس ایکٹ 2020 میں ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی مد میں خاطر خواہ ٹیکس ریلیف دینے کے باوجود ایف بی آر نے قابل تحسین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جو کہ ٹیکس گزاروں کا حکومت کے ریوینیو اقدامات پر اعتماد کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
ایف بی آر نے ریونیومیں بہتری لانے اور سہولیات کی فراہمی کے لئے کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔ ان میں سے لارج ٹیکس پیئر آفس ملتان اور کارپوریٹ ٹیکس آفس اسلام آباد کی تشکیل ہیں۔ پاکستان کسٹمز نے ٹرانزٹ ٹریڈ سے متعلقہ مسائل کے حل کے لئے مو ثر اقدامات اٹھائے ہیں۔ اس اقدام کی بدولت کارگو کی بارڈر مقامات پر نقل و حرکت 30 دن سے کم ہو کر 5 دن ہو گئی ہے۔ وزیر اعظم کے احکامات کے مطابق ٹرانزٹ ٹریڈ سہولتی پورٹل بھی فعال کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کسٹمز نے تمام قانون نافد کرنے والے اداروں جن میں پولیس، فرنٹیر فورس، رینجرز اور میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے ساتھ اشتراک کو مضبوط بناتے ہوئے سمگل شدہ اشیاء کی نقل و حرکت اور ذخیر ہ کی جگہوں پر آپریشنز تیز کر دیا ہے۔ ان اقدامات کی بدولت ماہ ستمبر میں پاکستان کسٹمز نے ریکارڈ سمگل شدہ اشیاء کی ضبطگیاں کی ہیں۔ ان اشیا ء میں گٹگا، چھالیہ ، خشک دودھ ، سگریٹس، ایرانی ڈیزل، ٹائرز، نان ڈیوٹی پیڈ گاڑیاں، کپٹرا اور سونا جن کی مالیت 6.2 ارب روپےہے، شامل ہیں۔ پچھلے سال ستمبر میں 3.9 ارب روپے کی سمگل شدہ اشیاء کی ضبطگی عمل میں لائی گئی جس میں اس سال 56 فیصد اضافہ ہواہے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں سمگل شدہ اشیاء جن کی مالیت 14.38 ارب روپے ہے ضبط کی گئی ہیں جبکہ پچھلے سال پہلی سہ ماہی میں 8.4ارب روپے مالیت کی اشیاء ضبط ہوئی تھی۔
ایف بی آر تجارتی آسانی کی فراہمی کے لئے آٹومیشن، ای آڈٹ اور طریقہ کار سہل بنانے کے لئے ہمہ وقت کوشاں ہے۔ ایف بی آر کرپشن، ہراسانی اور اختیارات کے غلط استعمال کےتدارک کے لئے سو افسران اور اہلکاروں کو معطل کر چکا ہے۔

آڈٹ پالیسی 2019 کے تحت پیرامیٹرک کمپیوٹر بیلٹنگ کے ذریعے ٹیکس سال 2018 کے لئے آڈٹ کیسز کے انتخاب کی تقریب منعقد ہوئی۔ بی...
18/09/2020

آڈٹ پالیسی 2019 کے تحت پیرامیٹرک کمپیوٹر بیلٹنگ کے ذریعے ٹیکس سال 2018 کے لئے آڈٹ کیسز کے انتخاب کی تقریب منعقد ہوئی۔ بیلٹنگ کے ذریعے ایسے افراد کا انتخاب کیا گیا ہے جو انکم ٹیکس آرڈینینس 2001، سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کے تحت کسی بھی ایک یا تمام قوانین کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ ایف بی آر ہیڈ کوارٹر میں ہونے والی اس تقریب میں وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ و ریوینیو عبدل حفیظ شیخ نے شرکت کی۔ دیگر شرکاء میں پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری، انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان، پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن، اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، اسلام آباد وومن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، آل پاکستان ٹیکس ایڈوائزرز ایسوسی ایشن اور ایف بی آر افسران شامل تھے۔
ٹیکس سال 2018 کے لئے تمام ٹیکسز کے آڈٹ کیسز کے انتخاب کے لئے رسک پر مبنی پیرامیٹرک طریقہ کار کا معیار وضع کیا گیا ہے۔ کیسز کے انتخاب کے لئے سائینسی طریقہ کار اپنایا گیا ہے اور ایک سافٹ وئیر بنایا گیا ہے جو کہ رسک پر مبنی آڈٹ مینجمنٹ نظام کہلاتا ہے۔ اس سافٹ وئیر کی بدولت ایف بی آر کو اختیا ر ملا ہے کہ وہ عدم تعمیل والے ٹیکس گزاروں کو آڈٹ کے لئے منتخب کرے جس کا مقصد تعمیل کرنے والے ٹیکس گزاروں کو سہولت دینا ہے تا کہ ان کا آڈٹ نظام پر اعتمار مستحکم ہو۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر محمد جاوید غنی نے کہا کہ ایف بی آر شفافیت ، آسانی فراہم کرنے اور ثابت قدمی کے اصولوں پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ کیٹیگریز کو آڈٹ کے انتخاب سے خارج کیا گیا ہے۔ ان کیٹیگریز میں ایسے افراد ہیں جن پر ایف بی آر کا انٹیلی جنس اور انوسٹی گیشن ونگ تحقیقات کر رہا ہے۔ ایسے تمام کیسز بھی خارج کر دیئے گئے ہیں جن میں تنخواہ اور پنشن پر ٹیکس لاگو آمدنی ٹیکس عائد آمدنی کے پچاس فیصد سے تجاوز کر گئی ہوسوائے ان کیسز پر جہاں آمدنی کاروبار کے ذریعے آئے۔کمپنیوں کے ڈائیریکٹرز اخراج کے لئے کوالیفائی نہیں کرتے۔ وہ تمام کیسز جن میں تمام آمدنی حتمی ٹیکس رجیم کے دائرہ کار میں آئےاور وہ تمام کیسز جنہوں نے 2018 اور 2019 ایمنسٹی سکیم کے تحت اثاثے ظاہر کر دیئے ہیں وہ بھی آڈٹ کے انتخاب سے خارج کر دیئے ہیں۔ وفاقی ،صوبائی اور مقامی حکومتوں ک ادارے بھی آڈٹ کے لیئے خارج کر دیئے گئے ہیں۔
امور خزانہ و ریونیو پر وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آڈٹ کیسز کا انتخاب کمپیوٹرائزڈ طریقے سے رسک کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آڈٹ کے لئے کم سے کم کیسز کا انتخاب کیا جا رہا ہے اور اصل توجہ انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے زیادہ رسک والے کیسز پر دی جا رہی ہے تاکہ آڈٹ مناسب طریقے سے اور مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جا سکے۔ اس سے کرپشن اور ہراساں کرنے سے متعلق ٹیکس گزاروں کی شکایات کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ علاوہ ازیں، آڈٹ پالیسی ان کیٹیگریز کے اخراج کی بدولت ٹیکس گزاروں کو پیش آنے والی غیرضروری مشکلات کم سے کم رہیں گی۔
ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے امید ظاہر کی کہ ایف بی آر اپنے معیارات میں مسلسل بہتری لاتے ہوئے سرکاری محکموں اور ٹیکس گزاروں کو بہترین خدمات کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اس سلسلے میں ایف بی آر نے "سالانہ ٹیکس ڈائریکٹری، 2018" شائع کر دی ہیں جن میں عام ٹیکس گزاروں کے ساتھ ساتھ سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کی ٹیکس تفصیلات بھی شامل ہیں تاکہ پاکستانی عوام ان معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں۔
ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے مزید کہا کہ شہریوں کو ریلیف دینے کے لئے موجودہ بجٹ کے تحت کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کاروباری برادری کو اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا اور امید ظاہر کی کہ پاکستان کے کاروباری شعبے کا مستقبل شاندار ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے برآمدی شعبے کو سب سڈیز بھی فراہم کی ہیں۔ ایف بی آر نے گزشتہ سال کی نسبت رواں سال زیادہ سیلز ٹیکس ری فنڈز ادا کئے ہیں۔ اس سلسلے میں ایف بی آر نے "فاسٹر" کے نام سے ایک آن لائن سسٹم متعارف کرایا ہے تاکہ ری فنڈ کلیمز میں ٹیکس عملہ کے کسی کردار کے بغیر خود کار طریقے سے ضروری کارروائی کی جا سکے۔ ٹیکس دہندگان کا اعتماد مزید مضبوط بنانے کے لئے ایف بی آر کے خلاف شکایات کے ازالہ کے لئے دو کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جن میں سے ایک بزنس کمیٹی ہے جس میں ایف بی آر کے نمائندے اور کاروباری افراد شامل ہیں جبکہ دوسری ری فنڈ امور سے متعلق ٹیکنیکل کمیٹی ہے جس میں نجی شعبے کے نمائندوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
پیرامیٹرک طریقے سے بذریعہ کمپیوٹر قرعہ اندازی کے باقاعدہ آغاز کے لئے وزیراعظم کے مشیر عبدالحفیظ شیخ نے انکم ٹیکس کیسز کے لئے کمپیوٹر کا بٹن دبایا جبکہ چیئرمین ایف بی آر محمد جاوید غنی نے سیلز ٹیکس اور صدر پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن آفتاب حسین ناگرہ نے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا بٹن دبایا جس کے نتیجے میں ٹیکس سال 2018 کے لئے آڈٹ کئے جانے والے کیسز کا انتخاب کیا گیا۔ مختلف کیٹیگریز کے تحت مکمل طور پر شفاف انداز میں آڈٹ کے لئے منتخب کئے جانے والے کیسز کی تعداد درج ذیل ہے:
i. انکم ٹیکس (کارپوریٹ/ نان کارپوریٹ) - 10,441
ii. سیلز ٹیکس (کارپوریٹ/ نان کارپوریٹ)- 2,065
iii. فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (کارپوریٹ/ نان کارپوریٹ) 27
ٹوٹل - 12,553
ٹیکس گزاروں کی سہولت کے پیش نظر گزشتہ سالوں کی نسبت رواں سال کم تعداد میں کیسز چنے گئے ہیں۔ آڈٹ کے لئے منتخب کئے جانے والے کیسز کے نیشنل ٹیکس نمبر/ قومی شناختی کارڈ نمبر، ایف بی آر کی ویب سائٹ پر فراہم کر دئیے گئے ہیں۔ ٹیکس سال 2018 سے متعلق آڈٹ پالیسی، 2019، بھی ویب سائٹ پر موجود ہے جو یہاں سے حاصل کی جا سکتی ہے: https://www.fbr.gov.pk/taxpayers-audit/131228۔ اس کے علاوہ، محترمہ فریدہ رشید، صدر، اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور میاں عبدالغفار، صدر، آل پاکستان ٹیکس ایڈوائزرز ایسوسی ایشن نے ارکان پارلیمنٹ کی ٹیکس ڈائریکٹری کے اجراء کے لئے بٹن دبایا جبکہ انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی سی اے پی) کے صدر خلیل اللہ شیخ نے کمپیوٹر بٹن دبا کر ٹیکس ڈائریکٹری 2018 کا اجراء کیا۔ یہ تمام معلومات عام شہریوں کے لئے دستیاب ہیں اور اس پتہ سے حاصل کی جا سکتی ہیں: https://www.fbr.gov.pk/tax-directory-for-tax-year-2018/152468 ۔ اس موقع پر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے چیف کوآرڈینیٹر مرزا عبدالرحمان نے اس بات پر خوشی و اطمینان کا اظہار کیا کہ "رسک بیسڈ آڈٹ مینجمنٹ سسٹم" (آر اے ایم ایس) کے اجراء اور کاروباری برادری کے دیرینہ واجبات کی ادائیگی سے متعلق ان کے مطالبات پورے کر دئیے گئے ہیں۔

LAST DATE OF INCOME TAX RETURN is 30-SEPTEMBER-20Rai Atta Ur Rehman Advocate High Court03001113393DOCUMENTS REQUIRED1.Ba...
17/09/2020

LAST DATE OF INCOME TAX RETURN is 30-SEPTEMBER-20

Rai Atta Ur Rehman Advocate High Court

03001113393

DOCUMENTS REQUIRED
1.Bank Statement
2.Source of Income, like Salary slip
3.Any Asset Sale/Purchase
4.Personal Expenses
5.Tax Deduction Certificates
a-Supplies/Service
b-Mobile
c-Vehicle
d-Tuition fee Etc

31/08/2020

*وراثت کی تقسیم کا مکمل اور جامع قانونی طریقہ کار*
(١): جائیداد حقداروں میں متوفی پر واجب الادا قرض دینے اور وصیت کو پورا کرنے کے بعد تقسیم ہوگی.
(٢): اگر صاحب جائیداد خود اپنی جائیداد تقسیم کرے تو اس پر واجب ہے کہ پہلے اگر کوئی قرض ہے تو اسے اتارے، جن لوگوں سے اس نے وعدے کیۓ ہیں ان وعدوں کو پورا کرے اور تقسیم کے وقت جو رشتےدار، یتیم اور مسکین حاضر ہوں ان کو بھی کچھ دے.
(٣): اگر صاحب جائیداد فوت ہوگیا اور اس نے کوئی وصیت نہیں کی اور نہ ہی جائیداد تقسیم کی تو متوفی پر واجب الادا قرض دینے کے بعد جائیداد صرف حقداروں میں ہی تقسیم ہوگی.
*جائیداد کی تقسیم میں جائز حقدار*
(١): صاحب جائیداد مرد ہو یا عورت انکی جائیداد کی تقسیم میں جائیداد کے حق دار اولاد، والدین، بیوی، اور شوہر ہوتے ہیں.
(٢): اگر صاحب جائیداد کے والدین نہیں ہیں تو جائیداد اہل خانہ میں ہی تقسیم ہوگی.
(٣): اگر صاحب جائیداد کلالہ ہو اور اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں تو کچھ حصہ سوتیلے بہن بھائی کو جاۓ گا اور باقی نزدیکی رشتے داروں میں جو ضرورت مند ہوں نانا، نانی، دادا، دادی، خالہ، ماموں، پھوپھی، چچا، تایا یا انکی اولاد کو ملے گا.
*شوہر کی جائیداد میں بیوی یا بیویوں کا حصہ*
(١): شوہر کی جائیداد میں بیوی کا حصہ آٹھواں (1/8) یا چوتھائی (1/4) ہے.
(٢): اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہونگی تو ان میں وہی حصہ تقسیم ہوجاۓ گا.
(٣): اگر شوہر کے اولاد ہے تو جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ بیوی کا ہے، چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.
(٤): اگر شوہر کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، بیوی کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ شوہر کے والدین کیلئے ہے.
(٥): اگر شوہر کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیوی کیلئے جائیداد کا آٹھواں (1/8) حصہ ہے اور شوہر کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.
(٦): اگر شوہر کے اولاد نہیں ہے تو بیوی کا حصہ چوتھائی (1/4) ہو گا اور باقی جائیداد شوہر کے والدین کی ہوگی.
(٧): اگر کوئی بیوی شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاتی ہے تو اسکا حصہ نہیں نکلے گا.
(٨): اگر بیوہ نے شوہر کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے دوسری شادی کرلی تو اسکو حصہ نہیں ملے گا.
(٩): اور اگر بیوہ نے حصہ لینے کے بعد شادی کی تو اس سے حصہ واپس نہیں لیا جاۓ گا.
*بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ*
(١): بیوی کی جائیداد میں شوہر کا حصہ نصف (1/2) یا چوتھائی (1/4) ہے.
(٢): اگر بیوی کے اولاد نہیں ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور نصف (1/2) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے.
(٣): اگر بیوی کے اولاد ہے تو شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے، اور چھٹا (1/6) حصہ بیوی کے ماں باپ کا ہے اور باقی بچوں کا ہے.
(٤): اگر بیوی کے اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، شوہر کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد بیوی کے والدین کیلئے ہے.
(٥): اگر بیوی کے اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، شوہر کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور بیوی کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.
(٦): اگر شوہر، بیوی کے والدین کی طرف سے جائیداد ملنے سے پہلے فوت ہو جاۓ تو اس میں شوہر کا حصہ نہیں نکلے گا.
(٧): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے بچے ہیں تو بیوی کا اپنے والدین کی طرف سے حصہ نکلے گا اور اس میں شوہر کا حصہ چوتھائی (1/4) ہوگا اور باقی بچوں کو ملے گا.
(٨): اگر بیوی اپنے والدین کی جائیداد تقسیم ہونے سے پہلے فوت ہوگئی اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے گا.

*باپ کی جائیداد میں اولاد کا حصہ*
(١): باپ کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.
(٢): باپ کی جائیداد میں پہلے باپ کے والدین یعنی دادا، دادی کا چھٹا (1/6) حصہ، اور باپ کی بیوہ یعنی ماں کا آٹھواں (1/8) حصہ نکالنے کے بعد جائیداد اولاد میں تقسیم ہوگی.
(٣): اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں، دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہوگا، آٹھ واں (1/8) حصہ بیوہ ماں کا ہوگا اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کوملے گا.
(٤): اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے، آٹھواں (1/8) حصہ بیوہ ماں کیلئے ہے اور چھٹا (1/6) حصہ باپ کے والدین کیلئے ہے.
(٥): اگر باپ کے والدین یعنی دادا یا دادی جائیداد کی تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.
(٦): اگر کوئی بھائی باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوگیا اور اسکی بیوہ اور بچے ہیں تو بھائی کا حصہ مکمل طریقہ سے نکالا جاۓ گا.
(٧): اگر کوئی بہن باپ کی جائیداد کی تقسیم سے پہلے فوت ہوجاۓ اور اسکا شوہر اور بچے ہوں تو شوہر اور بچوں کو حصہ ملے گا. لیکن اگر بچے نہیں ہیں تو اسکے شوہر کو حصہ نہیں ملے گ
*ماں کی جائیداد میں اولاد کا حصہ*
(١): ماں کی جائیداد میں ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے.

(٢): جائیداد ماں کے والدین یعنی نانا نانی اور باپ کا حصہ نکالنے کے بعد اولاد میں تقسیم ہوگی.
(٣): اور اگر اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، باپ کیلئے چوتھائی (1/4) حصہ اور باقی جائیداد ماں کے والدین کیلئے ہے.
(٤): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، باپ کیلئے جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور ماں کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.
(٥): اگر ماں کے والدین تقسیم کے وقت زندہ نہیں ہیں تو انکا حصہ نہیں نکالا جاۓ گا.
(٦): اور اگر باپ بھی زندہ نہیں ہے تو باپ کا حصہ بھی نہیں نکالا جاۓ گا ماں کی پوری جائیداد اسکے بچوں میں تقسیم ہوگی.
(٧): اگر ماں کے پہلے شوہر سے کوئی اولاد ہے تو وہ بچے بھی ماں کی جائیداد میں برابر کے حصہ دار ہونگے
*بیٹے کی جائیداد میں والدین کا حصہ*
(١): اگر بیٹے کے اولاد ہو تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.
(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.
(٣): اگر بیٹے کے اولاد نہیں ہے لیکن بیوہ ہے اور بیوہ نے شوہر کی جائیداد کے تقسیم ہونے تک شادی نہیں کی تو اس کو جائیداد کا چوتھائی (1/4) حصہ ملے گا اور باقی جائیداد بیٹے کے والدین کی ہوگی.
(٤): اگر بیٹے کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.
(٥): اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹے کی بیوہ کیلئے آٹھواں (1/8) حصہ اور بیٹے کے والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.
(٦): اگر بیٹا رنڈوا ہے اور اسکے کوئی اولاد بھی نہیں ہے تو اسکی جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہے اور دو تہائی (2/3) حصہ باپ کا ہے اور اگر بیٹے کے بہن بھائی بھی ہوں تو اسکی ماں کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے اور باقی باپ کا ہے.
*بیٹی کی جائیداد میں والدین کا حصہ*
(١): اگر بیٹی کے اولاد ہے تو والدین کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.
(٢): اگر والدین میں صرف ماں ہو تو چھٹا (1/6) حصہ ماں کو ملے گا اور اگر صرف باپ ہو تو چھٹا (1/6) حصہ باپ کو ملے گا اور اگر دونوں ہوں تو چھٹا (1/6) حصہ دونوں میں برابر تقسیم ہو گا.
(٣): اگر بیٹی کے اولاد نہیں ہے لیکن شوہر ہے تو شوہر کو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ملے گا اور نصف (1/2) جائیداد بیٹی کے والدین کی ہوگی.
(٤): اور اگر بیٹی کی اولاد میں فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ لڑکیوں کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے ایک چوتہائی (1/4) حصہ اور باقی والدین کا ہے.
(٥): اور اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو جائیداد کا نصف (1/2) حصہ لڑکی کا ہے، بیٹی کے شوہر کیلئے چوتہائی (1/4) حصہ اور والدین کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.
(٦): اگر بیٹی بیوہ ہو اور اسکے اولاد بھی نہیں ہے تو جائیداد کے وارث اسکے والدین ہونگے جس میں ماں کیلئے جائیداد کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہوگا اور اگر بیٹی کے بہن بھائی ہیں تو ماں کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہوگا اور باقی باپ کو ملے گا.

*کلالہ*
کلالہ سے مراد ایسے مرد اور عورت جنکی جائیداد کا کوئی وارث نہ ہو یعنی جنکی نہ تو اولاد ہو اور نہ ہی والدین ہوں اور نہ ہی شوہر یا بیوی ہو.

(١): اگر صاحب میراث مرد یا عورت کلالہ ہوں، اسکے سگے بہن بھائی بھی نہ ہوں، اور اگر اسکا صرف ایک سوتیلہ بھائی ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے، یا اگر صرف ایک سوتیلی بہن ہو تو اس کیلئے جائیداد کا چھٹا (1/6) حصہ ہے.
(٢): اگر بہن، بھائی تعداد میں زیادہ ہوں تو وہ سب جائیداد کے ایک تہائی (1/3) حصہ میں شریک ہونگے.
(٣): اور باقی جائیداد قریبی رشتے داروں میں اگر دادا، دادی یا نانا، نانی زندہ ہوں یا چچا، تایا، پھوپھی، خالہ، ماموں میں یا انکی اولادوں میں جو ضرورت مند ہوں ان میں ایسے تقسیم کی جاۓ جو کسی کیلئے ضر رساں نہ ہو.

*اگر کلالہ کے سگے بہن بھائی ہوں*
(١): اگر کلالہ مرد یا عورت ہلاک ہوجاۓ، اور اسکی ایک بہن ہو تو اسکی بہن کیلئے جائیداد کا نصف (1/2) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلئے ہے.
(٢): اگر اسکی دو بہنیں ہوں تو ان کیلئے جائیداد کا دو تہائی (2/3) حصہ ہے اور باقی قریبی رشتے داروں میں ضرورت مندوں کیلیے ہے.
(٣): اگر اسکا ایک بھائی ہو تو ساری جائیداد کا بھائی ہی وارث ہوگا.
(٤): اگر بھائی، بہن مرد اورعورتیں ہوں تو ساری جائیداد انہی میں تقسیم ہوگی مرد کیلئے دوگنا حصہ اسکا جوکہ عورت کیلئے ہے.

الله تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ اور الله ہر شے کا جاننے والا ہے.

*اللہ تعالیٰ فرماتا ہے*
اور ہر ترکہ کیلئے جو ماں باپ اور عزیز و اقارب چھوڑیں ہم نے وارث قرار دئیے ہیں اور جن سے تم نے عہد کر لئے ہیں ان کا حصہ ان کو دیدو بیشک الله ہر شے پر گواہ ہے. (4:33)

مردوں کیلئے اس میں جو ان کے والدین اور اقرباء چھوڑیں ایک حصہ ہے اور عورتوں کیلئے بھی اس میں جو ان کے والدین اور اقرباء چھوڑیں تھوڑا یا زیادہ مقرر کیا ہوا ایک حصہ ہے. (4:7)

اور جب رشتہ دار و یتیم اور مسکین تقسیم کے موقع پر حاضر ہوں تو انکو بھی اس میں سے کچھ دے دو اور ان سے نرمی کے ساتھ کلام کرو. (4:8)

الله تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ ایک لڑکے کیلئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے اور اگر فقط لڑکیاں ہی ہوں دو یا زائد تو ترکے کا دو تہائی (2/3) ان کا ہے اور اگر وہ ایک ہی لڑکی ہو تو اس کیلئے نصف (1/2) ہے اور والدین میں سے ہر ایک کیلئے اگر متوفی کی اولاد ہو تو ترکے کا چھٹا (1/6) حصہ ہے اور اگر متوفی کی کوئی اولاد نہ ہو تو اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کیلئے ترکہ کا ایک تہائی (1/3) حصہ ہے اور اگر متوفی کے بہن بھائی بھی ہوں تو اس کی ماں کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے بعد تعمیل وصیت جو وہ کر گیا ہو یا بعد اداۓ قرض کے تم نہیں جانتے کہ تمہارے آباء یا تمہارے بیٹوں میں سے نفع رسانی میں کون تم سے قریب تر ہے یہ الله کی طرف سے فریضہ ہے بیشک الله جاننے والا صاحب حکمت ہے. (4:11)

اور جو ترکہ تمہاری بے اولاد بیویاں چھوڑیں تمہارے لئے اس کا نصف (1/2) حصہ ہے اور اگر ان کے اولاد ہو تو تمہارے لئے اس ترکہ کا جو وہ چھوڑیں چوتھائی (1/4) حصہ ہے اس وصیت کی تعمیل کے بعد جو وہ کر گئی ہوں یا قرض کی ادائیگی کے بعد اور اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو جو ترکہ تم چھوڑو ان عورتوں کیلئے اس کا چوتھائی (1/4) حصہ ہے اور اگر تمہارے اولاد ہو تو ان عورتوں کا اس ترکہ میں آٹھواں (1/8) حصہ ہے جو تم چھوڑو بعد از تعمیل وصیت جو تم نے کی ہو یا قرض کی ادائیگی کے اور اگر صاحب میراث مرد یا عورت کلالہ ہو اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان دونوں میں سے ہر ایک کیلئے چھٹا (1/6) حصہ ہے اور اگر وہ تعداد میں اس سے زیادہ ہوں تو بعد ایسی کی گئی وصیت کی تعمیل جو کسی کیلئے ضرر رساں نہ ہو یا ادائیگی قرض کے وہ سب ایک تہائی (1/3) میں شریک ہونگے یہ وصیت منجانب الله ہے اور الله جاننے والا بردبار ہے. (4:12)

تجھ سے فتویٰ طلب کرتے ہیں کہہ دے کہ الله تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا آدمی ہلاک ہوجاۓ جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو پس اس کی بہن کیلئے اس کے ترکہ کا نصف (1/2) حصہ ہے. (اگر عورت ہلاک ہوجاۓ) اگر اس عورت کی کوئی اولاد نہ ہو تو اس کا وارث اس کا بھائی ہوگا اور اگر اس کی دو بہنیں ہوں تو ان کیلئے اس کے ترکہ کا دو تہائی (2/3) ہے اور اگر بھائی بہن مرد اور عورتیں ہوں تو مرد کیلئے دوگنا حصہ اس کا جو کہ عورت کیلے ہے الله تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ اور الله ہر شے کا جاننے والا ہے.

INCOME TAX RETURNS FOR TAX YEAR 2019-2020.For Further information Contact: 0300111339303339544478
26/08/2020

INCOME TAX RETURNS FOR TAX YEAR 2019-2020.
For Further information Contact:
03001113393
03339544478

‏فیڈر ل بورڈ آف ریوینیو نے ایف بی آر ایکٹ 2007 کی شق  4 (1) (r) کے تحت آرڈر جاری کیا ہے جس میں فیلڈ دفاتر کے ناموں میں ت...
24/08/2020

‏فیڈر ل بورڈ آف ریوینیو نے ایف بی آر ایکٹ 2007 کی شق 4 (1) (r) کے تحت آرڈر جاری کیا ہے جس میں فیلڈ دفاتر کے ناموں میں ترمیم کی گئی ہے۔ ناموں میں ترمیم کا اطلاق یکم ستمبر 2020 سے ہو گا۔ ‏ترمیمی آرڈ ر کے ذریعے لارج ٹیکس پئیر یونٹ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کا نام تبدیل کر کے لارج ٹیکس پیئر آفس کراچی، لاہور اور اسلام آباد کر دیا گیا ہے۔‏لارج ٹیکس پیئر یونٹ IIکراچی کا نام میڈیم ٹیکس پیئر آفس کراچی کر دیا گیا ہے۔ کارپوریٹ ریجنل ٹیکس آفس کراچی اور لاہور کا نام تبدیل کر کے کارپوریٹ ٹیکس آفس کراچی اور لاہور کر دیا گیا ہے۔‏ریجنل ٹیکس آفس II کراچی کو ریجنل ٹیکس آفس Iکراچی، ریجنل ٹیکس آفس IIIکراچی کو ریجنل ٹیکس آفس IIکراچی اور ریجنل ٹیکس آفس II لاہور کو ریجنل ٹیکس آفس لاہور کر دیا گیا ہے۔

Address

Lahore
54600

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ATTA Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to ATTA Law Associates:

Share