23/09/2026
🎭 عدالتی سنسنی خیز معرکہ: "ضمانت کی منسوخی (Cancellation of Bail) کے سخت ترین ضوابط، ہم پلہ ملزمان (Parity with Co-Accused) کا اصول اور عدالت کا دو ٹوک پیغام! 'دتا گیا آزادی کا حق چھیننا معمولی بات نہیں — جب تک بدنیتی، خلافِ ورزی یا واضح غیر قانونی آرڈر ثابت نہ ہو، محض الزام کی سنگینی ضمانت کی منسوخی کی بنیاد نہیں بن سکتی!' — سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ کا تاریخی فیصلہ!"
⚖️💥
📍 (مقام: سندھ ہائی کورٹ، سکھر بینچ کا دربارِ انصاف۔ آنریبل مسٹر جسٹس امجد علی بوہیو اور آنریبل مسٹر جسٹس خالد حسین شاہانی پر مشتمل دو رکنی بینچ مسندِ انصاف پر جلوہ افروز ہے۔ کرمنل متفرق درخواست برائے منسوخیِ ضمانت (Crl. Misc. Applications Nos. D-23, D-24 & D-25 of 2022) پر 26 ستمبر 2025ء کو حتمی فیصلہ سنایا جا رہا ہے)۔
👥 کاسٹ / اہم کردار:
⚖️ بینچ: آنریبل جسٹس امجد علی بوہیو اور آنریبل جسٹس خالد حسین شاہانی (سندھ ہائی کورٹ، سکھر بینچ)۔
💼 سائل / مدعی (دلیپ کمار): جس کے بیٹی/بیٹے کے قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا، وہ انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) کی طرف سے ملزمان (ایس آئی پی عاشق علی میرانی وغیرہ) کو دی گئی ضمانت کو منسوخ (Cancel) کروانے ہائی کورٹ آیا۔
📜 ریسپانڈنٹس / ملزمان (ایس آئی پی عاشق علی میرانی وغیرہ): جن پر تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات (302(b), 109, 120-B, 147, 148, 149 PPC) اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (Section 7 ATA 1997) کے تحت مقدمہ درج تھا، اور انچارج جج اے ٹی سی نے انہیں ضمانت دی تھی۔
🎬 منظر نامہ:
(مدعی دلیپ کمار کے لختِ جگر کو قتل کیا گیا جس میں پولیس اہلکار سمیت دیگر ملزمان پر سازش، ابھارنے اور قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگا۔ اے ٹی سی کی خصوصی عدالت نے ملزمان کو ضمانت دے دی۔ مدعی نے اے ٹی سی کے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ضمانت منسوخ کروانے کی درخواست دائر کر دی۔ مدعی کا کہنا تھا کہ انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے باوجود ضمانت دینا غیر قانونی ہے۔ سماعت کے وقت کمرہِ عدالت میں جذبات کا طوفان تھا)
⚖️ جج: (فائل کا بغور معائنہ کرتے ہوئے) 📂 "فاضل وکیلِ مدعی! ضمانت کی منظوری (Grant of Bail) اور ضمانت کی منسوخی (Cancellation of Bail) کے قانونی معیارات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ کیا آپ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ملزمان نے ضمانت کی رعایت کا غلط فائدہ اٹھایا یا ٹرائل میں اثر انداز ہوئے؟"
💼 وکیلِ مدعی (دلیپ کمار): 🙇♂️ "عالی جاہ! مدعی کے جوان بیٹے کا سفاکانہ قتل ہوا ہے۔ ملزمان سنگین جرم اور دہشت گردی کے ایکٹ میں ملوث ہیں۔ ایسے ملزمان کی ضمانتیں برقرار رکھنا مدعی کے زخموں پر نمک پاشی ہے!"
⚔️ پہلا معرکہ: "ضمانت کی منسوخی کے لازمی قانونی ضوابط"
⚖️ جج: 🏛️ "فاضل وکیل! عدالت کو مدعی کے غم اور صدمے سے پوری ہمدردی ہے، لیکن قانون کا معیار جذباتی بنیادوں پر تبدیل نہیں ہو سکتا:
📜 منسوخی کے کڑے اصول: سپریم کورٹ آف پاکستان کی معتبر نظائر (2021 SCMR 87 'شریف خان کیس' اور 2021 SCMR 449 'کامران عطا اللہ کیس') کی روشنی میں ضمانت منسوخ کرنے کے لیے مدعی کا یہ ثابت کرنا لازمی ہے کہ:
نچلی عدالت کا ضمانت کا آرڈر صریحاً غیر قانونی (Patently Illegal) یا بلامجاز تھا۔
ملزم نے ضمانت پر رہا ہونے کے بعد اس رعایت کا غلط استعمال (Misuse) کیا ہو یا گواہان کو دھمکایا ہو۔
کیس میں ایسی کوئی نئ سائنسی/ٹھوس شہادت سامنے آئی ہو جو پہلے موجود نہ تھی۔
🛑 ثبوت کا فقدان: اس کیس میں مدعی پراسیکیوشن کے ذریعے ایسا کوئی بھی غیر معمولی عنصر ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔"
⚔️ دوسرا معرکہ: "ہم پلہ ملزمان (Parity with Co-Accused) کا اصول"
📜 وکیلِ ملزمان: ✋ "عالی جاہ! کیس کے مرکزی اور اہم ملزمان کو ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ پہلے ہی ضمانت دے چکی ہیں، اور مدعی نے ان کی ضمانتیں منسوخ کروانے کے لیے کوئی درخواست بھی دائر نہیں کی۔ لہٰذا ہم پلہ ملزمان کے اصول کے تحت ہمارے موکلان بھی اسی راحت کے حقدار ہیں!"
⚖️ جج: 📚 "یہ نکتہ ملزمان کے حق میں انتہائی محکم ہے:
⚖️ ہم پلہ کا اصول: جب کیس کے مرکزی ملزمان پہلے سے ضمانت پر ہوں اور مدعی نے ان کی ضمانت کو چیلنج نہ کیا ہو، تو یکساں سطح پر موجود دیگر ملزمان کی ضمانت منسوخ نہیں کی جا سکتی۔
🔍 پراسیکیوشن کا فرض: پراسیکیوشن کا کام ملزمان کی آزادی بلا جواز سلب کرنے پر زور دینے کے بجائے اپنی تفتیش، سائنسی ثبوتوں اور شہادتوں کو مضبوط بنانا ہے۔
📝 محدود عدالتی مشاہدہ: ضمانت کے فیصلے میں دیے گئے تمام مشاہدات صرف ضمانت کا فیصلہ کرنے کی حد تک محدود ہوتے ہیں اور ان کا اثر ٹرائل کورٹ میں ثبوتوں کے جائزے پر بالکل نہیں پڑے گا۔"
🔨 حتمی ڈرامائی انجام:
(کمرہِ عدالت میں مکمل یکسوئی۔ سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ اپنا حتمی فیصلہ سناتی ہے)
⚖️ جج: 📢 "یہ عدالت قرار دیتی ہے کہ:
❌ اے ٹی سی عدالت کے انچارج جج کا ضمانت منظور کرنے کا فیصلہ عینِ قانون تھا اور اس میں کسی مدا خلت کی گنجائش نہیں ہے۔
✍️ مدعی ملزمان کی جانب سے ضمانت کے غلط استعمال یا کسی صریح غیر قانونی عمل کو ثابت کرنے میں مکمل ناکام رہا ہے۔
🏛️ سائل (دلیپ کمار) کی جانب سے منسوخیِ ضمانت کی تمام متفرق درخواستیں (Crl. Misc. Applications Nos. D-23, D-24 & D-25 of 2022) خارج (Dismissed) کی جاتی ہیں!"
(دستخط ہوتے ہیں ✍️ اور ہتھوڑی کی آواز گونجتی ہے: "Order Order!" 🔨)
🎭 اختتام 📜 قانونی نچوڑ و کلیدی نکات:
📌 قانونی موضوع: Cancellation of Bail under Section 497(5) Cr.P.C, Penal Code Provisions (Ss. 302(b), 109, 120-B, 147, 148, 149 PPC) & Section 7 Anti-Terrorism Act 1997, Parity with Co-Accused, Scope of Observations in Bail Orders.
🏛️ عدالت: سندھ ہائی کورٹ، سکھر بینچ
(Decided on 26th September, 2025)
📖 کلیدی عدالتی نظیر: 2026 M L D 1233 [Sindh (Sukkur Bench)] (Dileep Kumar v. SIP Ashique Ali Meerani and others)
⚖️ عدالتِ عالیہ کے قائم کردہ 3 بنیادی قانونی اصول:
1 - ضمانت کی منسوخی کے کڑے معیارات: کسی ملزم کو دی گئی ضمانت منسوخ کروانے کے لیے صرف الزام کی سنگینی کافی نہیں ہے؛ مدعی کو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ نچلی عدالت کا آرڈر صریحاً غیر قانونی ہے، یا ملزم نے آزاد ہونے کے بعد ضمانت کا غلط استعمال کیا ہے یا گواہوں کو دھمکایا ہے۔
2 - ہم پلہ ملزمان (Parity with Co-Accused): اگر کیس کے مرکزی اور دیگر ہم پلہ ملزمان کو عدالتِ عالیہ یا ٹرائل کورٹ سے پہلے ہی ضمانت مل چکی ہو اور ان کی ضمانت منسوخ نہ کروائی گئی ہو، تو یکساں کردار والے دیگر ملزمان کی ضمانت منسوخ نہیں کی جائے گی۔
3 - ضمانت کے آرڈر کے مشاہدات کی حد: ضمانت کے فیصلے (Grant or Cancellation Order) میں دی گئی تمام آراء و مشاہدات صرف ضمانت کا نپٹارا کرنے کی حد تک عارضی نوعیت کے ہوتے ہیں اور ٹرائل کے دوران مرکزی کیس کے میرٹس یا شہادتوں پر انداز نہیں ہوتے۔