Rana Ishaq Adv

Rana Ishaq Adv Advocates, Advisors & Consultants

25/08/2026

اگر کوئی شخص پیدائش سے 100 فیصد نابینا بھی ہو، تب بھی وہ دیکھ سکے گا۔۔معروف امریکی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے بڑا دعویٰ کردیا، مکمل تفصیل کومنٹ میں

🔹 **ناقابلِ راضی نامہ جرائم میں بھی راضی نامہ کی بنیاد پر ضمانت ممکن ہے** 🔹⚖️ پاکستان میں فوجداری مقدمات میں راضی نامہ (...
23/08/2026

🔹 **ناقابلِ راضی نامہ جرائم میں بھی راضی نامہ کی بنیاد پر ضمانت ممکن ہے** 🔹

⚖️ پاکستان میں فوجداری مقدمات میں راضی نامہ (Compromise) سے متعلق اہم عدالتی اصول

🔹 دفعہ 392 (ڈکیتی) اور دفعہ 411 (چوری شدہ مال کی خریداری) تعزیراتِ پاکستان کے تحت دفعہ 345(1) ضابطہ فوجداری کے جدول میں شامل نہیں، اس لیے یہ ناقابلِ راضی نامہ جرائم تصور ہوتے ہیں۔

🔹 تاہم اگر مدعی خود حلف نامہ کے ذریعے اقرار کرے کہ اس نے ملزم کو اللہ کے نام پر معاف کر دیا ہے اور ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں، تو یہ عدالت کے لیے ضمانت منظور کرنے کی معقول بنیاد بن سکتا ہے۔

🔹 جب فریقِ مدعی خود مقدمہ آگے چلانے کا خواہشمند نہ ہو تو عدالت یا ماتحت عدالتیں فریقین کو زبردستی مقدمہ چلانے پر مجبور نہیں کر سکتیں۔

🔹 اگر اصل جرم قابلِ راضی نامہ ہو اور فریقین، خصوصاً زخمی/متاثرہ فریق، آپس میں صلح کر لیں، تو ضمنی دفعات کو بھی، اگرچہ قانوناً ناقابلِ راضی نامہ ہوں، صلح شدہ ہی تصور کیا جانا چاہیے۔ کسی دفعہ کی ناقابلِ راضی نامہ حیثیت کو تنہا نہیں بلکہ مقدمے کے مجموعی پس منظر میں دیکھ کر فائدہ مند تشریح دی جانی چاہیے۔

🔹 مسلم اور غیر مسلم فریقین کے مابین راضی نامہ پر بھی کوئی قانونی پابندی نہیں — غیر مسلم مقتول کے ورثاء بھی جرم کو معاف کرنے کے مکمل حق دار ہیں۔

📚 حوالہ جات:
PLD 2021 25 — دفعہ 345 Cr.PC، دفعہ 302(b) و 34 PPC
2020 P Cr. L J 278 [سندھ، سکھر بینچ] — منظور علی بمقابلہ ریاست، Criminal Appeal No. S-83/2016 — دفعہ 345 Cr.PC، دفعات 324، 337، 382 و 506(2) PPC

📌 نوٹ: یہ معلومات عمومی قانونی آگاہی کے لیے ہیں۔ ہر مقدمے کے حقائق مختلف ہوتے ہیں، براہِ کرم اپنے کیس سے متعلق مکمل رہنمائی کے لیے کسی وکیل سے رجوع کریں۔

23/08/2026

سولہ سال سے کم عمر ملزم کی heinous offence میں ضمانت کے بارے لاہور ہائیکورٹ کا نہایت معلوماتی فیصلہ۔
لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہیڈنوٹس میں پبلشرز نے ججمنٹ کا یہ حصہ شامل ہی نہیں کیا اسلیےصرف ہیڈنوٹس کی بجائے مکمل ججمنٹ پڑھنی ضروری ہے

True Scope of Section 6(3) of the Juvenile Justice System Act 2018
----------------------
Section 5 of the Juvenile Justice System Act 2018 stipulates the procedure to be followed when a juvenile is arrested. Section 6 of the Act provides for his release on bail during the pendency of the case against him.

Section 6(3) of the Act provides for treating the "minor offences" and "major offences" as bailable.

Section 6(4) provides that where a juvenile is more than sixteen years of age and is arrested or detained for a heinous offence, he may not be released on bail if the Juvenile Court is of the opinion that there are reasonable grounds to believe that such juvenile is involved in the commission of a heinous offence. Even in cases involving heinous offences under section 6(5), the juvenile must be released on bail if he is under detention for a continuous period exceeding six months, his trial is not completed and he is not responsible for the delay. The said period is to be counted from the date of the juvenile's arrest.

Where the age of the juvenile is around 11, and he is accused of heinous offence, the case may not strictly fall under section 6(3) or section 6(4) of the JJSA. Section 6(3) deals with minor and major offences but does not mention the third category, i.e., heinous offences. On the other hand, section 6(4), although dealing with heinous offences, applies to situations where the juvenile is over sixteen years of age. The issue is of great significance. If the case is treated under section 6(3), he can claim bail as a matter of right even after committing a heinous offence, while in the case of section 6(4), although bail can be granted to him, the juvenile cannot claim such bail as a matter of right, as indicated by the use of the words "he may not be released on bail".

While analyzing the statute as aforesaid, the courts should first presume that the "legislature chooses its words carefully. Therefore, if a word or phrase has been added somewhere, such addition is not to be deemed redundant; conversely, if a word or phrase has been left out somewhere, such omission is not be deemed inconsequential. Secondly, Courts should presume that the legislature does not intend "absurd" consequences to flow from the application of its Act. In this context, "absurd" means contrary to sense and reason, "The presumption leads to avoidance by the interpreter of six types of undesirable consequences: (1) an unworkable or impracticable result; (ii) an inconvenient result; (ii) an anomalous or illogical result; (iv) a futile or pointless result; (v) an artificial result; and (vi) a disproportionate counter-mischief. "

Let's now go back to the JJSA. I have already pointed out that the Act classifies offences into three categories based on their severity and the stipulated punishments-though the age of the offender is also a relevant factor in certain instances. The legislature intends to be lenient with the offender in minor and major offences and harsh in heinous offences. Therefore, it treats all minor and major offences as bailable. notwithstanding anything to the contrary contained in the Code of Criminal Procedure or other statute, as the case may be. The legislative intent is that the bail of juveniles accused of heinous offences should be considered on merits.

If the classification of the offences is based on the age of the offender, the JJSA's scheme would be disturbed. It would reduce the offences to two categories: (a) offences, whether minor, major or heinous, committed by an offender up to sixteen years, and (b) the offences of a heinous nature committed by an offender above the said threshold of sixteen years.

In conclusion, the JJSA does not inherently exhibit leniency towards heinous offences. The legislative intent is that the bail decisions for juveniles accused of such offences should be based on the merits of each case. This approach allows the court to consider factors such as the nature of the offence, the juvenile's age, circumstances, and the potential threat to public safety before granting or denying bail. This nuanced treatment underscores a balanced approach promoting rehabilitation for less severe offences while ensuring public safety and accountability for more serious crimes.

Crl. Misc. No. 1629-B of 2024
MUHAMMAD LATIF versus The STATE

23/08/2026
19/08/2026

ایف آئی اے کسی کو آف لوڈ نہیں کر سکتی۔۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم:-
وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایکٹ، 1974 ایف آئی اے کو بعض مخصوص جرائم کی تحقیق (Investigation) کا اختیار دیتا ہے، مگر یہ اختیار اسے بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے شہریوں کی ایمیگریشن کلیئرنس کو دوبارہ جانچنے یا اس پر نظرِ ثانی کرنے کا ریگولیٹری اختیار (Regulatory Jurisdiction) نہیں دیتا۔

حسین جمال و دیگر بنام وفاقِ پاکستان و دیگران
آئینی درخواستیں نمبر 1585 و 1587/2026 اور 5338/2025
اسلام آباد ہائی کورٹ، اسلام آباد
فاضل جج: جناب جسٹس ارباب محمد طاہر
فیصلہ: 06.08.2026

آئینِ پاکستان، 1973—آرٹیکلز 4، 9، 25 اور 33—ایمیگریشن آرڈیننس، 1979—ایمیگریشن رولز، 1979—وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایکٹ، 1974—بیرونِ ملک سفر کا حق—ائیرپورٹس پر مسافروں کو آف لوڈ کرنا—ایف آئی اے امیگریشن حکام کے اختیارات—دائرۂ اختیار—مساواتِ شہری—علاقائی و جغرافیائی بنیادوں پر پروفائلنگ—اختیارات سے تجاوز۔

حقِ سفر—بنیادی حق: بیرونِ ملک سفر کرنا شہری کی آزادی کا حصہ اور آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت بنیادی حق ہے۔ بین الاقوامی سفر محض انتظامی سہولت نہیں بلکہ آزادی، روزگار، تعلیم، کاروبار اور ایک بامقصد زندگی کے حصول سے منسلک ہے۔ لہٰذا اس حق پر پابندی صرف واضح قانونی و آئینی اختیار کے تحت ہی عائد کی جاسکتی ہے۔

ایمیگریشن کلیئرنس—محافظِ تارکینِ وطن کا قانونی دائرۂ اختیار: ایمیگریشن آرڈیننس، 1979 اور اس کے تحت بنائے گئے ایمیگریشن رولز، 1979 نے بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے شہریوں کی تصدیق، جانچ، پروسیسنگ اور کلیئرنس کا مکمل قانونی نظام وضع کیا ہے۔ قانون نے اس مقصد کے لیے Protector of Emigrants کو مخصوص اتھارٹی مقرر کیا ہے۔ مذکورہ اتھارٹی شہری کے روزگار، ملازمت کے معاہدے، اہلیت، دستاویزات اور دیگر متعلقہ امور کی جانچ کے بعد رجسٹریشن اور کلیئرنس جاری کرتی ہے۔

ایف آئی اے کا اختیار—تحقیق، ریگولیشن نہیں: وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایکٹ، 1974 ایف آئی اے کو بعض مخصوص جرائم کی تحقیق (Investigation) کا اختیار دیتا ہے، مگر یہ اختیار اسے بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے شہریوں کی ایمیگریشن کلیئرنس کو دوبارہ جانچنے یا اس پر نظرِ ثانی کرنے کا ریگولیٹری اختیار (Regulatory Jurisdiction) نہیں دیتا۔ تحقیقِ جرم اور کسی قانونی سرگرمی کی ریگولیشن دو مختلف تصورات ہیں۔ ایمیگریشن کی ریگولیشن کا اختیار Protector of Emigrants کو دیا گیا ہے، جبکہ ایف آئی اے کا متعلقہ اختیار مخصوص جرائم کی تفتیش تک محدود ہے۔

قانونی اختیار کے بغیر انتظامی کارروائی—اختیار سے تجاوز: ہر سرکاری ادارہ قانون کی پیداوار ہے اور صرف وہی اختیار استعمال کرسکتا ہے جو قانون نے اسے صراحتاً یا لازمی طور پر تفویض کیا ہو۔ شہری کے حقوق کو متاثر کرنے والی ہر کارروائی کا کوئی نہ کوئی واضح قانونی ماخذ ہونا ضروری ہے۔ اگر قانونی اختیار موجود نہ ہو تو کارروائی اختیار سے تجاوز (ultra vires) اور بلاجواز قانونی اختیار تصور ہوگی، خواہ اسے کتنی ہی نیک نیتی سے کیوں نہ کیا گیا ہو۔

ایف آئی اے امیگریشن اسٹاف کو اپیل یا نظرِ ثانی کا اختیار حاصل نہیں: اگر Protector of Emigrants نے قانون کے مطابق کسی شہری کے کاغذات، ملازمت، ویزا اور دیگر متعلقہ امور کی جانچ کرکے اسے ایمیگریشن کلیئرنس اور رجسٹریشن دے دی ہو تو ایف آئی اے امیگریشن اسٹاف محض ائیرپورٹ پر موجود ہونے کی بنیاد پر اسی معاملے کو دوبارہ نہیں کھول سکتا۔ نہ ہی وہ Protector of Emigrants کے فیصلے کے خلاف اپیل یا ریویو اتھارٹی کے طور پر کام کرسکتا ہے، کیونکہ قانون میں ایسا کوئی اختیار فراہم نہیں کیا گیا۔

قانونی نظام کو بے معنی بنانے سے گریز: اگر ایف آئی اے کو Protector of Emigrants کی جانب سے پہلے ہی کی گئی جانچ کے بعد دوبارہ وہی معاملات جانچنے اور مختلف نتیجہ اخذ کرنے کا اختیار تسلیم کرلیا جائے تو اس سے Protector of Emigrants کے پورے قانونی نظام کی حیثیت بے معنی ہوجائے گی اور قانون کے تحت مقرر کردہ رجسٹریشن کا عمل محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جائے گا۔ قانون کی ایسی تشریح سے گریز کیا جانا چاہیے جو کسی قانونی شق یا قانونی طریقۂ کار کو بے اثر یا غیر مؤثر بنا دے۔

پیشگی یا قیاسی شبہ—بنیادی حقوق محدود نہیں کیے جاسکتے: محض اس بنیاد پر کہ ماضی میں کسی مخصوص طبقے یا اسی نوعیت کے افراد نے بیرونِ ملک جا کر قانون کی خلاف ورزی کی، کسی موجودہ شہری کے بنیادی حقوق محدود نہیں کیے جاسکتے۔ قانون کسی حقیقی خلاف ورزی پر کارروائی کی اجازت دیتا ہے، مگر محض قیاسی شبہ (predictive suspicion) کی بنیاد پر کسی شہری کو سفر سے روکنے کا اختیار نہیں دیتا۔

علاقائی یا جغرافیائی بنیادوں پر پروفائلنگ—آئین کے منافی: پاکستان میں آئینی طور پر صرف ایک قسم کی شہریت ہے، یعنی پاکستانی شہریت۔ صوبہ، ضلع، علاقہ، نسل، قبیلہ یا رہائش شہریوں کی الگ الگ آئینی کلاسز تشکیل نہیں دیتے۔ ہر شہری مساوی عزت، احترام اور قانونی تحفظ کا مستحق ہے۔ کسی شہری کے ساتھ محض اس کے ضلع، صوبے یا جغرافیائی تعلق کی بنیاد پر مختلف یا منفی سلوک آئین کے آرٹیکلز 4 اور 25 کی مساوات کی ضمانت اور آرٹیکل 33 میں موجود علاقائی، نسلی، قبائلی، فرقہ وارانہ اور صوبائی تعصبات کی حوصلہ شکنی کے اصول سے متصادم ہوگا۔

ہر شہری کو اس کے اپنے کردار کی بنیاد پر جانچا جائے: ریاستی ادارے کسی شہری کا جائزہ اس کے اپنے طرزِ عمل، اس کے مخصوص حقائق اور اس کے ذاتی دستاویزات کی بنیاد پر لے سکتے ہیں، لیکن اسے اس کے ضلع، علاقے یا رہائش سے منسوب عمومی تصورات اور دقیانوسی مفروضوں کی بنیاد پر مشتبہ قرار نہیں دے سکتے۔ مساوی شہریت محض آئینی خواہش نہیں بلکہ ایک قابلِ نفاذ آئینی ضمانت ہے۔

آف لوڈنگ—واضح قانونی بنیاد لازم: اگر کسی شہری کے پاس درست پاسپورٹ، درست ویزا اور Protector of Emigrants کی جانب سے قانون کے مطابق ایمیگریشن کلیئرنس اور رجسٹریشن موجود ہو تو اسے سفر سے روکنے یا آف لوڈ کرنے کے لیے کسی مخصوص قانونی شق کا حوالہ دینا لازم ہے۔ ایسی قانونی بنیاد کی عدم موجودگی میں آف لوڈنگ بلا قانونی اختیار اور دائرۂ اختیار سے باہر کارروائی ہوگی۔

موجودہ مقدمات میں نتیجہ: درخواست گزاروں کے پاس درست پاسپورٹ، غیر ملکی روزگار کے ویزے اور Protector of Emigrants کی جانب سے جاری کردہ رجسٹریشن/ایمیگریشن کلیئرنس موجود تھی۔ ان کے روزگار کے معاہدوں، اسناد اور دیگر متعلقہ امور کی پہلے ہی مجاز قانونی اتھارٹی جانچ کرچکی تھی۔ وفاقی حکومت یا ایف آئی اے عدالت کے سامنے کوئی ایسی قانونی شق پیش نہ کرسکی جو ایف آئی اے امیگریشن حکام کو Protector of Emigrants کے فیصلے کو دوبارہ جانچنے یا اس پر نظرِ ثانی کا اختیار دیتی ہو۔ چنانچہ درخواست گزاروں کو انہی امور کی بنیاد پر آف لوڈ کرنا، جنہیں مجاز اتھارٹی پہلے ہی جانچ اور منظور کرچکی تھی، بلا قانونی اختیار قرار پایا۔

انسانی اسمگلنگ اور دیگر جرائم—قانون سازی کا حل: عدالت نے انسانی اسمگلنگ، غیر قانونی ہجرت، منظم بھیک مانگنے اور بیرونِ ملک روزگار کے ذرائع کے غلط استعمال جیسے مسائل کی سنگینی کو تسلیم کیا، تاہم قرار دیا کہ اگر موجودہ قانونی نظام ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہے تو اس کا حل قانون سازی اور قانونی اصلاحات ہیں، نہ کہ ایف آئی اے کی جانب سے ائیرپورٹس پر ایک متوازی اور غیر قانونی اسکریننگ نظام قائم کرنا۔

اداروں کا احتساب—آف لوڈ ہونے والا ہر شخص سوال اٹھاتا ہے: عدالت نے اہم طور پر نشاندہی کی کہ ہر آف لوڈ کیا جانے والا تارکِ وطن درحقیقت Protector of Emigrants کے نظامِ کلیئرنس کی ناکامی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ اس کے باوجود ریکارڈ پر ایسا کچھ موجود نہیں تھا کہ متعلقہ Protector of Emigrants یا Overseas Employment Promoter کے خلاف کوئی انکوائری، محکمانہ کارروائی یا اصلاحی اقدام کیا گیا ہو۔ صرف مسافروں کو نشانہ بنانا جبکہ ان سرکاری و متعلقہ اہلکاروں کا احتساب نہ کرنا جنہوں نے کلیئرنس دی، موجودہ آف لوڈنگ پریکٹس کی قانونی حیثیت، انصاف اور افادیت پر سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔

حتمی فیصلہ: آئینی درخواستیں نمبر 1585 اور 1587/2026 منظور کی گئیں اور ان درخواست گزاروں کی آف لوڈنگ کو بلا قانونی اختیار اور دائرۂ اختیار قرار دیا گیا۔ آئینی درخواست نمبر 5338/2025 نمٹا دی گئی، جبکہ فیصلے کے متعلقہ پیراگرافس میں دی گئی آئینی و قانونی آبزرویشنز برقرار رہیں۔ عدالت نے فیصلے کی نقول سیکریٹری وزارتِ داخلہ، سیکریٹری وزارتِ اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو تعمیل اور ضرورت پڑنے پر قانونی اصلاحات کے لیے بھجوانے کی ہدایت بھی کی۔

قانونی اصول / Ratio Decidendi:
اگر کوئی پاکستانی شہری درست پاسپورٹ، درست ویزا اور ایمیگریشن آرڈیننس، 1979 اور ایمیگریشن رولز، 1979 کے تحت Protector of Emigrants سے باقاعدہ ایمیگریشن کلیئرنس اور رجسٹریشن حاصل کرچکا ہو تو ایف آئی اے امیگریشن حکام کو قانون میں واضح اختیار کے بغیر اس کلیئرنس کو دوبارہ جانچنے، اس پر اپیل یا ریویو کی حیثیت سے بیٹھنے یا شہری کو آف لوڈ کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ ایسی کارروائی، اگر کسی مخصوص قانونی اختیار کے بغیر کی جائے، تو شہری کے حقِ سفر اور آئینی ضمانتوں سے متصادم ہونے کے ساتھ ساتھ بلا قانونی اختیار اور دائرۂ اختیار سے تجاوز کے مترادف ہوگی
Rana Ishaq

04/08/2026

🚨 لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ — سیشن جج کو
سیکشن 22-A، 22-B ضابطہ فوجداری کی درخواستیں ایک Ex-Officio Justice of the Peace سے دوسرے کے پاس منتقل کرنے کا اختیار حاصل نہیں، اہم قانونی اصول طے
لاہور ہائی کورٹ کے معزز جج جسٹس فاروق حیدر نے 20 جولائی 2026 کو Writ Petition No. 41376 of 2026 (Faisal Manzoor v. Sessions Judge, etc.) میں ایک نہایت اہم فیصلہ صادر کیا، جسے Approved for Reporting بھی قرار دیا گیا۔ اس فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ سیشن جج کو سیکشن 22-A، 22-B ضابطہ فوجداری کی درخواستیں ایک Ex-Officio Justice of the Peace سے دوسرے Ex-Officio Justice of the Peace کے پاس منتقل کرنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں۔
📌 کیس کا پس منظر
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب سیشن جج اوکاڑہ نے سیکشن 22-A، 22-B Cr.P.C. کی زیرِ سماعت درخواستیں ایک Ex-Officio Justice of the Peace سے واپس لے کر دوسرے Ex-Officio Justice of the Peace کو منتقل کر دیں۔ اسی حکم کے ذریعے پری اریسٹ بیل کی درخواستیں بھی دوسری عدالت منتقل کی گئیں، جسے فیصل منظور ایڈووکیٹ نے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔
⚖️ لاہور ہائی کورٹ نے کیا قرار دیا؟
عدالت نے واضح کیا کہ سیشن جج کا یہ حکم جزوی طور پر غیر قانونی تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ سیکشن 526 اور 528 ضابطہ فوجداری صرف "عدالت (Court)" سے دوسری عدالت (Court) میں مقدمات یا کارروائی منتقل کرنے کا اختیار دیتے ہیں۔
اس مقصد کے لیے عدالت نے دفعہ 19 اور 20 پاکستان پینل کوڈ اور دفعہ 6 ضابطہ فوجداری کا جائزہ لیا اور قرار دیا کہ Ex-Officio Justice of the Peace قانون کی نظر میں "Court" نہیں ہے بلکہ ایک Quasi-Judicial Authority ہے۔ لہٰذا اس کے سامنے زیرِ سماعت 22-A، 22-B کی درخواستیں دفعہ 526 یا 528 Cr.P.C. کے تحت ایک Ex-Officio Justice of the Peace سے دوسرے کے پاس منتقل نہیں کی جا سکتیں۔
❗ کیا سیشن جج بطور District Judge یہ اختیار استعمال کر سکتا ہے؟
عدالت کا جواب: نہیں۔
ہائی کورٹ نے مزید قرار دیا کہ دفعہ 25 Cr.P.C. اگرچہ سیشن جج اور اس کے نامزد ایڈیشنل سیشن جج کو Ex-Officio Justice of the Peace بناتی ہے، لیکن اس دفعہ میں کہیں بھی یہ اختیار موجود نہیں کہ سیشن جج ایک Ex-Officio Justice of the Peace سے 22-A، 22-B کی درخواست واپس لے کر دوسرے Ex-Officio Justice of the Peace کے سپرد کر دے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ انتظامی (Administrative) طور پر بھی سیشن جج ایسا نہیں کر سکتا۔ یعنی ایک مرتبہ جب 22-A، 22-B کی درخواست کسی Ex-Officio Justice of the Peace کو سونپ دی جائے تو سیشن جج اسے واپس لے کر کسی دوسرے Ex-Officio Justice of the Peace کو منتقل نہیں کر سکتا۔
📌 اگر جانبداری یا ناانصافی کا خدشہ ہو تو کیا ہوگا؟
عدالت نے ایک نہایت اہم اصول طے کیا کہ اگر کسی فریق کو یہ خدشہ ہو کہ Ex-Officio Justice of the Peace غیر جانبدار نہیں یا انصاف نہیں کرے گا، تو اس صورت میں سیشن جج کے پاس منتقلی کی درخواست دینے کا کوئی قانونی اختیار موجود نہیں۔
ایسی صورت میں متعلقہ فریق کو آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ سے رجوع کرنا ہوگا کیونکہ قانونی حق کے تحفظ اور مناسب علاج (Remedy) کا اختیار ہائی کورٹ کو حاصل ہے۔
⚖️ پری اریسٹ بیل کے بارے میں فیصلہ
البتہ عدالت نے قرار دیا کہ پری اریسٹ بیل کی درخواستیں چونکہ عدالت میں زیرِ سماعت ہوتی ہیں، اس لیے دفعہ 528 Cr.P.C. کے تحت سیشن جج ان کی منتقلی کا اختیار رکھتا ہے۔ موجودہ مقدمے میں فریقین کے درمیان شدید تنازع، دھمکیوں اور متعدد FIRs کی موجودگی کے باعث پری اریسٹ بیل کی درخواستوں کی منتقلی کو درست اور قانونی قرار دیا گیا۔
📚 عدالت کے طے کردہ اہم اصول
Ex-Officio Justice of the Peace Court نہیں ہے۔
سیکشن 526 اور 528 Cr.P.C. صرف Court سے Court منتقلی پر لاگو ہوتی ہیں۔
سیشن جج 22-A، 22-B کی درخواستیں ایک Ex-Officio Justice of the Peace سے دوسرے کے پاس منتقل نہیں کر سکتا۔
سیشن جج کو دفعہ 25 Cr.P.C. کے تحت بھی ایسا انتظامی اختیار حاصل نہیں۔
اگر جانبداری یا ناانصافی کا خدشہ ہو تو مناسب قانونی فورم ہائی کورٹ (آرٹیکل 199 آئین) ہے۔
البتہ پری اریسٹ بیل کی درخواستوں کی منتقلی سیشن جج دفعہ 528 Cr.P.C. کے تحت کر سکتا ہے۔
✅ آخری حکم
لاہور ہائی کورٹ نے سیشن جج کے اس حکم کو جزوی طور پر کالعدم قرار دیا اور فیصلہ دیا کہ 22-A، 22-B کی درخواستوں کی منتقلی غیر قانونی تھی، جبکہ پری اریسٹ بیل کی درخواستوں کی منتقلی کو برقرار رکھا گیا۔ یوں رٹ پٹیشن جزوی طور پر منظور اور جزوی طور پر خارج کر دی گئی۔
Rana Ishaq Advocate

Address

Rana Ishaq & Company Pvt. Ltd. Model Town
Lahore
54700

Telephone

+923215390004

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rana Ishaq Adv posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Rana Ishaq Adv:

Shortcuts

Share