Rana Ishaq Adv

Call Directions Contact the business

Rana Ishaq Adv Advocates, Advisors & Consultants

27/09/2026
پنجاب میں پراپرٹی رجسٹری کے نظام میں اہم تبدیلی!پنجاب حکومت کی جانب سے PLRA–FBR سیل رجسٹری کا مربوط نظام متعارف کرایا جا...
27/09/2026

پنجاب میں پراپرٹی رجسٹری کے نظام میں اہم تبدیلی!

پنجاب حکومت کی جانب سے PLRA–FBR سیل رجسٹری کا مربوط نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔

📌 25 اگست کے بعد رجسٹریشن کے خواہشمند افراد کے لیے ایف بی آر کا ای-چالان اور رجسٹریشن پورٹل استعمال کرنا لازم ہوگا۔ پہلے ایف بی آر پورٹل سے جاری شدہ اور ادا شدہ چالان قابلِ قبول ہوں گے۔

📅 26 اگست 2026 سے پنجاب بھر میں قواعد کا نفاذ

🔹 مرحلہ 1: ای-اسٹامپ چالان
🔹 مرحلہ 2: چالان کی تصدیق
🔹 مرحلہ 3: رجسٹری کی تفصیلات
🔹 مرحلہ 4: ایف بی آر ای-پورٹل
🔹 مرحلہ 5: خرید و فروخت کی تفصیل
🔹 مرحلہ 6: ایف بی آر سے ادائیگی/ٹیکس سے متعلق کارروائی
🔹 مرحلہ 7: آخری مرحلے میں چالان کی جانچ اور رجسٹری کا عمل

⚠️ اہم: پراپرٹی کی رجسٹری کروانے سے پہلے متعلقہ PLRA اور FBR پورٹلز پر مطلوبہ معلومات اور ٹیکس/چالان کی صورتحال ضرور چیک کریں۔

📌 نوٹ: حتمی کارروائی متعلقہ سرکاری قواعد و ضوابط کے مطابق ہوگی۔

 #آن  #لائن جرائم سے آگاہ رہیں! آج کے ڈیجیٹل دور میں Hacking (بغیر اجازت اکاؤنٹ یا سسٹم تک رسائی)، WhatsApp Group Chats ...
25/09/2026

#آن #لائن جرائم سے آگاہ رہیں!

آج کے ڈیجیٹل دور میں Hacking (بغیر اجازت اکاؤنٹ یا سسٹم تک رسائی)، WhatsApp Group Chats & Messages (واٹس ایپ گروپس اور پیغامات کے ذریعے ہراسانی یا غیر قانونی سرگرمیاں)، Cyber Harassment & Cyberstalking (آن لائن ہراسانی اور تعاقب)، Blackmailing & Sextortion (بلیک میلنگ اور نجی مواد کے ذریعے دباؤ)، Sexual Harassment & Sexual Exploitation (جنسی ہراسانی اور جنسی استحصال)، Commercial Sexual Exploitation (تجارتی جنسی استحصال)، Violation of Dignity & Modesty (عزت، وقار اور حیا کی خلاف ورزی)، Misuse of Pictures & Videos (تصاویر اور ویڈیوز کا غیر قانونی استعمال)، Fake/Edited Content & Deepfakes (جعلی یا تبدیل شدہ تصاویر، ویڈیوز اور آڈیو)، Fake Social Media Accounts & Impersonation (جعلی اکاؤنٹس اور کسی کی شناخت کا غلط استعمال)، Online Defamation (آن لائن بدنامی)، Fake News / False Information (جھوٹی یا گمراہ کن معلومات)، Phishing & Spoofing (جعلی لنکس، پیغامات یا شناخت کے ذریعے معلومات حاصل کرنا)، Identity Theft & Data Theft (شناخت اور ڈیجیٹل معلومات کی چوری)، Online Fraud & Financial Fraud (آن لائن اور مالی فراڈ)، Privacy Violation (نجی معلومات یا مواد کا غیر قانونی استعمال)، Honey Trap (آن لائن تعلق یا لالچ کے ذریعے پھانسنا)، Illegal SIM / Digital Identity Misuse (سم یا ڈیجیٹل شناخت کا غیر قانونی استعمال)، Online Threats (آن لائن دھمکیاں) اور Child Online Abuse / Exploitation (بچوں کا آن لائن استحصال یا بدسلوکی) شامل ہو سکتے ہیں۔

"اپنی ذاتی معلومات، پاس ورڈز، تصاویر اور ویڈیوز کسی غیر معتبر شخص کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ مشکوک لنکس پر کلک کرنے سے گریز کریں اور کسی بھی آن لائن جرم کا سامنا ہونے کی صورت میں ثبوت محفوظ رکھیں اور متعلقہ قانونی فورم سے رجوع کریں."

23/09/2026

🎭 عدالتی سنسنی خیز معرکہ: "ضمانت کی منسوخی (Cancellation of Bail) کے سخت ترین ضوابط، ہم پلہ ملزمان (Parity with Co-Accused) کا اصول اور عدالت کا دو ٹوک پیغام! 'دتا گیا آزادی کا حق چھیننا معمولی بات نہیں — جب تک بدنیتی، خلافِ ورزی یا واضح غیر قانونی آرڈر ثابت نہ ہو، محض الزام کی سنگینی ضمانت کی منسوخی کی بنیاد نہیں بن سکتی!' — سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ کا تاریخی فیصلہ!"
⚖️💥
​📍 (مقام: سندھ ہائی کورٹ، سکھر بینچ کا دربارِ انصاف۔ آنریبل مسٹر جسٹس امجد علی بوہیو اور آنریبل مسٹر جسٹس خالد حسین شاہانی پر مشتمل دو رکنی بینچ مسندِ انصاف پر جلوہ افروز ہے۔ کرمنل متفرق درخواست برائے منسوخیِ ضمانت (Crl. Misc. Applications Nos. D-23, D-24 & D-25 of 2022) پر 26 ستمبر 2025ء کو حتمی فیصلہ سنایا جا رہا ہے)۔

​👥 کاسٹ / اہم کردار:
​⚖️ بینچ: آنریبل جسٹس امجد علی بوہیو اور آنریبل جسٹس خالد حسین شاہانی (سندھ ہائی کورٹ، سکھر بینچ)۔

​💼 سائل / مدعی (دلیپ کمار): جس کے بیٹی/بیٹے کے قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا، وہ انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) کی طرف سے ملزمان (ایس آئی پی عاشق علی میرانی وغیرہ) کو دی گئی ضمانت کو منسوخ (Cancel) کروانے ہائی کورٹ آیا۔
​📜 ریسپانڈنٹس / ملزمان (ایس آئی پی عاشق علی میرانی وغیرہ): جن پر تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات (302(b), 109, 120-B, 147, 148, 149 PPC) اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (Section 7 ATA 1997) کے تحت مقدمہ درج تھا، اور انچارج جج اے ٹی سی نے انہیں ضمانت دی تھی۔

​🎬 منظر نامہ:
​(مدعی دلیپ کمار کے لختِ جگر کو قتل کیا گیا جس میں پولیس اہلکار سمیت دیگر ملزمان پر سازش، ابھارنے اور قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگا۔ اے ٹی سی کی خصوصی عدالت نے ملزمان کو ضمانت دے دی۔ مدعی نے اے ٹی سی کے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ضمانت منسوخ کروانے کی درخواست دائر کر دی۔ مدعی کا کہنا تھا کہ انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے باوجود ضمانت دینا غیر قانونی ہے۔ سماعت کے وقت کمرہِ عدالت میں جذبات کا طوفان تھا)
​⚖️ جج: (فائل کا بغور معائنہ کرتے ہوئے) 📂 "فاضل وکیلِ مدعی! ضمانت کی منظوری (Grant of Bail) اور ضمانت کی منسوخی (Cancellation of Bail) کے قانونی معیارات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ کیا آپ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ملزمان نے ضمانت کی رعایت کا غلط فائدہ اٹھایا یا ٹرائل میں اثر انداز ہوئے؟"
​💼 وکیلِ مدعی (دلیپ کمار): 🙇‍♂️ "عالی جاہ! مدعی کے جوان بیٹے کا سفاکانہ قتل ہوا ہے۔ ملزمان سنگین جرم اور دہشت گردی کے ایکٹ میں ملوث ہیں۔ ایسے ملزمان کی ضمانتیں برقرار رکھنا مدعی کے زخموں پر نمک پاشی ہے!"

​⚔️ پہلا معرکہ: "ضمانت کی منسوخی کے لازمی قانونی ضوابط"
​⚖️ جج: 🏛️ "فاضل وکیل! عدالت کو مدعی کے غم اور صدمے سے پوری ہمدردی ہے، لیکن قانون کا معیار جذباتی بنیادوں پر تبدیل نہیں ہو سکتا:
​📜 منسوخی کے کڑے اصول: سپریم کورٹ آف پاکستان کی معتبر نظائر (2021 SCMR 87 'شریف خان کیس' اور 2021 SCMR 449 'کامران عطا اللہ کیس') کی روشنی میں ضمانت منسوخ کرنے کے لیے مدعی کا یہ ثابت کرنا لازمی ہے کہ:
​نچلی عدالت کا ضمانت کا آرڈر صریحاً غیر قانونی (Patently Illegal) یا بلامجاز تھا۔
​ملزم نے ضمانت پر رہا ہونے کے بعد اس رعایت کا غلط استعمال (Misuse) کیا ہو یا گواہان کو دھمکایا ہو۔
​کیس میں ایسی کوئی نئ سائنسی/ٹھوس شہادت سامنے آئی ہو جو پہلے موجود نہ تھی۔
​🛑 ثبوت کا فقدان: اس کیس میں مدعی پراسیکیوشن کے ذریعے ایسا کوئی بھی غیر معمولی عنصر ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔"

​⚔️ دوسرا معرکہ: "ہم پلہ ملزمان (Parity with Co-Accused) کا اصول"
​📜 وکیلِ ملزمان: ✋ "عالی جاہ! کیس کے مرکزی اور اہم ملزمان کو ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ پہلے ہی ضمانت دے چکی ہیں، اور مدعی نے ان کی ضمانتیں منسوخ کروانے کے لیے کوئی درخواست بھی دائر نہیں کی۔ لہٰذا ہم پلہ ملزمان کے اصول کے تحت ہمارے موکلان بھی اسی راحت کے حقدار ہیں!"
​⚖️ جج: 📚 "یہ نکتہ ملزمان کے حق میں انتہائی محکم ہے:
​⚖️ ہم پلہ کا اصول: جب کیس کے مرکزی ملزمان پہلے سے ضمانت پر ہوں اور مدعی نے ان کی ضمانت کو چیلنج نہ کیا ہو، تو یکساں سطح پر موجود دیگر ملزمان کی ضمانت منسوخ نہیں کی جا سکتی۔
​🔍 پراسیکیوشن کا فرض: پراسیکیوشن کا کام ملزمان کی آزادی بلا جواز سلب کرنے پر زور دینے کے بجائے اپنی تفتیش، سائنسی ثبوتوں اور شہادتوں کو مضبوط بنانا ہے۔
​📝 محدود عدالتی مشاہدہ: ضمانت کے فیصلے میں دیے گئے تمام مشاہدات صرف ضمانت کا فیصلہ کرنے کی حد تک محدود ہوتے ہیں اور ان کا اثر ٹرائل کورٹ میں ثبوتوں کے جائزے پر بالکل نہیں پڑے گا۔"

​🔨 حتمی ڈرامائی انجام:
​(کمرہِ عدالت میں مکمل یکسوئی۔ سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ اپنا حتمی فیصلہ سناتی ہے)
​⚖️ جج: 📢 "یہ عدالت قرار دیتی ہے کہ:
​❌ اے ٹی سی عدالت کے انچارج جج کا ضمانت منظور کرنے کا فیصلہ عینِ قانون تھا اور اس میں کسی مدا خلت کی گنجائش نہیں ہے۔
​✍️ مدعی ملزمان کی جانب سے ضمانت کے غلط استعمال یا کسی صریح غیر قانونی عمل کو ثابت کرنے میں مکمل ناکام رہا ہے۔
​🏛️ سائل (دلیپ کمار) کی جانب سے منسوخیِ ضمانت کی تمام متفرق درخواستیں (Crl. Misc. Applications Nos. D-23, D-24 & D-25 of 2022) خارج (Dismissed) کی جاتی ہیں!"
​(دستخط ہوتے ہیں ✍️ اور ہتھوڑی کی آواز گونجتی ہے: "Order Order!" 🔨)

​🎭 اختتام 📜 قانونی نچوڑ و کلیدی نکات:
​📌 قانونی موضوع: Cancellation of Bail under Section 497(5) Cr.P.C, Penal Code Provisions (Ss. 302(b), 109, 120-B, 147, 148, 149 PPC) & Section 7 Anti-Terrorism Act 1997, Parity with Co-Accused, Scope of Observations in Bail Orders.

🏛️ عدالت: سندھ ہائی کورٹ، سکھر بینچ
(Decided on 26th September, 2025)
📖 کلیدی عدالتی نظیر: 2026 M L D 1233 [Sindh (Sukkur Bench)] (Dileep Kumar v. SIP Ashique Ali Meerani and others)

⚖️ عدالتِ عالیہ کے قائم کردہ 3 بنیادی قانونی اصول:

1 - ​ضمانت کی منسوخی کے کڑے معیارات: کسی ملزم کو دی گئی ضمانت منسوخ کروانے کے لیے صرف الزام کی سنگینی کافی نہیں ہے؛ مدعی کو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ نچلی عدالت کا آرڈر صریحاً غیر قانونی ہے، یا ملزم نے آزاد ہونے کے بعد ضمانت کا غلط استعمال کیا ہے یا گواہوں کو دھمکایا ہے۔

2 - ​ہم پلہ ملزمان (Parity with Co-Accused): اگر کیس کے مرکزی اور دیگر ہم پلہ ملزمان کو عدالتِ عالیہ یا ٹرائل کورٹ سے پہلے ہی ضمانت مل چکی ہو اور ان کی ضمانت منسوخ نہ کروائی گئی ہو، تو یکساں کردار والے دیگر ملزمان کی ضمانت منسوخ نہیں کی جائے گی۔

3 - ​ضمانت کے آرڈر کے مشاہدات کی حد: ضمانت کے فیصلے (Grant or Cancellation Order) میں دی گئی تمام آراء و مشاہدات صرف ضمانت کا نپٹارا کرنے کی حد تک عارضی نوعیت کے ہوتے ہیں اور ٹرائل کے دوران مرکزی کیس کے میرٹس یا شہادتوں پر انداز نہیں ہوتے۔

​

اب ہر سیشن اور مجسٹریٹ کورٹ ایف آئی آر کی تاخیر پر پولیس کے کردار کا تعین کرے گی اور رپورٹ آئی جی کو بھیجے گی۔قابلِ دست ...
22/09/2026

اب ہر سیشن اور مجسٹریٹ کورٹ ایف آئی آر کی تاخیر پر پولیس کے کردار کا تعین کرے گی اور رپورٹ آئی جی کو بھیجے گی۔
قابلِ دست اندازی جرم کی اطلاع ملنے کے باوجود ایف آئی آر درج نہ کرنا یا تاخیر کرنا جس سے ثبوت ضائع ہوں، محض طریقہ کار کی غلطی نہیں بلکہ جرم کے ثبوت مٹانے (Section 201 PPC) کے زمرے میں آتا ہے۔

یہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک اہم فیصلہ (Judgment) ہے، جسے جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا ہے اور جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ بھی اس بنچ کا حصہ تھے۔

1. کیس کا پس منظر اور فیصلہ
* سزا کی توثیق: سپریم کورٹ نے ملزم علی رضا سیال کی درخواستِ اپیل مسترد کر دی ہے۔ ملزم کی عمر قید اور 1,000,000 روپے ہرجانے کی سزا (جو اسے قتل کے جرم میں دی گئی تھی) کو برقرار رکھا گیا ہے۔
* واقعہ: یہ واقعہ 30 اپریل 2012 کو دادو (سیتا روڈ) میں پیش آیا تھا، جہاں ملزم نے اپنے والد کی شہ پر عاشقان علی (مقتول) کو خنجر مار کر قتل کر دیا تھا۔
* عدالتی موازنہ: عدالت نے قرار دیا کہ مقتول کے بیٹے (مستغیث) اور بھتیجے کی گواہی بالکل سچی، اعتماد کے قابل اور میڈیکل رپورٹ (ڈاکٹر کی رپورٹ) سے مکمل مطابقت رکھتی ہے۔ آلۂ قتل (خنجر) بھی ملزم کی نشاندہی پر برآمد ہوا تھا۔ گواہوں کی آپسی رشتہ داری یا وقت گزرنے کے باعث معمولی تضادات سے مرکزی کیس پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
2. ایف آئی آر (FIR) میں تاخیر اور پولس کی غفلت
* پولیس کا رخ: واقعہ 30 اپریل 2012 کی رات 8:30 بجے ہوا، اور پولیس کو 8:40 بجے ہی اطلاع مل گئی تھی (روزنامچے اور لاش جانچ فارم کے مطابق پولیس 9:00 بجے موقع پر موجود تھی)۔ اس کے باوجود ایف آئی آر 3 دن بعد (3 مئی 2012) درج کی گئی۔
* شہری کا دفاع: عدالت نے واضح کیا کہ ایف آئی آر میں یہ تاخیر مدعی/مستغیث کی طرف سے نہیں بلکہ پولیس کی غفلت کی وجہ سے ہوئی۔ لہٰذا، پولیس کی سستی یا ناہلی کی سزا شاکی (فریادی) کو نہیں دی جا سکتی۔
3. پولیس اصلاحات اور عدالتی ہدایات
عدالت نے سندھ اور دیگر صوبوں کی پولیس کے رویے اور نظام پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے درج ذیل اہم احکامات جاری کیے:
* نوآبادیاتی (Colonial) الفاظ کا خاتمہ:
* پولیس کے کاغذات میں "فریادی" یا "بخدمت جناب ایس ایچ او" جیسے الفاظ کے استعمال کو سختی سے منع کر دیا گیا۔
* عدالت نے کہا کہ شہری اپنے حق کے لیے پولیس کے پاس آتے ہیں، رحم کی بھیک یا التجا (Cry/Lamentation) کے لیے نہیں۔ ایس ایچ او عوام کا خادم ہے، مالک نہیں۔
* پولیس افسران کے خلاف سیشن 201 PPC کے تحت کارروائی:
* اگر پولیس کو قابلِ دست اندازی (Cognizable) جرم کی اطلاع مل جائے اور وہ قصداً ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کرے جس سے ثبوت یا فارنزک ثبوت ضائع ہوں، تو یہ صرف طریقہ کار کی غلطی نہیں بلکہ جرم کے ثبوت مٹانے (Section 201 PPC) کے زمرے میں آئے گا اور متعلقہ پولیس اہلکار کے خلاف پرچہ درج ہو سکتا ہے۔
* عدالتی اداروں (Trial Courts) کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ایف آئی آر میں پولیس کی جانب سے تاخیر کا نوٹس لیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی و محکماتی کارروائی کا حکم دیں۔
* آئی جی ایس (IGPs) کو توہینِ عدالت کی تنبیہ:
* سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اس فیصلے کے بعد اگر ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر یا پرانے نوآبادیاتی الفاظ کا استعمال جاری رہا، تو تمام آئی جی پیز (IGPs)، ایس پیز (SP Investigation) اور ایس ڈی پی اوز (SDPOs) کے خلاف توہینِ عدالت (Contempt of Court) کی کارروائی کی جائے گی۔
* دیگر انتظامی احکامات:
* پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو حکم دیا گیا کہ وہ 1 جنوری 2025 سے فیصلے کی تاریخ تک کے تمام قتل کے مقدمات کا ریکارڈ (جس میں 24 گھنٹے سے زیادہ تاخیر سے FIR درج ہوئی) 2 ماہ کے اندر عدالت کے چیمبر میں جمع کرائیں۔
* رجسٹرار سپریم کورٹ کو ہدایت کی گئی کہ وہ 'محمد بخش کیس' کے سابقہ تاریخی فیصلے کا سندھی زبان میں ترجمہ کروا کر ویب سائٹ پر اپ لوڈ کریں تاکہ عام عوام اپنے حقوق سے آگاہ ہو سکے۔
نتیجہ: سپریم کورٹ نے ملزم کی اپیل خارج کرتے ہوئے اس کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی اور ساتھ ہی سندھ پولیس میں ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر اور تحکمانہ زبان کے استعمال پر سخت قانونی قدغنیں عائد کر دی

20/09/2026

سابق جج سپریم کورٹ منصور علی شاہ کے ڈان اخبار میں چھپنے والے مضمون سے اقتباسات
میری نسل نے ایک خطرناک سبق سیکھا: طاقت خود کو جواب دہ نہیں ٹھہراتی۔ جو شخص آواز اٹھاتا ہے اسکا تبادلہ کر دیا جاتا ہے؛ جو خاموش رہتا ہے اسے ترقی دے دی جاتی ہے؛ جو جج اپنی آزادی پر اصرار کرتا ہے اسے ہٹا دیا جاتا ہے۔ احتیاط، اگر کافی عرصے تک برتی جائے، تو مصلحت بن جاتی ہے، اور مصلحت تابعداری بن جاتی ہے۔ ہم نے طاقت کے ساتھ مصلحت کرنا سیکھ لیا۔

میں نے وکالت کے دوران بے خوف و خطر کھڑے رہنے والے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو جج کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بدل گئے۔ یہ تبدیلی نہ تو اچانک آئی اور نہ ہی پیسے کی خاطر۔ عہدے کا آرام و آسائش آہستہ آہستہ اپنا بوجھ ڈالنے لگتا ہے اور ہر سمجھوتے کو 'حقیقت پسندی' کا نام دے دیا جاتا ہے۔ کردار ہی وہ چیز ہے جو اس دباؤ کے آگے ڈٹ جاتی ہے، اور کردار کی تعمیر تب ہوتی ہے جب انسان اپنی ذات سے کہیں بڑی زندگیوں کے تجربات سے آشنا ہوتا ہے۔ تاریخ، ادب اور شاعری کا مقصد یہی تو ہے: دکھ اور کرب کو قابلِ فہم بنانا، تاکہ انسان کے پختہ یقین کو سہارا دینے کے لیے کوئی بنیاد مل سکے۔

Address

Rana Ishaq & Company Pvt. Ltd. Model Town
Lahore
54700

Telephone

+923215390004

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rana Ishaq Adv posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Rana Ishaq Adv:

Shortcuts

Share