04/05/2026
جیل میں قیدی یا ملزم سے ملاقات اس کا بنیادی قانونی اور انسانی حق ہے، جو پریزن رولز 1978 اور آئینِ پاکستان کے تحت تسلیم شدہ ہے۔ زیرِ سماعت ملزم کو عموماً ہفتے میں ایک بار جبکہ سزا یافتہ قیدی کو مقررہ وقفے سے اپنے اہلِ خانہ اور وکیل سے ملاقات کی اجازت ہوتی ہے۔
اگر جیل انتظامیہ بلا جواز ملاقات سے انکار کرے تو یہ قانون اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ایسی صورت میں سب سے پہلے سپرنٹنڈنٹ جیل کو تحریری درخواست دی جائے۔ اگر مسئلہ حل نہ ہو تو آئی جی جیل خانہ جات یا متعلقہ عدالت (سیشن جج/مجسٹریٹ) سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
یاد رکھیں، قیدی کے حقوق ختم نہیں ہوتے بلکہ قانون ان کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔
⚖️⚖️