Qanoon Way

Directions Website

Qanoon Way انصاف صرف وعدہ نہیں، مشن ہے

🚨 پاکستانی ڈراموں کا سب سے بڑا قانونی جھوٹ: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" x 3 🎬❌​ہم سب نے ٹی وی ڈراموں میں یہ سین ہزار بار د...
02/10/2026

🚨 پاکستانی ڈراموں کا سب سے بڑا قانونی جھوٹ: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" x 3 🎬❌
​ہم سب نے ٹی وی ڈراموں میں یہ سین ہزار بار دیکھا ہے: ہیرو غصے میں آتا ہے، تین بار طلاق کا لفظ بولتا ہے، پیچھے ڈرامائی میوزک بجتا ہے، اور ہیروئن فوراً اپنا بیگ اٹھا کر گھر سے نکل جاتی ہے کیونکہ "رشتہ ختم ہو گیا"۔ 💔🎒
​بطور وکیل، مجھے اکثر ایسی خواتین اور فیملیز کے پیغامات آتے ہیں جو ڈراموں کی اس کہانی کو سچ مان کر شدید ذہنی اذیت کا شکار ہوتے ہیں۔ تو آئیے آج اس پاپ کلچر متھ (Myth) کا قانونی پوسٹ مارٹم کرتے ہیں! 👨‍⚖️📜
​پاکستان کا قانون کیا کہتا ہے؟
مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 (MFLO) کے سیکشن 7 کے تحت، صرف غصے میں زبانی بول دینے سے قانونی طور پر طلاق فوراً موثر (Effective) نہیں ہوتی! قانون کا درست طریقہ کار کچھ یوں ہے:
​1️⃣ تحریری نوٹس (Section 7-1): شوہر پر قانونی طور پر لازم ہے کہ وہ طلاق کے اعلان کے فوراً بعد متعلقہ یونین کونسل (Union Council) کے چیئرمین کو ایک تحریری نوٹس بھیجے اور اسی نوٹس کی ایک کاپی لازمی طور پر اپنی بیوی کو بھی بھیجے۔
​2️⃣ 90 دن کی مدت (Section 7-3): قانون کے مطابق طلاق اس دن سے موثر نہیں ہوتی جس دن زبانی بولی گئی ہو، بلکہ یہ نوٹس چیئرمین کو موصول ہونے کے بعد 90 دن کی مدت گزرنے پر قانونی طور پر نافذ ہوتی ہے۔ اس دوران مصالحتی کونسل دونوں کے درمیان صلح کروانے کی باقاعدہ کوشش کرتی ہے۔
​3️⃣ جرمانہ اور سزا (Section 7-2): اگر کوئی شوہر طلاق دے کر بیوی کو نکال دے لیکن یونین کونسل کو قانونی نوٹس نہ دے، تو وہ قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے، جو کہ ایک قابلِ سزا جرم ہے جس پر قید یا جرمانہ ہو سکتا ہے۔
​پریکٹیکل اور سب سے اہم بات (NADRA کا ریکارڈ) ⚠️
اگر یونین کونسل کا یہ نوٹس اور 90 دن کا پراسیس مکمل نہ ہو، تو آپ کو 'طلاق کا موثر سرٹیفکیٹ' (Divorce Registration Certificate) جاری نہیں کیا جاتا۔ اور یاد رکھیں، جب تک یہ سرٹیفکیٹ نہ بنے، نادرا (NADRA) کے ریکارڈ میں آپ دونوں قانونی طور پر میاں بیوی ہی سمجھے جاتے ہیں! اس کے بغیر نہ تو قانونی طور پر دوسری شادی ہو سکتی ہے اور نہ ہی وراثت یا جائیداد کے معاملات حل ہو سکتے ہیں۔
​📌 نتیجہ:
ڈراموں کے رائٹرز کو اپنا وکیل مت بنائیں۔ خدانخواستہ اگر کبھی ایسی صورتحال کا سامنا ہو، تو محض زبانی باتوں پر اپنے حقوق چھوڑنے کے بجائے تحریری کاغذی کارروائی (Union Council Notice) کی ڈیمانڈ کریں۔
​آگاہی پھیلائیں اور اس پوسٹ کو اپنی فیملی اور دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں تاکہ کوئی قانونی لاعلمی کا شکار نہ ہو!
​مزید درست قانونی معلومات کے لیے Qanoonway کو فالو کریں۔ ⚖️✨

23/09/2026

File your income Tax now.

📦 6000 ka Parcel aur Andar se Nikla Kachra! (Aap ke sath bhi yeh ho sakta hai...)Darwazay par bell baji. Rider ke haath ...
22/09/2026

📦 6000 ka Parcel aur Andar se Nikla Kachra!

(Aap ke sath bhi yeh ho sakta hai...)

Darwazay par bell baji. Rider ke haath mein woh parcel tha jis ka pichlay chaar din se be-sabri se intezar tha.

Instagram ke ek chamakdar, 'aesthetic' page se ek shandaar suit (aur bacchay ke liye ek mehanga khilona) order kiya gaya tha. Tasweeron mein aisi finish thi ke lagta tha kisi high-end brand ka master-piece ho.

Rider ne parcel aagay badhaya:
"Baji pehle payment dein, parcel khol kar check karne ki policy nahi hai."
Jald-baazi mein rider ko cash thumaya, darwaza band kiya, aur excited ho kar plastic wrapper phaar diya. Lekin andar se jo nikla, us ne pairo talay se zameen nikal di.

Na woh rang tha, na woh kapra. Andar peele rang ka, dhabbon se bhara ek sasta thaan ka tukra tha jo ponchay lagane ke qabil bhi nahi tha.
Ghabrahat mein foran phone uthaya, us Instagram page par message kiya: "Yeh kya bheja hai aapne? Please foran refund dein!"
Ek tick laga. Phir doosra tick nahi hua. DP ghayab ho gayi. Page ne block kar diya tha. Courier slip par jo phone number likha tha, woh switch-off ja raha tha.
Wohi purani kahani: Online Scam.

🚨 Aaj Kal Ho Kya Raha Hai? (The Scam Ecosystem)

Yeh koi ittefaq nahi, ek bohot bara organized racket hai jo hamare aitmaad se khel raha hai:

1️⃣ Fake Pages: Chori ki hui professional photos laga kar pages banaye jatay hain.

2️⃣ Comments Off: In pages ne comment section restrict kiya hota hai taake fraud ka shikaar log doosron ko warn na kar sakein.

3️⃣ Courier Shield: Inhe maloom hai ke courier riders parcel kholne nahi dete. Yeh kachra pack kar ke bhejte hain aur COD ke zariye cash le letay hain.

4️⃣ Hamari Ghalti: Hum 5,000 ya 10,000 ka nuqsaan dekh kar dil masos kar reh jatay hain: "Chalo choro, Allah poochega, ab kon kachehri ke chakkar kaatay."
Lekin sach yeh hai ke unki asal taqat qanoon ka dar na hona nahi, balkay hamari yeh "khamoshi" hai.

⚖️ Qanoon Kya Kehta Hai?
(Aapka Qanooni Haq)

Aapko chup baithne ki zaroorat nahi. Consumer Protection Act ke tehat aap Consumer Court se na sirf apne paise wapis le sakte hain, balkay Mental Agony (Zehni Aziyat) ka harjana bhi claim kar sakte hain.

Agar aapke sath aisa ho toh foran yeh qadam uthayein:

📸 1. Saboot Mehfooz Karein: Parcel kholne se pehle unboxing video banayein. Chat history, page ka URL, aur courier ka lifafa (flyer) hargiz mat phenkein. Is par return address hota hai.

✉️ 2. Legal Notice (15 Days): Seller ko courier slip wale address par 15 din ka written Legal Notice bhejein (TCS/Registered Post ke zariye) ke agar refund na mila toh qanooni karwai hogi.

🏛️ 3. Consumer Court Jayein:
Agar 15 din mein hal na nikle, toh apne shehar ki District Consumer Court mein complaint daakhil karein. Yahan aam kachehri ki tarah saalon nahi lagte, aur na hi bhari fees hoti hai. Apna nuksan aur zehni aziyat ka harjana dono claim karein.

📦 4. Courier Company ko Party Banayein: Agar seller untraceable hai, toh courier company ko bhi notice bhejein ke unhone baghair tasdeeq (KYC) ke ek fraud company ko apna platform aur cash collection ki sahoolat kyun di.

Jab tak hum "chalo khair hai" kehte rahenge, yeh pages har roz kisi naye ghar ko loot-te rahenge. Qanoonway aur haqooq ki aagahi ka maqsad hi yahi hai ke aam shaheri ko takatwar banaya jaye.

🔄 Is post ko SAVE karein aur apni stories, family aur doston ke WhatsApp groups mein lazmi SHARE karein. Na jane aapka ek share kis ko is zehni aziyat aur financial fraud se bacha le!

(Aap ki raaye mein in fake pages ko rokne ke liye mazeed kya hona chahiye? Comments mein batayein 👇)

20/09/2026

File your income Tax return now !

18/09/2026

File your income tax returns before the deadline.

شاپنگ بیگ کی رقم کیوں وصول کی؟کپڑوں کے بڑے برینڈ کو بھاری جرمانہپشاور کی صارف عدالت نے 16 ستمبر کو ایک فیصلہ دیا ہے۔فیصل...
17/09/2026

شاپنگ بیگ کی رقم کیوں وصول کی؟کپڑوں کے بڑے برینڈ کو بھاری جرمانہ

پشاور کی صارف عدالت نے 16 ستمبر کو ایک فیصلہ دیا ہے۔فیصلہ صارف عدالت کے جج نصراللہ گنڈا پور نے سنایا۔ یہ درخواست صارف عدالت میں 14 فروری کو دائر کی گئی ،جس میں درخواست گزار شفق عامر نے موقف اختیار کیا کہ اس نے کپڑوں کے برینڈ KHAADI سے 7000 روپے کی خریداری کی اور اس دوران اس سے شاپنگ بیگ کی مد میں 30 روپے لیے گئے۔
عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ برینڈ نے نہ صرف 30 روپے لیے بلکہ بیگ پر لوگو کی مدمیں اپنی تشہیر بھی کی،عدالت نے برینڈ کو صارف کو نہ صرف 30 روپے واپس کرنے کا حکم دیا بلکہ ساتھ میں 25 ہزار روپے صارف کو دینے اور 25 ہزار قومی خزانے میں جمع کروانے کا حکم بھی دیا۔اب آپ سے بھی کوئی اپنے برینڈ کے شاپنگ بیگ کی رقم مانگے تو اس کو یہ فیصلہ ضرور پڑھائیں ورنہ صارف عدالت ضرور جائیں۔

گاڑی پارکنگ کا جھگڑا کسی کی زندگی برباد کر سکتا ہے؟ 🛑​یہ کہانی کسی ٹی وی ڈرامے کی نہیں، بلکہ ہماری ہی سوسائٹی کی ایک حقی...
17/09/2026

گاڑی پارکنگ کا جھگڑا کسی کی زندگی برباد کر سکتا ہے؟ 🛑
​یہ کہانی کسی ٹی وی ڈرامے کی نہیں، بلکہ ہماری ہی سوسائٹی کی ایک حقیقت ہے جو کل کو کسی کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے۔
​عاصم (فرضی نام) ایک نہایت شریف اور عام سا پرائیویٹ جاب کرنے والا شخص ہے۔ گھر میں اس کی ایک 70 سالہ بیمار والدہ اور دو چھوٹی بیٹیاں ہیں۔ پچھلے ہفتے اس کی اپنے سامنے والے پڑوسی سے صرف اس بات پر بحث ہو گئی کہ "بھائی تھوڑی گاڑی آگے کر کے پارک کر لیا کریں، راستہ بلاک ہو جاتا ہے"۔ بات تھوڑی بڑھی، لیکن محلے والوں نے بیچ بچاؤ کروا دیا۔ عاصم کو لگا معاملہ ختم ہو گیا ہے۔
​لیکن اسی رات 2 بجے... عاصم کے گھر کا دروازہ زور زور سے پیٹا جانے لگا۔ باہر پولیس کھڑی تھی!
​عاصم باہر نکلا تو پتہ چلا کہ اس کے خلاف ڈکیتی اور گھر میں گھس کر عورتوں پر ہاتھ اٹھانے کی سنگین ایف آئی آر (FIR) درج ہو چکی ہے۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ اس کی بیمار والدہ رو رو کر پولیس والوں کی منتیں کر رہی تھیں، اس کی چھوٹی بیٹیاں سہم کر دروازے کے پیچھے چھپی ہوئی تھیں، اور عاصم کو سرِ عام ہتھکڑیاں لگائی جا رہی تھیں۔
​اگلے دن پڑوسی کا کسی کے ذریعے پیغام آیا: "اب ساری زندگی کچہری کے چکر لگانا، تب پتہ چلے گا مجھ سے الجھنے کا انجام۔"
​عاصم کی فیملی بکھر چکی تھی۔ اکثر عام لوگ ایسی صورتحال میں ڈر کر سمجھوتہ کر لیتے ہیں یا بلیک میلنگ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ عاصم کی فیملی بھی یہی سوچ رہی تھی، لیکن انہیں ایک قابل وکیل نے بہت اہم مشورہ دیا... "ڈرنا نہیں ہے!"
​جب انہوں نے کیس کا مقابلہ کیا تو کورٹ کو پتہ چلا کہ پڑوسی کے پاس ڈکیتی کا ایک بھی ثبوت نہیں تھا، نہ کوئی میڈیکل سرٹیفکیٹ تھا۔ عاصم کے وکیل نے ہائی کورٹ میں "Quashment of FIR" (ایف آئی آر ختم کرنے کی درخواست) دائر کی۔ قانون کی نظر میں جب واقعات جھوٹے ثابت ہوئے، تو ایف آئی آر فوراً خارج کر دی گئی۔
​لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی!
عاصم نے اس پڑوسی پر سیکشن 182 (جھوٹی ایف آئی آر کٹوانے) اور ہتکِ عزت (Defamation) کا کاؤنٹر کیس ٹھوک دیا۔ جو پڑوسی کل تک دھمکیاں دے رہا تھا، آج وہ گرفتاری کے ڈر سے عاصم کے آگے ہاتھ جوڑ رہا تھا اور معافیاں مانگ رہا تھا۔
​📌 اس کہانی سے ہمیں کیا سیکھنے کو ملتا ہے؟
ہمارے ہاں لوگ اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کر کے جھوٹے مقدمات صرف اس لیے بنواتے ہیں تاکہ دوسرا بندہ پریشر میں آ جائے۔ اگر آپ کے یا آپ کے کسی جاننے والے کے ساتھ ایسا کوئی ظلم ہو، تو پولیس یا جھوٹی ایف آئی آر سے ڈر کر پیچھے نہ ہٹیں۔ پاکستانی قانون میں جھوٹی ایف آئی آر کو ختم کروانے اور ایسی گھٹیا حرکت کرنے والے کو سزا دلوانے کا پورا حق موجود ہے۔
​یہ میسج کسی کو فارورڈ کرنے میں صرف 2 سیکنڈ لگتے ہیں، لیکن ہو سکتا ہے آپ کا ایک شیئر کسی مجبور فیملی کو بلیک میل ہونے سے بچا لے۔ 🙏
​(آپ کے حقوق، آپ کی طاقت۔ قانون کو سمجھیں اور اپنے حق کے لیے کھڑے ہوں!) ⚖️

موبائل سکرین پر چمکنے والا ایک میسج عائشہ کے لیے موت کا پروانہ تھا۔"آپ کے اکاؤنٹ سے 3,00,000 روپے کامیابی سے ٹرانسفر ہو ...
16/09/2026

موبائل سکرین پر چمکنے والا ایک میسج عائشہ کے لیے موت کا پروانہ تھا۔
"آپ کے اکاؤنٹ سے 3,00,000 روپے کامیابی سے ٹرانسفر ہو چکے ہیں..."
​وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئی۔ آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ یہ وہ پیسے تھے جو اس نے ڈبل شفٹ میں نوکری کر کے، ایک ایک روپیہ جوڑ کر اپنی چھوٹی بہن کے جہیز کے لیے جمع کیے تھے۔ صرف پانچ منٹ... اور چار سال کی محنت غائب۔
​فراڈیوں نے جال ہی اتنا شاطرانہ بچھایا تھا۔ اسے اپنے ہی بینک کی ہیلپ لائن کے نمبر سے کال آئی تھی۔ کال کرنے والے نے بڑی ہمدردی سے کہا تھا، "میڈم، کراچی سے کوئی آپ کے اکاؤنٹ سے 3 لاکھ نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ میں آپ کو ایک کینسلیشن کوڈ (OTP) بھیج رہا ہوں، جلدی سے وہ بتائیں تاکہ میں اس ہیکر کو بلاک کر دوں۔"
​اپنے پیسے بچانے کی جلدی میں عائشہ نے وہ کوڈ بتا دیا۔ ہیکر تو بلاک نہ ہوا، لیکن عائشہ کا اکاؤنٹ ضرور خالی ہو گیا۔
​شام کو جب اس کا بھائی گھر آیا تو بہن کی حالت دیکھ کر فوراً بینک دوڑا۔ لیکن بینک مینیجر کا روکھا جواب ایک اور دھچکا تھا: "سوری! آپ نے اپنا OTP خود شیئر کیا ہے، اس میں بینک کی کوئی غلطی نہیں، ہم کچھ نہیں کر سکتے۔"
سب راستے بند ہو چکے تھے۔ عائشہ کی بہن کی شادی سر پر تھی اور گھر میں ماتم کا سماں تھا۔ لگ رہا تھا کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا، یہ پاکستان ہے، یہاں سے گئے پیسے کبھی واپس نہیں آتے۔
​لیکن پھر بھائی کو یاد آیا... وہ پچھلے کچھ عرصے سے واٹس ایپ پر 'قانون وے' (Qanoonway) کا چینل فالو کر رہا تھا۔ وہاں اس نے آن لائن فراڈ اور قانونی حقوق کے حوالے سے ویڈیوز دیکھی تھیں۔ اس نے سوچا، کیوں نہ آخری امید کے طور پر 'قانون وے' کے وکیل سے رابطہ کیا جائے؟
​یہیں سے کہانی نے پلٹا کھایا۔
جب انہوں نے 'قانون وے' کے وکیل کو کال کی، تو وکیل صاحب نے انہیں روایتی تسلیاں دینے کے بجائے ایک دم الرٹ کر دیا: "ہمارے پاس رونے کا وقت نہیں! ابھی فراڈ ہوئے 24 گھنٹے نہیں گزرے، یہ ہمارا 'گولڈن آور' ہے، ہمیں ابھی ایکشن لینا ہوگا!"
​عائشہ اور اس کا بھائی شدید کنفیوژن میں تھے، لیکن وکیل جانتا تھا کہ سسٹم کی ڈوریاں کہاں سے ہلانی ہیں۔ وکیل نے فوری طور پر ٹریس کیا کہ پیسے کس ایزی پیسہ/بینک اکاؤنٹ میں گئے ہیں۔ اس نے وقت ضائع کیے بغیر اپنے لیگل لیٹر ہیڈ پر اس ریسیونگ بینک کو سخت نوٹس بھیجا اور قانونی دباؤ ڈال کر اس اکاؤنٹ کو اسی وقت 'فریز' (Freeze) کروا دیا۔
ساتھ ہی وکیل صاحب نے راتوں رات FIA سائبر کرائم کو تمام ثبوتوں کے ساتھ ڈرافٹ بنا کر بھیجا اور سٹیٹ بینک کے سنوائی پورٹل (بینکنگ محتسب) میں کیس فائل کر دیا۔
​یہ سب اتنی تیزی سے ہوا کہ عائشہ کو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ کیا واقعی کچھ بنے گا؟
اگلے 45 دن ایک عجیب سسپنس میں گزرے۔ عائشہ روزانہ اپنا خالی اکاؤنٹ دیکھتی اور مایوس ہو جاتی۔ اسے لگتا تھا وکیل نے بھی بس کارروائی ڈالی ہے، فراڈیے آج تک پکڑے گئے ہیں بھلا؟
​پھر ایک صبح... عائشہ کے فون پر ایک میسج کی ٹون بجی۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس نے ڈرتے ڈرتے سکرین کی طرف دیکھا۔
"آپ کے اکاؤنٹ میں 2,80,000 روپے کریڈٹ ہو چکے ہیں۔"
​وہ خوشی سے چیخ پڑی! اس کی جان میں جان آئی۔ لیکن پھر اس نے سوچا، 3 لاکھ کیوں نہیں؟ 2 لاکھ 80 ہزار کیوں؟
'قانون وے' کے وکیل نے مسکراتے ہوئے انہیں اس کی وجہ بتائی: "فراڈیا بہت تیز تھا۔ اس نے پیسے ملتے ہی قریبی ATM سے 20 ہزار نکال لیے تھے۔ لیکن، کیونکہ ہم نے قانونی راستہ اپنا کر بروقت وار کیا تھا، اس سے پہلے کہ وہ باقی رقم نکالتا، ہمارا لیگل نوٹس پہنچ چکا تھا اور اس کا اکاؤنٹ فریز ہو گیا!"
​عائشہ آج بھی سوچتی ہے کہ اگر اس دن اس کا بھائی مایوس ہو کر بیٹھ جاتا اور انہیں ایک قابل وکیل کی بروقت رہنمائی نہ ملتی، تو وہ پوری طرح لٹ چکے تھے۔
​یہ ہے وہ طاقت جو قانون آپ کو دیتا ہے۔ 'قانون وے' (Qanoonway) صرف مشورے نہیں دیتا، یہ عام انسان کو اتنا تیز، الرٹ اور بااختیار بنا دیتا ہے کہ وہ لٹیروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنا حق چھین سکتا ہے۔ وکیل کی بروقت قانونی چالیں کسی بھی فراڈیے کو مات دے سکتی ہیں۔
​کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر آپ کے ساتھ ایسا ہو جائے تو پہلا قانونی قدم کیا ہونا چاہیے؟
آج ہی 'قانون وے' کا حصہ بنیں، کیونکہ قانون جاننے والا کبھی دھوکہ نہیں کھاتا۔
​📢 اس میسج کو اپنے پیاروں تک پہنچائیں، ہو سکتا ہے آپ کا ایک فارورڈ کسی کی عمر بھر کی جمع پونجی بچا لے۔

16/09/2026
شادی کا لارا اور سالوں کی 'ڈیٹنگ'... کیا قانون آپ کے ٹوٹے دل کا انصاف کر سکتا ہے؟ 💔​آج کل ہر کوئی ڈرامہ 'درِ نجات' میں ز...
15/09/2026

شادی کا لارا اور سالوں کی 'ڈیٹنگ'... کیا قانون آپ کے ٹوٹے دل کا انصاف کر سکتا ہے؟ 💔
​آج کل ہر کوئی ڈرامہ 'درِ نجات' میں زریاب کے ساتھ ہونے والے دھوکے پر بات کر رہا ہے۔ زامل نے اسے شادی کے حسین خواب دکھائے، لارا لگایا، وقت برباد کیا، اور پھر اچانک مکر گیا۔
​ہم سب زامل کو برا بھلا کہہ رہے ہیں، لیکن کبھی سوچا ہے کہ اگر زریاب اس دھوکے کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے، تو قانون کیا کہے گا؟
​کڑوی حقیقت: قانون کی نظر میں 'ڈیٹنگ' کا کوئی وجود نہیں! ⚖️
پاکستانی قانون میں 'گرل فرینڈ/بوائے فرینڈ' یا محض 'ریلیشن شپ' کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص آپ کو سالوں تک شادی کا جھوٹا آسرا دے کر دھوکہ دے جائے، تو آپ اس پر جذباتی استحصال (emotional abuse) یا وقت برباد کرنے کا مقدمہ نہیں کر سکتے۔
​قانون کہتا ہے کہ شادی کا وعدہ توڑنا (Breach of promise to marry) کوئی ایسا جرم نہیں ہے جس پر کسی کو جیل بھیجا جا سکے (جب تک کہ اس میں کوئی بڑا مالی دھوکہ یا فراڈ شامل نہ ہو)۔
​اس سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟
ڈراموں میں ایسی کہانیاں شاید ہمدردی (sympathy) حاصل کر لیتی ہیں، لیکن اصل زندگی میں عورت بالکل اکیلی رہ جاتی ہے۔ زامل جیسے لوگ آسانی سے "میرا کوئی ارادہ نہیں تھا" کہہ کر نکل جاتے ہیں، کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ ان پر کوئی قانونی پکڑ نہیں ہے۔
​اسی لیے ہم بار بار کہتے ہیں: خالی محبت اور کچے وعدے کافی نہیں ہوتے!
​آپ کے جذبات، آپ کا وقت، اور آپ کی عزت بہت قیمتی ہے۔ اسے ہوا میں کیے گئے وعدوں پر ضائع مت کریں۔ قانونی تحفظ صرف اور صرف نکاح میں ہے۔ نکاح صرف ایک رسم نہیں، ایک عورت کی سب سے بڑی قانونی ڈھال ہے۔
​کیا آپ کے خیال میں شادی کا جھوٹا لارا لگانے والوں کے لیے کوئی قانونی سزا ہونی چاہیے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں! 👇
​— قانون وے (اپنے حقوق کو پہچانیے!)

Address

5-A Kapoor Thala House Lake Road Old Anarkali
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 08:00 - 17:00
Tuesday 08:00 - 17:00
Wednesday 08:00 - 17:00
Thursday 08:00 - 17:00
Friday 08:00 - 17:00
Saturday 08:00 - 17:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qanoon Way posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category