04/02/2026
کراچی کے سعید احمد نے 18 سال معروف ملٹی نیشنل کمپنی نیسلے میں کام کیا اس دوران کبھی ان پر مس کنڈکٹ کا الزام نہیں لگا۔ پچھلے کچھ عرصے سے انہیں دانتوں میں درد کی شکایت تھی۔ یکم ستمبر 2015ء کو وہ کراچی کے ایک معروف ڈینٹل سرجن ڈاکٹر کریم کے پاس گئے، انہوں نے دانتوں کا روٹ کینال تجویز کیا۔ علاج کروالیا، 10 ہزار روپے خرچ آیا، جسکی واپسی کیلئے سعید نے پالیسی کے مطابق کمپنی کے ہاں کلیم جمع کروا دیا۔
نیسلے کمپنی نے Allianz نامی انشورنس کمپنی سے بل کی تصدیق کروائی جس نے متعلقہ کلینک سے چیک کرکے رپورٹ دی کہ علاج پر دراصل 7 ہزار روپے خرچ آیا ہے، 3 ہزار روپے ٹرانسپورٹ کے نام پر شامل کیے گئے ہیں۔
یکم دسمبر 15ء کو سعید احمد کو کمپنی کی طرف سے شوکاز نوٹس جاری ہوگیا، جس میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے 10 ہزار روپے کا جعلی بِل جمع کروایا ہے، جبکہ علاج پر صرف 7 ہزار روپے خرچ آیا ہے۔ سعید نے نوٹس کا جواب دیا، الزامات کا انکار کیا اور 4 دسمبر کو 10 ہزار روپے کا کلینک سے تصدیق شدہ بِل بھی جمع کروا دیا۔ اس کے باوجود 8 مارچ 2016ء کو کمپنی کے انکوائری آفیسر نے سعید کو مِس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیدیا، کمپنی نے انہیں نوکری سے نکال دیا۔
سعید نے اپنی برطرفی کے حکم کو NIRC (عدالت) میں چیلنج کردیا۔ سنگل بنچ نے قرار دیا کہ سعید نے تسلیم کیا کہ انہیں انکوائری میں اپنی صفائی کا پورا موقع دیا گیا لیکن اسکے باوجود وہ اپنے حق میں کوئی دستاویز یا گواہ پیش نہ کرسکا۔ سنگل بنچ نے سعید کی درخواست خارج کردی اور برطرفی برقرار رکھی۔ سعید نے اس کیخلاف این آئی آر سی کے فل بنچ میں اپیل کردی۔
فل بنچ نے کہا کہ کلینک کی جانب سے تین قسم کی دستاویزات ہیں، 1۔ کلیم کیساتھ لگی 10 ہزار روپے کی رسید، 2۔ انشورنس کمپنی کو دی گئی 7 ہزار کی رسید اور 3۔ دسمبر میں سعید کو جاری کیا گیا 10 ہزار کا مصدقہ بِل۔ ایسی صورتحال میں انکوائری آفیسر کو چاہیے تھا کہ وہ خود ڈاکٹر کو گواہ کے طور پر بلا کر پوچھتا کہ ان میں سے درست کون سی ہے؟ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ لہذا انکوائری درست نہ ہوئی اور ملازم کا مس کنڈکٹ ثابت نہ ہوا۔فل بنچ نے اپیل منظور کرلی اور نوکری مع تمام واجبات بحال کردی۔
کمپنی نے اس کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں رِٹ دائر کردی۔ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ معاملہ میڈیکل کلیم میں جعلسازی کرتے ہوئے بوگس بِل جمع کروانے کا ہے۔ سائل نے انکوائری دوران اپنے اوپر لگے اس جعلسازی کے الزم کو چیلنج نہیں کیا۔ ہائیکورٹ نے سنگل بنچ NIRC کےحکم کو درست قرار دیتے ہوئے ملازمت سے برطرفی کے حکم کو برقرار رکھا۔
سعید صاحب نے ہائیکورٹ کے حکم کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل کردی جس کی سماعت تین رکنی بنچ نے گذشتہ سال جولائی میں کی اور بنچ کے سربراہ جسٹس محمد علی مظہر نے فیصلہ تحریر کیا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ملازم پر مِس کنڈکٹ کے الزام کا بارِ ثبوت کمپنی پر ہوتا ہے نہ کہ ملازم پر۔ دانتوں کے ایک ہی علاج کی مختلف دستاویزات کی صورت میں انکوائری آفیسر کی ذمہ داری تھی کہ وہ ڈاکٹر یا کلینک کے نمائندے کو طلب کرتا جو آکر بتاتا کہ ان میں سے درست کون سی ہے؟ لیکن ایسا نہ کرکے کمپنی نے ثبوت دینے (بارِ ثبوت) کی ذمہ داری ادا نہیں کی۔
کمپنی کا دعویٰ کہ سائل کو صفائی کا مکمل موقع دیا گیا، غلط ہے۔کیونکہ متضاد رسیدوں کی موجودگی میں ڈاکٹر کو نہ بلانا فطری انصاف اور منصفانہ سماعت کے اصولوں کے منافی ہے۔ یہ بوجھ سائل پر نہیں ڈالا جاسکتا کہ وہ اپنے صفائی میں گواہ پیش کرے بلکہ یہ کمپنی کی ذمہ داری تھی کہ وہ متعلقہ گواہوں کے ذریعے ثابت کرتی کہ سائل مِس کنڈکٹ کا مرتکب ہوا ہے، جو اس کیس میں نہیں ہوا۔ سپریم کورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے سعید احمد کو سابقہ تمام مراعات کے ساتھ بحال کرنے کا حکم دیدیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سعید احمد کے وکیل امتیاز سولنگی سپریم کورٹ کے وکیل نہیں ہیں، انہیں سپریم کورٹ نے خصوصی اجازت دیتے ہوئے سنا، وہ اور سعید احمد جو نیسلے جیسی کمپنی کیخلاف سپریم کورٹ تک اپنے حق کیلئے لڑے، دونوں ہی داد کے مستحق ہیں۔