18/08/2026
سپریم کورٹ آف پاکستان
سول پٹیشن نمبر 4364 اور 4391/2024، بلوچستان سروس ٹربیونل، کوئٹہ کی جانب سے اپیل نمبر 304 اور 382/2023 میں مورخہ 25.07.2024 کو صادر کیے گئے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہیں۔
الٰہی بخش بگٹی، سول پٹیشن نمبر 4364/2024 میں، اور بہرام خان، سول پٹیشن نمبر 4391/2024 میں، درخواست گزاران ہیں، جبکہ سول پٹیشن نمبر 4364/2024 میں حکومت بلوچستان بذریعہ چیف سیکریٹری کوئٹہ و دیگر اور سول پٹیشن نمبر 4391/2024 میں چیف سیکریٹری حکومت بلوچستان، کوئٹہ و دیگر جواب دہندگان ہیں۔
درخواست گزاران کی جانب سے دونوں مقدمات میں جناب فاروق ایچ نائیک، سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ پیش ہوئے، جبکہ جواب دہندگان کی جانب سے دونوں مقدمات میں جناب طاہر اقبال خٹک، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان پیش ہوئے۔ سماعت کی تاریخ 11.03.2026 تھی۔
فیصلہ
جسٹس محمد علی مظہر: یہ دونوں سول پٹیشنز برائے اجازت اپیل بلوچستان سروس ٹربیونل، کوئٹہ، جسے آئندہ ’’ٹربیونل‘‘ کہا جائے گا، کی جانب سے اپیل نمبر 304 اور 382/2023 میں مورخہ 25.07.2024 کو صادر کیے گئے مشترکہ فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہیں۔
دونوں سول پٹیشنز کے مختصر اور بنیادی حقائق درج ذیل ہیں۔
الٰہی بخش، سول پٹیشن نمبر 4364/2024، سروس اپیل نمبر 304/2023: درخواست گزار کے مطابق وہ محکمہ مال میں پٹواری کے طور پر فرائض انجام دے رہا تھا اور ماضی میں اس کے خلاف کوئی الزام نہیں تھا۔ اس کے خلاف الزام یہ تھا کہ مورخہ 05.08.2019 کو انتقال اندراج نمبر 25 کو حلقہ صدر، موضع جوری اور ہزارہ میں علی حیدر بگٹی کے نام سے نواب محمد میر علی بگٹی کے نام پر صحت/درستگی کے اندراج کے طور پر درج کیا گیا۔ بعد ازاں مذکورہ اندراج کو ڈپٹی کمشنر/کلیکٹر ضلع ڈیرہ بگٹی نے اپنے مورخہ 10.08.2020 کے حکم کے ذریعے اس بنیاد پر منسوخ کر دیا کہ مذکورہ انتقال دراصل ہبہ یعنی تحفہ کے طور پر درج ہونا تھا، لیکن اسے انتقال کی تصحیح کے طور پر درج کیا گیا۔ ہبہ کے انتقال پر حکومت کو واجب الادا فیس یا ٹیکس 13,81,282 روپے بنتا تھا، لیکن مذکورہ انتقال کو 05.08.2019 کو تصحیحی اندراج کے طور پر درج کیے جانے کی وجہ سے صرف 200 روپے سرکاری ٹیکس مقرر کیا گیا اور خزانے میں جمع کرایا گیا۔ انکوائری کی گئی اور اگرچہ ذاتی سماعت کے افسر نے سماعت کے دوران درخواست گزار کو الزامات سے بری الذمہ قرار دیا، اس کے باوجود اسے مورخہ 15.06.2023 کے خط کے ذریعے ملازمت سے برطرفی کی بڑی سزا دی گئی۔
بہرام خان، سول پٹیشن نمبر 4391/2024، سروس اپیل نمبر 382/2023: درخواست گزار کے مطابق وہ تحصیلدار ڈیرہ بگٹی کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ اس کے خلاف اس الزام کی تحقیقات کے لیے انکوائری کا حکم دیا گیا کہ محکمہ مال کے افسران نے زمینوں کے ہبہ کے انتقال کے سلسلے میں نائب ولی داد مختیار خان تومان بگٹی سے 13,81,282 روپے حاصل کیے، لیکن انہوں نے 15.08.2019 کو انتقال کی نوعیت ہبہ سے تبدیل کرکے ریکارڈ کی تصحیح کر دی اور سرکاری خزانے میں صرف 200 روپے جمع کرائے۔ درخواست گزار کو نہ کوئی وضاحتی نوٹس یا شوکاز نوٹس دیا گیا اور نہ ہی چارج شیٹ جاری کی گئی، بلکہ اچانک انکوائری کا حکم جاری کر دیا گیا۔ انکوائری کے بعد رپورٹ پیش کی گئی اور اس کے اختتام پر انکوائری افسر نے چالانوں اور انتقالات پر موجود دستخطوں کے فرانزک معائنے کی تجویز دی، جبکہ دوسری جانب اس نے درخواست گزار کو الزامات کا قصوروار قرار دیتے ہوئے بلوچستان ایمپلائز ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن ایکٹ 2011 کے تحت بڑی سزا دینے کی سفارش کر دی۔ کارروائی مکمل ہونے کے بعد درخواست گزار کو مورخہ 15.06.2023 کے خط کے ذریعے ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔
درخواست گزاران کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جہاں تک الٰہی بخش کا تعلق ہے، اسے اس موضع میں تعینات ہی نہیں کیا گیا تھا جہاں مبینہ انتقال کا اندراج کیا گیا۔ نہ تو ہبہ کی کوئی فیس یا ٹیکس اس کے حوالے کیا گیا اور نہ ہی اس نے کوئی رقم وصول کی۔ مزید کہا گیا کہ ذاتی سماعت کے افسر نے درخواست گزار کو الزامات سے بری کر دیا تھا، اس کے باوجود اسے ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ مزید یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ انکوائری کے دوران درخواست گزار کے جرم کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ اسی طرح بہرام خان کے حوالے سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ قانون کے تحت مطلوبہ انکوائری کا طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا۔ نہ کوئی شوکاز نوٹس دیا گیا اور نہ ہی الزامات کا بیان فراہم کیا گیا، بلکہ اچانک انکوائری تشکیل دے دی گئی۔ مزید کہا گیا کہ انکوائری افسر کی رپورٹ متضاد ہے کیونکہ ایک طرف اس نے درخواست گزار کے دستخطوں کے فرانزک معائنے کی سفارش کی، جبکہ دوسری جانب فرانزک معائنہ کیے بغیر ہی اسے قصوروار قرار دے دیا۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے جواب دہندگان کی جانب سے پیش ہو کر مؤقف اختیار کیا کہ انکوائری افسر نے درخواست گزاران کو دفاع کا مساوی موقع فراہم کیا اور ان کا جرم ثابت ہونے کے بعد اپنی سفارشات مجاز اتھارٹی کو ارسال کیں۔ تاہم جب انکوائری افسر کی متضاد نتائج پر توجہ دلائی گئی تو وہ کوئی قابلِ قبول وجہ بیان نہ کر سکے کہ جب بہرام خان نے چالانوں پر اپنے دستخطوں سے واضح طور پر انکار کیا تھا تو ان دستخطوں کا فرانزک معائنہ کیوں نہیں کرایا گیا۔ بہرحال، انکوائری افسر نے اس مؤقف کو نوٹ تو کیا، لیکن حقیقت کا سراغ لگانے میں ناکام رہا۔
دلائل سنے گئے۔ درحقیقت محکمانہ انکوائریوں میں انکوائری افسر یا انکوائری کمیٹی کا کردار اور فرائض لیبر قوانین یا سول سرونٹس قوانین کے تحت ہونے والی کارروائی میں نیم عدالتی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں ان کی رپورٹس اور سفارشات عدالتوں یا ٹربیونلز کے سامنے پیش کی جاتی ہیں تاکہ ان کی ساکھ، صداقت اور قانونی استحکام کا تعین کیا جا سکے، کیونکہ بالآخر فیصلہ کرنے والی اتھارٹی عدالت یا ٹربیونل ہی ہوتی ہے۔ انکوائری افسر یا کمیٹی سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ غیر جانب دارانہ اور منصفانہ انداز میں انکوائری کرے۔ اسے ملزم کو الزامات کا دفاع کرنے کے لیے مناسب موقع فراہم کرنا چاہیے۔ حتیٰ کہ یک طرفہ انکوائری کی کارروائی میں بھی محکمہ یا انتظامیہ کے نمائندے کو اپنا مقدمہ پوری ذمہ داری کے ساتھ پیش کرنا چاہیے اور معمول کے طریقہ کار کے مطابق گواہان اور دستاویزات بھی پیش کرنی چاہئیں۔ اگر ملزم انکوائری میں شریک ہو تو انکوائری کرنے اور ثبوت کو سوال و جواب کے انداز میں قلم بند کرنے کے بجائے انکوائری افسر کو گواہان کے بیانات مکمل طور پر قلم بند کرنے چاہئیں اور اس کے بعد ملزم یا محکمانہ کارروائی کا سامنا کرنے والے شخص کو اپنے دفاع میں جرح کا موقع دینا چاہیے۔
بلوچستان سروس ٹربیونلز ایکٹ 1974 اس مقصد کے لیے نافذ کیا گیا تھا کہ انتظامی ٹربیونلز قائم کیے جائیں، جنہیں سروس ٹربیونل کہا جائے، تاکہ سول سرونٹس کی ملازمت کی شرائط و ضوابط سے متعلق معاملات اور ان سے منسلک یا ذیلی امور کے بارے میں خصوصی دائرۂ اختیار استعمال کیا جا سکے۔ 1974 کے ایکٹ کی دفعہ 5 کے تحت بلوچستان سروس ٹربیونل کے اختیارات بیان کیے گئے ہیں، جن کے استعمال میں ٹربیونل اپیل پر زیرِ اپیل حکم کی توثیق، تنسیخ، تبدیلی یا ترمیم کر سکتا ہے۔ اس دفعہ کے تحت ٹربیونل کسی اپیل کا فیصلہ کرنے کے مقصد سے سول عدالت تصور کیا جاتا ہے اور اسے وہی اختیارات حاصل ہوتے ہیں جو ضابطۂ دیوانی 1908 کے تحت ایسی عدالت کو حاصل ہیں، جن میں کسی شخص کی حاضری یقینی بنانا اور اسے حلف پر بیان دینے کے لیے طلب کرنا، دستاویزات پیش کرنے پر مجبور کرنا، اور گواہان اور دستاویزات کے معائنے کے لیے کمیشن جاری کرنا شامل ہے۔ اگرچہ اس دفعہ کے تحت دیے گئے اختیارات بنیادی طور پر اس کے اپیلیٹ دائرۂ اختیار سے متعلق ہیں، تاہم بحیثیت پہلے حقائق معلوم کرنے والے فورم کے، ایسی کوئی ممانعت یا پابندی نہیں کہ ٹربیونل سول سرونٹس کی ملازمت کی شرائط و ضوابط سے متعلق معاملات کی سماعت اور فیصلہ کرتے وقت شدید ضرورت اور ناگزیر حالات میں شہادت قلم بند نہیں کر سکتا۔ اگرچہ شہادت قلم بند کرنے یا حلف پر بیان لینے کا اختیار ہر مقدمے کے حالات پر منحصر ہے اور ہر صورت میں لازمی تقاضا نہیں، لیکن جہاں بظاہر اس کی ضرورت ہو وہاں انصاف کے مفاد میں اور حتمی فیصلے کے اصول کو مضبوط بنانے اور حاصل کرنے کے لیے سروس ٹربیونل شہادت بھی قلم بند کر سکتا ہے۔
انکوائری رپورٹس کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو بلوچستان نے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد کو ان الزامات کی انکوائری کرنے کے لیے مقرر کیا کہ محکمہ مال کے افسران اور اہلکاروں نے دانستہ طور پر نائب ولی داد مختیار خان تومان بگٹی سے موضع جوری اور موضع ہزارہ، تحصیل و ضلع ڈیرہ بگٹی میں زمینوں کے ہبہ کے انتقال کے سلسلے میں 13,81,282 روپے حاصل کیے، لیکن 15.08.2019 کو انتقال کی نوعیت ہبہ سے تبدیل کرکے ریکارڈ کی تصحیح کر دی اور سرکاری خزانے میں صرف 200 روپے جمع کرائے۔ ملزمان میں سے ایک الٰہی بخش پٹواری، جو سول پٹیشن نمبر 4364/2024 کا درخواست گزار ہے، نے اپنے تحریری بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ سابق تحصیلدار ڈیرہ بگٹی بہرام خان کی ہدایت پر وہ کراچی گیا تاکہ میر علی حیدر خان بگٹی اور میر علی بگٹی، دونوں کے دستخط اور انگوٹھوں کے نشانات حاصل کیے جا سکیں، کیونکہ تحصیل ڈیرہ بگٹی کے موضع جوری اور ہزارہ میں واقع دونوں اراضی کے صحت اندراج کے انتقال کے لیے یہ ضروری تھا۔ بعد میں مکمل ریکارڈ متعلقہ حلقہ صدر ڈیرہ بگٹی کے پٹواری میر گل کے حوالے کر دیا گیا کیونکہ یہ اس کا حلقہ نہیں تھا اور اس نے کسی دستاویز پر دستخط نہیں کیے تھے۔ دوسری جانب سابق تحصیلدار ڈیرہ بگٹی بہرام خان، جو سول پٹیشن نمبر 4391/2024 کا درخواست گزار ہے، نے اپنے جواب میں بیان کیا کہ اس نے موضع جوری کے انتقال اندراج نمبر 03 اور تحصیل ڈیرہ بگٹی کے موضع ہزارہ کے انتقال نمبر 25 کو میر علی حیدر خان بگٹی کی جانب سے دی گئی درخواست پر درست کیا اور صرف 200 روپے انتقال فیس وصول کی، جو نیشنل بینک آف پاکستان، ڈیرہ بگٹی برانچ میں جمع کرائی گئی، جبکہ اس نے 13,81,282 روپے کی کوئی رقم وصول نہیں کی۔ اس نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ پیش کیا گیا چالان جعلی تھا۔
انکوائری افسر کی جانب سے درج کیے گئے نتائج کے مطابق الٰہی بخش پٹواری انتقال کے عمل کے دوران بہرام خان کے ساتھ ملوث تھا اور وہ دستخط اور انگوٹھوں کے نشانات حاصل کرنے کے لیے کراچی بھی گیا تھا۔ بہرام خان کے بارے میں انکوائری افسر نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ دو علیحدہ بینک چالان فارم پُر کیے گئے اور اس نے ان پر دستخط کیے، جن کے ذریعے انتقال فیس بالترتیب 10,34,190 روپے اور 38,60,92 روپے جمع کرائی جانی تھی، تاہم دونوں چالان نیشنل بینک آف پاکستان میں جمع نہیں کرائے گئے۔ انکوائری رپورٹ کے آخر میں سفارشات پیش کی گئیں، جن میں ایک طرف یہ تجویز دی گئی کہ چالانوں اور انتقالات پر موجود دستخطوں کا فرانزک معائنہ کرایا جائے کیونکہ بہرام خان نے چالان پر موجود دستخط سے واضح طور پر انکار کیا تھا۔ چونکہ انکوائری افسر کے پاس دستخطوں اور دستاویزات کی تصدیق کے لیے فرانزک معائنے کی سہولت موجود نہیں تھی، اس لیے اس نے مزید تجویز دی کہ بورڈ آف ریونیو بلوچستان بالخصوص سابق تحصیلدار ڈیرہ بگٹی بہرام خان کے دستخطوں سمیت دستاویزات کا فرانزک معائنہ کرائے۔ اس کے باوجود کہ انکوائری افسر خود چالان پر موجود دستخط کے بارے میں مطمئن اور پُراعتماد نہیں تھا اور اس نے معاملہ فرانزک معائنے کے لیے بھیجنے کی سفارش کی تھی، اس نے دونوں درخواست گزاران کو قصوروار قرار دیتے ہوئے بڑی سزا دینے کی سفارش کر دی۔
انکوائری کے بعد ایڈیشنل کمشنر سبی ڈویژن نے درخواست گزاران کو ذاتی سماعت کا حق دیا۔ انہوں نے اپنی رپورٹ میں مشاہدہ کیا کہ الٰہی بخش پٹواری مذکورہ مواضعات کا حلقہ پٹواری مقرر نہیں تھا اور نہ ہی اس نے کسی دستاویز پر دستخط کیے تھے۔ وہ نہ تو ایسا انتقال کروا سکتا تھا اور نہ ہی اس پر اثرانداز ہو سکتا تھا، اور بالآخر انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ اسے ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بہرام خان کے بارے میں یہ مشاہدہ کیا گیا کہ بادی النظر میں اس نے چالانوں پر دستخط کیے، لیکن رقم سرکاری خزانے میں جمع نہیں کرائی اور اسے ہڑپ کر گیا۔ آخرکار انکوائری افسر نے بلوچستان ایمپلائز ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن ایکٹ 2011 کی دفعہ 3(الف) اور 3(ج) کے تحت نااہلی اور بدعنوانی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف بیک وقت چھ سزاؤں کی سفارش کی، جن میں سرزنش، ایک ماہ کی بنیادی تنخواہ کے برابر جرمانہ، مالی ذمہ داریوں والی کسی بھی عہدے پر تعیناتی پر پابندی، پانچ سال کے لیے ترقی روکنا، گزشتہ پانچ سال کی ملازمت ضبط کرنا، اور دو ماہ کی تنخواہ و الاؤنسز ضبط کرنا شامل تھا۔
زیرِ اعتراض فیصلے کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ معزز ٹربیونل نے اپنی توجہ صرف اس امر پر مرکوز رکھی کہ درخواست گزاران الزامات کی تردید یا کوئی ٹھوس دفاع پیش کرنے میں ناکام رہے، تحصیلدار بہرام خان نے اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کیا اور ضلعی کلکٹر کی مطلوبہ منظوری کے بغیر کارروائی کی، کارروائی کے دوران درخواست گزاران کی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے کوئی دستاویزی ثبوت یا قابلِ اعتماد دفاع پیش نہیں کیا گیا، مالی بے ضابطگی بدعنوانی اور مالی بدعنوانی کا واضح ثبوت ہے، اور سزا کا تناسب اس امر کا متقاضی ہے کہ سزا جرم سے وابستہ اخلاقی ذمہ داری کی شدت کے مطابق ہو۔ ٹربیونل نے آخرکار یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پوری کارروائی بلوچستان ایمپلائز ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن ایکٹ 2011 کی دفعات کے عین مطابق نہایت احتیاط سے کی گئی اور پیش کیے گئے ثبوتوں سے مبینہ بدعنوانی میں درخواست گزاران کا قصور بلا شبہ ثابت ہوتا ہے۔
اگرچہ معزز ٹربیونل نے اپیلیں مسترد کر دیں، لیکن اس نے اس اہم سوال پر کوئی بحث نہیں کی کہ فرانزک ٹیسٹ یا معائنہ کیوں نظر انداز کیا گیا، حالانکہ خود انکوائری افسر نے اس کی سفارش کی تھی۔ بہرام خان کے خلاف مقدمے میں یہی بنیادی نکتہ تھا، کیونکہ اس نے چالان پر موجود دستخط سے انکار کیا تھا۔ چالان پر دستخطوں کی تحریری یا فرانزک تصدیق کے اس بنیادی امتحان کو نظر انداز کرنا محکمانہ سطح پر مقدمے کو کمزور اور تباہ کر گیا۔ اگر متعلقہ وقت پر چالان پر موجود تحریر اور دستخطوں کی فرانزک معائنے کے ذریعے تصدیق کرائی جاتی اور وہ اصلی ثابت ہوتے تو درخواست گزار کا جرم ثابت کرنے میں مزید کوئی الجھن یا تردد باقی نہ رہتا اور مزید کسی دفاع کی ضرورت بھی نہ پڑتی۔ لیکن محکمہ نے انکوائری کے دوران یہ موقع ضائع کر دیا۔ حتیٰ کہ انکوائری رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد بھی مجاز اتھارٹی ذاتی سماعت کا موقع فراہم کرنے سے پہلے اس مخصوص نکتے پر ازسرنو انکوائری کا حکم دے سکتی تھی تاکہ اصل مجرم کا تعین کیا جا سکے۔ اگرچہ انکوائری افسر کے پاس فرانزک ٹیسٹ کرنے کے ذرائع اور سہولت موجود نہیں تھی، وہ مختصر مدت کے لیے انکوائری ملتوی کر سکتا تھا اور انکوائری مکمل کرنے سے پہلے معاملہ فرانزک تجزیے کے لیے مجاز اتھارٹی کو بھیج سکتا تھا۔ رپورٹ موصول ہونے کے بعد وہ اس شخص کا بہتر طور پر تعین کر سکتا تھا جس نے سرکاری رقم میں دھوکہ دہی اور خوردبرد کے لیے جعلی چالان تیار کیا تھا۔ یہ امر حیران کن ہے کہ اس بنیادی مسئلے پر زیرِ اعتراض فیصلے میں مکمل خاموشی اختیار کی گئی۔ انکوائری افسر کی جانب سے فرانزک معائنے کے لیے بورڈ آف ریونیو کو کی گئی سفارشات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔
اگر ہم سول عدالتوں کے لیے موجود رہنما اصولوں کا جائزہ لیں تو جب کسی مقدمے میں دستخط یا کسی دوسرے معاملے کے بارے میں اختلاف یا تنازع پیدا ہو تو مقدمے کا منصفانہ اور درست فیصلہ کرنے کے لیے ماہر کی رائے درکار ہوتی ہے۔ قانون شہادت آرڈر 1984 کے آرٹیکل 59 کے تحت عدالت کسی غیر ملکی قانون، سائنس، فن، بم ناکارہ بنانے کے عمل، تحریر یا دستخط کی شناخت، انگلیوں کے نشانات، یا کسی انفارمیشن سسٹم کے ذریعے بنائے گئے یا اس کے ذریعے متعلقہ برقی دستاویزات کی اصلیت اور سالمیت کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے ایسے اشخاص کی رائے کو متعلقہ حقائق تصور کر سکتی ہے جو متعلقہ غیر ملکی قانون، سائنس، فن، بم ناکارہ بنانے، تحریر یا دستخط کی شناخت، انگلیوں کے نشانات یا انفارمیشن سسٹمز کے کام، خصوصیات، پروگرامنگ اور آپریشنز میں خصوصی مہارت رکھتے ہوں۔
اس کے علاوہ قانون شہادت آرڈر کے آرٹیکل 84 کے تحت عدالت یہ معلوم کرنے کے لیے کہ آیا کوئی دستخط، تحریر یا مہر اسی شخص کی ہے جس کے نام سے وہ ظاہر کی گئی ہے، کسی ایسے دستخط، تحریر یا مہر سے اس کا تقابل کر سکتی ہے جس کے بارے میں عدالت مطمئن ہو کہ وہ اسی شخص نے تحریر یا ثبت کی ہے۔ عدالت کسی حاضر شخص کو بھی یہ ہدایت دے سکتی ہے کہ وہ کچھ الفاظ یا اعداد تحریر کرے تاکہ عدالت ان الفاظ یا اعداد کا ان الفاظ یا اعداد سے تقابل کر سکے جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہو کہ وہ اسی شخص نے تحریر کیے ہیں۔ اگرچہ محکمانہ یا داخلی انکوائریوں میں بدعنوانی کے الزامات سے متعلق معاملات میں عام طور پر دستخط اور ان کے ثبوت سے متعلق مسائل اس طرح سامنے نہیں آتے، لیکن موجودہ مقدمے میں ادائیگی کے چالان پر دستخطوں کے بارے میں شکوک پیدا ہوئے تھے اور خود انکوائری افسر نے بھی اس کا اعتراف کیا تھا۔ اس کے باوجود انکوائری افسر نے یہ بھی مشاہدہ نہیں کیا کہ اگرچہ اس کے پاس فرانزک سہولت موجود نہیں تھی، تاہم اپنی ذہانت اور فہم کے ذریعے بظاہر دستخطوں کا باہمی تقابل کیا جا سکتا تھا کہ آیا وہ بظاہر ایک جیسے ہیں یا نہیں۔ حتیٰ کہ اس بنیادی خود تقابلی کوشش کو بھی نہیں کیا گیا۔
’’بارِ ثبوت‘‘ کی اصطلاح کا مفہوم کسی فریق کے کردار اور ذمہ داری کو واضح کرتا ہے، جس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قابلِ اعتماد، قائل کن اور غیر متزلزل شہادت پیش کرے۔ محکمانہ تادیبی کارروائیوں میں بھی بنیادی بارِ ثبوت آجر یا محکمہ پر ہوتا ہے کہ وہ بدعنوانی یا بدسلوکی کو ثابت کرے اور معاملہ واضح اور قابلِ اعتماد ثبوت کی بنیاد پر طے کیا جائے، جس میں شک کی گنجائش کم سے کم ہو۔ بے گناہی کے مفروضے کا اصول استغاثہ پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ اپنا مقدمہ معقول شک سے بالاتر ہو کر ثابت کرے۔ جرم کے امکان کی سطح اور حد مختلف شواہد کے باہمی تعلق پر مبنی ہو سکتی ہے۔ شواہد کے اصولوں کی سختی سے پابندی اور ان کا درست جائزہ جرم، خلاف ورزی یا بدعنوانی ثابت کرنے میں تعمیری اور ناگزیر کردار ادا کرتا ہے، جبکہ بنیادی اور طریقۂ کار سے متعلق مراحل میں خلاف ورزی، کمی یا کوتاہی پوری کارروائی کو بے اثر کر سکتی ہے، کیونکہ سچائی انصاف کی بنیاد ہے۔
جب کسی محکمانہ تادیبی کارروائی کو عدالت یا ٹربیونل میں چیلنج کیا جائے تو یہ ایک اہم اور بھاری ذمہ داری ہے کہ اس امر کا جائزہ لیا جائے کہ آیا قدرتی انصاف اور منصفانہ قانونی طریقۂ کار کے اصولوں پر پوری طرح عمل کیا گیا یا نہیں۔ اس کے علاوہ آجر یا محکمہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ عدالت یا ٹربیونل کے سامنے ایسا ٹھوس ثبوت پیش کرے جس سے یہ یقین حاصل ہو کہ فیصلہ کسی انتقام، جانبداری یا تعصب پر مبنی نہیں تھا۔ شوکاز نوٹس اور الزامات کے بیان کی بنیاد پر شروع کی جانے والی بدعنوانی یا بدسلوکی کی کارروائی میں ملازم کے مفادات ہمیشہ آجر کے مقابلے میں کہیں زیادہ داؤ پر لگے ہوتے ہیں، اس لیے کسی شخص کو قصوروار قرار دینے سے پہلے مناسب احتیاط اور مکمل غور کیا جانا چاہیے۔ محکمانہ انکوائری کے مقصد کو محض رسمی کارروائی کے طور پر نہیں لیا جا سکتا اور کسی ملازم کو بدعنوانی یا بدسلوکی کا مرتکب قرار دے کر حتمی فیصلے کے لیے انتظامیہ یا مجاز اتھارٹی کو انکوائری رپورٹ یا سفارشات بھیجنے سے پہلے قدرتی انصاف اور منصفانہ قانونی عمل کی کم از کم بنیادی ضروریات پر ضرور عمل کیا جانا چاہیے۔
فرانزک لیبارٹری کا تجزیہ جسمانی یا ڈیجیٹل شواہد کا سائنسی اور منظم جائزہ لینے کے لیے کیا جاتا ہے تاکہ اصل سبب کا تعین کیا جا سکے اور فراڈ یا جرائم کا سراغ لگایا جا سکے۔ فرانزک تحریری معائنے میں ماہرین تحریر، دستخط اور نشانات کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ ان کے مصنف یا اصلیت کا تعین کیا جا سکے اور نمونوں کا تقابلی جائزہ لیا جا سکے۔ اس دوران حروف کی ساخت، قلم کی حرکت کی سمت، قلم اٹھانے کے مقامات، حروف کا جھکاؤ، الفاظ کے درمیان فاصلہ اور تحریر کی بنیادی لائن سمیت مختلف خصوصیات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
19 دسمبر 2024 کو شائع ہونے والے تحقیقی مقالے ’’دی سائنس بیہائنڈ فرانزک ہینڈ رائٹنگ ایگزامینیشن‘‘ کے اقتباس کے مطابق فرانزک تحریری معائنہ کرنے والے ماہرین زیرِ معائنہ نمونوں کی قطعی شناخت کے بجائے ان میں مماثلت اور مطابقت پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ تجزیے کے دوران وہ مشتبہ تحریر اور تقابلی نمونے یا نمونوں کی ظاہری خصوصیات میں موجود مماثلتوں اور اختلافات کا جائزہ لیتے ہیں۔ ذہنی اور تصدیقی تعصب کو کم کرنے کے لیے تحریری معائنہ عام طور پر پانچ الگ اور آزاد مراحل میں کیا جاتا ہے۔ عمل کا آغاز مفروضے قائم کرنے سے ہوتا ہے اور کم از کم دو ایک دوسرے سے مختلف اور غیر متداخل مفروضے قائم کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ تمام امکانات کا منصفانہ جائزہ لیا جا سکے۔ مثال کے طور پر یہ مفروضہ کہ مشتبہ تحریر یا دستخط اصلی ہیں یا اصلی نہیں ہیں، یا یہ کہ مشتبہ تحریر یا دستخط شخص الف نے کیے ہیں یا شخص الف کے علاوہ کسی دوسرے شخص نے کیے ہیں۔
تجزیے میں بنیادی طور پر تحریر کی ظاہری خصوصیات اور اسے لکھنے کے انداز اور حرکات پر توجہ دی جاتی ہے، جن میں تحریر یا دستخط کا انداز، تحریر کی پیچیدگی، خوانائی، افقی اور عمودی پھیلاؤ، افقی اور عمودی تناسب، بنیادی لکیر کے ساتھ مطابقت، انفرادی حروف کی تشکیل کے لیے بنائے گئے خطوط اور حرکات کی شکل اور تعداد، جھکاؤ اور ڈھلوان، لکیر کا معیار، روانی، قلم کا دباؤ، سیدھی اور گول حرکات کی سمت، حرکات کے آغاز اور اختتام کے مقامات، حروف کے درمیان رابطہ، اور رموزِ اوقاف اور اعراب شامل ہیں، جن کا جائزہ ان کی ادائیگی کی حرکیات اور ان کی جگہ کے حوالے سے لیا جاتا ہے۔
ہم نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ معزز ٹربیونل نے انکوائری رپورٹ کے ایک انتہائی اہم حصے کو نظر انداز کر دیا، جہاں خود انکوائری افسر نے ادائیگی کے چالان پر ملزم کی جانب سے دستخط سے انکار کے حوالے سے شکوک کا اظہار کیا تھا اور اس امر پر تشویش ظاہر کی تھی کہ اس کے پاس دستخطوں کی فرانزک جانچ کی سہولت موجود نہیں تھی، جبکہ اس نے مجاز اتھارٹی کو ایسے معائنے کی سفارش بھی کی تھی۔ اگر معزز ٹربیونل نے اس اہم سوال پر مناسب تناظر میں غور کیا ہوتا تو غالباً اس بنیادی مسئلے کو حل کرنے کے لیے کچھ اقدامات کیے جا سکتے تھے، یا ٹربیونل خود دستخطوں کا تقابل کر سکتا تھا، اگر اسے فرانزک تصدیق کے لیے بھیجنا ضروری نہ سمجھتا۔ بہرحال، انصاف کے تمام تقاضوں کے مطابق اس اہم سوال پر توجہ دی جانی چاہیے تھی، لیکن اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ تاہم اس معاملے میں درخواست گزار بھی اس حد تک ذمہ دار ہے کہ اس نے معزز ٹربیونل کی توجہ اس اہم نکتے کی جانب مبذول نہیں کرائی۔
اس تمام بحث کے نتیجے میں دونوں سول پٹیشنز کو اپیلوں میں تبدیل کیا جاتا ہے اور انہیں منظور کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں معزز ٹربیونل کی جانب سے صادر کیا گیا زیرِ اعتراض فیصلہ کالعدم قرار دے کر منسوخ کیا جاتا ہے۔ معاملہ مجاز اتھارٹی یا متعلقہ محکمہ کو واپس بھیجا جاتا ہے تاکہ درخواست گزاران، یعنی دونوں مقدمات کے درخواست گزاروں، کو سماعت کا بھرپور موقع فراہم کرنے کے بعد ازسرِنو انکوائری کی جائے، جس میں انکوائری افسر کی جانب سے تجویز کردہ دستخطوں اور دستاویزات کا فرانزک معائنہ بھی شامل ہو، تاکہ درخواست گزاران کے جرم کو ثابت یا مسترد کیا جا سکے۔ یہ تمام کارروائی تین ماہ کی مدت کے اندر مکمل کی جائے گی۔ درخواست گزاران کی بحالی ملازمت انکوائری کے حتمی نتیجے سے مشروط ہوگی۔