14/08/2026
*سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ*
سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کر دیا گیا صدر نے سمری منظور کر لی۔
صدر مملکت نے وفاقی حکومت کی سفارش پر سمری کی منظوری دی، جسکے مطابق سپریم کورٹ ججز کی تنخواہیں اور مراعات وفاقی آئینی عدالت کے ججز کے برابر کر دی گئی ہیں جب کہ ہائیکورٹ کے ججز کی بنیادی تنخواہوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ ججز کی تنخواہوں اور الاؤنسز کا اطلاق 10 دسمبر 2025 سے ہوگا اور گزشتہ مدت کا مالی فائدہ بھی سپریم کورٹ ججز کو دیا جائے گا، جسکے تحت اضافے کے بقایا جات بھی ججز کو ادا کیے جائیں گے۔
سپریم کورٹ کے ججز کی بنیادی تنخواہ میں تقریباً *4 لاکھ روپے* ماہانہ اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ان کی بنیادی تنخواہ *11 لاکھ سے بڑھ کر 15 لاکھ روپے* ہو گئی ہے جب کہ چیف جسٹس پاکستان کی ماہانہ بنیادی تنخواہ *15 لاکھ 50 ہزار روپے* مقرر کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ ججز کے جوڈیشل الاؤنس میں بھی *3 لاکھ 39 ہزار روپے* کا نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جسکے بعد جوڈیشل الاؤنس *11 لاکھ 61 ہزار 163 روپے* سے بڑھ کر *15 لاکھ روپے* مقرر ہو گیا ہے۔
سپریم کورٹ ججز کے پنشن پیکیج میں بھی اہم تبدیلیاں کر کی گئی ہیں، پنشن سے متعلق شق میں 70 سال کی حد بڑھا کر 75 سال جب کہ متعلقہ شق میں 85 سال کی حد بھی بڑھا کر 90 سال کر دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ سپریم کورٹ ججز کے لیے ماہانہ *1 لاکھ 50 ہزار روپے* میڈیکل الاؤنس بھی مقرر کیا گیا ہے۔
صدر مملکت نے ہائیکورٹ ججز کی تنخواہوں میں اضافے کی الگ سمری بھی منظور کی ہے، جس کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
سمری کے مطابق ہائیکورٹ کے ججز کی بنیادی تنخواہ میں *1 لاکھ 10 ہزار روپے* اضافہ کیا گیا، جسکے بعد بنیادی تنخواہ *10 لاکھ 95 ہزار روپے* سے بڑھ کر *12 لاکھ 5 ہزار روپے* ہو گئی ہے جب کہ چیف جسٹس کی ماہانہ تنخواہ *12 لاکھ 54 ہزار روپے* مقرر کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ دو سال سے زائد عرصے تک چیف جسٹس رہنے والوں کے لیے الگ سہولت متعارف کرائی گئی ہے، جسکے مطابق ریٹائرمنٹ یا اعلیٰ عدالت میں ترقی کی صورت میں گاڑی رعایتی قیمت پر خریدنے کی اجازت ہو گی، جبکہ ریٹائرڈ ججز کو وفاقی حکومت کے ثالثی معاملات میں فیس کی اجازت بھی مل سکے گی۔