Kashif Law Associates

Kashif Law Associates Here you find all type of judgement in soft copy and other law related information on daily basis.

02/10/2025

✨✨ 2025 CLC 272 ✨✨

Habeas corpus, writ of---Scope---Recovery of minor from the custody of father given to him by the petitioner/mother herself voluntarily---Petitioner instead of availing alternate remedy by seeking eustody of the minor from the Guardian Court opted to approach High Court in the writ of habeas corpus---Validity---Section 491, Cr.P.C., could not be used to declare someone as the guardian of a minor or to resolve custody disputes, rather these matters should be addressed in separate proceedings before Guardians the and Wards Court---Paramount consideration in determining custody of a minor was the minor's welfare, considering his/her age, sex, religion, and moral, spiritual, and material well-being---Court should assess the age, sex and religion of the minor, the character and capacity of the proposed guardian, their kinship to the minor and the minor's preference if he/she is capable of making it---Application for invocation and passing of a writ of habeas corpus may be filed by any person seeking a direction from High Court that "a person in custody within the territorial jurisdiction of the Court be brought before it so that the Court may satisfy itself that he is not being held in custody without lawful authority or in an unlawful manner", however, such invocation and passing of the writ is subject to the satisfaction of the High Court and that no adequate remedy is provided by the law---Only in exceptional and extraordinary circumstances, where all other methods and measures fail and an element of criminality, forced removal, kidnapping. and/or abduction of the child is involved, writ of habeas corpus can be issued, Thus, issuance of a writ of habeas corpus in a custody matter should be an exception, and not the rule, as the Guardians and Wards Act, 1890, provides the Guardian Court with all requisite powers to pass and enforce its orders in such matters---Purpose of filing the present petition was served as the minor had been produced before the Court and was no more in illegal detention and the parties had to seek permanent custody of minor from the Guardians and Wards Court---

02/10/2025

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اعظم خان کا کم عمری کی شادی سے متعلق کیس میں 24 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 15 سالہ لڑکی کو اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ کم عمری کی شادی شریعت میں باطل نہیں، مگر قانون کے تحت جرم ہے، مدیحہ بی بی نے عدالت میں دیے گئے بیان میں والدین کے پاس نا جانے اور شوہر کے ساتھ رہنے کی خواہش ظاہر کی ، کرائسز سنٹر میں قیام کے دوران بھی لڑکی نے اپنی مرضی سے شوہر کے ساتھ رہنے کا کہا، اگرچہ شریعت کے مطابق بلوغت اور رضامندی کے بعد نکاح درست ہے۔

عدالت کا کہنا تھا اسلام آباد چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 کے تحت 18 سال سے کم عمر میں شادی جرم ہے، نکاح نامے میں دلہن کی عمر تقریباً 18 سال درج کی گئی جبکہ نادرا ریکارڈ کے مطابق عمر 15 سال ہے۔

عدالتی فیصلے میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929، مسلم فیملی لاز آرڈی نینس 1961 کے حوالہ جات شامل کیے گئے اور کہا اسلام آباد چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 کے تحت 18 سال سے کم عمری کی شادی جرم ہے۔

عدالت نے فیصلے میں سفارشات دیتے ہوئے اس کی کاپی تمام متعلقہ وزارتوں اور فیملی کورٹس ججز کو بھجوانے کی ہدایت کی۔

عدالت نے فیصلے میں سفارش کی کہ شادی، نابالغی اور فوجداری قوانین میں ہم آہنگی پیدا کی جائے،نکاح رجسٹراروں کو پابند کیا جائے کہ وہ 18 سال سے کم عمر کی شادی رجسٹرڈ نہ کریں، نادرا کے سسٹم کو اس طرح بہتر بنایا جائے کہ عمر کی تصدیق کے بغیر نکاح نامہ جاری نہ ہو۔

فیصلے میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ عوام میں آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ کم عمری کی شادی کے نقصانات سے بچا جا سکے۔

عدالت نے لکھا کہ فیصلے کی کاپی لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان ، وزارت قانون اور وزارت انسانی حقوق کو بھجوائی جائے، وزارت داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد، ڈی جی نادرا اور سیکرٹری اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی فیصلے کی کاپی بھجوائی جائے۔
Whether the case of child marriage would fall within the definition of Sections 375 and 377A, P.P.C. thereby constituting "rape"?

The consistent judicial position has been that a Muslim girl, who has attained puberty and freely consents to marriage, has the right to contract marriage, even if under sixteen years of age. These precedents clearly hold that while such a marriage may amount to an offence under the CMRA, 1929, it does not render the marriage invalid, nor can consummation within such a marriage be treated as “rape” under Section 375 of the Penal Code. The element of lawful relationship and consent within marriage fundamentally distinguishes such cases from exploitative acts that Sections 375 and 377A PPC were designed to penalize.
W.P. NO. 2494 OF 2025
MUHAMMAD RIAZ VS LEARNED DISTRICT & SESSIONS JUDGE, (EAST) ISLAMABAD, ETC.

02/10/2025

عدالت میں مقدمہ ایک عدالت سے دوسری عدالت منتقل کرنے کی جو قانونی بنیادیں ہوتی ہیں، وہ مختلف قوانین میں بیان کی گئی ہیں، جیسے کہ:

*1. دیوانی مقدمات (Civil Cases) – (سیکشنز 22 تا 25، سی پی سی)*

*بنیادیں:*

*1.1 فریقین کی سہولت (Convenience of Parties):*
اگر موجودہ عدالت میں فریقین کو آنے جانے میں مشکل ہو یا اخراجات زیادہ ہوں، تو کیس منتقل کیا جا سکتا ہے۔

*مثال:*
اگر مدعی کراچی میں ہے اور مقدمہ لاہور میں دائر ہے تو مدعی کی درخواست پر کیس کراچی منتقل کیا جا سکتا ہے۔

*1.2 انصاف کا تقاضا (Interest of Justice):*
اگر ایسا خدشہ ہو کہ موجودہ عدالت میں منصفانہ ٹرائل ممکن نہیں۔

*مثال:*
اگر مدعی جج کے کسی قریبی رشتہ دار سے ہے، تو مخالف پارٹی انصاف کے حصول کے لیے کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی استدعا کر سکتی ہے۔

*1.3 تعصب یا جانبداری (Bias or Prejudice):*
اگر جج یا عدالت پر فریقین میں سے کسی کو عدم اعتماد ہو۔

*1.4 دائرہ اختیار کی غلطی (Jurisdiction Error):*
اگر مقدمہ غلط عدالت میں دائر کیا گیا ہو۔

*2. فوجداری مقدمات (Criminal Cases) – (سیکشن 406 تا 408، کریمنل پروسیجر کوڈ CrPC)*

*بنیادیں:*

*2.1 منصفانہ ٹرائل کا خدشہ (Fair Trial Doubt):*
اگر موجودہ عدالت میں دباؤ، اثر و رسوخ یا جانبداری کی وجہ سے منصفانہ سماعت ممکن نہ ہو۔

*مثال:*
اگر ملزم کا تعلق کسی بااثر شخصیت سے ہے جو عدالت یا گواہوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

دنیا میں اگر کسی چیز کو پہلی فہرست میں رکھنا بہت ضروری ہے تو وہ ہے آپ کا ذہنی سکون۔ باقی سب عارضی اور وقتی چیزیں ہیں۔
18/09/2025

دنیا میں اگر کسی چیز کو پہلی فہرست میں رکھنا بہت ضروری ہے تو وہ ہے آپ کا ذہنی سکون۔ باقی سب عارضی اور وقتی چیزیں ہیں۔

جادو، کالا جادو، تعویذ گنڈے، ٹونے ٹوٹکے وغیرہ پر قانونی پابندی ل, ایسا کام کرنے والے ،بیچنے والے افراد کو سزا  ہوگی ۔نیا...
18/09/2025

جادو، کالا جادو، تعویذ گنڈے، ٹونے ٹوٹکے وغیرہ پر قانونی پابندی ل, ایسا کام کرنے والے ،بیچنے والے افراد کو سزا ہوگی ۔

نیا سیکشن 297A شامل کیا گیا ہے

297A:
جادو، ٹونا، ٹوٹکا، سحر، کالا جادو کی ممانعت

• جو شخص جادو، کالا جادو، سفلی عمل، یا اس قسم کی کوئی سروس دیتا ہے، یا اس کو روحانی علاج یا کاؤنسلنگ کے نام پر پیش کرتا ہے، اس کو سزا دی جائے گی۔

• سزا:
• قید: کم از کم 6 ماہ اور زیادہ سے زیادہ 7 سال۔
• جرمانہ: زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ روپے۔

ضابطہ فوجداری (CrPC) میں تبدیلی

اس جرم کو ضابطہ فوجداری کی شیڈول II میں شامل کیا گیا ہے:
• یہ جرم ناقابلِ ضمانت (Non-bailable) ہوگا۔
• اس میں وارنٹ گرفتاری جاری ہوگا۔
• کیس کی سماعت سیشن کورٹ کرے گی۔

خلاصہ

سادہ لفظوں میں یہ قانون کہتا ہے کہ:
• اب پاکستان میں جادو ٹونا، کالا جادو، اور ٹونے ٹوٹکے کو جرم قرار دے دیا جائے گا۔
• اس میں ملوث شخص کو 6 ماہ سے 7 سال تک قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔
• یہ جرم ناقابلِ ضمانت ہوگا اور سیشن کورٹ میں چلے گا۔
• لیکن اگر کوئی شخص وزارتِ مذہبی امور سے لائسنس لے کر روحانی مشاورت کرتا ہے تو اس پر یہ قانون لاگو نہیں ہوگا

Address

Lahore

Telephone

+923018009388

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kashif Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Kashif Law Associates:

Share