29/05/2026
Control of Narcotic Substances Act (XXV of 1997) [as amended by Control of Narcotic Substances (Amendment) Act (XX of 2022)]---
----Ss. 6, 9(2), 9, 14 & 15---Possession of narcotic substances---Appreciation of evidence----Benefit of doubt---Infirmities in recovery proceedings---Non-production of packing material and bags---Exact weight of the recovered substances not determined--- Consequential---Prosecution case was that 4.160-kilograms ICE-(methamphetamine) was recovered from the possession of accused-appellants---
کے تحت ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ
استغاثہ کے مطابق ملزمان کے قبضہ سے 4.160 کلوگرام ICE (Methamphetamine) برآمد ہوئی، جو سفید کپڑوں کے ٹکڑوں میں جذب شدہ حالت میں دس کار سیٹ کورز اور دیگر گاڑیوں کے سامان میں چھپائی گئی تھی۔ تاہم عدالت نے نوٹ کیا کہ استغاثہ نے ابتدائی بیان میں بکنگ سلپ پیش نہیں کی، حالانکہ یہی وہ بنیادی دستاویز تھی جو راولپنڈی سے کراچی ڈائیوو کارگو سروس تک مبینہ شپمنٹ کی ترسیل ثابت کر سکتی تھی۔ یہ دستاویز بعد میں جرح کے دوران پیش کی گئی۔ مزید برآں، برآمدگی کے گواہ اس بات سے لاعلم تھے کہ سامان کارٹن میں پیک تھا یا تھیلوں میں، اور نہ ہی وہ یہ بتا سکے کہ کتنے کپڑوں کے ٹکڑے منشیات سے آلودہ تھے۔
عدالت نے مزید مشاہدہ کیا کہ برآمد شدہ تھیلوں پر نہ بھیجنے والے (sender) کا نام درج تھا اور نہ وصول کنندہ (recipient) کا۔ نہ تو ڈائیوو کارگو ٹرمینل کے کسی ملازم سے تفتیش کی گئی اور نہ ہی انہیں بطور گواہ پیش کیا گیا۔ مزید یہ کہ recovery memo میں گاڑیوں کے پرزہ جات یا دیگر accessories کی برآمدگی کا ذکر بھی موجود نہیں تھا، حالانکہ استغاثہ نے بعد میں یہی دعویٰ کیا۔ اسی طرح استغاثہ کے گواہ یہ بھی واضح نہ کر سکے کہ منشیات سے آلودہ کپڑے ہر سیٹ کور سے الگ الگ برآمد ہوئے یا مجموعی طور پر۔ عدالت نے قرار دیا کہ ان تضادات اور خامیوں نے برآمدگی کے پورے عمل کو مشکوک بنا دیا۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ تفتیش ناقص اور غیر معیاری تھی۔ مدعی خود ہی تفتیشی افسر بھی تھا، مزید برآں، مبینہ شپمنٹ کی اصل پیکنگ یا تھیلے ضبط ہی نہیں کیے گئے، حالانکہ انہی پر shipment details، sender/receiver information یا شناختی علامات موجود ہو سکتی تھیں، جو برآمدگی کو شپمنٹ سے جوڑنے کے لیے نہایت اہم ثبوت بن سکتے تھے۔ ان اشیاء کو عدالت میں پیش نہ کرنا استغاثہ کے مقدمہ کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہوا۔
عدالت نے مزید مشاہدہ کیا کہ اگرچہ کپڑے سمیت مجموعی وزن 4.160 کلوگرام بتایا گیا، لیکن کیمیکل ایگزامینر سے یہ معلوم ہی نہیں کروایا گیا کہ اصل methamphetamine کی خالص مقدار کتنی تھی۔ نہ mashirnama اور نہ کیمیکل رپورٹ میں یہ واضح تھا کہ کپڑوں میں کتنی ICE موجود تھی۔ اس کے باوجود ٹرائل کورٹ نے پورے کپڑے کے وزن کو ہی منشیات کا وزن تصور کرتے ہوئے سزا سنائی، جو ایک سنگین قانونی غلطی قرار دی گئی۔
عدالت نے دفعہ 342 ضابطۂ فوجداری کی خلاف ورزی کو بھی نہایت اہم قرار دیا۔ ریکارڈ سے ظاہر ہوا کہ ملزمان کے بیانات ریکارڈ کرتے وقت بکنگ سلپ، منشیات سے آلودہ کپڑوں کی برآمدگی، اور کیمیکل رپورٹ جیسے اہم اور incriminating مواد ان کے سامنے رکھا ہی نہیں گیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ دفعہ 342 Cr.P.C. کے تحت ہر وہ ثبوت جو ملزم کے خلاف استعمال ہونا ہو، اس سے متعلق ملزم کو وضاحت کا موقع دینا لازمی ہے۔ اس قانونی تقاضے کی خلاف ورزی ایک سنگین procedural irregularity تھی، جس سے مقدمہ مزید کمزور ہو گیا۔
ان تمام نقائص، تضادات، ناقص تفتیش، chain of custody میں خلل، اور قانونی تقاضوں کی عدم تکمیل کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ اپنا مقدمہ شک سے بالاتر ثابت نہیں کر سکا۔ لہٰذا ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے ان کی سزا کے خلاف اپیل منظور کر لی گئی۔
2026 PCrLJ 224
Kashif Law Associates