Advocate Muhammad Shahid

Advocate Muhammad Shahid WhatsApp 03228043051
Advocate High Court ⚖️ | Civil, Criminal, Family, Rent & Corporate Law | Legal Consultant | 📜

یہ بچہ ایک فیملی عدالت کے باہر بنچ پر پڑا ہے اور اس کے ہمراہ  فیڈر اور بوتل میں دودھ پڑا ہے خیال رہے کہ یہ وہی بچے ہیں ج...
09/06/2026

یہ بچہ ایک فیملی عدالت کے باہر بنچ پر پڑا ہے اور اس کے ہمراہ فیڈر اور بوتل میں دودھ پڑا ہے
خیال رہے کہ یہ وہی بچے ہیں جو گھروں میں بیڈ پر بڑے ناز اور لاڈ سے رهتے ہیں
میں نے جب اس بچے کو اس بنچ پر سوتا دیکھا تو بہت دکھ ہوا
خدارا ____ !!
خود دیکھ لیں وہ میاں بیوی جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر عدالت میں آجاتے ہیں اور طلاق لے لیتے ہیں اس عمل میں والدین کا تو کچھ نہیں جاتا وہ تو( اکثر حالات میں) دوسری شادی کر لیتے ہیں لیکن ماں کی مامتا اور شفقت پدری سے محروم بچے ہوتے ہیں
یا پھر ایسی ہی عدالتوں میں حالات کے رحم و کرم پر پڑے رهتے ہیں کہ خدا جانے انہیں سوتیلی ماں ملے گی یا سوتیلے باپ کا سامنا کرنا پڑے گا؟
بس ۔۔۔۔۔۔۔۔تھوڑا سا اپنے اندر صبر پیدا کریں،صلہ رحمی اور ایک دوسرے کو برداشت کریں۔اپنی کمزوریوں کو سامنے رکھتے ہوئے اوروں کی پردہ پوشی کیجئے
اپنے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے 🙏🙏

08/06/2026

بہنوں کی پراپرٹی پر قبضہ کرنے والوں کی اب خیر نہیں! 🚫⚖️
(پنجاب حکومت کا نیا قانون: بہن کا حق مارنے پر اب سیدھا جیل!)
​وراثت پر ناجائز قبضہ؟ 10 سال جیل اور 1 کروڑ جرمانہ! 💰🔒
(اگر کوئی بھائی یا رشتہ دار بہن کی زمین یا جائیداد پر قبضہ کرے گا، تو یہ سخت سزا ہوگی۔)
​سالوں کے چکر ختم! صرف 30 دن میں فیصلہ! ⏱️⚡
(نئے قانون کے تحت عدالتیں اب صرف 30 دنوں کے اندر بہنوں کو ان کی جائیداد کا حق دلوانے کی پابند ہیں۔)
​قبضہ مافیا کی مدد کرنے والوں کو بھی 3 سال کی قید! 🤝❌
(صرف قبضہ کرنے والا ہی نہیں، بلکہ اس ظلم میں ساتھ دینے والے بھی اب جیل جائیں گے۔)
​خواتین اب بائیومیٹرک کے ذریعے فوری انصاف پا سکتی ہیں! 📲👩‍فت
(سسٹم کو اتنا آسان بنا دیا گیا ہے کہ کوئی بھی بہن اپنے حق کے لیے ٹربیونل سے فوری رجوع کر سکتی ہے۔)

بچوں کا مستقبل اور طلاق یا خلع کا فیصلہ​طلاق یا خلع یقیناً ایک قانونی حق ہے، لیکن اس کا اثر صرف میاں بیوی پر نہیں، بلکہ ...
03/06/2026

بچوں کا مستقبل اور طلاق یا خلع کا فیصلہ
​طلاق یا خلع یقیناً ایک قانونی حق ہے، لیکن اس کا اثر صرف میاں بیوی پر نہیں، بلکہ معصوم بچوں کی پوری زندگی پر پڑتا ہے۔ ایک نادانستہ فیصلہ بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا سکتا ہے۔
​بچوں پر اس کے کیا اثرات پڑتے ہیں؟
​محبت سے محرومی: بچے کسی کے حق کا نہیں، بلکہ اپنے والدین کے مشترکہ پیار کے حق دار ہیں۔
​ذہنی سکون کی تباہی: بچوں کا ذہنی سکون اور ان کا بچپن سب سے اہم ہے، جو لڑائی جھگڑوں کی نذر ہو جاتا ہے۔
​دل کا ٹوٹنا: ماں باپ کی آپسی لڑائی بچوں کے معصوم دلوں کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔
​تربیت اور تعلیم پر اثر: والدین کی علیحدگی سے بچوں کی تعلیم اور بہترین تربیت پر انتہائی منفی اثر پڑتا ہے۔
​ایک مخلصانہ مشورہ:
کوئی بھی حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے، غصے کو پسِ پشت ڈال کر ایک بار اپنے معصوم بچوں کی آنکھوں میں ضرور جھانکیں! قانونی راستہ آخری حل ضرور ہے، لیکن جلد بازی میں فیصلے کرنے سے گریز کریں۔
​مفت قانونی مشورہ اور رہنمائی کے لیے رابطہ کریں:
💼 محمد شاہد ایڈوکیٹ (ہائی کورٹ)
📞 رابطہ نمبر: 0322-8043051
📍 بیسٹ لاء کمپنی، لاہور

* **کیا آپ اپنا بچہ ہمیشہ اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں؟** * **گارڈین شپ سرٹیفیکیٹ میں کتنا وقت لگتا ہے؟**  * **طلاق یا علیحد...
01/06/2026

* **کیا آپ اپنا بچہ ہمیشہ اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں؟**
* **گارڈین شپ سرٹیفیکیٹ میں کتنا وقت لگتا ہے؟**

* **طلاق یا علیحدگی کے بعد اکثر والدین کو سب سے بڑا مسئلہ بچوں کی قانونی کسٹڈی اور مستقبل کا ہوتا ہے۔**
* **اگر آپ اپنے بچے کو ہمیشہ اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں تو گارڈین شپ سرٹیفیکیٹ بہت ضروری ہے۔**
* **اس سرٹیفیکیٹ کے بعد آپ:**
* **بچے کا B-Form / ID بنوا سکتے ہیں ✔**
* **پاسپورٹ اپلائی کر سکتے ہیں ✔**
* **بچے کو بیرون ملک لے جا سکتے ہیں ✔**
* **عام طور پر یہ پروسیس 7 سے 8 ماہ بلکہ بعض اوقات ایک سال بھی لے لیتا ہے، لیکن ہم یہی کام صرف ایک ماہ میں مکمل کروانے میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔**

🇪🇸 🇺🇸

01/06/2026

لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بیرونِ ملک سفر کرنا ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے، جسے محض قیاس آرائی، غیر مصدقہ شبہات یا مبہم وجوہات کی بنیاد پر سلب نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ امیگریشن حکام کو غیر قانونی امیگریشن، انسانی سمگلنگ اور ویزوں کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے مسافروں کی جانچ پڑتال کا اختیار حاصل ہے، تاہم یہ اختیار مطلق یا غیر محدود نہیں بلکہ آئین اور قانون کے تابع ہے۔

مقدمہ میں درخواست گزار محمد عباس کو سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نائجیریا روانگی کے وقت آف لوڈ کر دیا گیا، حالانکہ اس کے پاس پاسپورٹ، نائجیریا کا ویزا، واپسی کا ٹکٹ اور دیگر تمام ضروری سفری دستاویزات موجود تھیں۔ ایف آئی اے حکام کا مؤقف تھا کہ درخواست گزار کے پاس مطلوبہ مالی وسائل نہیں تھے اور وہ اپنے سفر کا مقصد تسلی بخش انداز میں بیان نہیں کر سکا۔ تاہم عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ یہ وجوہات محض عمومی اور مبہم نوعیت کی تھیں جن کی تائید میں کوئی ٹھوس یا معروضی مواد پیش نہیں کیا گیا۔

فاضل عدالت نے مشاہدہ کیا کہ آف لوڈنگ پروفارما میں نہ تو یہ واضح کیا گیا کہ درخواست گزار کے پاس کتنی رقم موجود تھی، نہ یہ بتایا گیا کہ نائجیریا جانے والے مسافر کے لیے مالی وسائل کا مطلوبہ معیار کیا ہے، اور نہ ہی کسی قانون، پالیسی یا ضابطے کا حوالہ دیا گیا جس کی خلاف ورزی درخواست گزار نے کی ہو۔ اس طرح "ناکافی مالی وسائل" کی بنیاد ایک خالصتاً موضوعی (Subjective) اور غیر شفاف جواز بن کر رہ گئی، جسے عدالتی جانچ کے معیار پر پرکھنا ممکن نہیں تھا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ درخواست گزار نے اپنے سفر کا مقصد واضح کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ اپنے بہنوئی سے ملاقات کے لیے نائجیریا جا رہا ہے جو وہاں مقیم اور کاروبار سے وابستہ ہیں۔ اگر امیگریشن حکام اس وضاحت سے مطمئن نہیں تھے تو ان پر لازم تھا کہ وہ اپنے عدم اطمینان کی مخصوص اور معقول وجوہات ریکارڈ کرتے۔ تاہم ریکارڈ سے ظاہر ہوا کہ نہ تو کسی تضاد، بے ضابطگی یا مشکوک صورتحال کی نشاندہی کی گئی اور نہ ہی درخواست گزار کے مؤقف کو کسی معروضی بنیاد پر رد کیا گیا۔

عدالت نے اس اصول کو بھی دہرایا کہ انتظامی اختیارات کا استعمال ہمیشہ شفاف، منصفانہ اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ سیکشن 24-A جنرل کلازز ایکٹ 1897 کے تحت ہر انتظامی فیصلے کے لیے وجوہات کا تحریری اندراج لازمی ہے، کیونکہ وجوہات ہی وہ کڑی ہیں جو اختیار کے استعمال اور اس کے نتیجے کے درمیان قانونی ربط پیدا کرتی ہیں۔ بغیر وجوہات یا مبہم وجوہات پر مبنی فیصلہ قانون کی نظر میں برقرار نہیں رہ سکتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ کسی مسافر کو ایئرپورٹ پر اس مرحلے پر آف لوڈ کرنا، جب وہ ٹکٹ خرید چکا ہو، ویزا حاصل کر چکا ہو، بورڈنگ مکمل کر چکا ہو اور سفر کے تمام انتظامات کر چکا ہو، ایک ایسا اقدام ہے جس کے سنگین مالی، سماجی اور نفسیاتی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ اس لیے ایسے فیصلوں میں اعلیٰ درجے کی احتیاط، شفافیت اور قانونی جواز ناگزیر ہے۔

نتیجتاً لاہور ہائیکورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے درخواست گزار کی آف لوڈنگ کو غیر قانونی، غیر معقول اور آئینی تقاضوں کے منافی قرار دیا اور واضح کیا کہ مذکورہ آف لوڈنگ مستقبل میں اس کے بیرونِ ملک سفر کے حق پر کوئی مستقل پابندی عائد نہیں کرے گی۔ مزید برآں عدالت نے ایف آئی اے حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ کسی بھی مسافر کو آف لوڈ کرتے وقت تفصیلی اور بامعنی وجوہات تحریری طور پر ریکارڈ کی جائیں، حتیٰ الامکان انٹرویو یا پوچھ گچھ کا ریکارڈ محفوظ رکھا جائے، اور متاثرہ شخص کو آف لوڈنگ کی وجوہات پر مشتمل دستاویز فراہم کی جائے تاکہ وہ مؤثر قانونی چارہ جوئی کر سکے۔

یہ فیصلہ اس بنیادی اصول کی توثیق کرتا ہے کہ شہریوں کے آئینی حقوق انتظامی صوابدید پر قربان نہیں کیے جا سکتے اور ریاستی اداروں کے ہر اقدام کو قانون، شفافیت اور انصاف کے معیار پر پورا اترنا لازم ہے۔

22/05/2026

عید کے موقع پر میری ان تمام والدین سے گزارش ہے جنکی سیپریشن/طلاق ہو چکی ہے طلاق یافتہ والدین کے بچے آدھے یتیم نہیں ہوتے، بلکہ وہ ایک ہی وقت میں دو الگ وجودوں میں بٹ کر ماں باپ کے پورے پیار سے محروم رہ جاتے ہیںخدارا اپنے بچو ں کو کورٹ کچہری یا کینٹین یا کسی پھٹے پے ملنے کی بجائے گھر میں یا کسی ایسے ماحول میں ملیں جہاں بچے عید کے خوشیاں محسوس کر سکیں نہ کہ عید کی خوشیاں بھی ڈرے ڈرے اور سہمیں نکال دیں




20/05/2026

سوشل میڈیا یا واٹس ایپ پر بلیک میل کرنے والوں سے اب ڈرنے کی ضرورت نہیں! 🚫📱 پنجاب سیف سٹی کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن اب آپ کی حفاظت کے لیے 24/7 فعال ہے۔ آپ کا نام اور پہچان بالکل خفیہ رہے گی۔ خاموش مت رہیں، آواز اٹھائیں! ⚖️💪
​ہیش ٹیگز:
🇵🇰

19/05/2026

اگر شوہر طلاق دے دے (رخصتی سے پہلے)

​اگر رخصتی اور خلوتِ صحیحہ سے پہلے شوہر اپنی مرضی سے طلاق دے دیتا ہے، تو قانون اور شریعت کے مطابق عورت آدھے مہر (نصف مہر) کی حقدار ہوتی ہے۔

​اگر مہر پہلے ہی پورا ادا کیا جا چکا تھا، تو عورت کو آدھا مہر شوہر کو واپس کرنا ہوگا۔

​اگر مہر ادا نہیں کیا گیا تھا، تو شوہر کو آدھا مہر عورت کو ادا کرنا ہوگا۔

​2۔ اگر عورت خلع لے (رخصتی سے پہلے)

​اگر رخصتی نہیں ہوئی اور عورت خود عدالت کے ذریعے خلع لے رہی ہے، تو عام طور پر اسے اپنے مہر سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔

​اگر مہر (یا اس کا کچھ حصہ) عورت وصول کر چکی ہے، تو عدالت رخصتی نہ ہونے کی صورت میں وہ رقم (یا اس کا بڑا حصہ) شوہر کو واپس کرنے کا حکم دیتی ہے۔
​اگر مہر ابھی ادا نہیں کیا گیا تھا، تو خلع کی صورت میں عورت اس مہر کا مطالبہ کرنے کا حق چھوڑ دیتی ہے۔




15/05/2026

باپ کی جائیداد میں بیٹی کا حصہ کوئی خیرات نہیں بلکہ اللہ کا دیا ہوا حق ہے۔ ⚖️
​اکثر بہنیں بھائیوں کے ڈر سے یا لحاظ میں خاموش رہتی ہیں، لیکن یاد رکھیں کہ قانون اب آپ کے ساتھ ہے۔ اگر وراثت میں حق نہیں مل رہا تو "ویمن پراپرٹی رائٹس ایکٹ" کے تحت آپ محتسب یا عدالت سے رجوع کر کے اپنا حصہ لے سکتی ہیں۔ کسی کے ڈر میں آ کر اپنا حق نہ چھوڑیں، کیونکہ جائیداد سے محروم کرنا اب ایک سنگین جرم ہے جس کی سزا قید بھی ہو سکتی ہے۔ 🚫
​اپنے حقوق جانیں اور دوسروں تک بھی یہ بات پہنچائیں۔ کسی بھی مشورے کے لیے آپ کمنٹس میں پوچھ سکتے ہیں۔ 👇
​ہیش ٹیگز:

13/05/2026

پراپرٹی خریدتے وقت ان 5 باتوں کا خیال رکھیں!
1. جس سے آپ پراپرٹی خرید رہے ہیں، کیا وہ واقعی مالک ہے؟ سب سے پہلے اس کے نام کی **رجسٹری** اور **فرد** چیک کریں۔
2. صرف کاغذات دیکھنا کافی نہیں۔ یہ یقینی بنائیں کہ سرکاری ریکارڈ میں اس کا **انتقال** (Mutation) ہو چکا ہو۔
3. یاد رکھیں، "قبضہ" پراپرٹی کا آدھا ثبوت ہے۔ تسلی کر لیں کہ پراپرٹی کا جسمانی قبضہ بھی بیچنے والے کے پاس ہی ہو۔
4. **تھرڈ پارٹی اور اسٹام پیپر سے بچیں:اگر کوئی تیسرا بندہ آپ کو کسی "اسٹام" پر پراپرٹی بیچنے کی کوشش کرے، تو **ہرگز نہ لیں**۔
5. جس بندے کے نام پر پراپرٹی خود نہ ہو، اس کے ساتھ ایگریمنٹ کرنا آپ کو بڑی مشکل میں ڈال سکتا ہے۔ ایسی صورت میں عدالت بھی آپ کو کوئی ریلیف نہیں دے پائے گی کیونکہ وہ شخص آپ کو ملکیت منتقل کرنے کا قانونی حق ہی نہیں رکھتا۔

Address

4 Mozang Road Lahore
Lahore

Telephone

+923228043051

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Advocate Muhammad Shahid posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Advocate Muhammad Shahid:

Share