18/03/2026
اس مقدمہ میں درخواست گزار خاتون نے فیملی کورٹ میں اپنے شوہر کے خلاف دعویٰ دائر کیا جس میں اس نے نان و نفقہ، جہیز کے سامان کی واپسی یا اس کی قیمت اور مؤخر مہر (پانچ تولہ سونا) کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ شوہر نے اس دعویٰ کی مخالفت کرتے ہوئے تحریری جواب داخل کیا۔ فریقین کے بیانات اور شواہد کی روشنی میں فیملی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے بیوی کو مقدمہ دائر کرنے کی تاریخ سے "ماہانہ پانچ ہزار روپے" نان و نفقہ دینے کا حکم دیا اور مؤخر مہر کی ادائیگی بھی منظور کر لی، تاہم جہیز کے سامان کا دعویٰ ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے مسترد کر دیا۔بعد ازاں دونوں فریقین نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔ اپیلیٹ عدالت نے نان و نفقہ کے حکم کو برقرار رکھا لیکن جہیز کے سامان کے بارے میں جزوی طور پر دعویٰ منظور کرتے ہوئے "ڈھائی لاکھ روپے" بطور "متبادل قیمت" دینے کا حکم دیا، جبکہ مؤخر مہر کا دعویٰ یہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا کہ مؤخر مہر عام طور پر طلاق یا شوہر کی وفات کے بعد قابلِ ادائیگی ہوتا ہے۔
ہائیکورٹ نے مقدمہ کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ نان و نفقہ کے تعین کے بارے میں نچلی عدالتوں کا فیصلہ شوہر کی مالی حیثیت اور بیوی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، لہٰذا اس میں مداخلت کی ضرورت نہیں۔ جہیز کے سامان کے حوالے سے بھی اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ درست قرار دیا گیا کیونکہ معاشرتی رواج کے مطابق والدین اپنی بیٹی کو شادی کے وقت جہیز دیتے ہیں، اس لیے عدالت نے قرائن کی بنیاد پر جزوی طور پر دعویٰ منظور کیا۔
تاہم مؤخر مہر کے مسئلے پر عدالت نے تفصیلی قانونی بحث کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسلامی فقہ میں اس بارے میں دو آراء پائی جاتی ہیں: ایک رائے کے مطابق مؤخر مہر صرف طلاق یا وفات کے بعد واجب الادا ہوتا ہے، جبکہ دوسری رائے کے مطابق بیوی کے مطالبہ پر شادی کے دوران بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 10 کے مطابق اگر نکاح نامہ میں مہر کی ادائیگی کا وقت یا طریقہ واضح طور پر درج نہ ہو تو پورا مہر مطالبہ پر قابلِ ادائیگی سمجھا جائے گا۔ چونکہ اس مقدمہ کے نکاح نامہ میں مؤخر مہر کی ادائیگی کو کسی مخصوص وقت، طلاق یا وفات کے ساتھ مشروط نہیں کیا گیا تھا، اس لیے بیوی کو حق حاصل ہے کہ وہ شادی برقرار ہونے کے باوجود بھی مؤخر مہر کا مطالبہ کرے۔
اسی بنیاد پر عدالت نے قرار دیا کہ فیملی کورٹ نے قانون کو درست طور پر لاگو کرتے ہوئے مؤخر مہر کی ادائیگی کا حکم دیا تھا جبکہ اپیلیٹ کورٹ نے قانون کی غلط تشریح کرتے ہوئے اس فیصلے کو کالعدم کیا۔ لہٰذا ہائیکورٹ نے آئینی درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے کو اس حد تک کالعدم قرار دیا اور فیملی کورٹ کا مؤخر مہر کے متعلق حکم بحال کر دیا۔
قانونی اصول: اگر نکاح نامہ میں مؤخر مہر کی ادائیگی کے لیے کوئی مخصوص وقت یا شرط مقرر نہ کی گئی ہو تو دفعہ 10 مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت وہ مہر بیوی کے مطالبہ پر فوراً قابلِ ادائیگی ہوگا، خواہ ازدواجی تعلق برقرار ہی کیوں نہ ہو۔