21/08/2026
🚨 آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور شادی کے لیے دباؤ — قانون حرکت میں آ گیا!
⚖️ خواتین کو آن لائن ہراساں کرنے والوں کے خلاف NCCIA کی کارروائیاں
سوشل میڈیا، واٹس ایپ اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے خواتین کو ہراساں کرنا، بلیک میل کرنا، شادی کے لیے دباؤ ڈالنا یا نجی تصاویر و ویڈیوز وائرل کرنے کی دھمکی دینا اب محض ایک ذاتی یا خاندانی معاملہ نہیں رہا، بلکہ حالات و شواہد کے مطابق سنگین سائبر جرم بن سکتا ہے۔
حالیہ کارروائیوں کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق NCCIA نے پنجاب کے مختلف شہروں میں ایسے واقعات میں کارروائیاں کیں جہاں خواتین کو مبینہ طور پر آن لائن ہراساں، بلیک میل اور دھمکایا جا رہا تھا۔
ایک لاہور کیس میں الزام ہے کہ ملزم نے خاتون کو شادی پر مجبور کرنے کی کوشش کی اور انکار کی صورت میں اس کی تصاویر وائرل کرنے کی دھمکیاں دیں۔
دیگر مقدمات میں بھی مبینہ طور پر خواتین کو تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کرنے، رقم طلب کرنے اور خاندان کے افراد کو ہراساں کرنے کے الزامات سامنے آئے۔
📌 قانون کیا کہتا ہے؟
Prevention of Electronic Crimes Act (PECA) 2016 کے تحت جرم کی نوعیت کے مطابق مختلف دفعات لاگو ہو سکتی ہیں۔
🔹 Section 24 — Cyber Stalking
کسی شخص کو مسلسل آن لائن رابطوں، ہراسانی، خوف یا ذہنی اذیت میں مبتلا کرنے والے مخصوص اقدامات سائبر اسٹاکنگ کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
🔹 Section 21 — Offences against Modesty
کسی شخص کی نجی یا قابلِ اعتراض تصاویر/ویڈیوز کو مخصوص حالات میں بنانا، نشر کرنا، منتقل کرنا یا اس کے ذریعے دھمکانا سنگین قانونی نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
🔹 Section 20 — Offences against Dignity of a Natural Person
کسی شخص کی عزت، شہرت یا پرائیویسی کو نقصان پہنچانے والی بعض جھوٹی معلومات کو جان بوجھ کر الیکٹرانک ذرائع سے نشر کرنا بھی جرم بن سکتا ہے۔
💰 اگر تصاویر وائرل کرنے کے بدلے رقم مانگی جائے؟
اگر کوئی شخص نجی تصاویر، ویڈیوز یا معلومات وائرل کرنے کی دھمکی دے کر رقم کا مطالبہ کرتا ہے تو حقائق کے مطابق Pakistan Penal Code (PPC) کی متعلقہ دفعات، بشمول Extortion اور Criminal Intimidation سے متعلق دفعات، بھی زیرِ غور آ سکتی ہیں۔
یعنی:
❌ "پیسے دو ورنہ تصاویر وائرل کر دوں گا"
❌ "مجھ سے شادی کرو ورنہ تصاویر سب کو بھیج دوں گا"
❌ "میری بات نہ مانی تو تمہارے گھر والوں کو مواد بھیج دوں گا"
ایسی دھمکیوں کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
📱 متاثرہ شخص کو فوراً کیا کرنا چاہیے؟
✅ WhatsApp chats، screenshots اور voice notes محفوظ کریں۔
✅ متعلقہ Facebook/Instagram/TikTok/WhatsApp پروفائل اور لنکس محفوظ کریں۔
✅ فون نمبر، یوزرنیم اور اکاؤنٹ کی تفصیلات محفوظ کریں۔
✅ اگر رقم بھیجی یا مانگی گئی ہے تو transaction records محفوظ رکھیں۔
✅ اصل موبائل فون اور دیگر digital evidence محفوظ رکھیں۔
❌ چیٹس یا اہم ثبوت delete نہ کریں۔
❌ غصے میں ملزم کو دھمکیاں دے کر معاملہ مزید خراب نہ کریں۔
❌ صرف بدنامی کے خوف سے بلیک میلر کے مطالبات ماننے سے گریز کریں۔
⚠️ ایک اہم قانونی بات
ہر آن لائن جھگڑا لازماً سائبر کرائم نہیں ہوتا۔ متعلقہ دفعہ کا اطلاق واقعے کے اصل حقائق، مواد، نیت اور دستیاب شواہد پر منحصر ہوتا ہے۔ اس لیے کسی بھی کیس میں قانونی کارروائی سے پہلے مکمل facts اور digital evidence کا جائزہ ضروری ہے۔
اگر آپ یا آپ کے کسی عزیز کو آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ، تصاویر وائرل کرنے کی دھمکی یا شادی کے لیے آن لائن دباؤ کا سامنا ہے تو خاموش نہ رہیں۔ ثبوت محفوظ کریں اور بروقت قانونی مدد حاصل کریں۔
⚖️ قانون کو جانیں — اپنے حقوق پہچانیں — اور بروقت کارروائی کریں۔
Mohsin Hanif Jutt, Advocate High Court
AJAR Law Associates — Advocates & Legal Consultants
📞 0341-5318212