M.S Tax Consultant

M.S Tax Consultant "we are providing Tax services in Pakistan. Our services are included Income Tax, Sales Tax, and firm

08/08/2026
اس سال اپنے ٹیکس کنسلٹنٹ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ایف بی آر (FBR) کا ڈیجیٹل ٹیکس ریٹرن نظام پاکستان کے ان پیچیدہ ترین نظا...
07/08/2026

اس سال اپنے ٹیکس کنسلٹنٹ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
ایف بی آر (FBR) کا ڈیجیٹل ٹیکس ریٹرن نظام پاکستان کے ان پیچیدہ ترین نظاموں میں سے ایک ہے جس کے متعلق 99 فیصد سے زیادہ لوگوں کو یہ آگاہی ہی نہیں کہ یہ کس طرح کام کرتا ہے، اس کا اصل مقصد کیا ہے، ریٹرن فائل کیسے کی جاتی ہے، اس میں کن چیزوں کا عمل دخل ہے اور بالآخر اس کے نتائج کیا نکلتے ہیں۔
جب 2017 یا 2018 کے دوران اس ڈیجیٹل نظام کا آغاز ہوا اور ساتھ ہی پراپرٹی کی خرید و فروخت پر فائلر اور نان فائلر کے ٹیکسوں میں واضح فرق متعارف کرایا گیا، نیز بینکوں سے کیش نکلوانے (Cash Withdrawal) پر نان فائلرز کے لیے ٹیکس بڑھایا گیا، تو لوگ مجبوراً اس نظام کا حصہ بننے لگے۔ پراپرٹی کے کاروبار سے منسلک افراد، رجسٹرڈ بزنس کرنے والے اور سرکاری ملازمین یکایک فائلر بننے کی دوڑ میں شامل ہو گئے۔
شروعات میں فائلر بننے اور ریٹرن فائل کرنے کا درست طریقہ کار خود عوام کو تو کیا، شاید اس نظام کو بنانے والے چند افراد کے علاوہ خود ایف بی آر کے عملے کو بھی صحیح سے واضح نہیں تھا۔ اگرچہ مینول اور طریقہ کار کی ویڈیوز میسر تھیں، لیکن انہیں سمجھنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں تھی۔ چونکہ پراپرٹی کے بیشتر معاملات وکلاء برادری کے ذریعے طے پاتے ہیں، اس لیے اس کام کی ڈور بھی بڑی حد تک وکلاء، عرضی نویسوں اور اشٹام فروشوں نے سنبھال لی۔
ایک وکیل نے کام دیکھا، دوسرے نے سیکھا اور یوں "عطائی ٹیکس کنسلٹنٹس" کی ایک نئی مارکیٹ قائم ہو گئی۔ جن لوگوں کو پراپرٹی کی خرید و فروخت میں لاکھوں کا فائدہ نظر آتا تھا، انہوں نے ان عطائیوں کو پانچ منٹ کے کام کے ہزاروں روپے دینا شروع کر دیے۔ نتیجتاً، ایسے لوگوں کی زیرو (Zero) ریٹرن فائل کی جانے لگی؛ نہ کوئی آمدن دکھائی گئی، نہ اثاثے شو کیے گئے، بس ایک ہزار کا چالان بھرا اور بندہ فائلر بن گیا۔ کلائنٹ کا کام نکل جاتا اور وہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھتا کہ اس کے شناختی کارڈ پر ایف بی آر کے ریکارڈ میں کیا غلط بیانی کی جا چکی ہے۔
یہ سچ ہے کہ تمام وکلاء یا ٹیکس کنسلٹنٹس ایک جیسے نہیں تھے؛ کچھ پیشہ ور افراد نے اس کام پر محنت کی، باریکیوں کو سمجھا اور مستقبل کے نتائج کو مدنظر رکھا۔ لیکن جب مارکیٹ میں ہزار دو ہزار روپے میں کام کرنے والے بیٹھے ہوں، تو عوام بھی پانچ دس ہزار روپے دینے کو تیار نہیں ہوتی تھی۔
اب جبکہ 2026 آ چکا ہے، تو نظام زیادہ خودکار اور سخت ہو چکا ہے۔ اب وہی عطائی کنسلٹنٹ بھی پریشان ہیں اور وہ عام عوام بھی، جس کے گلے میں پچھلے سالوں کی "باریک واردات" پڑ چکی ہے۔ اب ایف بی آر کا ڈجیٹل سسٹم ڈیٹا کو آپس میں مربوط کر رہا ہے اور حساب پورا کا پورا ہو رہا ہے۔ اس سال بھی لینے کے دینے پڑ رہے ہیں اور پچھلے سالوں کا غبن بھی سامنے آ رہا ہے۔
اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے میری ٹیکس کنسلٹنٹ حضرات سے مؤدبانہ گزارش ہے: خدا را! اب کسی کے ساتھ ظلم نہ کرنا، اب سیکھ لینا۔ کام کرنے سے آپ کو کوئی نہیں روکتا، لیکن پہلے تحقیق کریں، قانون کو سمجھیں اور صرف چند روپوں کے لالچ میں کسی کی زندگی بھر کی جمع پونجی اور ریکارڈ خراب نہ کریں۔
اسی طرح عوام سے بھی گزارش ہے کہ اس سال اپنے ٹیکس کنسلٹنٹ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ جو بھی معلومات، بینک سٹیٹمنٹ یا اثاثے وہ پوچھیں، بالکل سچ سچ بتائیں۔ شارٹ کٹ ڈھونڈنے کے بجائے اپنے کنسلٹنٹ کو اس کی محنت کے مناسب پیسے دیں تاکہ وہ تسلی بخش کام کر سکے اور آپ آئندہ کسی بھی قانونی نوٹس یا پریشانی سے محفوظ رہ سکیں۔

28/07/2026

ٹیکنالوجی کا مقصد آسانی ہے
لیکن جب پورٹل خود الجھن بن جائے تو لوگ ڈیجیٹل سسٹم سے اعتماد کھو دیتے ہیں۔

*ایف بی آر پورٹل کا موجودہ مسئلہ:*
1. *جلد بازی میں لانچ* - ٹیسٹنگ مکمل کیے بغیر سسٹم لائیو کر دینا
2. *روزانہ تبدیلیاں* - کل والا فیچر آج غائب، آج والا کل ایرر دے
3. *سپورٹ کا فقدان* - کوئی ڈیمو نہیں، کوئی واضح گائیڈ نہیں، ہیلپ لائن پر جواب نہیں
4. *صارف کو ٹیسٹر بنا دینا* - جس کی سزا ٹیکس دہندہ اور پروفیشنلز کو مل رہی ہے

دنیا میں IRS, HMRC, UAE کا FTA پورٹل دیکھیں۔ وہاں پہلے Beta Testing ہوتی ہے، ویڈیوز آتی ہیں، پھر لانچ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں الٹا ہے: پہلے لانچ، پھر "آزمائش"۔

*✔ مکمل QA کے بعد لانچ* - ورنہ آدھی ریٹرن جمع ہو کر ریجیکٹ ہو رہی ہیں
*✔ ڈیمو + ویڈیو ٹیوٹوریلز* - ہر فیلڈ کے ساتھ مثال ہونی چاہیے
*✔ 24/7 ہیلپ لائن + چیٹ سپورٹ* - ڈیڈ لائن کے دن پورٹل کریش ہو تو کون ذمہ دار؟

*ابھی فوری طور پر کیا کیا جا سکتا ہے؟*
1. *Grace Period دیں* - جب تک بگز فکس نہ ہوں لیٹ فائلنگ پر جرمانہ نہ لگے
2. *Issue Tracking Dashboard* - عوام کو بتائیں کونسا بگ کب فکس ہوگا
3. *Tax Professionals کو شامل کریں* - لانچ سے پہلے 500 چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس سے فیڈبیک لیں

ڈیجیٹل پاکستان کا خواب تب ہی پورا ہوگا جب سسٹم "عوام کے لیے" بنے گا، نہ کہ "عوام کو سسٹم کے لیے"۔

امید ہے ایف بی آر یہ آواز سنے گا اور فوری ایکشن لے گا۔

Breaking NewsFBR Announces Planned System Maintenance Activityجن دنوں کام شروع ہوگا ان کو مینٹیننس کی پڑی ہے وہی محاورہ ...
24/07/2026

Breaking News
FBR Announces Planned System Maintenance Activity

جن دنوں کام شروع ہوگا ان کو مینٹیننس کی پڑی ہے وہی محاورہ یاد آتا ہے غریب نے روزے رکھنے شروع کئے دن بڑے ہونا شروع ہوگئے

16/07/2026
Small Traders / Shopkeepers**📢 چھوٹے دکانداروں کے لیے بڑی خوشخبری – ایف بی آر کا مجوزہ آسان ٹیکس نظام**ایف بی آر نے **SR...
14/07/2026

Small Traders / Shopkeepers
**📢 چھوٹے دکانداروں کے لیے بڑی خوشخبری – ایف بی آر کا مجوزہ آسان ٹیکس نظام**

ایف بی آر نے **SRO 1109(I)/2026** کے ذریعے چھوٹے دکانداروں کے لیے ایک **آسان اور اختیاری (Optional)** ٹیکس نظام کا مسودہ جاری کر دیا ہے، جس پر عوام سے **7 دن کے اندر تجاویز اور اعتراضات** طلب کیے گئے ہیں۔

**اہم نکات:**

✅ سالانہ ٹرن اوور **2 کروڑ نہیں بلکہ 20 کروڑ روپے (PKR 200 Million)** تک کے اہل دکاندار اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

✅ ٹیکس صرف **1% گراس ٹرن اوور** کے حساب سے ہوگا، جبکہ کم از کم **25,000 روپے** ٹیکس ادا کرنا لازمی ہوگا۔

✅ اس اسکیم میں شامل دکانداروں کو عام طور پر **آڈٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا**، سوائے مخصوص معاملات کے۔

✅ **سیکشن 153 کے تحت ودہولڈنگ ٹیکس** کاٹنے کی ذمہ داری نہیں ہوگی، اور **سیکشن 113 کی کم از کم ٹیکس** کی شق بھی لاگو نہیں ہوگی۔

✅ اہل دکانداروں کو **POS یا Digital Invoicing** سسٹم لگانے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔

⚠️ یاد رہے کہ یہ ابھی **صرف مجوزہ (Draft) اسکیم** ہے، حتمی قانون نہیں۔ ایف بی آر تجاویز موصول ہونے کے بعد اس میں تبدیلی کر سکتا ہے۔

انتظار کی گھڑیاں ختم! 🎉FBR نے Tax Year 2026 کا Income Tax Return فارم IRIS پر جاری کر دیا ہے۔  #✅ اپنی Income Tax Return...
14/07/2026

انتظار کی گھڑیاں ختم! 🎉
FBR نے Tax Year 2026 کا
Income Tax Return فارم IRIS پر جاری کر دیا ہے۔ #

✅ اپنی Income Tax Return بروقت فائل کروائیں۔
✅ فائلر بنیں اور ٹیکس فوائد حاصل کریں۔
✅ NTN، Filer Registration اور Tax Consultancy کی مکمل سہولت ایک ہی جگہ۔

⚠️ آخری تاریخ کا انتظار نہ کریں!
اگر مقررہ وقت پر ریٹرن فائل نہ کی گئی تو بعد میں فائلر اسٹیٹس بحال کروانے کے لیے Rs. 25,000 کی فیس ادا کرنا پڑ سکتی ہے (قابلِ اطلاق قوانین کے مطابق)۔

آج ہی رابطہ کریں اور اپنا ٹیکس ریٹرن بروقت جمع کروائیں۔



سیلز ٹیکس ریجسٹرڈ پرسنز کے لئے یاددہانیافراد، اے اوپی اور سنگل ممبر کمپنی  جو سیلز ٹیکس میں ریجسٹر ہیں، پر ہر سال جولائی...
04/07/2026

سیلز ٹیکس ریجسٹرڈ پرسنز کے لئے یاددہانی
افراد، اے اوپی اور سنگل ممبر کمپنی جو سیلز ٹیکس میں ریجسٹر ہیں، پر ہر سال جولائی کے مہینے میں نادرا سے بائیو میٹرک ویریفیکیشن کرانا سیلز ٹیکس رولز کے تحت ضروری ہے

Address

Kohat
26000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M.S Tax Consultant posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category