Z & M Law Associates

Z & M Law Associates information relates to Law & judgement

07/02/2026

یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ کے معزز جج جسٹس سردار اکبر علی نے 26 جنوری 2026 کو صادر کیا۔
​اس فیصلے کی خاص بات اس میں موجود جدید ترین عدالتی نظائر (Case Laws) ہیں، جو فوجداری وکالت کرنے والوں کے لیے ایک قیمتی خزانہ ہیں۔
​1. مقدمے کا خلاصہ (Case Summary)
​یہ مقدمہ قتلِ عمد (302 PPC) اور ڈکیتی (394 PPC) کا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزمان (اللہ دتہ اور اعجاز احمد) کو عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ ہائی کورٹ نے استغاثہ کے کیس میں درج ذیل بڑی خامیاں پائیں:
​ایف آئی آر میں غیر معمولی تاخیر۔
​گواہان کا "اتفاقیہ" (Chance Witnesses) ہونا اور بیانات میں بددیانتی سے تبدیلیاں کرنا۔
​شناختی پریڈ میں قانونی سقم اور ملزمان کی تصاویر پہلے سے دکھائے جانے کا اعتراض۔
​برآمدگی (Recovery) کے وقت آزاد گواہان کی عدم موجودگی۔
​طبی شہادت اور عینی شہادت میں تضاد۔
​عدالت نے ان تمام بنیادوں پر ملزمان کو "شک کا فائدہ" دیتے ہوئے بری کر دیا۔
​2. قانونی حوالہ جات (Case Law References) کی تفصیل
​اس فیصلے میں جن نظائر کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ درج ذیل قانونی نکات کو واضح کرتے ہیں:
​ایف آئی آر میں تاخیر اور مشاورت: عدالت نے 1995 SCMR 127، 2024 SCMR 1773، اور 2025 SCMR 1024 کے حوالوں سے واضح کیا کہ ایف آئی آر میں محض 2 گھنٹے کی بلاجواز تاخیر بھی یہ ظاہر کرتی ہے کہ مقدمہ سوچ بچار اور مشورے کے بعد درج کیا گیا، جس سے استغاثہ کی سچائی مشکوک ہو جاتی ہے۔
​اتفاقیہ گواہ (Chance Witnesses): گواہان کی موجودگی ثابت نہ ہونے پر 2014 SCMR 1197، 2021 SCMR 325 اور 2026 SCMR 47 جیسے حوالہ جات دیے گئے، جن کے مطابق ایسے گواہ کی بات پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا جب تک وہ اپنی موجودگی کی ٹھوس وجہ بیان نہ کرے۔
​بیانات میں بہتری (Dishonest Improvements): گواہان کا وقت کے ساتھ اپنے بیان کو "بہتر" کرنا انہیں ناقابلِ اعتبار بناتا ہے۔ اس پر 2024 SCMR 1310 اور 2025 SCMR 662 کا سہارا لیا گیا۔
​شناختی پریڈ کی قانونی حیثیت: 2024 SCMR 1146 اور 2025 SCMR 2018 کی روشنی میں عدالت نے قرار دیا کہ اگر ملزمان کی تصاویر پہلے ہی گواہان کو دکھا دی گئی ہوں، تو ایسی شناختی پریڈ کی کوئی قانونی اہمیت نہیں رہتی۔
​طبی شہادت کا کردار: PLD 1993 SC 251 اور 2024 SCMR 1741 کے مطابق طبی شہادت صرف زخم کی تصدیق کرتی ہے، یہ کبھی بھی اس بات کا ثبوت نہیں ہو سکتی کہ وہ زخم کس نے لگایا ہے۔
​دفعہ 103 Cr.PC کی خلاف ورزی: برآمدگی کے وقت علاقے کے آزاد گواہ شامل نہ کرنے پر 2017 SCMR 713 اور 2011 SCMR 1127 کے حوالے سے قرار دیا گیا کہ ایسی برآمدگی قانون کی نظر میں کوئی وزن نہیں رکھتی۔
​شک کا فائدہ (Benefit of Doubt): آخر میں 2024 SCMR 51 اور 2024 SCMR 1731 کی بنیاد پر یہ سنہری اصول دہرایا گیا کہ اگر ایک بھی شک پیدا ہو جائے تو اس کا فائدہ صرف اور صرف ملزم کو ملے گا۔

قتل کے مقدمے میں بڑی بریت: لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ! ⚖️
​کیا آپ جانتے ہیں کہ ایف آئی آر میں محض چند گھنٹوں کی تاخیر یا گواہ کے بیان میں معمولی تبدیلی ملزم کی بریت کا سبب بن سکتی ہے؟
​لاہور ہائی کورٹ (ملتان بینچ) نے 2026 LHC 945 (اللہ دتہ بنام سرکار) میں فوجداری قانون کے سنہری اصولوں کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ:
1️⃣ ایف آئی آر میں تاخیر: اگر تھانہ قریب ہو اور ایف آئی آر میں بلاوجہ تاخیر ہو، تو اسے بددیانتی تصور کیا جائے گا۔
2️⃣ اتفاقیہ گواہ: رشتہ دار گواہان کی موقع پر موجودگی اگر ثابت نہ ہو، تو ان کی گواہی مسترد کر دی جائے گی۔
3️⃣ برآمدگی کے نقائص: دفعہ 103 Cr.PC کے تحت برآمدگی کے وقت علاقہ مکینوں کی گواہی لازمی ہے۔
​اس فیصلے میں سپریم کورٹ کے درجنوں جدید ترین نظائر (2024-2025-2026 SCMR) کا حوالہ دیا گیا ہے، جو فوجداری نظامِ انصاف میں ملزم کے حقوق کا دفاع کرتے ہیں۔
​قانون کی آگاہی ہی آپ کی طاقت ہے۔ کسی بھی قانونی پیچیدگی کی صورت میں ہم سے رابطہ کریں۔






29/01/2026

جھوٹا میڈیکل بن جائے تو ?
لڑائی، حادثہ یا FIR؟ جانیں MLC کب بنتا ہے اور کیوں ?
قانون میں MLC کیسے پورا کیس الٹ دیتا ہے?

یہ موضوع عدالت + پولیس + ڈاکٹر تینوں کو ایک جگہ پر لا کر مجرم، ملزم ، اور FIR کے حوالے سے کافی اہم فیصلوں میں مدد کرتا ہے ۔

MLC = Medico-Legal Certificate

وہ میڈیکل رپورٹ جو ڈاکٹر پولیس یا عدالت کے لیے بناتا ہے،
عام پرچی نہیں جیسے ہسپتال کی OPD پرچی ۔

یہ رپورٹ بتاتی ہے:
چوٹ ہے یا نہیں، چوٹ کب کی ہے
، چوٹ کی نوعیت (سادہ یا خطرناک) ،چوٹ واقعہ سے میل کھاتی ہے یا نہیں

MLC

صرف “چوٹ دکھانے” کا کاغذ نہیں، بلکہ:
• FIR
کے سیکشن طے کرتا ہے
بیل بنے گی یا نہیں — یہ طے کرتا ہے،کیس چلے گا یا خارج ہوگا — اس کی بنیاد پر طے ہو سکتا ۔

جھوٹا MLC — اگر ڈاکٹر جھوٹا بنا دے ۔ یعنی

ڈاکٹر “مدد” کر دیتا ہے، معمولی خراش کو شدید چوٹ بنا دیا جاتا ہے
• تاکہ:
دفعہ سخت ہو، بیل مشکل ہو ؟

آپ کیا کر سکتے ؟ آپ میڈیکل بورڈ بنوانے کی درخوست دے سکتے !

Medical Board
کیا ہے؟

ایک ماہر ڈاکٹروں کی کمیٹی جو کسی MLC / میڈیکل رائے کو دوبارہ، غیر جانبدار طریقے سے جانچتی ہے،

میڈیکل بورڈ خود نہیں بنتا — اسے آرڈر سے بنایا جاتا ہے۔

عدالت (Magistrate / Sessions / High Court)
پولیس / IO (SP/DSP کے ذریعے)
ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ (DHO / MS کی منظوری سے بنتا

جھوٹا MLC کیسے پکڑا جاتا ہے؟

وکیل ان نکات پر حملہ کرتا ہے:

ٹائمنگ کا جھوٹ ،واقعہ کا وقت ≠ میڈیکل کا وقت ،پرانی چوٹ کو نیا دکھانا ، چوٹ اور کہانی کا تضاد ،لاٹھی سے مار؟ مگر زخم چھری جیسا ،زمین پر گرنے کا دعویٰ؟ مگر سیدھی لائن میں کٹ

ایکسرے / لیب رپورٹس غائب
• ڈاکٹر لکھ دیتا ہے “fracture suspected”
• مگر:
• X-ray؟
• Radiologist؟
نہیں ہوتی

MLC
اگر سچ ہو تو کیس مضبوط،اور اگر جھوٹا ہو تو…
پورا کیس اسی کاغذ کے نیچے دفن ہو جاتا ہے۔

Share for information and awareness:




📢 FBR کے لیے سپریم کورٹ کی بڑی وارننگ: "قانون سب کے لیے برابر ہے، کھلواڑ بند کریں!" ⚖️🏛️​آج مورخہ 27 جنوری 2026 کو سپریم...
28/01/2026

📢 FBR کے لیے
سپریم کورٹ کی بڑی وارننگ: "قانون سب کے لیے برابر ہے، کھلواڑ بند کریں!" ⚖️🏛️
​آج مورخہ 27 جنوری 2026 کو سپریم کورٹ نے ایف بی آر (FBR) کی من مانیوں کے خلاف ایک تاریخی اور سبق آموز فیصلہ سنا دیا ہے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب صاحب نے واضح کر دیا ہے کہ سرکاری ادارے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے عدالتوں کا وقت ضائع نہیں کر سکتے۔
​اس فیصلے کے اہم نکات جو ہر شہری کو معلوم ہونے چاہئیں:
​✅ 120 دن کی ڈیڈ لائن "لازمی" ہے: سپریم کورٹ نے دو ٹوک الفاظ میں قرار دیا ہے کہ سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت شوکاز نوٹس جاری ہونے کے بعد 120 دن کے اندر فیصلہ کرنا لازمی (Mandatory) ہے۔ اگر FBR اس مدت کے بعد آرڈر پاس کرے گا تو وہ غیر قانونی تصور ہوگا، جیسا کہ اس کیس میں ہوا۔
​✅ عدالتی وقت کا ضیاع بند کریں: عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا کہ جب سپریم کورٹ ایک قانون طے کر چکی ہے (Article 189)، تو سرکاری محکمے بار بار وہی پرانے مسائل لے کر عدالتوں میں کیوں آتے ہیں؟ اس سے نہ صرف عدالتوں پر بوجھ بڑھتا ہے بلکہ سائلین کو انصاف ملنے میں بھی تاخیر ہوتی ہے۔
​✅ عوامی پیسے کا ضیاع: سرکاری افسران اپنی ضد پوری کرنے کے لیے عوامی ٹیکس کے پیسے سے مہنگے وکیلوں اور عدالتی فیسوں پر لاکھوں روپے ضائع کرتے ہیں، جس کی اب اجازت نہیں دی جائے گی۔
​✅ چیئرمین FBR کو خصوصی ہدایت: عدالت نے حکم دیا ہے کہ چیئرمین FBR ایک ایسی آزاد کمیٹی بنائیں جس میں ریٹائرڈ جج، ٹیکس ماہرین اور دیانتدار افسران شامل ہوں، جو اپیل دائر کرنے سے پہلے یہ دیکھیں کہ کیا واقعی اپیل کا کوئی قانونی جواز ہے یا صرف وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔
​📍 کیس کا حوالہ:
اسسٹنٹ کمشنر IR بنام عمر طارق خان
جج: جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب
تاریخ: 27 جنوری 2026
​نتیجہ: اگر
FBR آپ کو نوٹس دے اور 120 دن کے اندر فیصلہ نہ کرے، تو قانون اب آپ کے ساتھ کھڑا ہے!
​قانون کی آگاہی ہی آپ کی طاقت ہے۔

12/10/2025

بیان حلفی کو تصدیق کرنے والے اوتھ کمشنر کی قانونی حیثیت

آپ نے اکثر بیان حلفی پر دیکھا ہوگا کہ اسے تصدیق کرنے والے وکیل کی مہر میں اوتھ کمشنر لکھا ہوا ہوتا ہے یہ اوتھ کمشنر ایک وکیل ہوتا ہے جسے اوتھ کمشنر کے اختیارات دیے جاتے ہیں

اوتھ کمشنر کا نوٹی فکیش ہائیکورٹ کرتی ہے اوتھ کمشنر کے لیے ضروری ہے کہ بطور وکیل دو سال کا تجربہ ہو ضابطہ دیوانی قاعدہ 6 اور رول 15 کےمطابق عدالت میں جمع کرائی گئی ہر درخواست کو اوتھ کمشنر سے تصدیق کرانا لازمی ہوتا ہے

اسکے علاوہ Adoption Deed,پیدائشی سرٹیفکیٹ,بیان حلفی یا کسی بھی قسم کی ضروری دستاویزات کی تعمیل کراتے وقت اگر بیان حلفی لف ہوتو اس بیان حلفی تصدیق بذریعہ اوتھ کمشنر لازمی 7ہوتی ہے

اوتھ کمشنر جسکا بیان حلفی ہو اسکی موجودگی میں مکمل بیان حلفی کا مشاہدہ کرے گا اور اپنے دستخط اور تاریخ لکھے گا۔

ایسے بیان حلفی کی کوئی اہمیت نہیں جو اوتھ کمشنر سے تصدیق شدہ نہ ہو ۔
2003 YLR 2708.
2003 CLC.44





21/08/2025

شادی شدہ افراد ہوشیار !
شادی کر لی تو اب گھر سے بیوی کو ایسے نہیں نکال سکتے جیسے موبائل سے سیم نکال دیتے ہو۔
پہلے کورٹ میں جاؤ، ورنہ 3 مہینے کی مفت جیل وزٹ اور ساتھ دو لاکھ کا ڈونیشن خزانے میں دینا پڑے گا۔”
Share for information and awareness :
نیا قانون

📜 بل میں کیا لکھا ہے؟

نیا سیکشن 498D: خواتین کی غیر قانونی بے دخلی کی ممانعت
• اگر شوہر یا خاندان کا کوئی فرد جان بوجھ کر بیوی کو اس کے مشترکہ گھر سے بغیر قانونی اجازت یا جائز وجہ کے نکالنے یا نکالنے کی کوشش کرے تو یہ جرم ہو گا۔
• اس جرم پر کم از کم 3 ماہ اور زیادہ سے زیادہ 6 ماہ قید، اور دو لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

دلچسپ بات
!

صرف بیوی کے لیے – اگر بیوی شوہر یا اس کے خاندان کو غیر قانونی طور پر نکالے تو اس پر یہ سیکشن لاگو نہیں ہوگا، یعنی یکطرفہ تحفظ ہے۔

👍 اس بل کی اچھی باتیں
1. خواتین کے حقوق کا تحفظ – شادی شدہ خواتین کو گھر سے زبردستی نکالنے کے رواج کو روکنے کی کوشش ہے، جو پاکستان میں ایک بڑا مسئلہ ہے۔
2. قانونی طریقہ کار لازمی – شوہر یا خاندان اب بغیر عدالت کے فیصلہ کیے، زبردستی گھر سے نہیں نکال سکیں گے۔
3. جرمانہ اور سزا دونوں – دو لاکھ روپے کا جرمانہ بھی رکھا گیا ہے تاکہ یہ جرم مالی طور پر بھی مہنگا پڑے۔



👎 ممکنہ مسائل اور کمزوریاں
1. غلط استعمال کا خطرہ – جھوٹے یا انتقامی مقدمات بھی بن سکتے ہیں، خاص طور پر گھریلو جھگڑوں میں۔
2. – 3 سے 6 ماہ قید ۔

بیوی کو گھر سے نکالا تو
پہلے کورٹ میں جاؤ، ورنہ 3 مہینے کی مفت جیل وزٹ اور ساتھ دو لاکھ کا ڈونیشن خزانے میں دینا پڑے گا۔

Share for information and awareness



افغان مہاجرین کے لیے بڑی خبر حکومتِ پاکستان نے افغان مہاجرین کے لیے Proof of Registration (PoR) Cards کی مدت میں 31 دسمب...
08/08/2025

افغان مہاجرین کے لیے بڑی خبر

حکومتِ پاکستان نے افغان مہاجرین کے لیے Proof of Registration (PoR) Cards کی مدت میں 31 دسمبر 2025 تک توسیع کر دی۔
یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد کیا گیا، جس کے تحت نادرا کی جانب سے جاری کردہ رجسٹرڈ PoR کارڈز اب قانونی طور پر دسمبر کے آخر تک مؤثر تصور کیے جائیں گے۔
یہ نوٹیفکیشن وزارتِ ریاستیں و سرحدی امور (SAFRON) نے یکم جولائی 2025 کو جاری کیا، جس میں تمام متعلقہ اداروں اور صوبائی حکومتوں کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
افغان مہاجرین کے لیے یہ ایک اہم ریلیف ہے، جس سے ہزاروں خاندانوں کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔





اہم عدالتی فیصلہ: انتقالِ ہبہ کا اندراج کالعدم قرار 🔹لاہور ہائیکورٹ کے ایک حالیہ اور اہم فیصلے (2025 YLR 917 Lahore) میں...
08/08/2025

اہم عدالتی فیصلہ: انتقالِ ہبہ کا اندراج کالعدم قرار 🔹

لاہور ہائیکورٹ کے ایک حالیہ اور اہم فیصلے (2025 YLR 917 Lahore) میں عدالت نے اس انتقال ہبہ کو کالعدم قرار دیا جو کہ جلسہ عام میں منظور نہیں ہوا تھا۔

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ:

✅ سیکشن 42 آف دی پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ کی جو پروویژن تھی، اسے ایگنور کیا گیا۔
✅ ہبہ کی ابلویوشن (عملی تکمیل) ثابت نہ ہوئی۔
✅ پورے عمل سے فراڈ اور بدنیتی (malafide intent) جھلکتی ہے۔

لہٰذا، عدالت نے اس بنیاد پر یہ انتقال منسوخ کر دیا کہ یہ قانون اور شفافیت کے بنیادی اصولوں کے خلاف تھا۔

📌 یہ فیصلہ ان تمام افراد کے لیے ایک اہم مثال ہے جو غیر رسمی یا جعلی طریقوں سے جائیداد منتقل کرتے ہیں۔
📌 ہبہ کی قانونی تکمیل کے لیے قبضہ، رضا مندی، اور شفاف طریقہ کار لازمی ہے۔

---

📚 فیصلہ حوالہ:
2025 YLR 917 Lahore

👨‍⚖️ قانون کے مطابق رہیں، فراڈ سے بچیں






ابھی تک ٹیکس ریٹرن فائل کرنے میں پریشان ہیں؟ آئیے سادہ الفاظ میں سمجھتے ہیں۔یہ وہ عام سوالات ہیں جو اکثر تنخواہ دار افرا...
07/08/2025

ابھی تک ٹیکس ریٹرن فائل کرنے میں پریشان ہیں؟
آئیے سادہ الفاظ میں سمجھتے ہیں۔
یہ وہ عام سوالات ہیں جو اکثر تنخواہ دار افراد ٹیکس ریٹرن اور فائلر بننے سے متعلق پوچھتے ہیں:

سوال 1: اگر میں ریٹرن فائل کروں تو کیا مجھے اضافی ٹیکس دینا ہوگا؟
جواب: ضروری نہیں۔ اگر آپ کی ماہانہ تنخواہ 50 ہزار روپے سے زیادہ ہے (یعنی سالانہ 6 لاکھ روپے)، تو آپ کا ادارہ پہلے ہی تنخواہ سے ٹیکس کاٹ رہا ہے۔ ریٹرن فائل کرنا صرف رپورٹ دینا ہے، الگ سے ٹیکس دینا نہیں۔

سوال 2: فائلر کیسے بنتے ہیں؟
جواب: صرف دو مراحل:
1️⃣ ایف بی آر میں این ٹی این (National Tax Number) رجسٹریشن
2️⃣ اپنی آمدن کا سالانہ ریٹرن فائل کریں
اس کے بعد آپ کا نام ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ (ATL) میں آجائے گا۔

سوال 3: میری آمدن 6 لاکھ روپے سے کم ہے۔ کیا مجھے ریٹرن فائل کرنا ضروری ہے؟
جواب: جی ہاں، کم آمدن یا بغیر آمدن کے بھی ریٹرن فائل کر سکتے ہیں — اور فائلر بن سکتے ہیں۔

سوال 4: فائلر بننے کے فائدے کیا ہیں؟
✔️ جائیداد، گاڑی، بینکنگ اور سفر پر کم ودہولڈنگ ٹیکس
✔️ آسان قرض اور ویزہ اپروول
✔️ مالیاتی ریکارڈ بہتر بنتا ہے

سوال 5: میں صرف تنخواہ لیتا ہوں۔ کیا پھر بھی ریٹرن فائل کرنا ضروری ہے؟
جواب: جی ہاں۔ اگر آپ کی تنخواہ ٹیکسیبل ہے (سالانہ 6 لاکھ سے زیادہ)، تو ریٹرن فائل کرنا لازم ہے۔ کم آمدن پر بھی ریٹرن فائل کر کے فائلر بن سکتے ہیں۔

سوال 6: ریٹرن فائل کرنے کے لیے کون سے ڈاکیومنٹس چاہیے؟
📄 تنخواہ کا سرٹیفکیٹ
📄 بینک اسٹیٹمنٹ
📄 شناختی کارڈ کی کاپی
📄 اگر کوئی اور آمدن یا اثاثے ہیں تو اس کی تفصیل

سوال 7: پچھلے سال ریٹرن فائل نہیں کیا۔ اب کر سکتا ہوں؟
جواب: جی ہاں، آپ پرانے سال کا بھی ریٹرن فائل کر سکتے ہیں۔ جرمانہ ہو سکتا ہے، لیکن فائل کرنا بہتر ہے۔

سوال 8: کیا میں بغیر آمدن کے صرف فائلر بننے کے لیے ریٹرن فائل کر سکتا ہوں؟
جواب: جی ہاں۔ صفر آمدن کے ساتھ بھی ریٹرن فائل کیا جا سکتا ہے اور ATL میں نام آجاتا ہے۔

سوال 9: کیا فائلر بننے کا کوئی نقصان ہے؟
جواب: نہیں۔ صرف فائدے ہیں۔ صرف ریٹرن فائل کرنے سے کوئی اضافی ٹیکس نہیں لگتا۔

سوال 10: میرے پاس کوئی کاروبار نہیں، صرف تنخواہ ہے۔ کیا اثاثے دکھانا لازمی ہے؟
جواب: اگر آپ کے پاس گاڑی، جائیداد یا سرمایہ کاری نہیں ہے تو صرف بینک بیلنس اور تنخواہ ظاہر کرنا کافی ہے۔

سوال 11: میں نے کبھی ریٹرن فائل نہیں کیا۔ کیا اب شروع کر سکتا ہوں؟
جواب: جی ہاں۔ جب چاہیں فائل کر سکتے ہیں، چاہے پرانا سال ہو۔






پنجاب کے تمام سیشن و ایڈیشنل سیشن ججز کو کنزیومر کورٹ کا  چارج سونپ دیا گیالاہور ہائی کورٹ نے پنجاب بھر میں سیشن ججز اور...
03/08/2025

پنجاب کے تمام سیشن و ایڈیشنل سیشن ججز کو کنزیومر کورٹ کا چارج سونپ دیا گیا
لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب بھر میں سیشن ججز اور ایڈیشنل سیشن ججز کو کنزیومر کوٹ کے اختیارات دے دیے
عنوان:
تمام ضلعی و سیشن ججز کو صارف عدالتیں مقرر کرنے کا حکم
تاریخ:
یکم اگست 2025
جاری کنندہ:
ملک علی ذوالقرنین اعوان، ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری، لاہور ہائی کورٹ

پس منظر:
پنجاب اسمبلی کی جانب سے "Punjab Consumer Protection (Amendment) Act, 2025" کی منظوری اور 25 جون 2025 کو اس کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے فوری عمل درآمد کے لیے درج ذیل احکامات صادر کیے:

---

اہم نکات:

1. تمام ضلعی و سیشن ججز اور ایڈیشنل سیشن ججز کو ان کے متعلقہ اضلاع میں صارف عدالتیں (Consumer Courts) مقرر کر دیا گیا ہے۔

2. ہر ضلع کے ضلعی و سیشن جج کو صارف عدالتوں کا انتظامی جج (Administrative Judge) نامزد کیا گیا ہے، اور وہ نئے کیسز ان عدالتوں کو سونپنے کے مجاز ہوں گے۔

3. جو کیسز پرانے (defunct) صارف عدالتوں میں زیر التواء تھے، ان کا اختیار بھی ضلعی و سیشن جج کو دے دیا گیا ہے کہ وہ بوجھ کے مطابق ایک یا ایک سے زیادہ ججوں کو یہ مقدمات تفویض کریں۔

---

قانونی اور عملی اہمیت:

یہ نوٹیفکیشن پرانی صارف عدالتوں کے خاتمے کے بعد نئے نظام کے نفاذ کا اعلان ہے۔

اب صارفین اپنے مسائل کے حل کے لیے براہِ راست ضلعی و سیشن جج یا ان کے مقرر کردہ ایڈیشنل جج کے پاس جا سکتے ہیں۔

یہ عمل عدالتی نظام کو مزید موثر بنانے اور عوام کو فوری انصاف کی فراہمی کے لیے ایک اہم قدم ہے۔


پنجاب بھر کی تمام ضلعی عدالتوں میں گواہان کی شہادت براے ویڈیو لنک سہولت کا اغازویڈیو لنک کی سہولت برائے سائلین / وکلاء: ...
03/08/2025

پنجاب بھر کی تمام ضلعی عدالتوں میں گواہان کی شہادت براے ویڈیو لنک سہولت کا اغاز
ویڈیو لنک کی سہولت برائے سائلین / وکلاء: اہم نکات

1. درخواست کا طریقہ کار

ویڈیو لنک کی سہولت کے لیے درخواست مقررہ فارم پر دی جائے جو https://dsj.punjab.gov.pk پر دستیاب ہے۔

فارم جمعہ یا ہفتہ کو 7 دن کے اندر متعلقہ عدالت میں جمع کروایا جائے۔

اگر کوئی ہنگامی صورت ہو تو کسی بھی دن درخواست دی جا سکتی ہے۔

2. ممنوع صورتیں

اگر سائل متعلقہ عدالت کی علاقائی حدود میں موجود ہو تو ویڈیو لنک کی سہولت نہیں دی جائے گی، سوائے:

بیماری

معذوری

جغرافیائی فاصلہ

سفری پابندیاں

سلامتی کے خطرات

3. تاریخ اور وقت

عدالت ایک مقررہ تاریخ و وقت دے گی اور فریقین کو مطلع کرے گی۔

مقدمہ کی فہرست میں "ویڈیو لنک" کا اندراج کیا جائے گا۔

4. شناخت و تصدیق

سائل / گواہ کی شناخت اصل شناختی کارڈ یا پاسپورٹ سے ہوگی۔

بائیو میٹرک تصدیق نادرا سے کروائی جائے گی، کسی با اختیار شخص کی موجودگی میں۔

5. معذور سائلین

معذور افراد کے لیے آئی ٹی ماہر مقرر کیا جائے گا جو ان کے مقام پر آ کر بائیومیٹرک تصدیق کرے گا۔

6. عدالت کی حدود سے باہر سائل

اگر سائل متعلقہ عدالت کی حدود میں نہیں، تو وہ ویڈیو لنک کی سہولت قریبی ضلعی عدالت سے حاصل کر سکتا ہے، SOP کے مطابق۔

7. بیرون ملک سے درخواست

اگر سائل بیرون ملک ہو تو ویڈیو لنک کی سہولت پاکستانی سفارت خانے یا قونصلیٹ سے دی جائے گی۔

مقررہ افسر گواہ / سائل کی شناخت اور موجودگی کی تصدیق کرے گا۔

8. شہادت سے قبل دستاویزات

گواہ یا سائل کو تمام متعلقہ دستاویزات مقدمہ سے پہلے دی جائیں گی۔

ان کی فراہمی کی تصدیق عدالت میں جمع کرائی جائے گی۔

9. حلف نامہ / اقرار نامہ

گواہ یا سائل حلف نامہ دائر کرے گا، جس کی تصدیق سفارت خانے / نوٹری سے ہو گی۔

10. عدالتی اوقات

بیان / شہادت صرف پاکستانی وقت اور عدالتی اوقات میں ریکارڈ ہو گا۔

11. ریکارڈنگ کی اجازت

صرف عدالت ویڈیو لنک کارروائی ریکارڈ کرے گی۔

کسی دوسرے کو ویڈیو یا آڈیو ریکارڈنگ کی اجازت نہیں ہوگی۔

12. ٹرانسکرپٹ کی پابندی

کسی کو ویڈیو لنک کی ریکارڈنگ یا ٹرانسکرپٹ کی کاپی کی درخواست دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

13. شرکت کے آداب

وکلاء، پولیس افسران و دیگر افراد ویڈیو لنک سماعت میں مناسب لباس / آداب اختیار کریں گے۔

14. اخراجات

ویڈیو لنک کی سہولت حاصل کرنے والا شخص خود:

اخراجات برداشت کرے گا،

ریکارڈنگ USB / ہارڈ ڈرائیو (کم از کم 125GB) فراہم کرے گا،

کیس کی ریکارڈنگ عدالت محفوظ کرے گی (Password Protected)۔

15. دلائل کے لیے ویڈیو لنک

ویڈیو لنک کے ذریعے دلائل دینے کی سہولت وکیل یا مشخص کو SOP کے مطابق حاصل ہو سکتی ہے۔




Online Case Management System | District Judiciary Punjab

24/06/2025

اگر FIA (Federal Investigation Agency) کی طرف سے کوئی نوٹس موصول ہو تو اسے سنجیدگی سے لینا بہت ضروری ہے۔ نیچے مرحلہ وار وضاحت کی گئی ہے کہ ایسے نوٹس پر کیسے مناسب طریقے سے ردعمل دینا چاہیے:

---

⚖️ FIA کے نوٹس پر عمل کرنے کا طریقہ:

1. نوٹس کو مکمل طور پر پڑھیں:

نوٹس میں دی گئی دفعات، الزامات اور پیشی کی تاریخ کو غور سے سمجھیں۔

دیکھیں کہ نوٹس کس دائرہ اختیار (سائبر کرائم، امیگریشن، کرپشن وغیرہ) کے تحت آیا ہے۔

2. وکیل سے فوری رابطہ کریں:

خود سے کوئی بیان یا تحریری جواب نہ دیں جب تک کسی مستند وکیل سے مشورہ نہ کرلیں۔

وکیل نوٹس کا قانونی تجزیہ کر کے آپ کے لیے محفوظ راستہ طے کرے گا۔

3. ثبوت محفوظ کریں:

اگر آپ پر الزامات غلط ہیں تو متعلقہ دستاویزات، سکرین شاٹس، میسجز، ای میلز یا دیگر ثبوت فوراً جمع کریں۔

4. FIA دفتر پیشی کا طریقہ:

وکیل کے ساتھ ہی دفتر جائیں۔

خود سے اعتراف یا غیر ضروری بات نہ کریں، وکیل کی موجودگی میں ہی بات کریں۔

خوش اخلاقی اور تحمل سے پیش آئیں۔

5. تحریری جواب (اگر ضروری ہو):

بعض اوقات وکیل نوٹس کا جواب تحریری طور پر FIA کو بھیجتا ہے، جس میں الزامات کی تردید یا وضاحت دی جاتی ہے۔

---

❗️نوٹ:

FIA کا نوٹس نظر انداز کرنا یا پیش نہ ہونا قانونی طور پر نقصان دہ ہو سکتا ہے، حتیٰ کہ گرفتاری بھی ہو سکتی ہے۔

FIA سائبر کرائم ونگ خاص طور پر سوشل میڈیا، ڈیجیٹل فراڈ اور ہراسانی کے کیسز میں کارروائی کرتا ہے۔


Address

Kacheri
Kharian

Telephone

+923426293250

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Z & M Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Z & M Law Associates:

Share

Category