07/02/2026
یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ کے معزز جج جسٹس سردار اکبر علی نے 26 جنوری 2026 کو صادر کیا۔
اس فیصلے کی خاص بات اس میں موجود جدید ترین عدالتی نظائر (Case Laws) ہیں، جو فوجداری وکالت کرنے والوں کے لیے ایک قیمتی خزانہ ہیں۔
1. مقدمے کا خلاصہ (Case Summary)
یہ مقدمہ قتلِ عمد (302 PPC) اور ڈکیتی (394 PPC) کا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزمان (اللہ دتہ اور اعجاز احمد) کو عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ ہائی کورٹ نے استغاثہ کے کیس میں درج ذیل بڑی خامیاں پائیں:
ایف آئی آر میں غیر معمولی تاخیر۔
گواہان کا "اتفاقیہ" (Chance Witnesses) ہونا اور بیانات میں بددیانتی سے تبدیلیاں کرنا۔
شناختی پریڈ میں قانونی سقم اور ملزمان کی تصاویر پہلے سے دکھائے جانے کا اعتراض۔
برآمدگی (Recovery) کے وقت آزاد گواہان کی عدم موجودگی۔
طبی شہادت اور عینی شہادت میں تضاد۔
عدالت نے ان تمام بنیادوں پر ملزمان کو "شک کا فائدہ" دیتے ہوئے بری کر دیا۔
2. قانونی حوالہ جات (Case Law References) کی تفصیل
اس فیصلے میں جن نظائر کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ درج ذیل قانونی نکات کو واضح کرتے ہیں:
ایف آئی آر میں تاخیر اور مشاورت: عدالت نے 1995 SCMR 127، 2024 SCMR 1773، اور 2025 SCMR 1024 کے حوالوں سے واضح کیا کہ ایف آئی آر میں محض 2 گھنٹے کی بلاجواز تاخیر بھی یہ ظاہر کرتی ہے کہ مقدمہ سوچ بچار اور مشورے کے بعد درج کیا گیا، جس سے استغاثہ کی سچائی مشکوک ہو جاتی ہے۔
اتفاقیہ گواہ (Chance Witnesses): گواہان کی موجودگی ثابت نہ ہونے پر 2014 SCMR 1197، 2021 SCMR 325 اور 2026 SCMR 47 جیسے حوالہ جات دیے گئے، جن کے مطابق ایسے گواہ کی بات پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا جب تک وہ اپنی موجودگی کی ٹھوس وجہ بیان نہ کرے۔
بیانات میں بہتری (Dishonest Improvements): گواہان کا وقت کے ساتھ اپنے بیان کو "بہتر" کرنا انہیں ناقابلِ اعتبار بناتا ہے۔ اس پر 2024 SCMR 1310 اور 2025 SCMR 662 کا سہارا لیا گیا۔
شناختی پریڈ کی قانونی حیثیت: 2024 SCMR 1146 اور 2025 SCMR 2018 کی روشنی میں عدالت نے قرار دیا کہ اگر ملزمان کی تصاویر پہلے ہی گواہان کو دکھا دی گئی ہوں، تو ایسی شناختی پریڈ کی کوئی قانونی اہمیت نہیں رہتی۔
طبی شہادت کا کردار: PLD 1993 SC 251 اور 2024 SCMR 1741 کے مطابق طبی شہادت صرف زخم کی تصدیق کرتی ہے، یہ کبھی بھی اس بات کا ثبوت نہیں ہو سکتی کہ وہ زخم کس نے لگایا ہے۔
دفعہ 103 Cr.PC کی خلاف ورزی: برآمدگی کے وقت علاقے کے آزاد گواہ شامل نہ کرنے پر 2017 SCMR 713 اور 2011 SCMR 1127 کے حوالے سے قرار دیا گیا کہ ایسی برآمدگی قانون کی نظر میں کوئی وزن نہیں رکھتی۔
شک کا فائدہ (Benefit of Doubt): آخر میں 2024 SCMR 51 اور 2024 SCMR 1731 کی بنیاد پر یہ سنہری اصول دہرایا گیا کہ اگر ایک بھی شک پیدا ہو جائے تو اس کا فائدہ صرف اور صرف ملزم کو ملے گا۔
قتل کے مقدمے میں بڑی بریت: لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ! ⚖️
کیا آپ جانتے ہیں کہ ایف آئی آر میں محض چند گھنٹوں کی تاخیر یا گواہ کے بیان میں معمولی تبدیلی ملزم کی بریت کا سبب بن سکتی ہے؟
لاہور ہائی کورٹ (ملتان بینچ) نے 2026 LHC 945 (اللہ دتہ بنام سرکار) میں فوجداری قانون کے سنہری اصولوں کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ:
1️⃣ ایف آئی آر میں تاخیر: اگر تھانہ قریب ہو اور ایف آئی آر میں بلاوجہ تاخیر ہو، تو اسے بددیانتی تصور کیا جائے گا۔
2️⃣ اتفاقیہ گواہ: رشتہ دار گواہان کی موقع پر موجودگی اگر ثابت نہ ہو، تو ان کی گواہی مسترد کر دی جائے گی۔
3️⃣ برآمدگی کے نقائص: دفعہ 103 Cr.PC کے تحت برآمدگی کے وقت علاقہ مکینوں کی گواہی لازمی ہے۔
اس فیصلے میں سپریم کورٹ کے درجنوں جدید ترین نظائر (2024-2025-2026 SCMR) کا حوالہ دیا گیا ہے، جو فوجداری نظامِ انصاف میں ملزم کے حقوق کا دفاع کرتے ہیں۔
قانون کی آگاہی ہی آپ کی طاقت ہے۔ کسی بھی قانونی پیچیدگی کی صورت میں ہم سے رابطہ کریں۔